Saba 34:8
Sheba · Juz 22 · Page 429
أَفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَم بِهِۦ جِنَّةُۢۗ بَلِ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ فِي ٱلۡعَذَابِ وَٱلضَّلَٰلِ ٱلۡبَعِيدِ ٨
Has he invented about Allāh a lie or is there in him madness?" Rather, they who do not believe in the Hereafter will be in the punishment and [are in] extreme error.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 34:6–9
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کیارہنمائی کریں ہم تمھاری اوپر ایسے آدمی کے جو خبر دیتا ہے تمھیں کہ جب پارہ پارہ کر دیے جاؤ گے تم ہر طرح پارہ پارہ کیے جانا تو بے شک ہو گے تم البتہ ایک نئی پیدائش میں(7) کیا باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ یا اسے جنون(لاحق) ہے ؟ (نہیں) بلکہ وہ لوگ جو نہیں ایمان رکھتے آخرت پر، (وہ) عذاب میں اور دور کی گمراہی میں (پڑے) ہیں(8)کیا پس نہیں دیکھا انھوں نے طرف اس کی جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین سے، اگر ہم چاہیں تودھنسا دیں ان کو زمین میں یا گرا دیں ہم ان پر ٹکڑے آسمان سے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے واسطے ہر رجوع کرنے والے بندے کے(9)
[7]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی کفار تکذیب اور استہزا کے طور پر اور معاد کو ناممکن قرار دیتے ہوئے ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ﴿هَلۡ نَدُلُّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ يُّنَبِّئُكُمۡ اِذَا مُزِّقۡتُمۡ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّـكُمۡ لَفِيۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ﴾ ’’کیا ہم تمھاری راہنمائی ایسے شخص کی طرف کریں جو تمھیں یہ خبر پہنچارہاہے کہ جب تم بالکل ہی ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے۔‘‘ ان کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو ایک انوکھی چیز پیش کر رہے ہیں ان کی نظر میں آپ ان کے لیے تفریح کا ایک ذریعہ ہیں اور ایک عجوبہ ہیں جن کا وہ مذاق اڑاتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ آپ کیسے یہ بات کہتے ہیں: ’’جب تم بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تمھارا جوڑ جوڑ الگ ہو جائے گا اور تمھارے اعضاء بکھر کر نیست و نابود ہو جائیں گے ، پھر تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟‘‘
[8] یہ شخص جو بات کہتا ہے کیا ﴿اَفۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کی جرأت کی ہے ﴿اَمۡ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا اسے جنون ہے؟‘‘ اور یہ اس سے کوئی بعید بھی نہیں کیونکہ جنون کی کئی قسمیں ہیں۔ وہ یہ سب کچھ ظلم اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ مخلوق میں سب سے سچے اور سب سے عقل مند انسان ہیں۔ ان کا علم بس یہی ہے کہ انھوں نے آپ سے عداوت شروع کی اور بار بار عداوت کا اظہار کیا اور انھوں نے لوگوں کو آپ سے دور رکھنے کے لیے اپنی جان اور مال خرچ کر دیا۔گندے ذہن کے لوگو! اگر آپﷺ جھوٹے یا پاگل ہوتے، تو یہ مناسب ہی نہ تھا کہ تم ان کی بات پر دھیان دیتے یا تم ان کی دعوت کو درخوراعتنا سمجھتے کیونکہ ایک عقل مند شخص کے لائق نہیں کہ وہ ایک پاگل شخص کی طرف التفات کرے یا اس کی بات کو کوئی اہمیت دے۔ اگر تمھارے دل میں عناد نہ ہوتا اور تمھارا رویہ ظلم پر مبنی نہ ہوتا تو تم آگے بڑھ کر آپ کی دعوت کو قبول کرتے اور آپ کی آواز پر لبیک کہتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے، نشانیاں اور ڈراوے ان کے کسی کام نہیں آتے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلِ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’بلکہ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے مذکورہ بالا بات کہی تھی ﴿فِي الۡعَذَابِ وَالضَّلٰلِ الۡبَعِيۡدِ ﴾ وہ بہت بڑی بدبختی اور دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں اور منزل صواب کے ذرا بھی قریب نہیں۔ کون سی بدبختی اور گمراہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس چیز پر قادر ہونے کے انکار سے بڑھ کر ہو کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور کون سی بدبختی اور گمراہی ان کی رسولوں کی تکذیب، ان کے ساتھ استہزا اور ان کے اس دعوے سے بڑھ کر ہو کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے۔ پس وہ حق کو باطل اور باطل و ضلالت کو حق اور ہدایت سمجھتے ہیں۔
[9] پھر اللہ تعالیٰ نے ایک عقلی دلیل کی طرف ان کی توجہ مبذول کی ہے جو زندگی بعد موت کے بعید نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اگر وہ اپنے آگے پیچھے زمین اور آسمان کی طرف دیکھیں تو انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ایسے مناظر نظر آئیں گے جو عقل کو حیران کر دیتے ہیں، وہ اس کی عظمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو بڑے بڑے علماء کو حواس باختہ کر دیتے ہیں اور انھیں معلوم ہوجائے گا کہ زمین و آسمان کی تخلیق، ان کی عظمت اور زمین و آسمان کے اندر موجود مخلوقات کی تخلیق قبروں میں مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ عظیم ہے۔ پس کس چیز نے ان کو اس پر آمادہ کیا ہے کہ وہ زندگی بعد موت کی تکذیب کرتے رہیں حالانکہ وہ اس سے مشکل تر چیز کی تصدیق کرتے ہیں۔ہاں! زندگی بعد موت، اب تک خبر غیبی ہے جس کا انھوں نے مشاہدہ نہیں کیا اس لیے انھوں نے اس کی تکذیب کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنۡ نَّشَاۡ نَخۡسِفۡ بِهِمُ الۡاَرۡضَ اَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَيۡهِمۡ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔‘‘ یعنی عذاب کا کوئی ٹکڑا کیونکہ زمین اور آسمان ہمارے دست تدبیر کے تحت ہیں اگر ہم ان کو حکم دیں تو وہ حکم عدولی نہیں کر سکتے، لہٰذا تم اپنی تکذیب پر مصر رہنے سے باز آ جاؤ ورنہ ہم تمھیں سخت سزا دیں گے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ یعنی زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام مخلوقات کی تخلیق میں ﴿لَاٰيَةً لِّكُلِّ عَبۡدٍ مُّنِيۡبٍ ﴾ ’’ البتہ نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے، جو اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے‘‘ اس کی اطاعت کرتا ہے اور پورا یقین ہے کہ وہ، انسانوں کی موت کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔بندۂ مومن جس قدر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے گا، اسی قدر زیادہ وہ آیات الٰہی سے مستفید ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کا ارادہ اور ہمت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ بندہ ہر معاملے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور اپنے رب کی رضا میں مشغولیت کے سوا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ مخلوقات پر اس کی نظر بے فائدہ اور غفلت کی نظر نہیں ہوتی بلکہ فکروعبرت کی نظر ہوتی ہے۔
Page 429
34:8
أَفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَم بِهِۦ جِنَّةُۢۗ بَلِ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ فِي ٱلۡعَذَابِ وَٱلضَّلَٰلِ ٱلۡبَعِيدِ ٨
Has he invented about Allāh a lie or is there in him madness?" Rather, they who do not believe in the Hereafter will be in the punishment and [are in] extreme error.
34:9
أَفَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَىٰ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِن نَّشَأۡ نَخۡسِفۡ بِهِمُ ٱلۡأَرۡضَ أَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَيۡهِمۡ كِسَفٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّكُلِّ عَبۡدٖ مُّنِيبٖ ٩
Then, do they not look at what is before them and what is behind them of the heaven and earth? If We should will, We could cause the earth to swallow them or [could] let fall upon them fragments from the sky. Indeed in that is a sign for every servant turning back [to Allāh].
34:10
۞ وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا دَاوُۥدَ مِنَّا فَضۡلٗاۖ يَٰجِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُۥ وَٱلطَّيۡرَۖ وَأَلَنَّا لَهُ ٱلۡحَدِيدَ ١٠
And We certainly gave David from Us bounty. [We said], "O mountains, repeat [Our] praises with him, and the birds [as well]." And We made pliable for him iron,
34:11
أَنِ ٱعۡمَلۡ سَٰبِغَٰتٖ وَقَدِّرۡ فِي ٱلسَّرۡدِۖ وَٱعۡمَلُواْ صَٰلِحًاۖ إِنِّي بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ ١١
[Commanding him], "Make full coats of mail and calculate [precisely] the links, and work [all of you] righteousness. Indeed I, of what you do, am Seeing."
34:12
وَلِسُلَيۡمَٰنَ ٱلرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهۡرٞ وَرَوَاحُهَا شَهۡرٞۖ وَأَسَلۡنَا لَهُۥ عَيۡنَ ٱلۡقِطۡرِۖ وَمِنَ ٱلۡجِنِّ مَن يَعۡمَلُ بَيۡنَ يَدَيۡهِ بِإِذۡنِ رَبِّهِۦۖ وَمَن يَزِغۡ مِنۡهُمۡ عَنۡ أَمۡرِنَا نُذِقۡهُ مِنۡ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ ١٢
And to Solomon [We subjected] the wind - its morning [journey was that of] a month - and its afternoon [journey was that of] a month, and We made flow for him a spring of [liquid] copper. And among the jinn were those who worked for him by the permission of his Lord. And whoever deviated among them from Our command - We will make him taste of the punishment of the Blaze.
34:13
يَعۡمَلُونَ لَهُۥ مَا يَشَآءُ مِن مَّحَٰرِيبَ وَتَمَٰثِيلَ وَجِفَانٖ كَٱلۡجَوَابِ وَقُدُورٖ رَّاسِيَٰتٍۚ ٱعۡمَلُوٓاْ ءَالَ دَاوُۥدَ شُكۡرٗاۚ وَقَلِيلٞ مِّنۡ عِبَادِيَ ٱلشَّكُورُ ١٣
They made for him what he willed of elevated chambers,1 statues,2 bowls like reservoirs, and stationary kettles. [We said], "Work, O family of David, in gratitude." And few of My servants are grateful.
34:14
فَلَمَّا قَضَيۡنَا عَلَيۡهِ ٱلۡمَوۡتَ مَا دَلَّهُمۡ عَلَىٰ مَوۡتِهِۦٓ إِلَّا دَآبَّةُ ٱلۡأَرۡضِ تَأۡكُلُ مِنسَأَتَهُۥۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ ٱلۡجِنُّ أَن لَّوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ ٱلۡغَيۡبَ مَا لَبِثُواْ فِي ٱلۡعَذَابِ ٱلۡمُهِينِ ١٤
And when We decreed for him [i.e., Solomon] death, nothing indicated to them [i.e., the jinn] his death except a creature of the earth eating his staff.1 But when he fell, it became clear to the jinn that if they had known the unseen, they would not have remained in humiliating punishment.2