As-Saffat 37:146
Those who set the Ranks · Juz 23 · Page 451
وَأَنۢبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةٗ مِّن يَقۡطِينٖ ١٤٦
And We caused to grow over him a gourd vine.1
1 translator’s note
- Which is known to give cooling shade and to be a repellent of flies. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 37:139–148
اور بے شک یونس البتہ رسولوں میں سے تھا(139) جب وہ بھاگ کر گیا طرف کشتی بھری ہوئی کے (140) پس قرعہ اندازی کی(اہل کشتی نے) تو ہو گیا وہ شکست خوردگان میں سے (141) پس نگل لیا اس کو مچھلی نے جبکہ وہ (خودکو) ملامت کرنے والا تھا (142) پس اگر نہ ہو تی یہ بات کہ بے شک تھا وہ تسبیح کرنے والوں میں سے (143) تو رہتا وہ اس کےپیٹ میں اس دن تک کہ اٹھائے جائیں گے لوگ زندہ کر کے (اس میں)(144) پس ڈال دیا ہم نے اسے چٹیل میدان میں، اس حال میں کہ وہ بیمار تھا (145) اور اگا دیا ہم نے اس پر ایک درخت بیل دار(جیسے کدو وغیرہ کی بیل)(146) اور بھیجا ہم نے اس کو طرف ایک لاکھ کی یا (اس سے کچھ) زیادہ ہوں گے (147) پس وہ ایمان لے آئے تو ہم نے فائدہ (اٹھانے کا موقع) دیا ان کو ایک وقت (مقرر) تک (148)
[139] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اپنے بندے اور رسول یونس بن متیu کی مدح و ثنا ہے، جیسا کہ اس نے آپ کے بھائی دیگر انبیاء و مرسلین کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے ذریعے سے مدح و ثنا سے نوازا۔
[140] اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے حضرت یونسu کو دنیاوی عقوبت میں مبتلا کیا، پھر آپ کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے آپ کو اس عذاب سے نجات دی۔ ﴿اِذۡ اَبَقَ ﴾ ’’جب بھاگے‘‘یعنی اپنے رب سے ناراض ہو کر یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس کرنے کی قدرت نہیں رکھتا کشتی میں فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے ناراضی کا سبب نہیں بتایا اور نہ اس گناہ ہی کا ذکر فرمایا جس کا آپ نے ارتکاب کیا کیونکہ اس کے تذکرے میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں صرف اسی چیز میں فائدہ ہے جس کا ذکر کیا گیا کہ حضرت یونسu سے گناہ سرزد ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو، آپ کے رسول ہونے کے باوجود سزا دی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کرب سے نجات دی، آپ سے ملامت کو دور کر دیا اور آپ کے لیے وہ امور مقدر کیے جو آپ کی اصلاح کا سبب تھے۔ جب آپ بھاگ کر ﴿اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ مسافروں اور سامان سے بھری ہوئی کشتی میں جاسوار ہوئے۔
[141] کشتی پہلے ہی سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی جب آپ سوار ہوئے تو کشتی بوجھل ہو گئی۔ انھیں حاجت محسوس ہوئی کہ وہ سواریوں میں سے کسی سواری کو سمندر میں پھینک دیں مگر یوں لگتا ہے کہ کسی کو سمندر میں پھینکنے کے لیے اس کی کوئی امتیازی علامت نہ تھی اس لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کے نام قرعہ نکلے گا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے گا یہ کشتی والوں کا انصاف پر مبنی فیصلہ تھا۔اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اسباب فراہم کر دیتا ہے۔ جب کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو حضرت یونسu کے نام قرعہ نکل آیا ﴿فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَ﴾ یعنی حضرت یونسu قرعہ اندازی میں مغلوب ہو گئے اور ان کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔
[142]﴿فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَ هُوَ﴾ ’’پس مچھلی نے انھیں نگل لیا اور وہ‘‘ ﴿مُلِيۡمٌ ﴾ ’’ملامت کرنے والے تھے‘‘ یعنی انھوں نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا تھا جس پر ملامت کی جاتی ہے اور وہ ہے آپ کا اپنے رب سے ناراض ہونا۔
[144,143]﴿فَلَوۡلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِيۡنَ۠﴾ یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے اگر حضرت یونسu نے اپنے رب کی نہایت کثرت سے عبادت اور تسبیح و تحمید نہ کی ہوتی اور مچھلی کا لقمہ بن جانے کے بعد، نہایت کثرت سے یہ نہ کہا ہوتا ﴿ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّيۡؔ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍87) ’’تیرے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘ ﴿لَلَبِثَ فِيۡ بَطۡنِهٖۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ ’’تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ ہی میں رہتے‘‘ یعنی مچھلی کا پیٹ یونسu کی قبر ہوتا، مگر آپ کی عبادت الٰہی اور تسبیح کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور اہل ایمان جب کبھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح انھیں نجات دیتا ہے۔
[145]﴿فَنَبَذۡنٰهُ بِالۡعَرَآءِ ﴾ یعنی مچھلی نے حضرت یونسu کو ایک چٹیل زمین پر نکال پھینکا: (اَلْعَرَاء) سے مراد وہ زمین ہے جو ہر لحاظ سے خالی ہو، بسااوقات وہاں درخت بھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَقِيۡمٌ﴾ مچھلی کے پیٹ میں محبوس رہنے کی بنا پر آپ بیمار ہو گئے تھے حتیٰ کہ آپ کی یہ حالت ہو گئی تھی جیسے انڈے سے نکلا ہوا بے بال چوزہ ہو۔
[146]﴿وَاَنۢۡـبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةً مِّنۡ يَّقۡطِيۡنٍ﴾ ’’اور ان پر کدو کی بیل اگائی۔‘‘ جس نے آپ کو اپنے گھنے سائے تلے لے لیا کیونکہ اس کا سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور اس پر مکھیاں نہیں بیٹھتیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم تھا۔
[147، 148] ایک اور پہلو سے بھی آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لطف و کرم اور ایک عظیم احسان تھا ﴿وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ ﴾ ’’ہم نے مبعوث کیا ان کو ایک لاکھ کی طرف لوگوں میں سے ﴿اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’یا ان سے زیادہ کی طرف۔‘‘ معنی یہ ہے کہ اگر یہ لوگ ایک لاکھ سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ تھے۔حضرت یونسu نے ان کو اللہ کی طرف دعوت دی: ﴿فَاٰمَنُوۡا ﴾ ’’پس وہ ایمان لائے۔‘‘ چنانچہ ان کا ایمان لانا بھی حضرت یونسu کے اعمال نامہ میں لکھا گیا کیونکہ وہی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے تھے ﴿فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾ ’’پس ہم نے انھیں ایک مدت تک فائدہ پہنچایا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا حالانکہ اس کے تمام اسباب ظاہر ہو چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾(یونس: 10؍98) ’’کیا کوئی ایسی بستی ہے، جو (عذاب دیکھ کر) ایمان لائی اور ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ دیا ہو، یونس کی قوم کے سوا۔ وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوا کن عذاب ٹال دیا اور ایک وقت تک ہم نے ان کو دنیا سے بہرہ مند ہونے دیا۔‘‘
Page 451
37:127
فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُونَ ١٢٧
And they denied him, so indeed, they will be brought [for punishment],
37:128
إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلۡمُخۡلَصِينَ ١٢٨
Except the chosen servants of Allāh.
37:129
وَتَرَكۡنَا عَلَيۡهِ فِي ٱلۡأٓخِرِينَ ١٢٩
And We left for him [favorable mention] among later generations:
37:130
سَلَٰمٌ عَلَىٰٓ إِلۡ يَاسِينَ ١٣٠
"Peace upon Elias."1
1 translator’s note
- Ilyāseen is said by some commentators to be a plural form, meaning "Elias and those who followed him." ↩
37:131
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ ١٣١
Indeed, We thus reward the doers of good.
37:132
إِنَّهُۥ مِنۡ عِبَادِنَا ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٣٢
Indeed, he was of Our believing servants.
37:133
وَإِنَّ لُوطٗا لَّمِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ١٣٣
And indeed, Lot was among the messengers.
37:134
إِذۡ نَجَّيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥٓ أَجۡمَعِينَ ١٣٤
[So mention] when We saved him and his family, all,
37:135
إِلَّا عَجُوزٗا فِي ٱلۡغَٰبِرِينَ ١٣٥
Except an old woman [i.e., his wife] among those who remained [with the evildoers].
37:136
ثُمَّ دَمَّرۡنَا ٱلۡأٓخَرِينَ ١٣٦
Then We destroyed the others.
37:137
وَإِنَّكُمۡ لَتَمُرُّونَ عَلَيۡهِم مُّصۡبِحِينَ ١٣٧
And indeed, you pass by them in the morning
37:138
وَبِٱلَّيۡلِۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ ١٣٨
And at night. Then will you not use reason?
37:139
وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ١٣٩
And indeed, Jonah was among the messengers.
37:140
إِذۡ أَبَقَ إِلَى ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ ١٤٠
[Mention] when he ran away to the laden ship.
37:141
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ ٱلۡمُدۡحَضِينَ ١٤١
And he drew lots1 and was among the losers.
1 translator’s note
- To determine who would be cast overboard in order to save the other passengers. Having been overloaded, the ship was on the verge of sinking. ↩
37:142
فَٱلۡتَقَمَهُ ٱلۡحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٞ ١٤٢
Then the fish swallowed him, while he was blameworthy.1
1 translator’s note
- For having given up hope on his people prematurely and having left them without permission from Allāh. ↩
37:143
فَلَوۡلَآ أَنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلۡمُسَبِّحِينَ ١٤٣
And had he not been of those who exalt Allāh,
37:144
لَلَبِثَ فِي بَطۡنِهِۦٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ ١٤٤
He would have remained inside its belly until the Day they are resurrected.1
1 translator’s note
- Meaning that the belly of the fish would have become his grave. ↩
37:145
۞ فَنَبَذۡنَٰهُ بِٱلۡعَرَآءِ وَهُوَ سَقِيمٞ ١٤٥
But We threw him onto the open shore while he was ill.
37:146
وَأَنۢبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةٗ مِّن يَقۡطِينٖ ١٤٦
And We caused to grow over him a gourd vine.1
1 translator’s note
- Which is known to give cooling shade and to be a repellent of flies. ↩
37:147
وَأَرۡسَلۡنَٰهُ إِلَىٰ مِاْئَةِ أَلۡفٍ أَوۡ يَزِيدُونَ ١٤٧
And We sent him1 to [his people of] a hundred thousand or more.
1 translator’s note
- i.e., returned him thereafter. ↩
37:148
فَـَٔامَنُواْ فَمَتَّعۡنَٰهُمۡ إِلَىٰ حِينٖ ١٤٨
And they believed, so We gave them enjoyment [of life] for a time.
37:149
فَٱسۡتَفۡتِهِمۡ أَلِرَبِّكَ ٱلۡبَنَاتُ وَلَهُمُ ٱلۡبَنُونَ ١٤٩
So inquire of them, [O Muḥammad], "Does your Lord have daughters while they have sons?1
1 translator’s note
- The people of Makkah claimed that the angels were daughters of Allāh, yet they preferred sons for themselves. ↩
37:150
أَمۡ خَلَقۡنَا ٱلۡمَلَٰٓئِكَةَ إِنَٰثٗا وَهُمۡ شَٰهِدُونَ ١٥٠
Or did We create the angels as females while they were witnesses?"
37:151
أَلَآ إِنَّهُم مِّنۡ إِفۡكِهِمۡ لَيَقُولُونَ ١٥١
Unquestionably, it is out of their [invented] falsehood that they say,
37:152
وَلَدَ ٱللَّهُ وَإِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ ١٥٢
"Allāh has begotten," and indeed, they are liars.
37:153
أَصۡطَفَى ٱلۡبَنَاتِ عَلَى ٱلۡبَنِينَ ١٥٣
Has He chosen daughters over sons?