Ya-SinJuz 22 · Page 440

Ya-Sin 36:5

Ya Sin · Juz 22 · Page 440

تَنزِيلَ ٱلۡعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ ٥

[This is] a revelation of the Exalted in Might, the Merciful,

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 36:1–12

یٰسٓ(1) قسم ہے قرآن حکمت والے کی(2)بلاشبہ آپ البتہ رسولوں میں سے ہیں(3)اوپر راہ راست کے(4)(یہ) اتارا ہوا ہے نہایت غالب خوب رحم کرنے والے کا (5) تاکہ ڈرائیں آپ اس قوم کو کہ نہیں ڈرائے گئے باپ دادا ان کے، پس وہ غافل ہیں(6) البتہ تحقیق ثابت ہو گئی بات(اللہ کی) ان کی اکثریت پر، سو وہ نہیں ایمان لائیں گے(7) بے شک ڈال دیے ہم نے ان کی گردنوں میں طوق، سو وہ (پہنچ رہے ہیں ان کی)ٹھوڑیوں تک، پس وہ سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہیں(8) اور بنا دی ہم نے ان کے سامنے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار، پھر ڈھانک دیا ہم نے ان(کی آنکھوں)کو، پس وہ نہیں دیکھتے(9) اور برابر ہے اوپر ان کے، کیا آپ ڈرائیں ان کو یا نہ ڈرائیں، وہ نہیں ایمان لائیں گے (10)بے شک آپ تو ڈراتے ہیں(صرف)اس شخص کو جو پیروی کرے نصیحت کی اور ڈرے رحمٰن سے بن دیکھے، پس خوشخبری دے دیجیے اس کو مغفرت کی اور عزت والے اجر کی (11) بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے ہیں مُردوں کو اور لکھتے ہیں ہم جو (عمل) وہ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے آثار بھی، اور ہرچیز، ہم نے محفوظ کر رکھا ہے اس کو کتاب واضح میں(12)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[2] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بے انتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ’’حکم‘‘ اور ’’حکمت‘‘ کے تذکرے کو یکجا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔

[3]﴿اِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں۔‘‘ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اور وہ ہے محمد مصطفیﷺ کی رسالت۔ اے محمد! (ﷺ)آپ جملہ انبیاء و مرسلین میں شامل ہیں آپ کوئی انوکھے رسول تو نہیں ہیں، نیز آپ وہی دینی اصول لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو دیگر انبیاء نے پیش کیے تھے۔جو کوئی انبیاء و مرسلین کے احوال و اوصاف پر غور کرتا ہے تو اسے انبیاء و مرسلین اور عام لوگوں کے درمیان فرق معلوم ہو جاتا ہے اور اسے اس حقیقت کی معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے کہ آپ تمام رسولوں میں اعلیٰ و افضل مقام رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صفات کاملہ اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، یعنی قرآن حکیم اور جس کے بارے میں قسم کھائی گئی ہے یعنی حضرت محمدﷺ کی رسالت ، ان کے مابین جو اتصال ہے وہ مخفی نہیں۔ اگر حضرت محمدﷺ کی رسالت پر اس قرآن حکیم کے سوا کوئی دوسری دلیل اور شہادت نہ بھی ہوتی تب بھی قرآن حکیم آپ کی رسالت محمدی پر دلیل اور شہادت کے لیے کافی ہے، بلکہ قرآن عظیم آپ کی رسالت پر ہمیشہ رہنے والی قوی ترین دلیل ہے۔ قرآن حکیم کی حقانیت کے تمام دلائل دراصل رسول اللہﷺ کی رسالت کے دلائل ہیں۔

[4] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول مصطفیٰ ﷺ کا سب سے بڑا وصف بیان فرمایا جو آپ کی رسالت پر دلالت کرتا ہے کہ آپ ﴿عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’سیدھے راستے پر گامزن ہیں‘‘ جو معتدل ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ یہ راہ راست ایسے اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں، جو اخلاق فاضلہ، تزکیۂ نفس، تطہیر قلب اور ازدیاد اجر کے حامل ہیں۔ یہی سیدھا راستہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کا وصف ہے۔ قرآن حکیم کی جلالت شان پر غور کیجیے کہ اس نے افضل ترین قسم اور جلیل ترین مقسم علیہ کو کیسے یکجا کر دیا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر ہی کافی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنے رسول ﷺ کی رسالت کی حقانیت پر واضح دلائل اور روشن براہین قائم کیے ہیں۔ اس راستے پر چلنے کے لیے ہم کچھ لطیف نکات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔

[5] یہ صراط مستقیم ﴿تَنۡزِيۡلَ الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ وہ راستہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے اپنے بندوں کے لیے لائحہ عمل کے طور پر نازل فرمایا جو انھیں اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی قدرت کاملہ سے تغیروتبدل سے محفوظ فرمایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں لے لیا جو انھیں اس کے دار رحمت میں پہنچاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو اپنے دو کریم ناموں ﴿ الۡعَزِيۡزِ ﴾ اور ﴿ الرَّحِيۡمِ﴾ پر ختم فرمایا۔

[6] اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کی رسالت پر قرآن حکیم کی قسم کھانے کے بعد، اس پر دلائل قائم کیے اور ذکر فرمایا کہ ان کی طرف رسول مبعوث کیے جانے کی سخت ضرورت تھی، ارشاد فرمایا:﴿لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ اس سے مراد وہ ’’اُمّی‘‘ عرب ہیں جن میں کتابیں نازل ہوئی تھیں نہ رسول مبعوث ہوئے تھے گمراہی ان پر چھاگئی تھی، جہالت نے ان کو اندھاکر دیا تھا۔ اور وہ اپنے اوپر اور اپنی بے وقوفی پر جگ ہنسائی کاباعث بنے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ان کی طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، تاکہ ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے، وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ اور تاکہ وہ ’’اُمّی‘‘ عربوں اور ان کے بعد آنے والے ہر اُمّی کو گمراہی کے انجام سے ڈرائے۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو ان کتابوں کی یاد دہانی کراتا ہے جو ان کے پاس ہیں۔ یہ کتاب حکیم تمام لوگوں کے لیے عام طور پر اور عربوں کے لیے خاص طور پر نعمت ہے مگر یہ لوگ جن کو برے انجام سے ڈرانے کے لیے آ پ کو مبعوث کیا گیا ہے، آپ کی دعوت اور انذار کے بعد وہ دوگروہوں میں منقسم ہوگئے ہیں۔

[7] پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے آپ کی دعوت کو رد کر دیا اور آپ کے انذار کو قبول نہ کیا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤى اَكۡثَرِهِمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ یعنی ان میں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کی مشیت نافذ ہو گئی کہ وہ اپنے کفروشرک پر جمے رہیں گے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان حق ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے حق پیش کیا، مگر انھوں نے حق کو ٹھکرا دیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔

[8] اللہ تعالیٰ نے ان موانع کا ذکر فرمایا جن کی وجہ سے ایمان ان کے دلوں تک نہ پہنچ سکا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّا جَعَلۡنَا فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ اَغۡلٰلًا ﴾ ’’بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں۔‘‘ (اَغْلاَلٌ،غُلٌّ) کی جمع ہے یعنی وہ طوق جو گردن میں ڈالا جاتا ہے اور یہ گردن کے لیے ایسے ہی ہے جیسے پاؤ ں کے لیے بیڑی اور ان کی گردن میں پڑے ہوئے یہ طوق بہت بڑے ہوں گے۔ یہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ ﴿فَهُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ ﴾ پس وہ ان طوقوں کی سختی کی وجہ سے اپنے سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو جھکا نہیں سکیں گے۔

[9]﴿وَجَعَلۡنَا مِنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ سَدًّا وَّمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدًّا ﴾ ’’اور ہم نے ان کے آگے اور پیچھے ایک رکاوٹ کھڑی کر دی ہے‘‘ جو ان کے ایمان لانے سے مانع ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ نہ دیکھ سکتے۔‘‘ جہالت اور شقاوت نے انھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے اس لیے انذار انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔

[10]﴿وَسَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ انھیں نصیحت کریں یا نہ کریں، ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ وہ شخص کیسے ایمان لا سکتا ہے جس کے دل پر مہر لگا دی گئی ہو جو حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتا ہو۔

[11] دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے انذار کو قبول کر لیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ ﴾ یعنی آپ کا انذار اور آپ کی نصیحت صرف اسی شخص کو فائدہ دے گی ﴿مَنِ اتَّبَعَ الذِّكۡرَ ﴾ ’’جس نے نصیحت کی پیروی کی۔‘‘ جو اتباع حق کا قصد رکھتا ہے ﴿وَخَشِيَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَيۡبِ ﴾ ’’اور رحمٰن سے بن دیکھے ڈرے‘‘ جو ان دو اوصاف سے متصف ہے یعنی طلب حق میں قصد حسن اور خشیت الٰہی تو یہی وہ لوگ ہیں جو آپ کی رسالت سے فیض یاب اور آپ کی تعلیم سے تزکیۂ نفس کر سکتے ہیں، جسے ان دو امور کی توفیق بخش دی گئی ﴿فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٍ ﴾ اسے اس کے گناہوں کی بخشش کی خوشخبری دے دیجیے ﴿وَّاَجۡرٍ كَرِيۡمٍ ﴾ اور اس کے نیک اعمال اور اچھی نیت کے باوقار اجر کی خوشخبری دے دیجیے۔

Continue in the whole surah's tafsir

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 440

FatirJuz 22 · Page 440

35:45

وَلَوۡ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِمَا كَسَبُواْ مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهۡرِهَا مِن دَآبَّةٖ وَلَٰكِن يُؤَخِّرُهُمۡ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗىۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِعِبَادِهِۦ بَصِيرَۢا ٤٥

And if Allāh were to impose blame on the people for what they have earned, He would not leave upon it [i.e., the earth] any creature. But He defers them for a specified term. And when their time comes, then indeed Allāh has ever been, of His servants, Seeing.

سورة يس

Ya-Sin

Ya Sin · Meccan · 83 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

36:1

يسٓ ١

Yā, Seen.1

1 translator’s note
  1. See footnote to 2:1. ↩

36:2

وَٱلۡقُرۡءَانِ ٱلۡحَكِيمِ ٢

By the wise1 Qur’ān,

1 translator’s note
  1. See footnote to 10:1. ↩

36:3

إِنَّكَ لَمِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٣

Indeed you, [O Muḥammad], are from among the messengers,

36:4

عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ٤

On a straight path.

36:5

تَنزِيلَ ٱلۡعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ ٥

[This is] a revelation of the Exalted in Might, the Merciful,

36:6

لِتُنذِرَ قَوۡمٗا مَّآ أُنذِرَ ءَابَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غَٰفِلُونَ ٦

That you may warn a people whose forefathers were not warned, so they are unaware.

36:7

لَقَدۡ حَقَّ ٱلۡقَوۡلُ عَلَىٰٓ أَكۡثَرِهِمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ ٧

Already the word [i.e., decree] has come into effect upon most of them, so they do not believe.

36:8

إِنَّا جَعَلۡنَا فِيٓ أَعۡنَٰقِهِمۡ أَغۡلَٰلٗا فَهِيَ إِلَى ٱلۡأَذۡقَانِ فَهُم مُّقۡمَحُونَ ٨

Indeed, We have put shackles on their necks, and they are to their chins, so they are with heads [kept] aloft.

36:9

وَجَعَلۡنَا مِنۢ بَيۡنِ أَيۡدِيهِمۡ سَدّٗا وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدّٗا فَأَغۡشَيۡنَٰهُمۡ فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُونَ ٩

And We have put before them a barrier and behind them a barrier and covered them, so they do not see.

36:10

وَسَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَأَنذَرۡتَهُمۡ أَمۡ لَمۡ تُنذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ ١٠

And it is all the same for them whether you warn them or do not warn them - they will not believe.

36:11

إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلذِّكۡرَ وَخَشِيَ ٱلرَّحۡمَٰنَ بِٱلۡغَيۡبِۖ فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٖ وَأَجۡرٖ كَرِيمٍ ١١

You can only warn one who follows the message and fears the Most Merciful unseen. So give him good tidings of forgiveness and noble reward.

36:12

إِنَّا نَحۡنُ نُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُواْ وَءَاثَٰرَهُمۡۚ وَكُلَّ شَيۡءٍ أَحۡصَيۡنَٰهُ فِيٓ إِمَامٖ مُّبِينٖ ١٢

Indeed, it is We who bring the dead to life and record what they have put forth and what they left behind, and all things We have enumerated in a clear register.

As-Sa'diTafsir · 36:5

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском