Ya-Sin 36:33
Ya Sin · Juz 23 · Page 442
وَءَايَةٞ لَّهُمُ ٱلۡأَرۡضُ ٱلۡمَيۡتَةُ أَحۡيَيۡنَٰهَا وَأَخۡرَجۡنَا مِنۡهَا حَبّٗا فَمِنۡهُ يَأۡكُلُونَ ٣٣
And a sign for them is the dead earth. We have brought it to life and brought forth from it grain, and from it they eat.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 36:33–36
اور ایک نشانی ہے ان کے لیے زمین مردہ، زندہ کیا ہم نے اسے (بارش سے) اور نکالا ہم نے اس سے (اناج کا) دانہ، پس اسی (دانۂ اناج) سے وہ کھاتے ہیں (33) اور بنائے ہم نے (زمین) میں باغات کھجوروں اور انگوروں کے، اور جاری کیے ہم نے ان (باغوں ) میں چشمے (34) تاکہ کھائیں وہ اس کےپھلوں سے، اور نہیں بنایا اس کو ان کے ہاتھوں نے، کیا پس نہیں وہ شکر کرتے؟ (35) پاک ہے وہ ذات جس نے پیدا کیے جوڑے، سب کے ان چیزوں کے (بھی) جن کو اگاتی ہے زمین اور خود ان (انسانوں) کے اپنے بھی اور ان کے (بھی) جنھیں وہ نہیں جانتے (36)
[33]﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمُ ﴾ ’’ان کے لیے ایک نشانی ہے۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھائے جانے، حشر ونشر، حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونے اور ان اعمال کی جزاوسزا پر دلیل ہے ﴿الۡاَرۡضُ الۡمَيۡتَةُ ﴾ ’’مردہ زمین‘‘ جس پر اللہ تعالیٰ نے پانی برسایا اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اسے دوبارہ زندگی عطا کی۔ ﴿وَاَخۡرَجۡنَا مِنۡهَا حَبًّا فَمِنۡهُ يَاۡكُلُوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے اس زمین میں سے ان تمام زرعی اصناف کو اگایا جن کو لوگ خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان اصناف کو بھی جن کو ان کے مویشی کھاتے ہیں۔
[34]﴿وَجَعَلۡنَا فِيۡهَا ﴾ یعنی ہم نے اس مردہ زمین میں اگائے ﴿جَنّٰتٍ ﴾ باغات جن میں بے شمار درخت ہیں، خاص طور پر کھجور اور انگور، جن کے درخت بہترین درخت ہیں۔ ﴿وَّفَجَّرۡنَا فِيۡهَا ﴾ اور ہم نے اس میں جاری کیے یعنی زمین میں ﴿مِنَ الۡعُيُوۡنِ﴾ ’’چشمے‘‘ ہم نے زمین کے اندر یہ درخت، یعنی کھجور اور انگور اگائے۔
[35]﴿لِيَاۡكُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِهٖ﴾ تاکہ یہ انھیں بطور خوراک، پھل، سالن اور لذت استعمال کریں۔ ﴿وَ﴾ حالانکہ ان پھلوں کو ﴿مَا عَمِلَتۡهُ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے ہاتھوں نے تخلیق نہیں کیا‘‘ ان میں ان کی کوئی صنعت کاری ہے نہ ان کی کسی کاری گری کا عمل دخل یہ تو اللہ، احکم الحاکمین اور خیرالرازقین کی تخلیق کا کمال ہے، نیز ان پھلوں کو ان لوگوں یا کسی اور نے آگ پر نہیں پکایا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان پھلوں کو اس طرح وجود بخشا ہے کہ ان کو آگ پر پکائے جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ ان پھلوں کو درختوں سے توڑ کر اسی وقت اور اسی حال میں کھایا جا سکتا ہے۔ ﴿اَفَلَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ جس ہستی نے ان تک یہ نعمتیں پہنچائی، جس نے اپنے بے پایاں فضل و کرم کی بنا پر ان کو ایسے امور سے نوازا جن میں ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ تو یہ اس ہستی کا شکر کیوں نہیں کرتے؟ کیا وہ ہستی جس نے زمین کے مرنے کے بعد اسے زندہ کیا، اس میں کھیتیاں اور درخت اگائے، ان میں نہایت لذیذ اقسام کے پھل ودیعت کیے، ان پھلوں کو ان درختوں کی شاخوں پر نمایاں کیا اور خشک زمین پر پانی کے چشمے جاری کیے… مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
[36]﴿سُبۡحٰؔنَ الَّذِيۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ كُلَّهَا ﴾ ’’پاک ہے وہ ذات جس نے اس (زمین) کی ہر چیز کے جوڑے بنائے۔‘‘ یعنی تمام اصناف کو تخلیق فرمایا ﴿مِمَّا تُنۢۡبِتُ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’زمین کی نباتات سے‘‘ اس نے زمین میں ایسی ایسی اصناف تخلیق فرمائیں جن کو شمار کرنا بہت مشکل ہے۔ ﴿وَمِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ یعنی خود ان کو مرد اور عورت کی اصناف میں پیدا کیا، ان کی تخلیق، فطرت اور ان کے اوصاف ظاہرہ و باطنہ میں تفاوت پیدا کیا۔ ﴿وَمِمَّا لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ اور ان مخلوقات کی اصناف کو پیدا کیا جو ہمارے علم کی گرفت سے باہر ہیں اور وہ مخلوقات جو اس کے بعد پیدا ہی نہ کی گئیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی شریک، مددگار، معاون، وزیر، بیوی یا کوئی بیٹا ہو، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی صفات کمال اور نعوت جلال میں اس کا ہم سر، مثیل یا کوئی مشابہت کرنے والا ہو یا اسے کوئی اپنے ارادے سے باز رکھ سکے۔
Page 442
36:28
۞ وَمَآ أَنزَلۡنَا عَلَىٰ قَوۡمِهِۦ مِنۢ بَعۡدِهِۦ مِن جُندٖ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ ٢٨
And We did not send down upon his people after him any soldiers from the heaven, nor would We have done so.
36:29
إِن كَانَتۡ إِلَّا صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ فَإِذَا هُمۡ خَٰمِدُونَ ٢٩
It was not but one shout,1 and immediately they were extinguished.
1 translator’s note
- From Gabriel or a blast from the sky. ↩
36:30
يَٰحَسۡرَةً عَلَى ٱلۡعِبَادِۚ مَا يَأۡتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ٣٠
How regretful for the servants. There did not come to them any messenger except that they used to ridicule him.
36:31
أَلَمۡ يَرَوۡاْ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّنَ ٱلۡقُرُونِ أَنَّهُمۡ إِلَيۡهِمۡ لَا يَرۡجِعُونَ ٣١
Have they not considered how many generations We destroyed before them - that they to them1 will not return?
1 translator’s note
- i.e., to those living presently in the world. ↩
36:32
وَإِن كُلّٞ لَّمَّا جَمِيعٞ لَّدَيۡنَا مُحۡضَرُونَ ٣٢
And indeed, all of them will yet be brought present before Us.
36:33
وَءَايَةٞ لَّهُمُ ٱلۡأَرۡضُ ٱلۡمَيۡتَةُ أَحۡيَيۡنَٰهَا وَأَخۡرَجۡنَا مِنۡهَا حَبّٗا فَمِنۡهُ يَأۡكُلُونَ ٣٣
And a sign for them is the dead earth. We have brought it to life and brought forth from it grain, and from it they eat.
36:34
وَجَعَلۡنَا فِيهَا جَنَّٰتٖ مِّن نَّخِيلٖ وَأَعۡنَٰبٖ وَفَجَّرۡنَا فِيهَا مِنَ ٱلۡعُيُونِ ٣٤
And We placed therein gardens of palm trees and grapevines and caused to burst forth therefrom some springs -
36:35
لِيَأۡكُلُواْ مِن ثَمَرِهِۦ وَمَا عَمِلَتۡهُ أَيۡدِيهِمۡۚ أَفَلَا يَشۡكُرُونَ ٣٥
That they may eat of His fruit.1 And their hands have not produced it,2 so will they not be grateful?
36:36
سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡأَزۡوَٰجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلۡأَرۡضُ وَمِنۡ أَنفُسِهِمۡ وَمِمَّا لَا يَعۡلَمُونَ ٣٦
Exalted is He who created all pairs1 - from what the earth grows and from themselves and from that which they do not know.
1 translator’s note
- Or "all species." ↩
36:37
وَءَايَةٞ لَّهُمُ ٱلَّيۡلُ نَسۡلَخُ مِنۡهُ ٱلنَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظۡلِمُونَ ٣٧
And a sign for them is the night. We remove1 from it the [light of] day, so they are [left] in darkness.
1 translator’s note
- Literally, "strip" or "peel." Sunlight projected onto the earth is removed from it as the earth turns and night approaches. ↩
36:38
وَٱلشَّمۡسُ تَجۡرِي لِمُسۡتَقَرّٖ لَّهَاۚ ذَٰلِكَ تَقۡدِيرُ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡعَلِيمِ ٣٨
And the sun runs [on course] toward its stopping point. That is the determination of the Exalted in Might, the Knowing.
36:39
وَٱلۡقَمَرَ قَدَّرۡنَٰهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَٱلۡعُرۡجُونِ ٱلۡقَدِيمِ ٣٩
And the moon - We have determined for it phases, until it returns [appearing] like the old date stalk.
36:40
لَا ٱلشَّمۡسُ يَنۢبَغِي لَهَآ أَن تُدۡرِكَ ٱلۡقَمَرَ وَلَا ٱلَّيۡلُ سَابِقُ ٱلنَّهَارِۚ وَكُلّٞ فِي فَلَكٖ يَسۡبَحُونَ ٤٠
It is not allowable [i.e., possible] for the sun to reach the moon, nor does the night overtake the day, but each, in an orbit, is swimming.