Az-Zumar 39:42
The Troops · Juz 24 · Page 463
ٱللَّهُ يَتَوَفَّى ٱلۡأَنفُسَ حِينَ مَوۡتِهَا وَٱلَّتِي لَمۡ تَمُتۡ فِي مَنَامِهَاۖ فَيُمۡسِكُ ٱلَّتِي قَضَىٰ عَلَيۡهَا ٱلۡمَوۡتَ وَيُرۡسِلُ ٱلۡأُخۡرَىٰٓ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمًّىۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ ٤٢
Allāh takes the souls at the time of their death, and those that do not die [He takes] during their sleep. Then He keeps those for which He has decreed death and releases the others for a specified term. Indeed in that are signs for a people who give thought.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 39:42
اللہ ہی قبض کرتا ہے جانوں کووقت ان کی موت کے ، اورجو نہیں مریں(انھیں بھی قبض کرتا ہے) ان کی نیند میں ، پس وہ روک لیتا ہے اس (روح) کو کہ فیصلہ کردیا اس نے اس پر موت کا اور بھیج دیتا ہے دوسری کوایک وقت مقرر تک، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو غور و فکر کرتی ہے (42)
[42] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اکیلا ہی بندوں پر، ان کی نیند اور بیداری میں، ان کی زندگی اور موت میں، تصرف کرتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الۡاَنۡفُسَ حِيۡنَ مَوۡتِهَا ﴾ ’’اللہ لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے۔‘‘ یہ وفاتِ کبریٰ، موت ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ خبر دینا کہ وہ وفات دیتا ہے اور فعل کی اپنی طرف اضافت کرنا، اس بات کے منافی نہیں کہ اس نے اس کام کے لیے ایک فرشتہ اور اس کے کچھ اعوان و مددگار مقرر کر رکھے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا:﴿قُلۡ يَتَوَفّٰىكُمۡ مَّلَكُ الۡمَوۡتِ الَّذِيۡ وُكِّلَ بِكُمۡ ﴾(السجدۃ: 32؍11) ’’کہہ دیجیے کہ وہ فرشتہ تمھیں وفات دیتا ہے جو تمھارے لیے مقرر کیا گیا ہے‘‘ نیز فرمایا: ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَؔ اَحَدَؔكُمُ الۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُنَا وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍61)’’حتیٰ کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی روح قبص کر لیتے ہیں اور وہ کوتاہی نہیں کرتے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمام امور کی اضافت اس اعتبار سے اپنی طرف کی ہے کہ وہی خالق اور تدبیر کرنے والا ہے اور ان امور کو اس اعتبار سے ان کے اسباب کی طرف مضاف کرتا ہے کہ اس کی سنت اور حکمت ہے کہ اس نے ہر کام کا کوئی سبب مقرر فرمایا ہے۔﴿وَالَّتِيۡ لَمۡ تَمُتۡ فِيۡ مَنَامِهَا ﴾ ’’اور اس جان کو بھی (عارضی وفات دیتا ہے) جو اپنی نیند میں نہیں مرتی۔‘‘ اور یہ موت صغریٰ ہے یعنی وہ اس نفس کو روک رکھتا ہے جو نیند کے دوران حقیقی موت سے ہم کنار نہیں ہوتا ﴿فَيُمۡسِكُ ﴾ پھر ان دو نفسوں میں سے اس نفس کو روک رکھتا ہے ﴿الَّتِيۡ قَضٰى عَلَيۡهَا الۡمَوۡتَ ﴾ ’’جس کے بارے موت کا فیصلہ کردیتا ہے۔‘‘ اس سے مراد وہ نفس ہے جس پر حقیقی موت وارد ہوتی ہے یا نیند کے دوران اس پر موت آتی ہے۔ ﴿وَيُرۡسِلُ الۡاُخۡرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’اور دوسرے نفس کو ایک مقررہ وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے‘‘ یعنی ان کے رزق اور مدت کی تکمیل تک کے لیے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّـرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اس میں ان کے لیے نشانیاں ہیں(جو اس کے کامل اقتدار، مرنے کے بعد اس کی دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت پر) غوروفکر کرتے ہیں۔‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ روح اور نفس ایک جسم ہے اور بنفسہ قائم ہے، اس کا جو ہر بدن کے جو ہر سے مختلف ہے، یہ بھی مخلوق ہے اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت ہے، وفات دینے، روک لینے اور چھوڑ دینے میں اللہ تعالیٰ کا تصرف اس پر ہے۔ زندوں کی اور مردوں کی ارواح عالم برزخ میں ایک دوسرے سے ملاقات کرتی ہیں وہ اکٹھی ہو کر آپس میں باتیں کرتی ہیں، پس اللہ زندوں کی ارواح کو چھوڑ دیتا ہے اور مردوں کی روحوں کو روک لیتا ہے۔
Page 463
39:41
إِنَّآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ لِلنَّاسِ بِٱلۡحَقِّۖ فَمَنِ ٱهۡتَدَىٰ فَلِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَاۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيۡهِم بِوَكِيلٍ ٤١
Indeed, We sent down to you the Book for the people in truth. So whoever is guided - it is for [the benefit of] his soul; and whoever goes astray only goes astray to its detriment. And you are not a manager [i.e., authority] over them.
39:42
ٱللَّهُ يَتَوَفَّى ٱلۡأَنفُسَ حِينَ مَوۡتِهَا وَٱلَّتِي لَمۡ تَمُتۡ فِي مَنَامِهَاۖ فَيُمۡسِكُ ٱلَّتِي قَضَىٰ عَلَيۡهَا ٱلۡمَوۡتَ وَيُرۡسِلُ ٱلۡأُخۡرَىٰٓ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمًّىۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ ٤٢
Allāh takes the souls at the time of their death, and those that do not die [He takes] during their sleep. Then He keeps those for which He has decreed death and releases the others for a specified term. Indeed in that are signs for a people who give thought.
39:43
أَمِ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ شُفَعَآءَۚ قُلۡ أَوَلَوۡ كَانُواْ لَا يَمۡلِكُونَ شَيۡـٔٗا وَلَا يَعۡقِلُونَ ٤٣
Or have they taken other than Allāh as intercessors? Say, "Even though they do not possess [power over] anything, nor do they reason?"
39:44
قُل لِّلَّهِ ٱلشَّفَٰعَةُ جَمِيعٗاۖ لَّهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ ثُمَّ إِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ ٤٤
Say, "To Allāh belongs [the right to allow] intercession entirely. To Him belongs the dominion of the heavens and the earth. Then to Him you will be returned."
39:45
وَإِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَحۡدَهُ ٱشۡمَأَزَّتۡ قُلُوبُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِۖ وَإِذَا ذُكِرَ ٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦٓ إِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُونَ ٤٥
And when Allāh is mentioned alone, the hearts of those who do not believe in the Hereafter shrink with aversion, but when those [worshipped] other than Him are mentioned, immediately they rejoice.
39:46
قُلِ ٱللَّهُمَّ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ عَٰلِمَ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ أَنتَ تَحۡكُمُ بَيۡنَ عِبَادِكَ فِي مَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ ٤٦
Say, "O Allāh, Creator of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the witnessed, You will judge between your servants concerning that over which they used to differ."
39:47
وَلَوۡ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ مَا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا وَمِثۡلَهُۥ مَعَهُۥ لَٱفۡتَدَوۡاْ بِهِۦ مِن سُوٓءِ ٱلۡعَذَابِ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ وَبَدَا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مَا لَمۡ يَكُونُواْ يَحۡتَسِبُونَ ٤٧
And if those who did wrong had all that is in the earth entirely and the like of it with it, they would [attempt to] ransom themselves thereby from the worst of the punishment on the Day of Resurrection. And there will appear to them from Allāh that which they had not taken into account.1
1 translator’s note
- Of His anger and punishment. ↩