Az-ZumarJuz 24 · Page 464

Az-Zumar 39:49

The Troops · Juz 24 · Page 464

فَإِذَا مَسَّ ٱلۡإِنسَٰنَ ضُرّٞ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلۡنَٰهُ نِعۡمَةٗ مِّنَّا قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَىٰ عِلۡمِۭۚ بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٞ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٤٩

And when adversity touches man, he calls upon Us; then when We bestow on him a favor from Us, he says, "I have only been given it because of [my] knowledge." Rather, it is a trial, but most of them do not know.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 39:49–52

پس جب پہنچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف تو پکارتا ہے ہمیں، پھر جب عطا کر دیتے ہیں ہم اس کو کوئی نعمت اپنی طرف سے، تو کہتا ہے بلاشبہ دیا گیا ہوں میں یہ (اپنے) علم کی بدولت (نہیں)بلکہ وہ توایک آزمائش ہے، اور لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے(49)تحقیق کہی یہی بات ان لوگوں نے جو ہوئے ان سے پہلے، پس نہ کام آیاان کے وہ جو تھے وہ کماتے (50) پس پہنچیں ان کو برائیاں ان(عملوں)کی جو انھوں نے کمائے، اور وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا ان میں سے، عنقریب پہنچیں گی ان کو برائیاں ان(عملوں)کی جو انھوں نے کمائے ہوں گے اور نہیں ہیں وہ عاجز کرنے والے (51)کیانہیں جانا انھوں نے کہ بلاشبہ اللہ ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں (52)

[49] اللہ تعالیٰ انسان کے حال اور اس کی فطرت کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ جب اسے کوئی بیماری، شدت یا تکلیف پہنچتی ہے ﴿دَعَانَا ﴾ تو وہ اس نازل ہونے والی مصیبت کو دور کرنے کے لیے گڑگڑا کر ہمیں پکارتا ہے۔ ﴿ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰهُ نِعۡمَةً مِّؔنَّا ﴾ ’’پھر جب ہم اسے اپنی نعمت عطا کر دیتے ہیں‘‘ یعنی جب ہم اس کی تکلیف کو دور اور اس کی مشقت کو زائل کر دیتے ہیں تو وہ اپنے رب کی ناسپاسی اور اس کے احسان کا اعتراف کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور ﴿قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ ’’کہتا ہے: مجھے تو یہ سب کچھ علم کے سبب دیا گیا ہے‘‘ یعنی اللہ کی طرف سے علم کی بنا پر حاصل ہواہے اور میں اس کا اہل اور اس کا مستحق ہوں کیونکہ میں اس کے ہاں بہت برگزیدہ ہوں،یا اس کا معنی یہ ہے کہ یہ سب کچھ مجھے مختلف طریقوں سے حاصل کیے گئے میرے علم کے سبب سے مجھے عطا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’بلکہ یہ ایک فتنہ ہے‘‘ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس کا شکر گزار ہے اور کون اس کی ناشکری کرتا ہے۔ ﴿وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ فتنہ اور آزمائش کو اللہ تعالیٰ کی نوازش سمجھتے ہیں، ان کے سامنے خالص بھلائی اس چیز کے ساتھ مشتبہ ہو جاتی ہے جو بھلائی یا برائی کا سبب ہے۔

[50] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قَدۡ قَالَهَا الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ یعنی ان سے پہلے لوگ بھی یہی کہتے تھے، یعنی ان کا یہ مقولہ:﴿اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اہل تکذیب کے ہاں ہمیشہ سے متوارث چلا آرہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہیں نہ اس کا کوئی حق سمجھتے ہیں۔ گزشتہ لوگوں کی یہی عادت رہی یہاں تک کہ ان کو ہلاک کر دیا گیا ﴿فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ جب ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے پکڑا تو ان کی کمائی ان کے کسی کام نہ آئی۔

[51]﴿فَاَصَابَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا ﴾ ’’ان پر ان کے اعمال کے وبال پڑ گئے۔‘‘ اس مقام پر (سیئات) سے مراد ’’عقوبات‘‘ ہیں کیونکہ یہ عقوبات ہی انسان کے لیے تکلیف دہ اور اس کو غم زدہ کرتی ہیں۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ هٰۤؤُلَآءِ سَيُصِيۡبُهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں عنقریب ان پر ان کے عملوں کے وبال پڑیں گے۔‘‘ پس یہ لوگ نہ تو گزشتہ لوگوں سے بہتر ہیں اور نہ ان کو کوئی براء ت نامہ ہی لکھ کر دیا گیا ہے۔

[52] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایاکہ یہ لوگ اپنے مال کی وجہ سے فریب میں مبتلا ہو گئے ہیں اور اپنی جہالت کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ مال اپنے مالک کے حسن حال پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو خبردار کرتے ہوئے فرمایاکہ اس کا رزق اس بات پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ بے شک اللہ تعالیٰ ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ﴾ اپنے بندوں میں سے، خواہ وہ نیک ہوں یا بد، جس کے لیے چاہتا ہے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے۔ ﴿وَيَقۡدِرُ ﴾اور جس کو چاہتا ہے نپاتلا دیتا ہے، یعنی وہ اپنے بندوں میں سے خواہ وہ نیک ہوں یا بد جس کا چاہے اس کا رزق تنگ کر دیتا ہے، اس کا رزق تمام مخلوق میں مشترک ہے، مگر ایمان اور عمل صالح صرف ان لوگوں کے لیے مختص کرتا ہے جو مخلوق میں بہترین لوگ ہوتے ہیں۔﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں بھی ان کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔‘‘ یعنی رزق کی کشادگی اور تنگی میں اہل ایمان کے لیے نشانیاں ہیں۔ کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ رزق کی تنگی اور کشادگی کا مرجع محض اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حال کو خوب جانتا ہے۔ کبھی کبھی اپنے بندوں پر لطف و کرم کی وجہ سے بھی ان پر رزق تنگ کر دیتا ہے کیونکہ اگر وہ ان کا رزق کشادہ کر دے تو وہ زمین میں سرکشی کرتے ہیں۔ رزق کی اس تنگی میں اللہ تعالیٰ ان کے دین کی اصلاح کی رعایت رکھتا ہے جو ان کی سعادت اور فلاح کی بنیاد ہے۔ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 464

Az-ZumarJuz 24 · Page 464

39:48

وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُواْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ٤٨

And there will appear to them the evils they had earned, and they will be enveloped by what they used to ridicule.

39:49

فَإِذَا مَسَّ ٱلۡإِنسَٰنَ ضُرّٞ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلۡنَٰهُ نِعۡمَةٗ مِّنَّا قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَىٰ عِلۡمِۭۚ بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٞ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٤٩

And when adversity touches man, he calls upon Us; then when We bestow on him a favor from Us, he says, "I have only been given it because of [my] knowledge." Rather, it is a trial, but most of them do not know.

39:50

قَدۡ قَالَهَا ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ فَمَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ ٥٠

Those before them had already said it, but they were not availed by what they used to earn.

39:51

فَأَصَابَهُمۡ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُواْۚ وَٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنۡ هَٰٓؤُلَآءِ سَيُصِيبُهُمۡ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُواْ وَمَا هُم بِمُعۡجِزِينَ ٥١

And the evil consequences of what they earned struck them. And those who have wronged of these [people] will be struck [i.e., afflicted] by the evil consequences of what they earned; and they will not cause failure.1

1 translator’s note
  1. i.e., prevent Allāh from what He wills or escape from the punishment. ↩

39:52

أَوَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ٥٢

Do they not know that Allāh extends provision for whom He wills and restricts [it]? Indeed in that are signs for a people who believe.

39:53

۞ قُلۡ يَٰعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ أَسۡرَفُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُواْ مِن رَّحۡمَةِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَغۡفِرُ ٱلذُّنُوبَ جَمِيعًاۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٥٣

Say, "O My servants who have transgressed against themselves [by sinning], do not despair of the mercy of Allāh. Indeed, Allāh forgives all sins.1 Indeed, it is He who is the Forgiving, the Merciful."

1 translator’s note
  1. For those who repent and correct themselves. ↩

39:54

وَأَنِيبُوٓاْ إِلَىٰ رَبِّكُمۡ وَأَسۡلِمُواْ لَهُۥ مِن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَكُمُ ٱلۡعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ ٥٤

And return [in repentance] to your Lord and submit to Him before the punishment comes upon you; then you will not be helped.

39:55

وَٱتَّبِعُوٓاْ أَحۡسَنَ مَآ أُنزِلَ إِلَيۡكُم مِّن رَّبِّكُم مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَكُمُ ٱلۡعَذَابُ بَغۡتَةٗ وَأَنتُمۡ لَا تَشۡعُرُونَ ٥٥

And follow the best of what was revealed to you from your Lord [i.e., the Qur’ān] before the punishment comes upon you suddenly while you do not perceive,

39:56

أَن تَقُولَ نَفۡسٞ يَٰحَسۡرَتَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّطتُ فِي جَنۢبِ ٱللَّهِ وَإِن كُنتُ لَمِنَ ٱلسَّٰخِرِينَ ٥٦

Lest a soul should say,1 "Oh, [how great is] my regret over what I neglected in regard to Allāh and that I was among the mockers."

1 translator’s note
  1. On the Day of Resurrection. ↩

Translation: Saheeh International · Text and layout: Quran Foundation · Mushaf fonts: King Fahd Complex, provided by Quran Foundation · Privacy

As-Sa'diTafsir · 39:49

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском