Ya-SinJuz 23 · Page 444

Ya-Sin 36:62

Ya Sin · Juz 23 · Page 444

وَلَقَدۡ أَضَلَّ مِنكُمۡ جِبِلّٗا كَثِيرًاۖ أَفَلَمۡ تَكُونُواْ تَعۡقِلُونَ ٦٢

And he had already led astray from among you much of creation, so did you not use reason?

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 36:59–67

الگ ہو جاؤ آج، اے مجرمو! (59)کیا نہیں وصیت (تاکید)کی تھی میں نے تمھیں، اے بنی آدم! اس بات کی کہ نہ عبادت کرنا تم شیطان کی، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے کھلم کھلا (60) اور یہ کہ عبادت کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور البتہ تحقیق گمراہ کی اس نے تم میں سے مخلوق بہت سی، کیا پس نہیں تھے تم عقل رکھتے؟ (62) یہ ہے جہنم وہ جس کا تھے تم وعدہ دیے جاتے (63) داخل ہو جاؤ اس میں آج بہ سبب اس کے جوتھے تم کفر کرتے (64) آج ہم مہر لگا دیں گے اوپر ان کے مونہوں کے، اور کلام کریں گے ہم سے ان کے ہاتھ اور گواہی دیں گے ان کے پیر، ساتھ اس کےجوتھے وہ کماتے(کرتے)(65) اور اگر ہم چاہیں تو البتہ مٹا دیں ان کی آنکھیں، پھر وہ دوڑیں راستہ(تلاش کرنے) کو، پس کیوں کروہ دیکھ سکیں (66) اور اگر ہم چاہیں، تو البتہ مسخ کر دیں ہم ان کی صورتیں ان کی جگہوں پر ہی، پھر وہ نہ طاقت رکھیں (آگے) چلنے کی اور نہ ہی لوٹ سکیں وہ (67)

[59] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کو قیامت کے روز کہا جائے گا: ﴿امۡتَازُوا الۡيَوۡمَ اَيُّهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ یعنی اے مجرمو! تم اہل ایمان سے الگ ہو جاؤ۔ یہ حکم اس لیے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انھیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسرعام زجروتوبیخ کرے اور ان سے کہے:

[60]﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ ﴾ یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمھیں حکم نہیں دیا تھا اور تمھیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا ﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ ﴾ ’’اے آدم کی اولاد! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔‘‘ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو؟ یہ زجروتوبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفرومعصیت پر زجروتوبیخ داخل ہے، کیونکہ کفرومعاصی کی تمام اقسام شیطان کی اطاعت اور اس کی عبادت کے زمرے میں آتی ہیں۔ ﴿اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ پس میں نے تمھیں اس سے انتہائی حد تک بچنے کی ہدایت کی، تمھیں اس کی اطاعت سے ڈرایا اور وہ تمھیں جس چیز کی دعوت دیتا ہے میں نے تمھیں اس سے خبردار کیا تھا۔

[61]﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ میں نے تمھیں حکم دیا تھا: ﴿اَنِ اعۡبُدُوۡنِيۡ ﴾ کہ میرے اوامر کی تعمیل کرتے اور میری نافرمانی سے بچتے ہوئے میری عبادت کرو۔ ﴿هٰؔذَا﴾ یعنی میری عبادت، میری اطاعت اور شیطان کی نافرمانی کرنا ﴿صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’سیدھا راستہ ہے۔‘‘ پس صراط مستقیم کے علوم و اعمال انھی مذکورہ دو امور کی طرف راجع ہیں۔تم نے میرے عہد کی حفاظت کی نہ میری وصیت پر عمل کیا بلکہ تم نے اپنے دشمن یعنی شیطان سے دوستی رکھی۔

[62]﴿اَضَلَّ مِنۡكُمۡ جِبِلًّا كَثِيۡرًا ﴾ اور اس نے تم میں سے بہت زیادہ مخلوق کو گمراہ کیا۔ ﴿اَفَلَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم میں عقل نہیں جو تمھیں تمھارے رب اور حقیقی سرپرست کے ساتھ موالات رکھنے کا حکم دے اور تمھیں تمھارے بدترین دشمن کو اپنا دوست اور سرپرست بنانے سے روکے۔ اگر تمھاری عقل صحیح ہوتی تو تم ہرگز ایسا نہ کرتے۔

[63] اب جبکہ تم نے شیطان کی اطاعت کی، رحمان کے ساتھ عداوت کی، اس کے ساتھ ملاقات کو جھٹلایا، قیامت یعنی دار جزا میں آ وارد ہوئے اور تم عذاب کے مستحق ٹھہرے تو ﴿هٰؔذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيۡؔ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے‘‘ اور تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کو تم اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھو، یہاں دل دہل جائیں گے، آنکھیں پھر جائیں گی اور بہت بڑی گھبراہٹ کا وقت ہو گا۔

[64] پھر اس کی تکمیل ہو گی اور ان کو جہنم میں ڈال دیے جانے کا حکم ہو گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اِصۡلَوۡهَا الۡيَوۡمَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ یعنی جہنم میں داخل ہو جاؤ جہاں آگ تمھیں جلائے گی، آگ کی حرارت تمھیں گھیر لے گی، آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کے سبب سے آگ تمھارے جسم کے ہر حصے کو جلائے گی۔

[65] اللہ تبارک وتعالیٰ نے بدبختی کے اس گھر میں ان کے بدترین احوال کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡيَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلٰۤى اَفۡوَاهِهِمۡ ﴾ ’’آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے۔‘‘ یعنی ہم ان کو گونگا بنا دیں گے پس وہ بول نہ سکیں گے کفر اور تکذیب پر مبنی اپنے اعمال کا انکار کرنے پر قادر نہیں ہوں گے ﴿وَتُكَلِّمُنَاۤ اَيۡدِيۡهِمۡ وَتَشۡهَدُ اَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤ ں گواہی دیں گے۔‘‘ یعنی ان کے اعضاء ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو قوت گویائی عطا کی ہے۔

[66]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلٰۤى اَعۡيُنِهِمۡ ﴾ یعنی ہم اگر چاہیں تو ان کی بینائی سلب کر لیں جس طرح ہم نے ان کی گویائی سلب کر لی۔ ﴿فَاسۡتَبَقُوا الصِّرَاطَ ﴾ یعنی سیدھے راستے کی طرف سبقت کرو کیونکہ جنت تک پہنچنے کا صرف یہی راستہ ہے: ﴿فَاَنّٰى يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ کہاں سے دیکھ سکیں گے‘‘ کیونکہ ان کی آنکھوں کی بینائی سلب کر لی گئی ہے۔

[67]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنٰهُمۡ عَلٰى مَكَانَتِهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں۔‘‘ یعنی ہم ان کی حرکت سلب کر لیں ﴿فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مُضِيًّا ﴾ ’’تو وہ چل پھر نہ سکتے‘‘ یعنی آگے کی جانب ﴿وَّلَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ اور نہ آگ سے دور رہنے کے لیے پیچھے لوٹ سکیں۔ معنی یہ ہے کہ ان کفار کے لیے عذاب ثابت ہو گیا ، لہٰذا ان کو ضرور عذاب دیا جائے گا اور اس مقام پر جہنم کے سوا کچھ نہیں جو سامنے ہے اور اس پر بچھے ہوئے پل کو عبور کیے بغیر نجات کا کوئی راستہ نہیں اور اہل ایمان کے سوا اس پل کو کوئی عبور نہیں کر سکے گا۔ اہل ایمان اپنے ایمان کی روشنی میں پل کو عبور کریں گے۔ رہے یہ کفار تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے نجات کا کوئی وعدہ نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی بینائی کو سلب کرلے اور ان کی حرکت کو باقی رکھے تب اگر یہ راستے کی طرف بڑھیں تو اس تک پہنچ نہیں پائیں گے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی حرکت کو بھی سلب کرلے تب یہ آگے بڑھ سکیں گے نہ پیچھے لوٹ سکیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ کفار پل صراط کو عبور کر سکیں گے نہ انھیں جہنم سے نجات حاصل ہو گی۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 444

Ya-SinJuz 23 · Page 444

36:55

إِنَّ أَصۡحَٰبَ ٱلۡجَنَّةِ ٱلۡيَوۡمَ فِي شُغُلٖ فَٰكِهُونَ ٥٥

Indeed the companions of Paradise, that Day, will be amused in [joyful] occupation -

36:56

هُمۡ وَأَزۡوَٰجُهُمۡ فِي ظِلَٰلٍ عَلَى ٱلۡأَرَآئِكِ مُتَّكِـُٔونَ ٥٦

They and their spouses - in shade, reclining on adorned couches.

36:57

لَهُمۡ فِيهَا فَٰكِهَةٞ وَلَهُم مَّا يَدَّعُونَ ٥٧

For them therein is fruit, and for them is whatever they request [or wish]

36:58

سَلَٰمٞ قَوۡلٗا مِّن رَّبّٖ رَّحِيمٖ ٥٨

[And] "Peace," a word from a Merciful Lord.

36:59

وَٱمۡتَٰزُواْ ٱلۡيَوۡمَ أَيُّهَا ٱلۡمُجۡرِمُونَ ٥٩

[Then He will say], "But stand apart today, you criminals.1

1 translator’s note
  1. i.e., remove yourself from the ranks of the believers to be distinguished from them. ↩

36:60

۞ أَلَمۡ أَعۡهَدۡ إِلَيۡكُمۡ يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ أَن لَّا تَعۡبُدُواْ ٱلشَّيۡطَٰنَۖ إِنَّهُۥ لَكُمۡ عَدُوّٞ مُّبِينٞ ٦٠

Did I not enjoin upon you, O children of Adam, that you not worship Satan - [for] indeed, he is to you a clear enemy -

36:61

وَأَنِ ٱعۡبُدُونِيۚ هَٰذَا صِرَٰطٞ مُّسۡتَقِيمٞ ٦١

And that you worship [only] Me? This is a straight path.

36:62

وَلَقَدۡ أَضَلَّ مِنكُمۡ جِبِلّٗا كَثِيرًاۖ أَفَلَمۡ تَكُونُواْ تَعۡقِلُونَ ٦٢

And he had already led astray from among you much of creation, so did you not use reason?

36:63

هَٰذِهِۦ جَهَنَّمُ ٱلَّتِي كُنتُمۡ تُوعَدُونَ ٦٣

This is the Hellfire which you were promised.

36:64

ٱصۡلَوۡهَا ٱلۡيَوۡمَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ ٦٤

[Enter to] burn therein today for what you used to deny."1

1 translator’s note
  1. Or "because you used to disbelieve." ↩

36:65

ٱلۡيَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلَىٰٓ أَفۡوَٰهِهِمۡ وَتُكَلِّمُنَآ أَيۡدِيهِمۡ وَتَشۡهَدُ أَرۡجُلُهُم بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ ٦٥

That Day, We will seal over their mouths, and their hands will speak to Us, and their feet will testify about what they used to earn.

36:66

وَلَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلَىٰٓ أَعۡيُنِهِمۡ فَٱسۡتَبَقُواْ ٱلصِّرَٰطَ فَأَنَّىٰ يُبۡصِرُونَ ٦٦

And if We willed, We could have obliterated their eyes, and they would race to [find] the path, and how could they see?1

1 translator’s note
  1. Allāh (subḥānahu wa taʿālā) could have left man without means of guidance in the life of this world, although in His mercy He did not. ↩

36:67

وَلَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنَٰهُمۡ عَلَىٰ مَكَانَتِهِمۡ فَمَا ٱسۡتَطَٰعُواْ مُضِيّٗا وَلَا يَرۡجِعُونَ ٦٧

And if We willed, We could have deformed them, [paralyzing them] in their places so they would not be able to proceed, nor could they return.1

1 translator’s note
  1. He (subḥānahu wa taʿālā) could have prevented man from taking any action to benefit himself in this world or the Hereafter, yet He did not. ↩

36:68

وَمَن نُّعَمِّرۡهُ نُنَكِّسۡهُ فِي ٱلۡخَلۡقِۚ أَفَلَا يَعۡقِلُونَ ٦٨

And he to whom We grant long life We reverse in creation;1 so will they not understand?

1 translator’s note
  1. In his physical and mental capacity. ↩

36:69

وَمَا عَلَّمۡنَٰهُ ٱلشِّعۡرَ وَمَا يَنۢبَغِي لَهُۥٓۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ وَقُرۡءَانٞ مُّبِينٞ ٦٩

And We did not give him [i.e., Prophet Muḥammad (ﷺ)] knowledge of poetry, nor is it befitting for him. It is not but a message and a clear Qur’ān

36:70

لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيّٗا وَيَحِقَّ ٱلۡقَوۡلُ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ ٧٠

To warn whoever is alive1 and justify the word [i.e., decree] against the disbelievers.

1 translator’s note
  1. In heart and mind, i.e., the believers. ↩
As-Sa'diTafsir · 36:62

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском