An-Nisa 4:150
The Women · Juz 6 · Page 102
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡفُرُونَ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُواْ بَيۡنَ ٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيَقُولُونَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٖ وَنَكۡفُرُ بِبَعۡضٖ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُواْ بَيۡنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا ١٥٠
Indeed, those who disbelieve in Allāh and His messengers and wish to discriminate between Allāh and His messengers and say, "We believe in some and disbelieve in others," and wish to adopt a way in between -
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 4:150–152
بے شک جو کفر کرتے ہیں ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے اور چاہتے ہیں وہ کہ تفریق کریں درمیان اللہ اور اس کے رسولوں کے اور کہتے ہیں ہم ایمان لاتے ہیں ساتھ بعض کے اور کفر کرتے ہیں ساتھ بعض کے اور وہ چاہتے ہیں کہ اختیار کریں درمیان اس کے کوئی راہ(150) یہ لوگ، وہی ہیں کافر اصل اور ہم نے تیار کیا ہے واسطے کافروں کے عذاب رسواکن(151) اور جو لوگ ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے اور نہیں تفریق کی انھوں نے درمیان کسی ایک کے ان میں سے یہ لوگ ہیں جلد دے گا ان کو (اللہ) اجر ان کے اور ہے اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(152)
[150] یہاں تک لوگوں کی دو اقسام ہیں جن کو ہر ایک کے لیے واضح کر دیا گیا ہے۔ (۱) اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لانے والے لوگ (۲) اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کا انکار کرنے والے لوگ۔ رہ گئی تیسری قسم تو یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ بعض رسولوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دے گا مگر یہ ان کی مجرد آرزوئیں ہیں ۔پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا چاہتے ہیں کیونکہ جو کوئی حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کو اپنا ولی اور دوست بناتا ہے وہ تمام انبیاء و رسل کو دوست بناتا ہے کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کی دوستی کی تکمیل ہے اور جو کوئی انبیاء و رسل میں سے کسی ایک کے ساتھ عداوت رکھتا ہے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ اور تمام رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبۡرِيۡلَ وَمِيۡكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾(البقرۃ: 2؍98) ’’جو کوئی اللہ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔‘‘اسی طرح جو کوئی کسی رسول کا انکار کرتا ہے وہ تمام رسولوں کا انکار کرتا ہے بلکہ وہ اس رسول کا بھی انکار کرتا ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اس پر ایمان لایا ہے۔
[152,151] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ حَقًّا﴾ ’’وہ بلاشبہ کافر ہیں پکے۔‘‘ اور (حقا) کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے تاکہ کوئی اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ ان کا مرتبہ ایمان اور کفر کے درمیان ہے۔ اور ان کے کافر ہونے کی… یہاں تک کہ اس رسول کے ساتھ بھی کفر کرنے کی، جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں … وجہ یہ ہے کہ ہر وہ دلیل جو اس نبی پر ایمان لانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، وہی دلیل یا اس جیسی یا اس سے بڑھ کر دلیل موجود ہے جو اس نبی کی نبوت پر دلالت کرتی ہے جس کا وہ انکار کر رہے ہیں ۔ اسی طرح ہر وہ شبہ جس کی بنیاد پر وہ اس نبی پر اعتراض کرتے ہیں جس کے ساتھ انھوں نے کفر کیا ہے، وہی شبہ یا اس جیسا یا اس سے بھی بڑا شبہ اس نبی کی نبوت میں بھی موجود ہے جس پر وہ ایمان لائے ہیں .... تب اس کے بعد سوائے خواہشات نفس اور مجرد دعویٰ کے کچھ باقی نہیں ۔ جس کے مقابلہ میں اس جیسا دعویٰ کرنا ہر ایک کے لیے ممکن ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہی لوگ حقیقی (پکے) کافر ہیں تو اس عذاب کا ذکر بھی فرما دیا جو ان کو اور دیگر کفار کو دیا جائے گا۔ ﴿وَاَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا مُّهِيۡنًا﴾’’اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔‘‘ جس طرح انھوں نے تکبر کی بنا پر ایمان لانے سے انکار کر دیا اسی طرح اللہ تعالیٰ رسوا کن اور درد ناک عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کرے گا۔﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ﴾ ’’اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ہر اس خبر پر ایمان لانے کو متضمن ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں دی ہے اور ان تمام اخبار و احکام پر ایمان لانے کو بھی جنھیں لے کر انبیاء و رسل مبعوث ہوئے۔ ﴿وَلَمۡ يُفَرِّؔقُوۡا بَيۡنَ اَحَدٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور انھوں نے ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا۔‘‘ بلکہ وہ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لائے اور یہی وہ حقیقی اور یقینی ایمان ہے جو دلیل اور برہان پر مبنی ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ سَوۡفَ يُؤۡتِيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں ) کے صلے عطا فرمائے گا۔‘‘ یعنی ان کے ایمان اور ایمان پر مبنی عمل صالح، قول حسن اور خلق جمیل کی جزا دی جائے گی اور یہ جزا ہر ایک کو اس کے حسب حال عطا ہو گی۔ شاید ان کے اجر میں اضافے کا یہی سرنہاں ہے ﴿وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًؔا رَّحِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور نیکیوں کو قبول فرماتا ہے۔
Page 102
4:148
۞ لَّا يُحِبُّ ٱللَّهُ ٱلۡجَهۡرَ بِٱلسُّوٓءِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ إِلَّا مَن ظُلِمَۚ وَكَانَ ٱللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا ١٤٨
Allāh does not like the public mention of evil except by one who has been wronged. And ever is Allāh Hearing and Knowing.
4:149
إِن تُبۡدُواْ خَيۡرًا أَوۡ تُخۡفُوهُ أَوۡ تَعۡفُواْ عَن سُوٓءٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَفُوّٗا قَدِيرًا ١٤٩
If [instead] you show [some] good or conceal it or pardon an offense - indeed, Allāh is ever Pardoning and Competent.1
1 translator’s note
- Allāh is always able to exact retribution, although He pardons out of His grace. ↩
4:150
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡفُرُونَ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُواْ بَيۡنَ ٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيَقُولُونَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٖ وَنَكۡفُرُ بِبَعۡضٖ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُواْ بَيۡنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا ١٥٠
Indeed, those who disbelieve in Allāh and His messengers and wish to discriminate between Allāh and His messengers and say, "We believe in some and disbelieve in others," and wish to adopt a way in between -
4:151
أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَٰفِرُونَ حَقّٗاۚ وَأَعۡتَدۡنَا لِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٗا مُّهِينٗا ١٥١
Those are the disbelievers, truly. And We have prepared for the disbelievers a humiliating punishment.
4:152
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَلَمۡ يُفَرِّقُواْ بَيۡنَ أَحَدٖ مِّنۡهُمۡ أُوْلَٰٓئِكَ سَوۡفَ يُؤۡتِيهِمۡ أُجُورَهُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا ١٥٢
But they who believe in Allāh and His messengers and do not discriminate between any of them - to those He is going to give their rewards. And ever is Allāh Forgiving and Merciful.
4:153
يَسۡـَٔلُكَ أَهۡلُ ٱلۡكِتَٰبِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيۡهِمۡ كِتَٰبٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِۚ فَقَدۡ سَأَلُواْ مُوسَىٰٓ أَكۡبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوٓاْ أَرِنَا ٱللَّهَ جَهۡرَةٗ فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلصَّٰعِقَةُ بِظُلۡمِهِمۡۚ ثُمَّ ٱتَّخَذُواْ ٱلۡعِجۡلَ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُ فَعَفَوۡنَا عَن ذَٰلِكَۚ وَءَاتَيۡنَا مُوسَىٰ سُلۡطَٰنٗا مُّبِينٗا ١٥٣
The People of the Scripture ask you to bring down to them a book from the heaven. But they had asked of Moses [even] greater than that and said, "Show us Allāh outright," so the thunderbolt struck them for their wrongdoing. Then they took the calf [for worship] after clear evidences had come to them, and We pardoned that. And We gave Moses a clear authority.
4:154
وَرَفَعۡنَا فَوۡقَهُمُ ٱلطُّورَ بِمِيثَٰقِهِمۡ وَقُلۡنَا لَهُمُ ٱدۡخُلُواْ ٱلۡبَابَ سُجَّدٗا وَقُلۡنَا لَهُمۡ لَا تَعۡدُواْ فِي ٱلسَّبۡتِ وَأَخَذۡنَا مِنۡهُم مِّيثَٰقًا غَلِيظٗا ١٥٤
And We raised over them the mount for [refusal of] their covenant; and We said to them, "Enter the gate bowing humbly"; and We said to them, "Do not transgress on the sabbath"; and We took from them a solemn covenant.