Saba 34:13
Sheba · Juz 22 · Page 429
يَعۡمَلُونَ لَهُۥ مَا يَشَآءُ مِن مَّحَٰرِيبَ وَتَمَٰثِيلَ وَجِفَانٖ كَٱلۡجَوَابِ وَقُدُورٖ رَّاسِيَٰتٍۚ ٱعۡمَلُوٓاْ ءَالَ دَاوُۥدَ شُكۡرٗاۚ وَقَلِيلٞ مِّنۡ عِبَادِيَ ٱلشَّكُورُ ١٣
They made for him what he willed of elevated chambers,1 statues,2 bowls like reservoirs, and stationary kettles. [We said], "Work, O family of David, in gratitude." And few of My servants are grateful.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 34:12–14
اور (تابع کیا) سلیمان کے ہوا کو، اس کا صبح کا چلنا، ایک ماہ (کی مسافت) تھا اور اس کا شام کا چلنا ایک ماہ تھا اور بہا دیا ہم نے اس کے لیے چشمہ تانبے کا، اور کچھ جن تھے جو کام کرتے تھے اس کے سامنے اس کے رب کے حکم سے، اور جو پھر جاتاان میں سے ہمارے حکم سے تو چکھاتے ہم اس کو خوب عذاب بھڑکتی آگ کا (12) وہ بناتے تھے اس کے لیے جو وہ چاہتا ، عالیشان عمارتیں اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے حوض اور دیگیں جمی ہوئیں، عمل کرو تم اے آل داؤد! (ہمارا) شکر کرنے کے لیے، اور بہت ہی تھوڑے ہیں میرے بندوں میں سے شکر گزار(13) پس جب ہم نے فیصلہ (نافذ) کر دیا اس (سلیمان) پر موت کا ، تو نہیں بتلایا ان (جنوں) کو اس (سلیمان) کی موت کا، مگر گھن کے کیڑے نے جو کھا رہا تھا اس کی لاٹھی کو، پس جب گر گیا سلیمان، تو جان لیا جنوں نے کہ اگر ہوتے وہ جانتے غیب کو تو نہ ٹھہرے رہتے وہ اس عذاب میں جو ذلیل کرنے والا ہے(14)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت داؤ دu پر اپنا فضل و کرم بیان کرنے کے بعد ان کے فرزند حضرت سلیمانu پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو آپ کے لیے مسخر کر دیا جو آپ کے حکم پر چلتی تھی جو آپ کو اور آپ کی افواج کو اٹھائے پھرتی تھی اور بہت دور کی مسافتیں بہت کم مدت میں طے کرتی تھی۔ دو ماہ کی مسافت ایک دن میں طے کر لیتی تھی۔ فرمایا: ﴿غُدُوُّهَا شَهۡرٌ ﴾ ’’اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی۔‘‘ دن کی ابتدا سے لے کر زوال تک ﴿وَّرَوَاحُهَا شَهۡرٌ ﴾ ’’اور اس کی شام کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی ۔‘‘ یعنی زوال آفتاب سے لے کر دن کے آخر تک۔ ﴿وَاَسَلۡنَا لَهٗ عَيۡنَ الۡقِطۡرِ﴾ اورہم نے حضرت سلیمانu کے لیے تانبے کا چشمہ مسخر کر دیا اور اس تانبے سے مختلف اقسام کی اشیاء اور برتن بنانے کے اسباب کو ان کے لیے آسان کر دیا۔نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانu کے لیے شیاطین اور جنوں کو مسخر کر دیا وہ آپ کی حکم عدولی کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ فرمایا: ﴿وَمَنۡ يَّزِغۡ مِنۡهُمۡ عَنۡ اَمۡرِنَا نُذِقۡهُ مِنۡ عَذَابِ السَّعِيۡرِ ﴾ ’’اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا، ہم اس کو جہنم کی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔‘‘
[13] یہ شیاطین اور جن وہ تمام کام کرتے تھے جس کا حضرت سلیمانu ان کو حکم دیتے تھے ﴿مِنۡ مَّحَارِيۡبَ ﴾ ’’قلعے‘‘ اس سے مراد ہر ایسی تعمیر ہے جس کے ذریعے سے عمارتوں کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ گویا اس میں بڑی بڑی عمارتوں کا ذکر ہے ﴿وَتَمَاثِيۡلَ ﴾ ’’اور مجسمے‘‘ یعنی حیوانات و جمادات کی تماثیل بنانا ان کی اس صنعت میں مہارت ، قدرت اور ان کا سلیمان u کے لیے کام کرنے پر دلالت کرنا ہے۔ ﴿وَجِفَانٍ كَالۡجَوَابِ ﴾ ’’اور لگن جیسے تالاب‘‘ وہ حضرت سلیمانu کے لیے بڑے بڑے حوض بناتے تھے، جن میں کھانا ڈالا جاتا تھا کیونکہ حضرت سلیمانu ایسی چیزوں کے محتاج تھے جن کے دوسرے لوگ محتاج نہ تھے اور وہ ان کے لیے بڑی دیگیں بناتے تھے جو بڑی ہونے کی وجہ سے اپنی جگہ سے نہ ہٹتی تھیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنی نوازشات کا ذکر کرنے کے بعد انھیں ان نوازشات پر شکر کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ ﴾ ’’اے آل داود! نیک عمل کرو۔‘‘ اس سے مراد داؤ دu، ان کی اولاد اور اہل و عیال ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا احسان ان سب پر تھا اور ان بہت سے فوائد سے سب ہی مستفید ہوتے تھے۔ ﴿شُكۡرًا ﴾ یعنی اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾ اکثر لوگ، اللہ تعالیٰ نے ان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں اور ان سے جو تکالیف دور کی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ ’’شکر‘‘ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا دل سے اعتراف کرنا، اپنے آپ کو اس کا محتاج سمجھتے ہوئے اس نعمت کو قبول کرنا، اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرنا اور اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے گریز کرنا۔
[14] شیاطین اور جن حضرت سلیمانu کے لیے عمارتیں تعمیر کرتے رہے۔ انھوں نے انسانوں کو بہکایا اور ان پر ظاہر کیا کہ وہ غیب کا علم جانتے ہیں اور چھپی ہوئی چیزوں کی اطلاع رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ بندوں پر ان کا جھوٹ واضح کرے، لہٰذا وہ اپنا کام کررہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانu کی وفات کا فیصلہ کر دیا، حضرت سلیمانu اپنے عصا کا سہارا لیے کھڑے تھے (اور اسی حالت میں وفات پاگئے) تو جن جب وہاں سے گزرتے تو دیکھتے کہ وہ سہارا لیے کھڑے ہیں۔ وہ انھیں زندہ سمجھتے ہوئے ان سے ڈرتے رہے۔ ایک قول کے مطابق جن سال بھر اسی طرح کام کرتے رہے حتیٰ کہ دیمک نے ان کا عصا کھانا شروع کر دیا یہاں تک کہ عصا بالکل ختم ہو کر گر گیا اور اس کے ساتھ حضرت سلیمانu کا جسد بھی زمین پر آرہا۔ یہ دیکھ کر شیاطین آزاد ہو کر بھاگ گئے اس طرح انسانوں پر واضح ہو گیا ﴿اَنۡ لَّوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ الۡغَيۡبَ مَا لَبِثُوۡا فِي الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’کہ اگر جنوں کے پاس علم غیب ہوتا تو وہ اس رسوا کن عذاب میں مبتلا نہ رہتے‘‘ یعنی اس انتہائی سخت کام میں مصروف نہ رہتے۔ اگر ان کے پاس غیب کا علم ہوتا تو انھیں حضرت سلیمانu کے وفات پاجانے کا علم ہوتا، جو ان کی سب سے بڑی خواہش تھی تاکہ اس مشقت سے نجات پائیں۔
Page 429
34:8
أَفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَم بِهِۦ جِنَّةُۢۗ بَلِ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ فِي ٱلۡعَذَابِ وَٱلضَّلَٰلِ ٱلۡبَعِيدِ ٨
Has he invented about Allāh a lie or is there in him madness?" Rather, they who do not believe in the Hereafter will be in the punishment and [are in] extreme error.
34:9
أَفَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَىٰ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِن نَّشَأۡ نَخۡسِفۡ بِهِمُ ٱلۡأَرۡضَ أَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَيۡهِمۡ كِسَفٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّكُلِّ عَبۡدٖ مُّنِيبٖ ٩
Then, do they not look at what is before them and what is behind them of the heaven and earth? If We should will, We could cause the earth to swallow them or [could] let fall upon them fragments from the sky. Indeed in that is a sign for every servant turning back [to Allāh].
34:10
۞ وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا دَاوُۥدَ مِنَّا فَضۡلٗاۖ يَٰجِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُۥ وَٱلطَّيۡرَۖ وَأَلَنَّا لَهُ ٱلۡحَدِيدَ ١٠
And We certainly gave David from Us bounty. [We said], "O mountains, repeat [Our] praises with him, and the birds [as well]." And We made pliable for him iron,
34:11
أَنِ ٱعۡمَلۡ سَٰبِغَٰتٖ وَقَدِّرۡ فِي ٱلسَّرۡدِۖ وَٱعۡمَلُواْ صَٰلِحًاۖ إِنِّي بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ ١١
[Commanding him], "Make full coats of mail and calculate [precisely] the links, and work [all of you] righteousness. Indeed I, of what you do, am Seeing."
34:12
وَلِسُلَيۡمَٰنَ ٱلرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهۡرٞ وَرَوَاحُهَا شَهۡرٞۖ وَأَسَلۡنَا لَهُۥ عَيۡنَ ٱلۡقِطۡرِۖ وَمِنَ ٱلۡجِنِّ مَن يَعۡمَلُ بَيۡنَ يَدَيۡهِ بِإِذۡنِ رَبِّهِۦۖ وَمَن يَزِغۡ مِنۡهُمۡ عَنۡ أَمۡرِنَا نُذِقۡهُ مِنۡ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ ١٢
And to Solomon [We subjected] the wind - its morning [journey was that of] a month - and its afternoon [journey was that of] a month, and We made flow for him a spring of [liquid] copper. And among the jinn were those who worked for him by the permission of his Lord. And whoever deviated among them from Our command - We will make him taste of the punishment of the Blaze.
34:13
يَعۡمَلُونَ لَهُۥ مَا يَشَآءُ مِن مَّحَٰرِيبَ وَتَمَٰثِيلَ وَجِفَانٖ كَٱلۡجَوَابِ وَقُدُورٖ رَّاسِيَٰتٍۚ ٱعۡمَلُوٓاْ ءَالَ دَاوُۥدَ شُكۡرٗاۚ وَقَلِيلٞ مِّنۡ عِبَادِيَ ٱلشَّكُورُ ١٣
They made for him what he willed of elevated chambers,1 statues,2 bowls like reservoirs, and stationary kettles. [We said], "Work, O family of David, in gratitude." And few of My servants are grateful.
34:14
فَلَمَّا قَضَيۡنَا عَلَيۡهِ ٱلۡمَوۡتَ مَا دَلَّهُمۡ عَلَىٰ مَوۡتِهِۦٓ إِلَّا دَآبَّةُ ٱلۡأَرۡضِ تَأۡكُلُ مِنسَأَتَهُۥۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ ٱلۡجِنُّ أَن لَّوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ ٱلۡغَيۡبَ مَا لَبِثُواْ فِي ٱلۡعَذَابِ ٱلۡمُهِينِ ١٤
And when We decreed for him [i.e., Solomon] death, nothing indicated to them [i.e., the jinn] his death except a creature of the earth eating his staff.1 But when he fell, it became clear to the jinn that if they had known the unseen, they would not have remained in humiliating punishment.2