Saba 34:38
Sheba · Juz 22 · Page 432
وَٱلَّذِينَ يَسۡعَوۡنَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا مُعَٰجِزِينَ أُوْلَٰٓئِكَ فِي ٱلۡعَذَابِ مُحۡضَرُونَ ٣٨
And the ones who strive against Our verses to cause [them] failure1 - those will be brought into the punishment [to remain].
1 translator’s note
- See footnote to 34:5. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 34:34–39
اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، مگر کہا اس کے خوش حال لوگوں نے، بلاشبہ ہم اس چیز کا، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں(34) اور انھوں نے کہا، ہم زیادہ ہیں(تم سے) مال اوراولاد میں اور نہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (35)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور کم کرتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(36)اور نہیں ہیں تمھارے مال اور نہ تمھاری اولاد، (ایسی چیز) کہ جو قریب کر دے تمھیں ہمارے پاس درجے میں، مگر جو ایمان لایا اور عمل کیے اس نے نیک، پس یہی لوگ ہیں، ان کے لیے بدلہ ہے دگنا بہ سبب ان (عملوں) کے جو انھوں نے کیے، اور وہ بالاخانوں میں پر امن ہوں گے (37)اور جن لوگوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے(38) کہہ دیجیے! بے شک میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے اس کے لیے اور جو خرچ کرتے ہو تم کوئی چیز، تو وہ بدلہ دیتا ہے اس کا، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے(39)
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنھوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنھوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انھوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا۔
[35]﴿وَقَالُوۡا نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں سے جنھوں نے حق کی اتباع کی۔ ﴿وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، اگر ہمیں دوبارہ زندہ کیا بھی گیا تو وہ ہستی جس نے ہمیں اس دنیا میں مال اور اولاد سے نوازا ہے، وہ ہمیں آخرت میں اس سے بھی زیادہ مال اور اولاد سے نوازے گی اور ہمیں عذاب نہ دے گی۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی تمھارے دعوے کی دلیل نہیں کیونکہ رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت عطا ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے بندے کے لیے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور اگر چاہے تو تنگ کر دیتا ہے۔
[37] مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کرتے اور جو چیز اللہ کے قریب کرتی ہے وہ ہے انبیاء ومرسلین کی دعوت پر ایمان اور عمل صالح جو ایمان کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کئی گنا اجر ہے جنھیں ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ بہت ہی بلند مرتبہ منازل میں، ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ اطمینان سے رہیں گے، انھیں وہاں مختلف قسم کی لذات اور دل پسند چیزیں عطا ہوں گی اور انھیں وہاں سے نکلنے کا خوف ہو گا نہ کوئی حزن و غم۔
[38] رہے وہ لوگ جو ہمیں اور ہمارے رسولوں کو عاجز اور بے بس بنانے اور ان کو جھٹلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں تو ﴿اُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ﴾ ’’وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ جہنم کے فرشتے انھیں جہنم میں دھکیل دیں گے اور انھیں جن ہستیوں پر بھروسہ تھا وہ انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔
[39] اللہ تبارک وتعالیٰ نے پھر اعادہ فرمایا: ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ لَهٗ﴾ ’’وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔‘‘ تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مترتب ہو: ﴿وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور تم جو چیز خرچ کرو گے۔‘‘ خواہ وہ نفقہ واجبہ ہو یا نفقہ مستحبہ، اسے کسی قریبی رشتہ دار، پڑوسی، مسکین، اور یتیم پر خرچ کیا گیا ہو یا کسی اور پر ﴿فَهُوَ يُخۡلِفُهٗ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تمھیں اور رزق عطا کر دیتا ہے۔‘‘ اس لیے اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ خرچ کرنے سے رزق میں کمی واقع ہو جائے گی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی جگہ اور رزق عطا کرے گا، وہ جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ اس لیے اسی سے رزق طلب کرو اور ان اسباب رزق کو بڑھاؤ جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔
Page 432
34:32
قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُوٓاْ أَنَحۡنُ صَدَدۡنَٰكُمۡ عَنِ ٱلۡهُدَىٰ بَعۡدَ إِذۡ جَآءَكُمۖ بَلۡ كُنتُم مُّجۡرِمِينَ ٣٢
Those who were arrogant will say to those who were oppressed, "Did we avert you from guidance after it had come to you? Rather, you were criminals."
34:33
وَقَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ بَلۡ مَكۡرُ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ إِذۡ تَأۡمُرُونَنَآ أَن نَّكۡفُرَ بِٱللَّهِ وَنَجۡعَلَ لَهُۥٓ أَندَادٗاۚ وَأَسَرُّواْ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَۚ وَجَعَلۡنَا ٱلۡأَغۡلَٰلَ فِيٓ أَعۡنَاقِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۖ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ إِلَّا مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٣٣
Those who were oppressed will say to those who were arrogant, "Rather, [it was your] conspiracy of night and day when you were ordering us to disbelieve in Allāh and attribute to Him equals." But they will [all] confide regret when they see the punishment; and We will put shackles on the necks of those who disbelieved. Will they be recompensed except for what they used to do?
34:34
وَمَآ أَرۡسَلۡنَا فِي قَرۡيَةٖ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوهَآ إِنَّا بِمَآ أُرۡسِلۡتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ ٣٤
And We did not send into a city any warner except that its affluent said, "Indeed we, in that with which you were sent, are disbelievers."
34:35
وَقَالُواْ نَحۡنُ أَكۡثَرُ أَمۡوَٰلٗا وَأَوۡلَٰدٗا وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِينَ ٣٥
And they1 said, "We are more [than the believers] in wealth and children, and we are not to be punished."
1 translator’s note
- The affluent ones in general or the people of Makkah specifically. ↩
34:36
قُلۡ إِنَّ رَبِّي يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٣٦
Say, "Indeed, my Lord extends provision for whom He wills and restricts [it], but most of the people do not know."
34:37
وَمَآ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُكُم بِٱلَّتِي تُقَرِّبُكُمۡ عِندَنَا زُلۡفَىٰٓ إِلَّا مَنۡ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَأُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ جَزَآءُ ٱلضِّعۡفِ بِمَا عَمِلُواْ وَهُمۡ فِي ٱلۡغُرُفَٰتِ ءَامِنُونَ ٣٧
And it is not your wealth or your children that bring you nearer to Us in position, but it is [by being] one who has believed and done righteousness. For them there will be the double reward for what they did, and they will be in the upper chambers [of Paradise], safe [and secure].
34:38
وَٱلَّذِينَ يَسۡعَوۡنَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا مُعَٰجِزِينَ أُوْلَٰٓئِكَ فِي ٱلۡعَذَابِ مُحۡضَرُونَ ٣٨
And the ones who strive against Our verses to cause [them] failure1 - those will be brought into the punishment [to remain].
1 translator’s note
- See footnote to 34:5. ↩
34:39
قُلۡ إِنَّ رَبِّي يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦ وَيَقۡدِرُ لَهُۥۚ وَمَآ أَنفَقۡتُم مِّن شَيۡءٖ فَهُوَ يُخۡلِفُهُۥۖ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلرَّٰزِقِينَ ٣٩
Say, "Indeed, my Lord extends provision for whom He wills of His servants and restricts [it] for him. But whatever thing you spend [in His cause] - He will compensate it; and He is the best of providers."