Az-ZumarJuz 23 · Page 459

Az-Zumar 39:6

The Troops · Juz 23 · Page 459

خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسٖ وَٰحِدَةٖ ثُمَّ جَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ ثَمَٰنِيَةَ أَزۡوَٰجٖۚ يَخۡلُقُكُمۡ فِي بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمۡ خَلۡقٗا مِّنۢ بَعۡدِ خَلۡقٖ فِي ظُلُمَٰتٖ ثَلَٰثٖۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡ لَهُ ٱلۡمُلۡكُۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُصۡرَفُونَ ٦

He created you from one soul. Then He made from it its mate, and He produced for you from the grazing livestock eight mates.1 He creates you in the wombs of your mothers, creation after creation, within three darknesses.2 That is Allāh, your Lord; to Him belongs dominion. There is no deity except Him, so how are you averted?

2 translator’s notes
  1. See 6:143-144.

    [1343] i.e., the belly, the womb, and the amniotic membrane.

    ↩
  2. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 39:5–7

پیدا کیا اس نے آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے، وہ لپیٹتا ہے رات کو اوپر دن کے اور لپیٹتا ہے دن کو اوپر رات کے، اور کام میں لگا دیا اس نے سورج اورچاند کو، ہرایک چل رہا ہے ایک وقت مقرر تک، سنو! وہ ہے بڑا غالب بہت بخشنے والا(5) اس نے پیدا کیا تمھیں ایک ہی جان سے، پھر بنایا اس نے اس سے جوڑا اس کا اور اتارے اس نے تمھارے لیے چارپایوں میں سے آٹھ جوڑے (نر اورمادہ)، پیدا کرتا ہے وہ تم کو تمھاری ماؤ ں کے پیٹوں میں، ایک (طرح کی) پیدائش بعد دوسری پیدائش کے، اندھیروں میں تین قسم کے یہ ہے اللہ رب تمھارا، اسی کی ہے بادشاہی، نہیں کوئی معبود مگروہی، پس کہاں تم پھیرے جاتے ہو؟(6) اگر کفرکرو گے تم تو اللہ بے پروا ہے تم سے، اور نہیں پسند کرتا وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو اور اگرشکر کرو گے تم تو پسند کرتا ہے وہ اسے تمھارے لیے اور نہیں بوجھ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا بوجھ دوسرے کا ، پھر طرف اپنے پروردگار ہی کے تمھارا لوٹنا ہے، پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے جو تھے تم عمل کرتے، بلاشبہ وہ جانتا ہے راز سینوں کے(7)

[5] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ بے شک اس نے ﴿خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ زمین و آسمان کو حکمت اور مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ وہ بندوں پراپنے امرونہی کے ضابطے نافذ کرے اور ان کو ثواب و عقاب عطا کرے ﴿يُكَوِّرُ الَّيۡلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّيۡلِ ﴾ یعنی وہ رات اور دن دونوں کو ایک دوسرے میں داخل کرتا ہے، وہ دن اور رات دونوں کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے، دن اور رات کبھی یکجا نہیں ہوتے بلکہ جب ان میں سے ایک آتا ہے تو دوسرا علیحدہ ہو جاتا ہے۔ ﴿وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو انتہائی منظم طور پر اور ایک خاص رفتار کے ساتھ مسخر کر رکھا ہے۔ ﴿كُلٌّ ﴾ یعنی چاند اور سورج ﴿يَّجۡرِيۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی تسخیر کے مطابق چلتے ہیں۔ ﴿لِاَجَلٍ مُّسَمًّى﴾ ’’ایک وقت مقررہ تک‘‘ یعنی ان دونوں کو ایک مدت مقررہ تک کے لیے مسخر کر رکھا ہے… یعنی اس دنیا کے خاتمے اور اس کے تباہ ہونے تک… اللہ تعالیٰ اس دنیا میں موجود ہر چیز کو، چاند اور سورج کو تباہ کر دے گا، پھر وہ مخلوق کو دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ وہ اپنے اپنے ٹھکانے یعنی جنت اور جہنم میں رہیں۔ ﴿اَلَا هُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو ہر چیز پر غالب اور قاہر ہے کوئی چیز اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی۔ جس نے اپنی قوت عالیہ سے اس عظیم کائنات کو وجود بخشا اور اس کو مسخر کیا جو اس کے حکم کے تحت چل رہی ہے۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ وہ اپنے توبہ شعار بندوں کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَاِنِّيۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهۡتَدٰؔى ﴾(طٰہٰ: 20؍82) ’’اور جو کوئی توبہ کرے، ایمان لاکر نیک عمل کرے اور راہ راست اختیار کرے، تو میں اسے بخش دیتا ہوں۔‘‘ میں اس شخص کو بھی بخش دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں کو دیکھنے اور شرک کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔

[6] یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہے کہ ﴿خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ تمھاری کثرت اور زمین کے دور دراز گوشوں میں پھیل جانے کے باوجود، اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے۔ ﴿ثُمَّ جَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾’’پھر اس کا جوڑا بنایا۔‘‘ تاکہ وہ اس کے پاس سکون حاصل کرے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہو۔﴿وَاَنۡزَلَ لَكُمۡ مِّنَ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’اور اسی نے تمھارے لیے چوپایوں میں سے بنائے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی تقدیر سے تخلیق فرمایا جو آسمان سے نازل ہوتی ہے، یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے ﴿ثَمٰنِيَةَ اَزۡوَاجٍ ﴾ ’’آٹھ جوڑے‘‘ اس سے مراد وہ مویشی ہیں جن کا سورۃ الانعام میں ذکر آیا ہے ﴿ثَمٰنِيَةَ اَزۡوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاۡنِ اثۡنَيۡنِ وَمِنَ الۡمَعۡزِ اثۡنَيۡنِ ﴾(الانعام: 6/143) ’’یہ چوپائے آٹھ قسم کے ہیں دو بھیڑوں میں سے اور دو بکریوں میں سے‘‘ ﴿وَمِنَ الۡاِبِلِ اثۡنَيۡنِ وَمِنَ الۡبَقَرِ اثۡنَيۡنِ ﴾(الانعام: 6؍144) اور دو اونٹوں میں سے اور دو گایوں میں سے۔‘‘ متذکرہ بالا مویشیوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح کے لیے بہت سے مویشی تخلیق فرمائے ہیں، مگر مذکورہ مویشوں میں فوائد کی کثرت، ان کے مصالح کی عمومیت اور ان کے شرف کی بنا پر خاص طور پر ان کا ذکر کیا ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ یہ بعض امور کے لیے مخصوص ہیں جن کے لیے کوئی دوسرا مویشی مخصوص نہیں ہے، مثلاً: قربانی، ہدی، عقیقہ، ان میں زکاۃ کا واجب ہونا اور دیت کی ادائیگی کے لیے ان کا مختص ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جدامجد اور ہماری ماں (حضرت حوا[) کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد ہماری تخلیق کی ابتدا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَخۡلُقُكُمۡ فِيۡ بُطُوۡنِ اُمَّهٰؔتِكُمۡ خَلۡقًا مِّنۢۡ بَعۡدِ خَلۡقٍ ﴾’’اللہ تعالیٰ تمھیں تمھاری ماؤ ں کے پیٹوں میں ایک مرحلہ کے بعد دوسرے مرحلے میں تخلیق دیتا چلا جاتا ہے‘‘ اور تمھاری یہ حالت ہوتی ہے کہ کسی مخلوق کا ہاتھ تمھیں چھو سکتا ہے نہ کوئی آنکھ تمھیں دیکھ سکتی ہے۔ اس تنگ جگہ پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری پرورش کی ہے ﴿فِيۡ ظُلُمٰؔتٍ ثَلٰثٍ ﴾ ’’تین اندھیروں میں‘‘ یعنی پیٹ کا اندھیرا، رحم کا اندھیرا اور اس جھلی کا اندھیرا جس میں بچہ لپٹا ہوتا ہے۔ ﴿ذٰلِكُمُ ﴾ وہ ہستی جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، سورج اور چاند کو مسخر کیا، جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھارے لیے مویشی اور نعمتیں پیدا کیں۔ ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ اللہ، تمھارا معبود حقیقی ہے۔ جس نے تمھاری پرورش کی اور تمھاری تدبیر کی۔ جس طرح وہ تمھیں پیدا کرنے اور تمھاری پرورش کرنے میں اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اپنی الوہیت میں بھی اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو؟‘‘ اس توضیح کے بعد اس استحقاق کو بیان فرمایا کہ بتوں کی عبادت کی بجائے اللہ تعالیٰ کے لیے عبادت کو خالص کیا جائے، جو کسی چیز کی تدبیر کرتے ہیں نہ انھیں کوئی اختیار ہے۔

[7]﴿اِنۡ تَكۡفُرُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنۡكُمۡ ﴾ ’’اگر ناشکری کروگے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے۔‘‘ جس طرح تمھاری اطاعت اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی اسی طرح تمھارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، بلکہ تمھارے لیے اس کا امرونہی تم پر اس کا محض فضل و احسان ہے ﴿وَلَا يَرۡضٰى لِعِبَادِهِ الۡكُفۡرَ ﴾ ’’اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری پسند نہیں کرتا۔‘‘ کیونکہ ان پر اس کا کامل احسان ہے اسے معلوم ہے کہ کفر ان کو ایسی بدبختی میں مبتلا کر دے گا کہ اس کے بعد انھیں کبھی خوش بختی نصیب نہ ہو گی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہی وہ غرض و غایت ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، اس لیے اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بندے اس مخلوق کو پکاریں جس کو اس مقصد کے لیے تخلیق نہیں کیا گیا ﴿وَاِنۡ تَشۡكُرُوۡا ﴾ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے لیے دین میں اخلاص اختیار کر کے اس کا شکر ادا کرو تو ﴿يَرۡضَهُ لَكُمۡ ﴾ ’’وہ اس کو تمھارے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ تم پر اس کی بے پایاں رحمت سایہ کناں ہے، وہ تم پر احسان کو پسند کرتا ہے اور تم اس فعل کو بجا لارہے ہو جس کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔تمھارے شرک سے اسے کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے نہ تمھارے اعمال اور تمھاری توحید سے اسے کوئی فائدہ، تم میں سے ہر شخص کا اچھا برا عمل اسی کے لیے ہے۔ ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾ ’’کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ ﴿ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ مَّرۡجِعُكُمۡ ﴾ ’’، پھر تم کو اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’ وہ تمھارے اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گا‘‘ جن کا اس کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے، جن پر اس کا قلم جاری ہو چکا ہے، جنھیں معزز محافظین نے صحیفوں میں درج کر رکھا ہے اور جن پر تمھارے جوارح تمھارے خلاف گواہی دیں گے اور وہ تم میں سے ہر ایک کو اس کے استحقاق کے مطابق جزا دے گا۔ ﴿اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ اللہ تعالیٰ سینوں کے اندر پنہاں نیکی اور برائی کے اوصاف کو خوب جانتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مقصود کامل عدل و انصاف پر مبنی جزا و سزا کے بارے میں خبر دینا ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 459

Az-ZumarJuz 23 · Page 459

39:6

خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسٖ وَٰحِدَةٖ ثُمَّ جَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ ثَمَٰنِيَةَ أَزۡوَٰجٖۚ يَخۡلُقُكُمۡ فِي بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمۡ خَلۡقٗا مِّنۢ بَعۡدِ خَلۡقٖ فِي ظُلُمَٰتٖ ثَلَٰثٖۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡ لَهُ ٱلۡمُلۡكُۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُصۡرَفُونَ ٦

He created you from one soul. Then He made from it its mate, and He produced for you from the grazing livestock eight mates.1 He creates you in the wombs of your mothers, creation after creation, within three darknesses.2 That is Allāh, your Lord; to Him belongs dominion. There is no deity except Him, so how are you averted?

2 translator’s notes
  1. See 6:143-144.

    [1343] i.e., the belly, the womb, and the amniotic membrane.

    ↩
  2. ↩

39:7

إِن تَكۡفُرُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ عَنكُمۡۖ وَلَا يَرۡضَىٰ لِعِبَادِهِ ٱلۡكُفۡرَۖ وَإِن تَشۡكُرُواْ يَرۡضَهُ لَكُمۡۗ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرۡجِعُكُمۡ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٧

If you disbelieve - indeed, Allāh is Free from need of you. And He does not approve for His servants disbelief. And if you are grateful, He approves [i.e., likes] it for you; and no bearer of burdens will bear the burden of another. Then to your Lord is your return, and He will inform you about what you used to do. Indeed, He is Knowing of that within the breasts.

39:8

۞ وَإِذَا مَسَّ ٱلۡإِنسَٰنَ ضُرّٞ دَعَا رَبَّهُۥ مُنِيبًا إِلَيۡهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُۥ نِعۡمَةٗ مِّنۡهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدۡعُوٓاْ إِلَيۡهِ مِن قَبۡلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَندَادٗا لِّيُضِلَّ عَن سَبِيلِهِۦۚ قُلۡ تَمَتَّعۡ بِكُفۡرِكَ قَلِيلًا إِنَّكَ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلنَّارِ ٨

And when adversity touches man, he calls upon his Lord, turning to Him [alone]; then when He bestows on him a favor from Himself, he forgets Him whom he called upon before,1 and he attributes to Allāh equals to mislead [people] from His way. Say, "Enjoy your disbelief for a little; indeed, you are of the companions of the Fire."

1 translator’s note
  1. Or "that for which he called upon Him before." ↩

39:9

أَمَّنۡ هُوَ قَٰنِتٌ ءَانَآءَ ٱلَّيۡلِ سَاجِدٗا وَقَآئِمٗا يَحۡذَرُ ٱلۡأٓخِرَةَ وَيَرۡجُواْ رَحۡمَةَ رَبِّهِۦۗ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي ٱلَّذِينَ يَعۡلَمُونَ وَٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ ٩

Is one who is devoutly obedient during periods of the night, prostrating and standing [in prayer], fearing the Hereafter and hoping for the mercy of his Lord, [like one who does not]? Say, "Are those who know equal to those who do not know?" Only they will remember [who are] people of understanding.

39:10

قُلۡ يَٰعِبَادِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡۚ لِلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٞۗ وَأَرۡضُ ٱللَّهِ وَٰسِعَةٌۗ إِنَّمَا يُوَفَّى ٱلصَّٰبِرُونَ أَجۡرَهُم بِغَيۡرِ حِسَابٖ ١٠

Say,1 "O My servants who have believed, fear your Lord. For those who do good in this world is good, and the earth of Allāh is spacious. Indeed, the patient will be given their reward without account [i.e., limit]."

1 translator’s note
  1. The Prophet (ﷺ) is instructed to say on behalf of Allāh (subḥānahu wa taʿālā) to His believing servants. ↩
As-Sa'diTafsir · 39:6

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском