Az-ZumarJuz 24 · Page 466

Az-Zumar 39:73

The Troops · Juz 24 · Page 466

وَسِيقَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ رَبَّهُمۡ إِلَى ٱلۡجَنَّةِ زُمَرًاۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوهَا وَفُتِحَتۡ أَبۡوَٰبُهَا وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَا سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡ طِبۡتُمۡ فَٱدۡخُلُوهَا خَٰلِدِينَ ٧٣

But those who feared their Lord will be driven to Paradise in groups until, when they reach it while its gates have been opened and its keepers say, "Peace be upon you; you have become pure; so enter it to abide eternally therein," [they will enter].1

1 translator’s note
  1. In such honor and joy that is beyond description - thus, the omission of this conclusion in the Arabic text. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 39:71–75

اور ہانک کر لے جائے جائیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا جہنم کی طرف گروہ گروہ یہاں تک کہ جب آئیں گے وہ اس کےپاس تو کھول دیے جائیں گے دروازے اس کےاور کہیں گے ان سے داروغے اس کے، کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے جو پڑھتے (تھے) تم پر آیتیں تمھارے رب کی اور ڈراتے (تھے) تم کو تمھاری اس دن کی ملاقات سے؟ وہ کہیں گے(ہاں)کیوں نہیں، اور لیکن ثابت ہو گئی بات عذاب کی اوپر کافروں کے (71) کہا جائے گا: داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ رہو گے اس میں، پس برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا (72) اور لے جائے جائیں گے وہ لوگ جو ڈرتے تھے اپنے رب سے، طرف جنت کی گروہ گروہ حتی کہ جب آئیں گے وہ اس کے پاس اورکھلے ہوں گے دروازے اس کےاورکہیں گے ان سے اس کےدربان ، سلام ہو تم پر، تم پاکیزہ رہے، پس داخل ہو جاؤ تم اس میں ہمیشہ رہنے والے (73) اور وہ کہیں گے: سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہ جس نے سچا کیا ہم سے اپنا وعدہ اور وارث کر دیا ہمیں اس زمین کا ہم ٹھکانا بنائیں جنت میں جہاں ہم چاہیں، پس اچھا ہے اجر عمل کرنے والوں کا (74) اور دیکھیں گے آپ فرشتوں کو گھیرے ہوئے عرش کے اردگردکو، پاکیزگی بیان کرتے ہوں گے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور فیصلہ کیا جائے گا درمیان ان کے سا تھ حق کے اور کہا جائے گا سب تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں(75)

[71] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کا ذکر فرمایا جن کو اس نے تخلیق، رزق اور تدبیر میں اکٹھا کیا، دنیا کے اندر وہ سب اکٹھے رہے، قیامت کے روز بھی اکٹھے ہوں گے مگر ان کی جزا کے وقت ان کے درمیان اسی طرح تفریق کر دی جائے گی جس طرح دنیا میں ایمان اور کفر، تقویٰ اور فسق و فجور کے اعتبار سے ان کے درمیان فرق تھا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے کفر کیا انھیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔‘‘ یعنی کافروں کو نہایت سختی سے جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ انتہائی سخت فرشتے کوڑوں سے مارتے ہوئے، بہت برے قید خانے، بدترین جگہ یعنی جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ جہاں ہر قسم کا عذاب جمع ہو گا اور ہر قسم کی بدبختی موجود ہو گی۔ جہاں ہر سرور زائل ہو جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾(الطور: 52؍13) ’’جس روز انھیں آتش جہنم کی طرف دھکیل دھکیل کر لے جایا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو دھکے دے کر جہنم میں پھینکا جائے گا کیونکہ وہ جہنم میں داخل ہونے سے مزاحمت کریں گے، ان کو جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ ﴿زُمَرًا ﴾ متفرق جماعتوں کی صورت میں ہرگروہ اس گروہ کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ اس کے اعمال مناسبت رکھتے ہوں گے اور جن کے کرتوت ایک دوسرے کے مشابہ ہوں گے۔ وہ ایک دوسرے کو لعنت ملامت اور ایک دوسرے سے براء ت اور بیزاری کا اظہار کریں گے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡهَا ﴾ یعنی جب جہنم کے قریب پہنچیں گے ﴿فُتِحَتۡ﴾ ’’کھول دیے جائیں گے‘‘ ان کے لیے یعنی ان کی خاطر ﴿اَبۡوَابُهَا ﴾ ’’اس کے دروازے۔‘‘ ان کی آمد اور مہمانی کرتے ہوئے جہنم کے دروازے کھولے جائیں گے۔ ﴿وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ ﴾ جہنم کے داروغے ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی مبارک دیں گے اور ان اعمال پر، جن کے سبب سے وہ اس بدترین جگہ پر پہنچے، انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہیں گے:﴿اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ رُسُلٌ مِّؔنۡكُمۡ ﴾’’کیا تمھارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے، جنھیں تم پہچانتے اور ان کی صداقت کو خوب جانتے تھے اور تم ان سے ہدایت حاصل کر سکتے تھے؟﴿يَتۡلُوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِ رَبِّكُمۡ ﴾ ’’وہ تم کو تمھارے رب کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے۔‘‘ جن آیات کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء و مرسلین کو مبعوث فرمایا تھا جو روشن ترین دلائل و براہین کے ذریعے سے حق الیقین پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَيُنۡذِرُوۡنَكُمۡ۠ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’اور وہ تمھیں اس دن کے پیش آنے (ملاقات) سے ڈراتے تھے۔‘‘ اور یہ چیز اس دن کے ڈر کو مد نظر رکھتے ہوئے تمھارے ان رسولوں کی اتباع اور اس دن کے عذاب سے بچنے کی موجب تھی، مگر تمھارا حال اس مطلوبہ حال کے بالکل برعکس تھا۔ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ اپنے گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہونے کا اعتراف و اقرار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿بَلٰى ﴾ کیوں نہیں! ہمارے پاس ہمارے رب کے رسول واضح دلائل اور نشانیوں کے ساتھ آئے، انھوں نے ان نشانیوں کو ہمارے سامنے پوری طرح واضح کر دیا تھا اور انھوں نے ہمیں آج کے دن سے ڈرایا تھا ﴿وَلٰكِنۡ حَقَّتۡ كَلِمَةُ الۡعَذَابِ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’لیکن عذاب کا حکم (وعدہ) کافروں پر ثابت ہوکر رہا۔‘‘ یعنی ان کے کفر کے سبب سے ان پر عذاب واجب ہو گیا۔ یہ عذاب ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتا ہے اور اس چیزکو جھٹلاتا ہے جسے لے کر انبیاء ورسل مبعوث ہوئے۔ پس یہ کفار اپنے گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی حجت کے قائم ہونے کا اعتراف کریں گے۔

[72]﴿قِيۡلَ ﴾ انھیں ذلیل و رسوا کرتے ہوئے کہا جائے گا: ﴿ادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ۔‘‘ ہر گروہ اس دروازے سے جہنم میں داخل ہو گا جو اس کے مناسب اور موافق حال ہو گا۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ وہاں ابدا لآباد تک رہیں گے۔ وہ وہاں سے کبھی کوچ نہیں کریں گے، ایک گھڑی کے لیے ان سے عذاب دور نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ ’’پس تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔‘‘ یعنی جہنم ان کا ٹھکانا ہے جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ یہ سب کچھ اس پاداش میں ہے کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کی جزا ان کے عمل کی جنس سے دی ہے، اہانت، ذلت اور رسوائی ان کی سزا ہے۔

[73] پھر اہل جنت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے تھے انھیں لے جایا جائے گا‘‘ متقین کو اللہ تعالیٰ کی توحید، ان کے عمل اور اطاعت کے سبب سے نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ وفدوں کی صورت میں ﴿اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾ ’’جنت کی طرف گروہ در گروہ۔‘‘ وہ خوش و خرم جنت میں جائیں گے۔ ہر جماعت ایسی جماعت کی معیت میں جنت میں داخل ہو گی جس کے ساتھ وہ عمل میں مشابہت رکھتی ہوگی۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡهَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے‘‘ یعنی جب یہ لوگ کشادہ اورخوبصورت جنتوں میں پہنچیں گے، بادنسیم کے جھونکے ان کااستقبال کریں گے، یہ نعمتیں اور جنتیں ہمیشہ رہیں گی۔ ﴿وَفُتِحَتۡ﴾ ’’اور کھول دیے جائیں گے‘‘ ان کے لیے ﴿ اَبۡوَابُهَا ﴾’’اس کے دروازے۔‘‘ سب سے زیادہ باعزت مخلوق کے لیے، عزت و اکرام کے ساتھ جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے تاکہ جنت میں ان کی عزت و تکریم ہو ﴿وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَا ﴾ اور جنت کے دربان ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہیں گے ﴿سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر سلامتی ہو‘‘ تم ہر آفت اوربرے حال سے سلامت اور محفوظ ہو ﴿طِبۡتُمۡ ﴾ تمھارے دل اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اس کی خشیت کے باعث، تمھاری زبانیں اس کے ذکر اور تمھارے جوارح اس کی اطاعت کے باعث اچھے رہے، لہٰذا اپنی اچھائی کے سبب سے ﴿فَادۡخُلُوۡهَا خٰؔلِدِيۡنَ ﴾ ’’اس جنت میں ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ۔‘‘ یہ پاک اور طیب گھر ہے اور طیبین کے سوا کسی کے لائق نہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہنم کے بارے میں فرمایا: ﴿فُتِحَتۡ اَبۡوَابُهَا ﴾ اور جنت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَفُتِحَتۡ ﴾ یعنی واؤ کے ساتھ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل جہنم کے وہاں مجرد پہنچنے پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے، انھیں انتظار کی مہلت نہیں دی جائے گی، جہنم کے دروازے ان کے پہنچنے پر اور ان کے سامنے ، اس لیے کھلیں گے کہ اس کی حرارت بہت زیادہ اور اس کا عذاب انتہائی شدید ہوگا۔ رہی جنت، تو یہ بہت ہی عالی مرتبہ مقام ہے، جہاں ہر شخص نہیں پہنچ سکتا۔ صرف وہی شخص جنت تک پہنچ سکتا ہے جو ان وسائل کو اختیار کرتا ہے جو جنت تک پہنچاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ جنت میں داخل ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل تکریم ہستی کی سفارش کے محتاج ہوں گے۔ مجرد وہاں پہنچنے پر ان کے لیے جنت کے دروازے نہیں کھول دیے جائیں گے بلکہ وہ جناب نبی مصطفیٰ محمد ﷺ سے سفارش کرائیں گے، آپ اہل ایمان کی سفارش کریں گے اور اللہ تعالیٰ آپﷺ کی سفارش کو قبول فرمائے گا۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ جہنم اور جنت کے دروازے ہوں گے، جو کھولے اور بند کیے جا سکیں گے۔ اور ہر دروازے پر داروغہ مقرر ہو گا۔ یہ خالص گھر ہیں جہاں صرف وہی شخص داخل ہو سکے گا جو ان کا مستحق ہو گا بخلاف عام گھروں اور جگہوں کے، جہاں ہر کوئی داخل ہو سکتا ہے۔

[74]﴿وَقَالُوا ﴾ وہ جنت میں داخل ہو کر، اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے ہدایت عطا کرنے پر، اس کی حمدوثنا بیان کرتے ہوئے کہیں گے:﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ صَدَقَنَا وَعۡدَهٗ﴾ ’’اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچا کر دکھایا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبانوں پر ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ اگر ہم ایمان لے آئے اور نیک عمل کیے تو وہ ہمیں جنت عطا کرے گا ۔پس اس نے اپنا وعدہ ایفاء کر کے ہماری آرزو پوری کر دی ﴿وَاَوۡرَثَنَا الۡاَرۡضَ ﴾ ’’اور ہمیں زمین کا وارث بنایا‘‘ یعنی جنت کی زمین کا۔ ﴿نَتَبَوَّاُ مِنَ الۡؔجَنَّةِ حَيۡثُ نَشَآءُ ﴾ یعنی ہم جنت میں جس جگہ بھی چاہیں ٹھہر سکتے ہیں اور اس کی نعمتوں سے جو چیز بھی چاہیں لے سکتے ہیں۔ ہمارے لیے کوئی چیز ممنوع نہیں جس کا ارادہ کریں ﴿فَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَ ﴾ ’’پس (نیک) عمل کرنے والوں کا بدلہ بھی کیسا خوب ہے۔‘‘ جنھوں نے ختم ہو جانے والی نہایت قلیل سی مدت میں اپنے رب کی اطاعت کے لیے کوشش کی اور اس کے بدلے انھوں نے خیرعظیم حاصل کی جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ یہ ہے وہ گھر جو حقیقی مدح کا مستحق ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو سرفراز فرمائے گا، جوادوکریم اللہ نے ان کے لیے جنت کے گھر کی مہمانی کو پسند فرمایا ہے، اللہ نے اس گھر کو نہایت بلند اور خوبصورت بنایا ہے۔ اس میں اپنے ہاتھوں سے انواع و اقسام کے درخت اور پودے لگائے ہیں۔ اسے اپنی رحمت و تکریم سے لبریز کیاہے جس کے ادنیٰ حصے سے غم زدہ کو فرحت حاصل ہو گی اور تمام تکدر ختم ہو کر صفا کی تکمیل ہو جائے گی۔

Continue in the whole surah's tafsir

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 466

Az-ZumarJuz 24 · Page 466

39:68

وَنُفِخَ فِي ٱلصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُۖ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخۡرَىٰ فَإِذَا هُمۡ قِيَامٞ يَنظُرُونَ ٦٨

And the Horn will be blown, and whoever is in the heavens and whoever is on the earth will fall dead except whom Allāh wills. Then it will be blown again, and at once they will be standing, looking on.

39:69

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ ٱلۡكِتَٰبُ وَجِاْيٓءَ بِٱلنَّبِيِّـۧنَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَقُضِيَ بَيۡنَهُم بِٱلۡحَقِّ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ ٦٩

And the earth will shine with the light of its Lord, and the record [of deeds] will be placed, and the prophets and the witnesses will be brought, and it will be judged between them in truth, and they will not be wronged.

39:70

وَوُفِّيَتۡ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا عَمِلَتۡ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِمَا يَفۡعَلُونَ ٧٠

And every soul will be fully compensated [for] what it did; and He is most knowing1 of what they do.

1 translator’s note
  1. With no need for any record or witnesses, which are but means to establish proof to the soul itself in addition to its own knowledge of what it has done. ↩

39:71

وَسِيقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ جَهَنَّمَ زُمَرًاۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوهَا فُتِحَتۡ أَبۡوَٰبُهَا وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَآ أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ رُسُلٞ مِّنكُمۡ يَتۡلُونَ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتِ رَبِّكُمۡ وَيُنذِرُونَكُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هَٰذَاۚ قَالُواْ بَلَىٰ وَلَٰكِنۡ حَقَّتۡ كَلِمَةُ ٱلۡعَذَابِ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ ٧١

And those who disbelieved will be driven to Hell in groups until, when they reach it, its gates are opened and its keepers will say, "Did there not come to you messengers from yourselves, reciting to you the verses of your Lord and warning you of the meeting of this Day of yours?" They will say, "Yes, but the word [i.e., decree] of punishment has come into effect upon the disbelievers."

39:72

قِيلَ ٱدۡخُلُوٓاْ أَبۡوَٰبَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَاۖ فَبِئۡسَ مَثۡوَى ٱلۡمُتَكَبِّرِينَ ٧٢

[To them] it will be said, "Enter the gates of Hell to abide eternally therein, and wretched is the residence of the arrogant."

39:73

وَسِيقَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ رَبَّهُمۡ إِلَى ٱلۡجَنَّةِ زُمَرًاۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوهَا وَفُتِحَتۡ أَبۡوَٰبُهَا وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَا سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡ طِبۡتُمۡ فَٱدۡخُلُوهَا خَٰلِدِينَ ٧٣

But those who feared their Lord will be driven to Paradise in groups until, when they reach it while its gates have been opened and its keepers say, "Peace be upon you; you have become pure; so enter it to abide eternally therein," [they will enter].1

1 translator’s note
  1. In such honor and joy that is beyond description - thus, the omission of this conclusion in the Arabic text. ↩

39:74

وَقَالُواْ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي صَدَقَنَا وَعۡدَهُۥ وَأَوۡرَثَنَا ٱلۡأَرۡضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ ٱلۡجَنَّةِ حَيۡثُ نَشَآءُۖ فَنِعۡمَ أَجۡرُ ٱلۡعَٰمِلِينَ ٧٤

And they will say, "Praise to Allāh, who has fulfilled for us His promise and made us inherit the earth [so] we may settle in Paradise wherever we will. And excellent is the reward of [righteous] workers."

As-Sa'diTafsir · 39:73

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском