SadJuz 23 · Page 457

Sad 38:64

The Letter "Saad" · Juz 23 · Page 457

إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقّٞ تَخَاصُمُ أَهۡلِ ٱلنَّارِ ٦٤

Indeed, that is truth [i.e., reality] - the quarreling of the people of the Fire.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 38:55–64

یہ ہے (معاملہ اہل خیر کا) اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے البتہ بہت برا ٹھکانا ہے (55)(یعنی ) جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں، پس بری ہے آرام کرنے کی جگہ (56) یہ ہے، پس چکھیں وہ اس کو، کھولتا ہوا پانی اور پیپ (57) اور دوسرے (عذاب) ہیں، اس کی مثل ہی، کئی قسم کے (58) یہ ہے ایک گروہ جو گھسا چلا آتا ہے تمھارے ساتھ، نہ زمین کی فراخی ہو ان کے لیے، بے شک یہ داخل ہونے والے ہیں آگ میں(59) وہ کہیں گے، نہ زمین کی فراخی ہو تمھارے لیے، تم ہی آگے لائے ہو اس کو ہمارے، پس بری قرار گاہ ہے (60) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! جو آگے لایا ہمارے یہ(عذاب) پس زیادہ کر اس کو عذاب دگنا آگ میں (61) اور وہ کہیں گے، کیا ہے ہمارے لیے، نہیں ہم دیکھتے ان آدمیوں کو کہ تھے ہم شمار کرتے ان کو برے لوگوں میں؟ (62) کیا بنائے رکھا ہم نے ان کو(دنیا میں) مذاق(غلط طور پر) یا پھر گئیں ان سے(ہماری) نگاہیں؟ (63) بلاشبہ یہ البتہ حق ہے، باہم جھگڑنا اہل دوزخ کا (64)

[55]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقویٰ کے لیے ہے ﴿وَاِنَّ لِلطّٰغِيۡنَ ﴾ یعنی کفرومعاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے ﴿لَشَرَّ مَاٰبٍ﴾ بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔

[56] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم ہے‘‘ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کر دیا گیا ہے، جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ ﴿يَصۡلَوۡنَهَا ﴾ جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہو گی اور اوپر سے بھی آگ برسے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡمِهَادُ ﴾ بدترین مسکن اور ٹھکانا ہو گا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہو گا۔

[57]﴿هٰؔذَا ﴾ یہ بدترین ٹھکانا، یہ سخت عذاب، یہ فضیحت و رسوائی اور یہ سزا ﴿فَلۡيَذُوۡقُوۡهُ۠ حَمِيۡمٌ ﴾ پس اسے چکھو، کھولتا ہوا پانی ہو گا، جو سخت گرم ہو گا جسے جہنمی پئیں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿وَّغَسَّاقٌ﴾ یہ بدترین پینے کی چیز ہو گی جو پیپ اور خون پر مشتمل ہو گی جو بہت کڑوی اور انتہائی بدبودار ہوگی۔

[58]﴿وَّاٰخَرُ مِنۡ شَكۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اس کی ایک اور قسم ﴿اَزۡوَاجٌ﴾ یعنی عذاب کی متعدد انواع و اقسام ہوں گی جن میں ان کو مبتلا کیا جائے گا اور اس عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کیا جائے گا۔ جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے کو سب و شتم کرتے ہوئے کہیں گے۔

[59، 60]﴿هٰؔذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک فوج ہے جو تمھارے ساتھ گھسی چلی آرہی ہے‘‘ آگ میں ﴿لَا مَرۡحَبًۢا بِهِمۡ١ؕ اِنَّهُمۡ صَالُوا النَّارِ ﴾ ’’ان کے لیے کوئی خیرمقدم نہیں ہے یہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔‘‘ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ گھسے چلے آنے والے لوگ کہیں گے: ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ١۫ لَا مَرۡحَبًۢا بِكُمۡ١ؕ اَنۡتُمۡ قَدَّمۡتُمُوۡهُ ﴾ ’’بلکہ تم ہی ہو تمھارا خیر مقدم نہ ہو تم ہی تو لائے تھے اسے‘‘ یعنی عذاب کو ﴿لَنَا ﴾ ’’ہمارے پاس‘‘ کیونکہ تم نے ہمیں دعوت دی، ہمیں فتنے میں مبتلا کر کے گمراہ کیا اور تم ہی ہمارے لیے اس عذاب کا سبب بنے ہو۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴾ اب ہم سب کے لیے یہ بدترین ٹھکانا ہے۔

[61] پھر وہ ان گمراہ کنندہ لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے اور ﴿قَالُوۡا رَبَّنَا مَنۡ قَدَّمَ لَنَا هٰؔذَا فَزِدۡهُ عَذَابًا ضِعۡفًا فِي النَّارِ ﴾ ’’کہیں گے: اے ہمارے رب! جو اس کوہمارے سامنے لایا ہے، اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دینا۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لِكُلٍّ ضِعۡفٌ وَّلٰكِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’سب کے لیے دوگنا عذاب ہے، مگر تم جانتے نہیں۔‘‘

[62]﴿وَقَالُوۡا﴾ اور وہ جہنم کے اندر کہیں گے: ﴿مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِ﴾ یعنی ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ جن کے بارے میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ برے لوگ ہیں اور جہنم کے عذاب کے مستحق ہیں وہ آج ہمیں نظر نہیں آرہے؟ مراد اہل ایمان ہیں، جہنمی ان کو جہنم میں تلاش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، کیا وہ ان کو جہنم میں نظر آئیں گے؟

[63]﴿اَتَّؔخَذۡنٰهُمۡ سِخۡرِيًّا اَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’کیا ہم نے ان سے مذاق کیا تھا یا ہماری آنکھیں پھر گئی ہیں۔‘‘ یعنی ان کا ہمیں نظر نہ آنا دو اسباب میں سے ایک سبب پر مبنی ہے یا تو ہم ان کو اشرار شمار کرنے میں غلطی پر تھے، حالانکہ وہ اچھے لوگ تھے۔ تب ان کے بارے میں ہماری باتیں تمسخر و استہزا کے زمرے میں آئیں گی۔ حقیقت فی الواقع یہی ہے جیسا کہ جہنمیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَۚۖ۰۰ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾(المؤمنون: 23؍109-110) ’’بے شک میرے بندوں میں سے کچھ لوگ جب یہ کہتے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور تو سب سے اچھا رحم فرمانے والا ہے، تو تم نے ان کا تمسخر اڑایا اور انھیں نشانۂ تضحیک بنایا کرتے تھے۔‘‘ دوسری بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید وہ ہمارے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوں مگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ گئے ہوں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ ان کا اہل ایمان کے بارے میں یہ موقف، دنیا میں ان کے دلوں میں جڑ پکڑ کر عقائد میں ڈھل گیا تھا، انھوں نے اہل ایمان کے بارے میں نہایت کثرت سے جہنمی ہونے کا حکم لگایا، وہ ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا اور ان کے دل اسی رنگ میں رنگے گئے تھے۔ اسی حال میں انھوں نے متذکرہ بالا الفاظ کہے۔ یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا کلام، خلاف واقعہ اور ملمّع سازی کے زمرے میں آتا ہے، جیسا کہ وہ دنیا میں ملمع سازی کیا کرتے تھے، حتی کہ انھوں نے جہنم میں بھی ملمع سازی کی اسی لیے اہل اعراف اہل جہنم سے کہیں گے:﴿اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ١ؕ اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍49) ’’کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کے بارے میں تم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے بہرہ مند نہیں کرے گا۔ ان کو یوں حکم ہوگا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر کوئی خوف ہے نہ تم غمگین ہوگے۔‘‘

[64] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی دی ہوئی خبر کی تاکید کے طور پر فرمایا اور وہ سب سے زیادہ سچ کہنے والا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک یہ‘‘ جس کا میں نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے ﴿لَحَقٌّ ﴾ ’’حق ہے‘‘ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ ﴿تَخَاصُمُ اَهۡلِ النَّارِ ﴾ ’’اہل جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا اور تنازعہ ہے۔‘‘

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 457

SadJuz 23 · Page 457

38:62

وَقَالُواْ مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالٗا كُنَّا نَعُدُّهُم مِّنَ ٱلۡأَشۡرَارِ ٦٢

And they will say, "Why do we not see men whom we used to count among the worst?1

1 translator’s note
  1. They are referring to the believers. ↩

38:63

أَتَّخَذۡنَٰهُمۡ سِخۡرِيًّا أَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ ٱلۡأَبۡصَٰرُ ٦٣

Is it [because] we took them in ridicule, or has [our] vision turned away from them?"

38:64

إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقّٞ تَخَاصُمُ أَهۡلِ ٱلنَّارِ ٦٤

Indeed, that is truth [i.e., reality] - the quarreling of the people of the Fire.

38:65

قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ مُنذِرٞۖ وَمَا مِنۡ إِلَٰهٍ إِلَّا ٱللَّهُ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّارُ ٦٥

Say, [O Muḥammad], "I am only a warner, and there is not any deity except Allāh, the One, the Prevailing,1

1 translator’s note
  1. Refer to footnotes in 12:39. ↩

38:66

رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡغَفَّٰرُ ٦٦

Lord of the heavens and the earth and whatever is between them, the Exalted in Might,1 the Perpetual Forgiver."2

2 translator’s notes
  1. Honored for absolute power associated with wisdom and justice.

    [1334] Who continually conceals sins and faults.

    ↩
  2. ↩

38:67

قُلۡ هُوَ نَبَؤٌاْ عَظِيمٌ ٦٧

Say, "It is great news

38:68

أَنتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُونَ ٦٨

From which you turn away.

38:69

مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمِۭ بِٱلۡمَلَإِ ٱلۡأَعۡلَىٰٓ إِذۡ يَخۡتَصِمُونَ ٦٩

I had no knowledge of the exalted assembly [of angels] when they were disputing [the creation of Adam].

38:70

إِن يُوحَىٰٓ إِلَيَّ إِلَّآ أَنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٞ مُّبِينٌ ٧٠

It has not been revealed to me except that I am a clear warner."

38:71

إِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّي خَٰلِقُۢ بَشَرٗا مِّن طِينٖ ٧١

[So mention] when your Lord said to the angels, "Indeed, I am going to create a human being from clay.

38:72

فَإِذَا سَوَّيۡتُهُۥ وَنَفَخۡتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُۥ سَٰجِدِينَ ٧٢

So when I have proportioned him and breathed into him of My [created] soul,1 then fall down to him in prostration."

1 translator’s note
  1. See footnote to 15:29. ↩

38:73

فَسَجَدَ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ كُلُّهُمۡ أَجۡمَعُونَ ٧٣

So the angels prostrated - all of them entirely,

38:74

إِلَّآ إِبۡلِيسَ ٱسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ ٧٤

Except Iblees;1 he was arrogant and became among the disbelievers.

1 translator’s note
  1. See footnote to 2:34. ↩

38:75

قَالَ يَٰٓإِبۡلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّۖ أَسۡتَكۡبَرۡتَ أَمۡ كُنتَ مِنَ ٱلۡعَالِينَ ٧٥

[Allāh] said, "O Iblees, what prevented you from prostrating to that which I created with My hands?1 Were you arrogant [then], or were you [already] among the haughty?"

1 translator’s note
  1. See footnote to 2:19. ↩

38:76

قَالَ أَنَا۠ خَيۡرٞ مِّنۡهُ خَلَقۡتَنِي مِن نَّارٖ وَخَلَقۡتَهُۥ مِن طِينٖ ٧٦

He said, "I am better than him. You created me from fire and created him from clay."

38:77

قَالَ فَٱخۡرُجۡ مِنۡهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٞ ٧٧

[Allāh] said, "Then get out of it [i.e., Paradise], for indeed, you are expelled.

38:78

وَإِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلدِّينِ ٧٨

And indeed, upon you is My curse until the Day of Recompense."

38:79

قَالَ رَبِّ فَأَنظِرۡنِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ ٧٩

He said, "My Lord, then reprieve me until the Day they are resurrected."

38:80

قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلۡمُنظَرِينَ ٨٠

[Allāh] said, "So indeed, you are of those reprieved

38:81

إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡوَقۡتِ ٱلۡمَعۡلُومِ ٨١

Until the Day of the time well-known."

38:82

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغۡوِيَنَّهُمۡ أَجۡمَعِينَ ٨٢

[Iblees] said, "By Your might, I will surely mislead them all

38:83

إِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ ٱلۡمُخۡلَصِينَ ٨٣

Except, among them, Your chosen servants."

As-Sa'diTafsir · 38:64

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском