An-Nisa 4:1
The Women · Juz 4 · Page 77
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمُ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسٖ وَٰحِدَةٖ وَخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالٗا كَثِيرٗا وَنِسَآءٗۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِي تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلۡأَرۡحَامَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيۡكُمۡ رَقِيبٗا ١
O mankind, fear your Lord, who created you from one soul and created from it its mate and dispersed from both of them many men and women. And fear Allāh, through whom1 you ask one another,2 and the wombs.3 Indeed Allāh is ever,4 over you, an Observer.5
5 translator’s notes
In whose name.
[157] i.e., request favors and demand rights.
[158] i.e., fear Allāh in regard to relations of kinship.
[159] When used in conjunction with Allāh's attributes, the word "ever" (occurring repeatedly throughout this sūrah and elsewhere, such as in sūrah al-Aḥzāb) is quite inadequate in imparting the sense of continuation expressed by the word "kāna" in Arabic, which indicates "always was, is, and always will be."
[160] Ever-present and taking account of everything.
↩- ↩
- ↩
- ↩
- ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 4:1
اے لوگو! ڈرو اپنے رب سے، وہ جس نے پیدا کیا تمھیں ایک جان سے اور پیدا کیا اسی سے اس کا جوڑا اور پھیلائے ان دونوں سے مرد کثرت سے اور عورتیں۔ اور ڈرو اللہ سے، وہ کہ سوال کرتے ہو تم آپس میں اس کے واسطے سےاور (ڈرو) رشتوں (کے توڑنے) سے۔ بلاشبہ اللہ ہے اوپر تمھارے نگہبان(1)
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورت کا افتتاح تقویٰ کے حکم، اپنی عبادت کی تاکید اور صلہ رحمی کے حکم اور اس کی تاکید سے کیا ہے۔ اور ان اسباب کو بیان کیا ہے جو ان تمام امور کے موجب ہیں اور تقویٰ کا موجب یہ ہے ﴿ رَبَّكُمُ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے جس نے تمھیں پیدا کیا‘‘ تمھیں رزق عطا کیا اور بڑی بڑی نعمتوں کے ذریعے سے تمھاری تربیت کی اور ان جملہ نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اس نے تمھیں پیدا کیا ﴿ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾ ’’ایک ہی جان سے اور اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا‘‘ تاکہ وہ اس کے مشابہ اور مناسب ہو اور اسے اس کے پاس سکون حاصل ہو، اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی تکمیل ہو اور اس سے فرحت و سرور حاصل ہو۔ اسی طرح تقویٰ کا موجب اور اس کا داعی اس کے نام پر تمھارا ایک دوسرے سے سوال کرنا اور تمھارا تعظیم کرنا ہے۔ حتیٰ کہ جب تم اپنی کوئی ضرورت پوری کرنا چاہتے ہو تو تم اپنے سوال میں اس کا وسیلہ اختیار کرتے ہو۔پس جو کوئی دوسرے کے لیے یہ چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے ’’میں اللہ کے نام پر تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو فلاں کام کر‘‘ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت جاگزیں ہے جو اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو رد نہ کرے جو اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرتا ہے جیسا کہ تم نے اس کی اس ذریعے سے تعظیم کی ہے پس تمھیں چاہیے کہ تم اس کی عبادت اور تقویٰ کے ذریعے سے اس کی تعظیم کرو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ بھی آگاہ فرمایا ہے کہ وہ نگہبان ہے وہ بندوں کی حرکات و سکنات، ان کے کھلے چھپے تمام احوال میں ان کی خبر رکھتا ہے اور ان احوال میں ان کا نگہبان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نگہبان ہونا جن امور کا موجب بنتا ہے ان میں تقویٰ کے التزام کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے حیا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس خبر میں کہ اس نے انھیں ایک جان سے تخلیق کیا ہے اور اس نے ان کو روئے زمین کے کناروں تک پھیلایا جبکہ وہ ایک ہی اصل کی طرف لوٹتے ہیں۔۔۔ مقصد یہ ہے کہ بندے ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور نرمی کے ساتھ پیش آیا کریں۔اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم، صلہ رحمی کے حکم اور قطع رحمی کی ممانعت کے ساتھ ملا کر بیان فرمایا تاکہ یہ حق موکد ہو جائے۔ یعنی جس طرح حقوق اللہ کو قائم کرنا لازم ہے اسی طرح حقوق العباد کو قائم کرنا بھی لازم ہے۔ خاص طور پر رشتہ داروں کے حقوق کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ بلکہ رشتہ داروں کے حقوق کو قائم کرنا تو حقوق اللہ میں شمار ہوتا ہے جن کو قائم کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ غور کیجیے کہ اللہ نے کیسے اس سورت کا افتتاح تقویٰ کے اختیار کرنے، صلہ رحمی اور عمومی طور پر بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے حکم کے ساتھ کیا، پھر اس کے بعد اس سورت میں اس کی ابتدا سے لے کر انتہا تک ان تمام امور کی پوری تفصیلات بیان ہوئی ہیں گویا یہ سورۂ مبارکہ مذکورہ امور کی ان تفصیلات کو بیان کرتی ہے جن کو مجمل رکھا گیا تھا اور ان امور کو واضح کرتی ہے جو مبہم تھے۔اللہ تبارک کے ارشاد ﴿ وَّخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾ ’’اور پیدا کیا اس سے اس کا جوڑا‘‘ میں شوہروں اور بیویوں کے حقوق کی مراعات پر تنبیہ ہے اور ان کو قائم کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ بیویاں بھی شوہروں ہی کی صلب سے پیدا کی گئی ہیں۔ پس شوہروں اور بیویوں کے درمیان قریب ترین نسب، مضبوط ترین اتصال اور نہایت قوی رشتہ ہے۔
Page 77
سورة النساء
An-Nisa
The Women · Medinan · 176 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
4:1
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمُ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسٖ وَٰحِدَةٖ وَخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالٗا كَثِيرٗا وَنِسَآءٗۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِي تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلۡأَرۡحَامَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيۡكُمۡ رَقِيبٗا ١
O mankind, fear your Lord, who created you from one soul and created from it its mate and dispersed from both of them many men and women. And fear Allāh, through whom1 you ask one another,2 and the wombs.3 Indeed Allāh is ever,4 over you, an Observer.5
5 translator’s notes
In whose name.
[157] i.e., request favors and demand rights.
[158] i.e., fear Allāh in regard to relations of kinship.
[159] When used in conjunction with Allāh's attributes, the word "ever" (occurring repeatedly throughout this sūrah and elsewhere, such as in sūrah al-Aḥzāb) is quite inadequate in imparting the sense of continuation expressed by the word "kāna" in Arabic, which indicates "always was, is, and always will be."
[160] Ever-present and taking account of everything.
↩- ↩
- ↩
- ↩
- ↩
4:2
وَءَاتُواْ ٱلۡيَتَٰمَىٰٓ أَمۡوَٰلَهُمۡۖ وَلَا تَتَبَدَّلُواْ ٱلۡخَبِيثَ بِٱلطَّيِّبِۖ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَهُمۡ إِلَىٰٓ أَمۡوَٰلِكُمۡۚ إِنَّهُۥ كَانَ حُوبٗا كَبِيرٗا ٢
And give to the orphans their properties and do not substitute the defective [of your own] for the good [of theirs]. And do not consume their properties into your own. Indeed, that is ever a great sin.
4:3
وَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تُقۡسِطُواْ فِي ٱلۡيَتَٰمَىٰ فَٱنكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تَعۡدِلُواْ فَوَٰحِدَةً أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَلَّا تَعُولُواْ ٣
And if you fear that you will not deal justly with the orphan girls, then marry those that please you of [other] women, two or three or four. But if you fear that you will not be just, then [marry only] one or those your right hands possess [i.e., slaves]. That is more suitable that you may not incline [to injustice].
4:4
وَءَاتُواْ ٱلنِّسَآءَ صَدُقَٰتِهِنَّ نِحۡلَةٗۚ فَإِن طِبۡنَ لَكُمۡ عَن شَيۡءٖ مِّنۡهُ نَفۡسٗا فَكُلُوهُ هَنِيٓـٔٗا مَّرِيٓـٔٗا ٤
And give the women [upon marriage] their [bridal] gifts1 graciously. But if they give up willingly to you anything of it, then take it in satisfaction and ease.2
4:5
وَلَا تُؤۡتُواْ ٱلسُّفَهَآءَ أَمۡوَٰلَكُمُ ٱلَّتِي جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمۡ قِيَٰمٗا وَٱرۡزُقُوهُمۡ فِيهَا وَٱكۡسُوهُمۡ وَقُولُواْ لَهُمۡ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗا ٥
And do not give the weak-minded your property,1 which Allāh has made a means of sustenance for you, but provide for them with it and clothe them and speak to them words of appropriate kindness.
1 translator’s note
- Although it is their property, Allāh (subḥānahu wa taʿālā) refers to it in the collective sense, reminding us that all wealth is provided by Him for the maintenance of the community as well as of individual members. ↩
4:6
وَٱبۡتَلُواْ ٱلۡيَتَٰمَىٰ حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغُواْ ٱلنِّكَاحَ فَإِنۡ ءَانَسۡتُم مِّنۡهُمۡ رُشۡدٗا فَٱدۡفَعُوٓاْ إِلَيۡهِمۡ أَمۡوَٰلَهُمۡۖ وَلَا تَأۡكُلُوهَآ إِسۡرَافٗا وَبِدَارًا أَن يَكۡبَرُواْۚ وَمَن كَانَ غَنِيّٗا فَلۡيَسۡتَعۡفِفۡۖ وَمَن كَانَ فَقِيرٗا فَلۡيَأۡكُلۡ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ فَإِذَا دَفَعۡتُمۡ إِلَيۡهِمۡ أَمۡوَٰلَهُمۡ فَأَشۡهِدُواْ عَلَيۡهِمۡۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ حَسِيبٗا ٦
And test the orphans [in their abilities] until they reach marriageable age. Then if you perceive in them sound judgement, release their property to them. And do not consume it excessively and quickly, [anticipating] that they will grow up. And whoever, [when acting as guardian], is self-sufficient should refrain [from taking a fee]; and whoever is poor - let him take according to what is acceptable. Then when you release their property to them, bring witnesses upon them. And sufficient is Allāh as Accountant.