Sad 38:73
The Letter "Saad" · Juz 23 · Page 457
فَسَجَدَ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ كُلُّهُمۡ أَجۡمَعُونَ ٧٣
So the angels prostrated - all of them entirely,
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 38:65–88
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
Page 457
38:62
وَقَالُواْ مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالٗا كُنَّا نَعُدُّهُم مِّنَ ٱلۡأَشۡرَارِ ٦٢
And they will say, "Why do we not see men whom we used to count among the worst?1
1 translator’s note
- They are referring to the believers. ↩
38:63
أَتَّخَذۡنَٰهُمۡ سِخۡرِيًّا أَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ ٱلۡأَبۡصَٰرُ ٦٣
Is it [because] we took them in ridicule, or has [our] vision turned away from them?"
38:64
إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقّٞ تَخَاصُمُ أَهۡلِ ٱلنَّارِ ٦٤
Indeed, that is truth [i.e., reality] - the quarreling of the people of the Fire.
38:65
قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ مُنذِرٞۖ وَمَا مِنۡ إِلَٰهٍ إِلَّا ٱللَّهُ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّارُ ٦٥
Say, [O Muḥammad], "I am only a warner, and there is not any deity except Allāh, the One, the Prevailing,1
1 translator’s note
- Refer to footnotes in 12:39. ↩
38:66
رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡغَفَّٰرُ ٦٦
Lord of the heavens and the earth and whatever is between them, the Exalted in Might,1 the Perpetual Forgiver."2
38:67
قُلۡ هُوَ نَبَؤٌاْ عَظِيمٌ ٦٧
Say, "It is great news
38:68
أَنتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُونَ ٦٨
From which you turn away.
38:69
مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمِۭ بِٱلۡمَلَإِ ٱلۡأَعۡلَىٰٓ إِذۡ يَخۡتَصِمُونَ ٦٩
I had no knowledge of the exalted assembly [of angels] when they were disputing [the creation of Adam].
38:70
إِن يُوحَىٰٓ إِلَيَّ إِلَّآ أَنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٞ مُّبِينٌ ٧٠
It has not been revealed to me except that I am a clear warner."
38:71
إِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّي خَٰلِقُۢ بَشَرٗا مِّن طِينٖ ٧١
[So mention] when your Lord said to the angels, "Indeed, I am going to create a human being from clay.
38:72
فَإِذَا سَوَّيۡتُهُۥ وَنَفَخۡتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُۥ سَٰجِدِينَ ٧٢
So when I have proportioned him and breathed into him of My [created] soul,1 then fall down to him in prostration."
1 translator’s note
- See footnote to 15:29. ↩
38:73
فَسَجَدَ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ كُلُّهُمۡ أَجۡمَعُونَ ٧٣
So the angels prostrated - all of them entirely,
38:74
إِلَّآ إِبۡلِيسَ ٱسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ ٧٤
Except Iblees;1 he was arrogant and became among the disbelievers.
1 translator’s note
- See footnote to 2:34. ↩
38:75
قَالَ يَٰٓإِبۡلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّۖ أَسۡتَكۡبَرۡتَ أَمۡ كُنتَ مِنَ ٱلۡعَالِينَ ٧٥
[Allāh] said, "O Iblees, what prevented you from prostrating to that which I created with My hands?1 Were you arrogant [then], or were you [already] among the haughty?"
1 translator’s note
- See footnote to 2:19. ↩
38:76
قَالَ أَنَا۠ خَيۡرٞ مِّنۡهُ خَلَقۡتَنِي مِن نَّارٖ وَخَلَقۡتَهُۥ مِن طِينٖ ٧٦
He said, "I am better than him. You created me from fire and created him from clay."
38:77
قَالَ فَٱخۡرُجۡ مِنۡهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٞ ٧٧
[Allāh] said, "Then get out of it [i.e., Paradise], for indeed, you are expelled.
38:78
وَإِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلدِّينِ ٧٨
And indeed, upon you is My curse until the Day of Recompense."
38:79
قَالَ رَبِّ فَأَنظِرۡنِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ ٧٩
He said, "My Lord, then reprieve me until the Day they are resurrected."
38:80
قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلۡمُنظَرِينَ ٨٠
[Allāh] said, "So indeed, you are of those reprieved
38:81
إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡوَقۡتِ ٱلۡمَعۡلُومِ ٨١
Until the Day of the time well-known."
38:82
قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغۡوِيَنَّهُمۡ أَجۡمَعِينَ ٨٢
[Iblees] said, "By Your might, I will surely mislead them all
38:83
إِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ ٱلۡمُخۡلَصِينَ ٨٣
Except, among them, Your chosen servants."