Sad 38:32
The Letter "Saad" · Juz 23 · Page 455
فَقَالَ إِنِّيٓ أَحۡبَبۡتُ حُبَّ ٱلۡخَيۡرِ عَن ذِكۡرِ رَبِّي حَتَّىٰ تَوَارَتۡ بِٱلۡحِجَابِ ٣٢
And he said, "Indeed, I gave preference to the love of good [things] over the remembrance of my Lord until it [i.e., the sun] disappeared into the curtain [of darkness]."
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 38:30–40
اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40)
[30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔
[33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔
[39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔
[40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔
Page 455
38:27
وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا بَٰطِلٗاۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ فَوَيۡلٞ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ ٱلنَّارِ ٢٧
And We did not create the heaven and the earth and that between them aimlessly. That is the assumption of those who disbelieve, so woe to those who disbelieve from the Fire.
38:28
أَمۡ نَجۡعَلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ كَٱلۡمُفۡسِدِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَمۡ نَجۡعَلُ ٱلۡمُتَّقِينَ كَٱلۡفُجَّارِ ٢٨
Or should We treat those who believe and do righteous deeds like corrupters in the land? Or should We treat those who fear Allāh like the wicked?
38:29
كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ إِلَيۡكَ مُبَٰرَكٞ لِّيَدَّبَّرُوٓاْ ءَايَٰتِهِۦ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ ٢٩
[This is] a blessed Book which We have revealed to you, [O Muḥammad], that they might reflect upon its verses and that those of understanding would be reminded.
38:30
وَوَهَبۡنَا لِدَاوُۥدَ سُلَيۡمَٰنَۚ نِعۡمَ ٱلۡعَبۡدُ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ ٣٠
And to David We gave Solomon. An excellent servant, indeed he was one repeatedly turning back [to Allāh].
38:31
إِذۡ عُرِضَ عَلَيۡهِ بِٱلۡعَشِيِّ ٱلصَّٰفِنَٰتُ ٱلۡجِيَادُ ٣١
[Mention] when there were exhibited before him in the afternoon the poised [standing] racehorses.
38:32
فَقَالَ إِنِّيٓ أَحۡبَبۡتُ حُبَّ ٱلۡخَيۡرِ عَن ذِكۡرِ رَبِّي حَتَّىٰ تَوَارَتۡ بِٱلۡحِجَابِ ٣٢
And he said, "Indeed, I gave preference to the love of good [things] over the remembrance of my Lord until it [i.e., the sun] disappeared into the curtain [of darkness]."
38:33
رُدُّوهَا عَلَيَّۖ فَطَفِقَ مَسۡحَۢا بِٱلسُّوقِ وَٱلۡأَعۡنَاقِ ٣٣
[He said], "Return them to me," and set about striking1 [their] legs and necks.
1 translator’s note
- With his sword as expiation. Some commentaries have also suggested the meaning of "stroking" with the hand. ↩
38:34
وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمَٰنَ وَأَلۡقَيۡنَا عَلَىٰ كُرۡسِيِّهِۦ جَسَدٗا ثُمَّ أَنَابَ ٣٤
And We certainly tried Solomon and placed on his throne a body;1 then he returned.2
38:35
قَالَ رَبِّ ٱغۡفِرۡ لِي وَهَبۡ لِي مُلۡكٗا لَّا يَنۢبَغِي لِأَحَدٖ مِّنۢ بَعۡدِيٓۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡوَهَّابُ ٣٥
He said, "My Lord, forgive me and grant me a kingdom such as will not belong to anyone after me. Indeed, You are the Bestower."
38:36
فَسَخَّرۡنَا لَهُ ٱلرِّيحَ تَجۡرِي بِأَمۡرِهِۦ رُخَآءً حَيۡثُ أَصَابَ ٣٦
So We subjected to him the wind blowing by his command, gently, wherever he directed,
38:37
وَٱلشَّيَٰطِينَ كُلَّ بَنَّآءٖ وَغَوَّاصٖ ٣٧
And [also] the devils [of jinn] - every builder and diver
38:38
وَءَاخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي ٱلۡأَصۡفَادِ ٣٨
And others bound together in irons.
38:39
هَٰذَا عَطَآؤُنَا فَٱمۡنُنۡ أَوۡ أَمۡسِكۡ بِغَيۡرِ حِسَابٖ ٣٩
[We said], "This is Our gift, so grant or withhold without account."
38:40
وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلۡفَىٰ وَحُسۡنَ مَـَٔابٖ ٤٠
And indeed, for him is nearness to Us and a good place of return.
38:41
وَٱذۡكُرۡ عَبۡدَنَآ أَيُّوبَ إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّي مَسَّنِيَ ٱلشَّيۡطَٰنُ بِنُصۡبٖ وَعَذَابٍ ٤١
And remember Our servant Job, when he called to his Lord, "Indeed, Satan has touched me with hardship and torment."
38:42
ٱرۡكُضۡ بِرِجۡلِكَۖ هَٰذَا مُغۡتَسَلُۢ بَارِدٞ وَشَرَابٞ ٤٢
[So he was told], "Strike [the ground] with your foot; this is a [spring for a] cool bath and drink."