Al-AhzabJuz 22 · Page 427

Al-Ahzab 33:64

The Combined Forces · Juz 22 · Page 427

إِنَّ ٱللَّهَ لَعَنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ وَأَعَدَّ لَهُمۡ سَعِيرًا ٦٤

Indeed, Allāh has cursed the disbelievers and prepared for them a Blaze.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 33:63–68

پوچھتے ہیں آپ سے لوگ قیامت کی بابت، کہہ دیجیے: بلاشبہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور کیا چیز بتلاتی ہے آپ کو شاید کہ قیامت ہو قریب ہی؟(63) بلاشبہ اللہ نے لعنت کی کافروں پر اور اس نے تیار کی ہے ان کے لیے خوب بھڑکتی ہوئی آگ(64) ہمیشہ رہیں گے اس میں ابد تک ، نہیں پائیں گے وہ کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(65) جس دن الٹ پلٹ کیے جائیں گے ان کے چہرے آگ میں تو وہ کہیں گے، اے کاش! اطاعت کی ہوتی ہم نے اللہ کی اور اطاعت کی ہوتی رسول کی(66) اور وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! بے شک ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی، پس انہو ں نے گمراہ کر دیا ہمیں (سیدھے) راستے سے(67) اے ہمارے رب! دے ان کو دگنا عذاب اور لعنت کر ان پر لعنت بڑی (زیادہ)(68)

[63] یعنی لوگ جلدی مچاتے ہوئے آپ سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ان میں سے بعض تکذیب کے طور پر اور خبر دینے والے کو اس بارے میں عاجز سمجھتے ہوئے پوچھتے ہیں تو ﴿قُلۡ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے۔‘‘ ان سے! ﴿اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لیے مجھے یا کسی اور کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ بایں ہمہ تم اسے زیادہ دور نہ سمجھو۔ ﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوۡنُ قَرِيۡبًا ﴾ ’’اور آپ کو کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آ گئی ہو‘‘

[66-64] قیامت کی گھڑی کے مجرد قریب یا بعید ہونے میں کوئی فائدہ یا نتیجہ نہیں، حقیقی نتیجہ تو خسارہ یا نفع اور بدبختی یا خوش بختی ہے، نیز آیا بندہ عذاب کا مستحق ہے یا ثواب کا؟ اور ان امور کے بارے میں تمھیں میں خبر دیتا ہوں اور میں بتاتا ہوں کہ ان کا مستحق کون ہے؟ لہٰذا آپ نے عذاب کے مستحق لوگوں کا وصف بیان کیا اور اس عذاب کا وصف بیان کیا جس میں ان کو مبتلا کیا جائے گا کیونکہ یہ وصفِ مذکور آخرت کی تکذیب کرنے والوں پر منطبق ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت کی ہے۔‘‘ یعنی جن کی عادت اور فطرت اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور جسے لے کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اس کا کفر اور انکار کر نا ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں اپنی رحمت سے دور کر دیا اور سزا کے لیے یہی کافی ہے ﴿وَاَعَدَّ لَهُمۡ سَعِيۡرًا﴾ ’’اور تیار کی ہے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ۔‘‘ یعنی ان کے لیے آگ بھڑکائی جائے گی جس میں ان کے جسم جلیں گے، آگ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی وہ اس سخت عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اس عذاب سے کبھی نکل سکیں گے نہ عذاب میں کبھی کمی آئے گی اور ﴿لَا يَجِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ نہیں پائیں گے ‘‘ اپنے لیے ﴿وَلِيًّا ﴾ ’’کوئی دوست‘‘ جو ان کو وہ کچھ دے سکے جو وہ طلب کریں۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرًا﴾ ’’نہ ان کا کوئی مددگار ہو گا‘‘ جو ان سے عذاب کو دور کر سکے بلکہ تمام مددگار ان کو چھوڑ جائیں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ کا سخت عذاب انھیں گھیر لے گا۔اس لیے فرمایا: ﴿يَوۡمَ تُقَلَّبُ وُجُوۡهُهُمۡ فِي النَّارِ ﴾ ’’جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائے جائیں گے۔‘‘ پس وہ آگ کی شدید حرارت کا مزا چکھیں گے، آگ کا عذاب ان پر بھڑک اٹھے گا۔ وہ اپنے گزشتہ اعمال پر حسرت کا اظہار کریں گے۔ ﴿يَقُوۡلُوۡنَ يٰلَيۡتَنَاۤ اَطَعۡنَا اللّٰهَ وَاَطَعۡنَا الرَّسُوۡلَا ﴾ ’’وہ کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی‘‘ اور یوں ہم اس عذاب سے بچ جاتے اور اطاعت مندوں کی طرح ہم بھی ثواب جزیل کے مستحق ٹھہرتے۔ مگر یہ ان کی ایسی آرزو ہے جس کا وقت گزر چکا۔ جس کا اب، حسرت، ندامت، غم اور الم کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔

[67]﴿وَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّـاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَؔكُبَرَآءَؔنَا ﴾ ’’اور کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا‘‘ اور ہم نے گمراہی میں ان کی تقلید کی ﴿فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِيۡلَا﴾ ’’تو انھوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا۰۰ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ١ؕ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا﴾(الفرقان:25/27-29) ’’اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا اس نے مجھے نصیحت کے بارے میں گمراہ کر دیا جب وہ میرے پاس آئی۔‘‘

[68] جب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ اور ان کے سردار عذاب کے مستحق ہیں تو وہ ان کو عذاب میں دیکھنا چاہیں گے جنھوں نے ان کو گمراہ کیا، چنانچہ وہ کہیں گے:﴿رَبَّنَاۤ اٰتِهِمۡ ضِعۡفَيۡنِ مِنَ الۡعَذَابِ وَالۡعَنۡهُمۡ لَعۡنًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک کے لیے دوہرا عذاب ہے تم سب کفر اور معاصی میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک تھے، لہٰذا عذاب میں بھی تم ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہو گے اگرچہ تمھارے جرم میں تفاوت کے مطابق تمھارے عذاب میں بھی تفاوت ہو گا۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 427

Al-AhzabJuz 22 · Page 427

33:63

يَسۡـَٔلُكَ ٱلنَّاسُ عَنِ ٱلسَّاعَةِۖ قُلۡ إِنَّمَا عِلۡمُهَا عِندَ ٱللَّهِۚ وَمَا يُدۡرِيكَ لَعَلَّ ٱلسَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا ٦٣

People ask you concerning the Hour. Say, "Knowledge of it is only with Allāh. And what may make you perceive? Perhaps the Hour is near."

33:64

إِنَّ ٱللَّهَ لَعَنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ وَأَعَدَّ لَهُمۡ سَعِيرًا ٦٤

Indeed, Allāh has cursed the disbelievers and prepared for them a Blaze.

33:65

خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ لَّا يَجِدُونَ وَلِيّٗا وَلَا نَصِيرٗا ٦٥

Abiding therein forever, they will not find a protector or a helper.

33:66

يَوۡمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمۡ فِي ٱلنَّارِ يَقُولُونَ يَٰلَيۡتَنَآ أَطَعۡنَا ٱللَّهَ وَأَطَعۡنَا ٱلرَّسُولَا۠ ٦٦

The Day their faces will be turned about in the Fire, they will say, "How we wish we had obeyed Allāh and obeyed the Messenger."

33:67

وَقَالُواْ رَبَّنَآ إِنَّآ أَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَآءَنَا فَأَضَلُّونَا ٱلسَّبِيلَا۠ ٦٧

And they will say, "Our Lord, indeed we obeyed our masters and our dignitaries,1 and they led us astray from the [right] way.

1 translator’s note
  1. Also interpreted to mean "our noble ones and our elders [i.e., distinguished scholars]." ↩

33:68

رَبَّنَآ ءَاتِهِمۡ ضِعۡفَيۡنِ مِنَ ٱلۡعَذَابِ وَٱلۡعَنۡهُمۡ لَعۡنٗا كَبِيرٗا ٦٨

Our Lord, give them double the punishment and curse them with a great curse."

33:69

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ ءَاذَوۡاْ مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ ٱللَّهُ مِمَّا قَالُواْۚ وَكَانَ عِندَ ٱللَّهِ وَجِيهٗا ٦٩

O you who have believed, be not like those who abused Moses; then Allāh cleared him of what they said. And he, in the sight of Allāh, was distinguished.

33:70

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَقُولُواْ قَوۡلٗا سَدِيدٗا ٧٠

O you who have believed, fear Allāh and speak words of appropriate justice.

33:71

يُصۡلِحۡ لَكُمۡ أَعۡمَٰلَكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡۗ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيمًا ٧١

He will [then] amend for you your deeds and forgive you your sins. And whoever obeys Allāh and His Messenger has certainly attained a great attainment.

33:72

إِنَّا عَرَضۡنَا ٱلۡأَمَانَةَ عَلَى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱلۡجِبَالِ فَأَبَيۡنَ أَن يَحۡمِلۡنَهَا وَأَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا ٱلۡإِنسَٰنُۖ إِنَّهُۥ كَانَ ظَلُومٗا جَهُولٗا ٧٢

Indeed, We offered the Trust1 to the heavens and the earth and the mountains, and they declined to bear it and feared it; but man [undertook to] bear it. Indeed, he was unjust and ignorant.2

2 translator’s notes
  1. The acceptance of obligations and obedience to Allāh.

    [1215] Coveting its reward while forgetting the penalty for failure to keep his commitment.

    ↩
  2. ↩

33:73

لِّيُعَذِّبَ ٱللَّهُ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتِ وَٱلۡمُشۡرِكِينَ وَٱلۡمُشۡرِكَٰتِ وَيَتُوبَ ٱللَّهُ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمَۢا ٧٣

[It1 was] so that Allāh may punish the hypocrite men and hypocrite women and the men and women who associate others with Him and that Allāh may accept repentance from the believing men and believing women. And ever is Allāh Forgiving and Merciful.

1 translator’s note
  1. The reason for which mankind was permitted to carry the Trust. ↩
As-Sa'diTafsir · 33:64

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском