SabaJuz 22 · Page 431

Saba 34:31

Sheba · Juz 22 · Page 431

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَن نُّؤۡمِنَ بِهَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ وَلَا بِٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِۗ وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّٰلِمُونَ مَوۡقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمۡ يَرۡجِعُ بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٍ ٱلۡقَوۡلَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ لَوۡلَآ أَنتُمۡ لَكُنَّا مُؤۡمِنِينَ ٣١

And those who disbelieve say, "We will never believe in this Qur’ān nor in that before it." But if you could see when the wrongdoers are made to stand before their Lord, refuting each others' words...1 Those who were oppressed will say to those who were arrogant, "If not for you, we would have been believers."

1 translator’s note
  1. Having been left to the imagination, the conclusion of this sentence is estimated to be "...you would see a dreadful sight." ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 34:31–33

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ہرگز نہیں ایمان لائیں گے ہم ا س قرآن پر او ر نہ ان (کتابوں) پرجو اس سے پہلے تھیں اور آپ اگر دیکھیں جب ظالم لوگ کھڑے کیے جائیں گے سامنے اپنے رب کے، جبکہ رد کر رہا ہوگا بعض ان کا بعض کی بات کا، (تو آپ کو تعجب ہو گا)کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے، ان لوگوں سے جو تکبر کرتے (بڑے بنتے) تھے اگر نہ ہوتے تم تو یقیناً ہوتے ہم مومن(31)کہیں گے وہ لوگ جو تکبر کرتے (بڑے بنتے) تھے، ان سے جو کمزور سمجھے جاتے تھے، کیا ہم نے روک دیا تھا تمھیں ہدایت(اختیار کرنے) سے بعد اس کے جب وہ آ گئی تھی تمھارے پاس؟بلکہ تھے تم (خود ہی) مجرم(32)اور کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے، ان سے جو بڑے بنتے تھے، (نہیں)بلکہ (تمھاری) رات اور دن کی چالوں ہی نے (ہمیں روکا تھا) جب حکم دیتے تھے تم ہمیں یہ کہ کفر کریں ہم ساتھ اللہ کے اور ٹھہرائیں اس کے لیے شریک، اور چھپائیں گے وہ ندامت کو جب دیکھیں گے عذاب، اور ہم کر (ڈال) دیں گے طوق گردنوں میں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ، مگر(اسی کا) جو تھے وہ عمل کرتے(33)

[31] اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کے لیے عذاب کا جو وعدہ کیا گیا ہے اپنے وقت پر اس کا پورا ہونا ضروری ہے۔ یہاں فرمایا کہ اگر آپ اس روز ان کا حال دیکھیں، جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے، سردار اور کفروضلالت میں ان کی پیروی کرنے والے اکٹھے کھڑے ہوں گے، تو آپ کو بہت بڑا اور انتہائی ہولناک معاملہ نظر آئے گا اور آپ دیکھیں گے کہ وہ کیسے ایک دوسرے کی بات کو رد کرتے ہیں۔ ﴿يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا ﴾ ’’وہ لوگ جو کمزور کیے گئے تھے وہ کہیں گے‘‘ یعنی متبعین ﴿لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا ﴾ ’’ان سے جنھوں نے تکبر کیا۔‘‘ اس سے مراد قائدین کفر ہیں ﴿لَوۡلَاۤ اَنۡتُمۡ لَكُنَّا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوتے۔‘‘ مگر تم ہمارے اور ایمان کے درمیان حائل ہو گئے، تم نے کفر کو ہمارے سامنے مزین کیا اور تمھاری پیروی میں ہم نے کفر کو اختیار کیا۔ ایسا کہنے میں ان کا مقصود یہ ہو گا کہ ان کی بجائے عذاب ان سرداروں کو دیا جائے۔

[32]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡۤا ﴾ ’’جنھوں نے تکبر کیا وہ کمزور بنائے ہوئے لوگوں سے کہیں گے۔‘‘ یہ سردار استفہامی انداز میں ان کو خبر دیں گے کہ سب اس عذاب کو بھگتیں گے۔ ﴿اَنَحۡنُ صَدَدۡنٰكُمۡ عَنِ الۡهُدٰؔى بَعۡدَ اِذۡ جَآءَكُمۡ ﴾ ’’کیا ہم نے تمھیں ہدایت آجانے کے بعد اس سے روکا تھا؟، ، یعنی کیا ہم نے تمھیں اپنی قوت اور غلبے کی وجہ سے ایمان لانے سے روکا تھا؟ ﴿بَلۡ كُنۡتُمۡ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم مجرم تھے۔‘‘ یعنی تم مقہور ومغلوب نہ تھے، تم سے جبراً کفر کا ارتکاب نہیں کرایا گیا تھا بلکہ تم نے اپنے اختیار سے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ اگرچہ ہم نے تمھارے سامنے کفر کو مزین کیا تھا، تاہم تم پر ہمیں کوئی تسلط اور اختیار تو حاصل نہ تھا۔

[33]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا بَلۡ مَكۡرُ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ اِذۡ تَاۡمُرُوۡنَنَاۤ۠ اَنۡ نَّـكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَنَجۡعَلَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا ﴾ ’’اور کمزور لوگ تکبر کرنے والے لوگوں سے کہیں گے، بلکہ تم رات دن مکر وفریب کرتے رہتے تھے جس وقت تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا انکار کریں اور اس کے لیے شریک ٹھرائیں۔‘‘ یعنی تم نے جو دن رات سازشیں کیں اور تم نے ہمارے ساتھ مکروفریب کیا اور اس مکروفریب سے ہم پر گمراہی کو مسلط کیا، تم ہمارے سامنے کفر کو مزین کیا کرتے تھے ، پھر اس کی طرف دعوت دیا کرتے تھے۔ تم اس کے بارے میں دعویٰ کیا کرتے تھے کہ یہ حق ہے اور حق میں جرح و قدح کر کے اس کی قدر گھٹایا کرتے تھے اور بزعم خود حق کو باطل قرار دیا کرتے تھے۔ تم ہمارے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہے یہاں تک کہ تم نے ہمیں گمراہ کر کے فتنے میں مبتلا کر دیا۔آپس میں ان کی یہ گفتگو اس کے سوا انھیں کوئی فائدہ نہ دے گی کہ وہ ایک دوسرے سے بیزاری اور سخت ندامت کا اظہار کریں گے، اس لیے فرمایا:﴿وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ ﴾ ’’اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔‘‘ یعنی اس حجت کا تاروپود بکھر جائے گا جس کے ذریعے سے وہ ایک دوسرے پر حجت قائم کرتے تھے کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے اور وہ جان لیں گے کہ وہ ظالم ہیں اور عذاب کے مستحق ہیں۔ ان میں سے ہر مجرم بے حد پشیمان ہو گا اور وہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ حق پر ہوتا اور اس نے باطل کو چھوڑ دیا ہوتا جس نے اسے اس عذاب میں مبتلا کیا ہے۔ اپنے جرائم کا اقرار کر لینے کی فضیحت کا خوف ان پر چھا جائے گا۔قیامت کے بعض مواقف پر اور جہنم میں داخل ہوتے وقت، وہ بآواز بلند اپنی ندامت کا اظہار کریں گے:﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا ﴾(الفرقان:25/27-28) ’’اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش! میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ۰۰ فَاعۡتَرَفُوۡا بِذَنۢۡبِهِمۡ١ۚ فَسُحۡقًا لِّاَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ ﴾(الملک : 67 ؍10۔11)’’وہ کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو ہم اصحاب جہنم میں شامل نہ ہوتے، وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے۔ پس جہنمی اللہ کی رحمت سے دور ہیں۔‘‘﴿وَجَعَلۡنَا الۡاَغۡلٰلَ فِيۡۤ اَعۡنَاقِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔‘‘ یعنی ان کو بیڑیاں پہنائی جائیں گی جیسے اس قیدی کو پہنا دی جاتی ہیں جس کی قید میں اہانت مقصود ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ وَالسَّلٰسِلُ١ؕ يُسۡحَبُوۡنَۙ۰۰ فِي الۡحَمِيۡمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسۡجَرُوۡنَ﴾(المؤمن:40؍71۔72) ’’جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں پہنا دی جائیں گی، پھر انھیں کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘ ﴿هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ یہ عذاب اور یہ سزا جو انھیں دی گئی ہے اور یہ بوجھل طوق جو انھیں پہنائے گئے ہیں ﴿اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ صرف ان اعمال کی پاداش میں ہے جن کا وہ کفر، فسق اور نافرمانی کرکے ارتکاب کیا کرتے تھے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 431

SabaJuz 22 · Page 431

34:23

وَلَا تَنفَعُ ٱلشَّفَٰعَةُ عِندَهُۥٓ إِلَّا لِمَنۡ أَذِنَ لَهُۥۚ حَتَّىٰٓ إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمۡ قَالُواْ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمۡۖ قَالُواْ ٱلۡحَقَّۖ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡكَبِيرُ ٢٣

And intercession does not benefit with Him except for one whom He permits. [And those wait] until, when terror is removed from their hearts,1 they will say [to one another], "What has your Lord said?" They will say, "The truth." And He is the Most High, the Grand.

1 translator’s note
  1. i.e., the hearts of the angels who will be permitted to intercede. ↩

34:24

۞ قُلۡ مَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ قُلِ ٱللَّهُۖ وَإِنَّآ أَوۡ إِيَّاكُمۡ لَعَلَىٰ هُدًى أَوۡ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٢٤

Say, "Who provides for you from the heavens and the earth?" Say, "Allāh. And indeed, we or you are either upon guidance or in clear error."

34:25

قُل لَّا تُسۡـَٔلُونَ عَمَّآ أَجۡرَمۡنَا وَلَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُونَ ٢٥

Say, "You will not be asked about what we committed, and we will not be asked about what you do."

34:26

قُلۡ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفۡتَحُ بَيۡنَنَا بِٱلۡحَقِّ وَهُوَ ٱلۡفَتَّاحُ ٱلۡعَلِيمُ ٢٦

Say, "Our Lord will bring us together; then He will judge between us in truth. And He is the Knowing Judge."1

1 translator’s note
  1. Literally, "Opener," i.e., He who decides and lays open all matters in truth and justice and who opens the way to victory, success, relief, knowledge and understanding. ↩

34:27

قُلۡ أَرُونِيَ ٱلَّذِينَ أَلۡحَقۡتُم بِهِۦ شُرَكَآءَۖ كـَلَّاۚ بَلۡ هُوَ ٱللَّهُ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٢٧

Say, "Show me those whom you have attached to Him as partners. No! Rather, He [alone] is Allāh, the Exalted in Might, the Wise."

34:28

وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا كَآفَّةٗ لِّلنَّاسِ بَشِيرٗا وَنَذِيرٗا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٢٨

And We have not sent you except comprehensively1 to mankind as a bringer of good tidings and a warner. But most of the people do not know.

1 translator’s note
  1. Literally, "inclusively, without exception." ↩

34:29

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٢٩

And they say, "When is this promise, if you should be truthful?"

34:30

قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوۡمٖ لَّا تَسۡتَـٔۡخِرُونَ عَنۡهُ سَاعَةٗ وَلَا تَسۡتَقۡدِمُونَ ٣٠

Say, "For you is the appointment of a Day [when] you will not remain thereafter an hour, nor will you precede [it]."

34:31

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَن نُّؤۡمِنَ بِهَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ وَلَا بِٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِۗ وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّٰلِمُونَ مَوۡقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمۡ يَرۡجِعُ بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٍ ٱلۡقَوۡلَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ لَوۡلَآ أَنتُمۡ لَكُنَّا مُؤۡمِنِينَ ٣١

And those who disbelieve say, "We will never believe in this Qur’ān nor in that before it." But if you could see when the wrongdoers are made to stand before their Lord, refuting each others' words...1 Those who were oppressed will say to those who were arrogant, "If not for you, we would have been believers."

1 translator’s note
  1. Having been left to the imagination, the conclusion of this sentence is estimated to be "...you would see a dreadful sight." ↩
As-Sa'diTafsir · 34:31

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском