Az-ZumarJuz 24 · Page 466

Az-Zumar 39:70

The Troops · Juz 24 · Page 466

وَوُفِّيَتۡ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا عَمِلَتۡ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِمَا يَفۡعَلُونَ ٧٠

And every soul will be fully compensated [for] what it did; and He is most knowing1 of what they do.

1 translator’s note
  1. With no need for any record or witnesses, which are but means to establish proof to the soul itself in addition to its own knowledge of what it has done. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 39:68–70

اور پھونک ماری جائے گی صور میں تو بیہوش ہو جائے گا جو ہے آسمانوں میں اور جو ہے زمین میں مگر جسے چاہے گا اللہ ، پھر پھونک ماری جائے گی اس میں دوسری مرتبہ تو یکایک وہ کھڑے(ہو کر)دیکھتے ہوں گے (68) اورچمک اٹھے گی زمین اپنے رب کے نور سے اور رکھی جائے گی کتاب اور لائے جائیں گے انبیاء اور گواہ اور فیصلہ کیا جائے گا درمیان ان کے حق کے ساتھ اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(69) اور پورا دیا جائے گا ہر نفس کو (بدلہ اس کا) جو اس نے کیا ہو گا اور وہ خوب جانتا ہے(اس کو)جو وہ کر رہے ہیں (70)

[68] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی عظمت کا خوف دلانے کے بعد، قیامت کے احوال کے ذریعے سے انھیں ڈرایا اور انھیں ترغیب و ترہیب دی ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَنُفِخَ فِي الصُّوۡرِ ﴾ ’’اور صور میں پھونکا جائے گا۔‘‘ یہ بہت بڑا سینگ ہے جس کی عظمت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شخص نہیں جانتا یا صرف اس شخص کو علم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مطلع کر دیا ہو، اس صور میں اسرافیلu، جو اللہ تعالیٰ کے مقرب اور اس کا عرش اٹھانے والے فرشتوں میں سے ہیں، پھونک ماریں گے ﴿فَصَعِقَ ﴾ ’’تو بے ہوش ہو جائیں گے یا مر جائیں گے۔ اس بارے میں یہ دونوں قول منقول ہیں۔ ﴿مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔‘‘ یعنی زمین اور آسمانوں کی تمام مخلوق جب صور پھونکنے کی آواز سنے گی تو اس کی شدت، اور ان احوال کے بارے میں علم ہونے کے باعث گھبرا اٹھے گی، جن کا یہ آواز مقدمہ ہے۔ ﴿اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جسے اللہ (بچانا) چاہے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے سوا جن کو اللہ تعالیٰ مضبوط اور ثابت قدم رکھے، مثلاً: شہداء اور بعض دیگر لوگ، ان پر بے ہوشی طاری نہیں ہو گی۔ یہ پہلی پھونک نَفْخَۃُ الصَّعْق اور نَفْخَۃُ الْفَزَعْ ہے۔ ﴿ثُمَّ نُفِخَ فِيۡهِ ﴾ ’’ پھر اس میں (ایک اور) پھونک ماری جائے گی۔‘‘ یہ نَفْخَۃُ الْبَعْث ہے ﴿فَاِذَا هُمۡ قِيَامٌ يَّنۡظُرُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ فوراً اٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔‘‘ یعنی وہ حساب و کتاب کے لیے اپنی قبروں میں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، جبکہ ان کی تخلیقِ اجساد اور تخلیقِ ارواح مکمل ہوچکی ہو گی۔ ان کی آنکھیں اوپر کو اٹھی ہوئی ہوں گی، وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔

[69]﴿وَاَشۡرَقَتِ الۡاَرۡضُ بِنُوۡرِ رَبِّهَا ﴾ ’’اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ موجودہ تمام روشنیاں قیامت کے روز مضمحل ہو کر ختم ہو جائیں گی اور حقیقت میں ایسا ہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ (قیامت کے روز)سورج بے نور ہو جائے گا، چاند کی روشنی ختم ہو جائے گی، ستارے بکھر جائیں گے اور لوگ تاریکی میں ڈوب جائیں گے، تب اس وقت زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی جب وہ تجلی فرمائے گا اور بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے نازل ہوگا۔ اس دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو ایسی قوت اور ایسی تخلیق عطا کرے گا جس کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ کی تجلی کو برداشت کرنے کی قوت سے سرفراز ہوں گے، اللہ تعالیٰ کا نور ان کو جلا نہیں ڈالے گا، اس دن ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنا ممکن ہو گا، ورنہ اللہ تعالیٰ کا نور اس قدر عظیم ہے کہ اگر وہ اپنے چہرے سے پردہ ہٹا دے تو جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے اس کے چہرے کا نور تمام مخلوق کو جلا کر راکھ کر ڈالے۔﴿وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ ﴾ ’’اور (اعمال کی) کتاب رکھ دی جائے گی۔‘‘ یعنی اعمال نامہ کھول کر پھیلا دیا جائے گا تاکہ بندہ اپنی نیکیوں اور گناہوں کو پڑھ لے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49) ’’اور اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا تو آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ وہ اپنے اعمال نامے کے مندرجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے ہماری ہلاکت! یہ کیسی کتاب ہے کہ ہمارا کوئی چھوٹا بڑا عمل ایسا نہیں جو اس نے درج نہ کیا ہو۔ وہ اپنے تمام اعمال کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اور عمل کرنے والے سے مکمل عدل و انصاف کے ساتھ کہا جائے گا: ﴿اِقۡرَاۡ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا﴾(بنی اسراء یل:17؍14) ’’اپنی کتاب (اعمال نامہ )پڑھ، آج اپنا حساب لینے کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔‘‘﴿وَجِايۡٓءَ بِالنَّبِيّٖنَ ﴾ ’’اور نبیوں کو لایا جائے گا۔‘‘ تاکہ ان سے تبلیغ اور ان کی امتوں کے رویے کے بارے میں سوال کیا جائے اور یہ ان پر گواہی دیں ﴿وَالشُّهَدَآءِ ﴾ ’’اور گواہ‘‘ یعنی فرشتے، زمین اور انسان کے اعضاء گواہی دیں گے ﴿وَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیاجائے گا۔‘‘ یعنی پورے عدل اور کامل انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ حساب ایسی ہستی کی طرف سے کیاجائے گا جو ذرہ بھر ظلم نہیں کرتی اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس کی کتاب یعنی لوح محفوظ ان کے تمام اعمال پر مشتمل ہے۔ کراماً کاتبین اپنے رب کی نافرمانی نہیں کرتے، بندے جو عمل بھی کرتے ہیں یہ ان کے اعمال ناموں میں درج کر لیتے ہیں۔ عادل ترین گواہ اس فیصلے میں گواہی دیں گے اور فیصلہ وہ ہستی کرے گی جو اعمال کی مقدار اور ان کے ثواب و عقاب کے استحقاق کی مقدار کو خوب جانتی ہے۔ فیصلہ ہو گا اور تمام مخلوق اس کا اقرار کرے گی۔ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کے عدل کا اعتراف کرے گی وہ اس کی عظمت، اس کے علم و حکمت، اور اس کی رحمت کا اس طرح اعتراف کریں گے کہ دل میں کبھی اس کا خیال گزرا ہوگا نہ ان کی زبانوں نے کبھی اس کی تعبیر کی ہوگی۔

[70] اس لیے فرمایا: ﴿وَوُفِّيَتۡ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِمَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’جس شخص نے جو عمل کیا اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور جو کچھ یہ کرتے ہیں اس کو سب کی خبر ہے۔‘‘

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 466

Az-ZumarJuz 24 · Page 466

39:68

وَنُفِخَ فِي ٱلصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُۖ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخۡرَىٰ فَإِذَا هُمۡ قِيَامٞ يَنظُرُونَ ٦٨

And the Horn will be blown, and whoever is in the heavens and whoever is on the earth will fall dead except whom Allāh wills. Then it will be blown again, and at once they will be standing, looking on.

39:69

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ ٱلۡكِتَٰبُ وَجِاْيٓءَ بِٱلنَّبِيِّـۧنَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَقُضِيَ بَيۡنَهُم بِٱلۡحَقِّ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ ٦٩

And the earth will shine with the light of its Lord, and the record [of deeds] will be placed, and the prophets and the witnesses will be brought, and it will be judged between them in truth, and they will not be wronged.

39:70

وَوُفِّيَتۡ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا عَمِلَتۡ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِمَا يَفۡعَلُونَ ٧٠

And every soul will be fully compensated [for] what it did; and He is most knowing1 of what they do.

1 translator’s note
  1. With no need for any record or witnesses, which are but means to establish proof to the soul itself in addition to its own knowledge of what it has done. ↩

39:71

وَسِيقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ جَهَنَّمَ زُمَرًاۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوهَا فُتِحَتۡ أَبۡوَٰبُهَا وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَآ أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ رُسُلٞ مِّنكُمۡ يَتۡلُونَ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتِ رَبِّكُمۡ وَيُنذِرُونَكُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هَٰذَاۚ قَالُواْ بَلَىٰ وَلَٰكِنۡ حَقَّتۡ كَلِمَةُ ٱلۡعَذَابِ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ ٧١

And those who disbelieved will be driven to Hell in groups until, when they reach it, its gates are opened and its keepers will say, "Did there not come to you messengers from yourselves, reciting to you the verses of your Lord and warning you of the meeting of this Day of yours?" They will say, "Yes, but the word [i.e., decree] of punishment has come into effect upon the disbelievers."

39:72

قِيلَ ٱدۡخُلُوٓاْ أَبۡوَٰبَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَاۖ فَبِئۡسَ مَثۡوَى ٱلۡمُتَكَبِّرِينَ ٧٢

[To them] it will be said, "Enter the gates of Hell to abide eternally therein, and wretched is the residence of the arrogant."

39:73

وَسِيقَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ رَبَّهُمۡ إِلَى ٱلۡجَنَّةِ زُمَرًاۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوهَا وَفُتِحَتۡ أَبۡوَٰبُهَا وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَا سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡ طِبۡتُمۡ فَٱدۡخُلُوهَا خَٰلِدِينَ ٧٣

But those who feared their Lord will be driven to Paradise in groups until, when they reach it while its gates have been opened and its keepers say, "Peace be upon you; you have become pure; so enter it to abide eternally therein," [they will enter].1

1 translator’s note
  1. In such honor and joy that is beyond description - thus, the omission of this conclusion in the Arabic text. ↩

39:74

وَقَالُواْ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي صَدَقَنَا وَعۡدَهُۥ وَأَوۡرَثَنَا ٱلۡأَرۡضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ ٱلۡجَنَّةِ حَيۡثُ نَشَآءُۖ فَنِعۡمَ أَجۡرُ ٱلۡعَٰمِلِينَ ٧٤

And they will say, "Praise to Allāh, who has fulfilled for us His promise and made us inherit the earth [so] we may settle in Paradise wherever we will. And excellent is the reward of [righteous] workers."

As-Sa'diTafsir · 39:70

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском