An-Nisa 4:16
The Women · Juz 4 · Page 80
وَٱلَّذَانِ يَأۡتِيَٰنِهَا مِنكُمۡ فَـَٔاذُوهُمَاۖ فَإِن تَابَا وَأَصۡلَحَا فَأَعۡرِضُواْ عَنۡهُمَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ تَوَّابٗا رَّحِيمًا ١٦
And the two1 who commit it [i.e., unlawful sexual intercourse] among you - punish [i.e., dishonor] them both. But if they repent and correct themselves, leave them alone. Indeed, Allāh is ever Accepting of Repentance and Merciful.
1 translator’s note
- Scholars differ over whether "the two" refers to two of the same sex (i.e., homosexuals) or those of opposite sexes. In either case, later rulings outlined in the sunnah have replaced this one. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 4:15–16
اور وہ جو کریں بے حیائی کا کام تمھاری عورتوں میں سے تو گواہ ٹھہرا لو تم ان پر چار مرد اپنے میں سے۔ پس اگر وہ گواہی دیں تو بند رکھو ان کو گھروں میں یہاں تک کہ ختم کر دے ان کو موت یا بنا دے اللہ ان کے لیے کوئی راستہ(15) اور وہ دو مردجو کریں یہی بے حیائی کا کام تم میں سے تو ایذا دو ان کو، پس اگر وہ توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں تو درگزر کرو ان سے، بلاشبہ اللہ ہے بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان(16)
[15] یعنی عورتیں ﴿ وَالّٰتِيۡ يَاۡتِيۡنَ الۡفَاحِشَةَ ﴾ ’’جو زنا کا ارتکاب کرتی ہیں‘‘ اللہ تعالیٰ نے زنا کو اس کی قباحت اور برائی کی وجہ سے فاحشہ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ ﴿ فَاسۡتَشۡهِدُوۡا۠ عَلَيۡهِنَّ اَرۡبَعَةً مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’اپنے میں سے چار اہل ایمان عادل مردوں کو گواہ بنا لو‘‘ ﴿ فَاِنۡ شَهِدُوۡا فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ فِي الۡبُيُوۡتِ ﴾ ’’اگر وہ گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں محبوس کر دو‘‘ اور باہر جانے سے روک دو جو شک و شبہ کا موجب ہے۔ نیز گھر میں محبوس کر دینا ایک قسم کی سزا بھی ہے ﴿حَتّٰى يَتَوَفّٰهُنَّ الۡمَوۡتُ ﴾ ’’یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کر دے‘‘ یعنی یہ محبوس رکھنے کی انتہا ہے ﴿ اَوۡ يَجۡعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِيۡلًا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں گھروں میں محبوس کرنے کے علاوہ کوئی اور طریقہ مقرر فرما دے۔یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں بلکہ یہ تو اس وقت تک کے لیے غایت مقرر ہے (جب تک اللہ تعالیٰ اس کے لیے کوئی اور راستہ نہیں نکال دیتا) اسلام کی ابتدا میں یہی طریقہ رائج رہا جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا متبادل حکم نازل نہیں فرما دیا۔ اور وہ ہے شادی شدہ زانی اور زانیہ کو رجم کرنا اور غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کو کوڑے لگانا۔
[16] اور اسی طرح ﴿ وَالَّذٰنِ يَاۡتِيٰؔنِهَا مِنۡكُمۡ ﴾ تمھارے مردوں اور عورتوں میں سے جو کوئی اس فحش کام کا ارتکاب کرتا ہے ﴿ فَاٰذُوۡهُمَا ﴾ پس انھیں زبانی طور پر زجر و توبیخ اور ملامت کرو اور اس برے کام پر عار دلاؤ اور ان کو عبرت ناک مارپیٹ کی سزا دو، جس سے یہ اس فحش کام سے رک جائیں۔ تب اس صورت میں مردوں کو اس فحش کام کے ارتکاب پر مار پیٹ کی سزا دی جائے اور عورتوں کو گھروں میں محبوس رکھ کر سزا دی جائے۔پس حبس (گھر میں بند کر دینا) کی انتہا، موت ہے اور مار پیٹ کی اذیت کی انتہا، توبہ اور اصلاح ہے بنا بریں فرمایا ﴿ فَاِنۡ تَابَا ﴾ یعنی اگر وہ اپنے اس گناہ سے رجوع کر لیں جس کا انھوں نے ارتکاب کیا اس فعل پر نادم ہوں اور دوبارہ نہ کرنے کا عزم کریں ﴿ وَاَصۡلَحَا ﴾ یعنی اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں جو ان کی سچی توبہ پر دلالت کرے ﴿ فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡهُمَا ﴾ تو ان کو اذیت پہنچانے سے گریز کرو ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِيۡمًا ﴾ یعنی وہ خطاکار گناہ گاروں کی توبہ کو بہت کثرت سے قبول کرتا ہے، وہ عظیم رحمت و احسان کا مالک ہے۔ یہ اس کا احسان ہے کہ اس نے انھیں توبہ کی توفیق سے نوازا پھر ان کی توبہ کو قبول فرمایا اور ان سے صادر ہونے والے گناہوں کے بارے میں ان سے نرمی اختیار کی۔ان دو آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ زنا کی شہادت میں چار مومن مردوں کی گواہی ضروری ہے اور ان کی عدالت کی شرط عائد کرنا بطریق اولیٰ ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس فحش کام کے بارے میں بہت سختی کی ہے تاکہ اس سے بندوں کی پردہ پوشی رہے۔ یہاں تک کہ اس بارے میں عورتوں کی شہادت، خواہ وہ اکیلی ہو یا مردوں کی معیت میں، ناقابل قبول ٹھہرایا ہے اور چار مردوں سے کم کی گواہی بھی قبول نہیں کی نیز اس میں صراحت کے ساتھ شہادت کو لازم قرار دیا ہے۔ جیسا کہ صحیح احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں اور یہ آیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے ﴿ فَاسۡتَشۡهِدُوۡا۠ عَلَيۡهِنَّ اَرۡبَعَةً مِّؔنۡكُمۡ ﴾ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فرمایا: ﴿ فَاِنۡ شَهِدُوۡا ﴾ یعنی ایک ایسے معاملے میں اشارہ کنایہ کے بغیر صریح شہادت لازم ہے جسے آنکھوں سے مشاہدہ کیا گیا ہو۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ قول و فعل سے اذیت پہنچانا اور قید کر دینا، اس کو اللہ نے معصیت کاری کے لیے تعزیر بنایا جس سے زجروتوبیخ کا مقصد حاصل ہوتا ہے۔
Page 80
4:15
وَٱلَّٰتِي يَأۡتِينَ ٱلۡفَٰحِشَةَ مِن نِّسَآئِكُمۡ فَٱسۡتَشۡهِدُواْ عَلَيۡهِنَّ أَرۡبَعَةٗ مِّنكُمۡۖ فَإِن شَهِدُواْ فَأَمۡسِكُوهُنَّ فِي ٱلۡبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّىٰهُنَّ ٱلۡمَوۡتُ أَوۡ يَجۡعَلَ ٱللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلٗا ١٥
Those who commit immorality [i.e., unlawful sexual intercourse] of your women - bring against them four [witnesses] from among you. And if they testify,1 confine them [i.e., the guilty women] to houses until death takes them or Allāh ordains for them [another] way.2
4:16
وَٱلَّذَانِ يَأۡتِيَٰنِهَا مِنكُمۡ فَـَٔاذُوهُمَاۖ فَإِن تَابَا وَأَصۡلَحَا فَأَعۡرِضُواْ عَنۡهُمَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ تَوَّابٗا رَّحِيمًا ١٦
And the two1 who commit it [i.e., unlawful sexual intercourse] among you - punish [i.e., dishonor] them both. But if they repent and correct themselves, leave them alone. Indeed, Allāh is ever Accepting of Repentance and Merciful.
1 translator’s note
- Scholars differ over whether "the two" refers to two of the same sex (i.e., homosexuals) or those of opposite sexes. In either case, later rulings outlined in the sunnah have replaced this one. ↩
4:17
إِنَّمَا ٱلتَّوۡبَةُ عَلَى ٱللَّهِ لِلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٖ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٖ فَأُوْلَٰٓئِكَ يَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمٗا ١٧
The repentance accepted by Allāh is only for those who do wrong in ignorance [or carelessness] and then repent soon [after].1 It is those to whom Allāh will turn in forgiveness, and Allāh is ever Knowing and Wise.
1 translator’s note
- Scholars have also interpreted "soon" to mean before death. ↩
4:18
وَلَيۡسَتِ ٱلتَّوۡبَةُ لِلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ حَتَّىٰٓ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ ٱلۡمَوۡتُ قَالَ إِنِّي تُبۡتُ ٱلۡـَٰٔنَ وَلَا ٱلَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمۡ كُفَّارٌۚ أُوْلَٰٓئِكَ أَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا ١٨
But repentance is not [accepted] of those who [continue to] do evil deeds up until, when death comes to one of them, he says, "Indeed, I have repented now," or of those who die while they are disbelievers. For them We have prepared a painful punishment.
4:19
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَرِثُواْ ٱلنِّسَآءَ كَرۡهٗاۖ وَلَا تَعۡضُلُوهُنَّ لِتَذۡهَبُواْ بِبَعۡضِ مَآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ إِلَّآ أَن يَأۡتِينَ بِفَٰحِشَةٖ مُّبَيِّنَةٖۚ وَعَاشِرُوهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ فَإِن كَرِهۡتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰٓ أَن تَكۡرَهُواْ شَيۡـٔٗا وَيَجۡعَلَ ٱللَّهُ فِيهِ خَيۡرٗا كَثِيرٗا ١٩
O you who have believed, it is not lawful for you to inherit women by compulsion.1 And do not make difficulties for them in order to take [back] part of what you gave them2 unless they commit a clear immorality [i.e., adultery]. And live with them in kindness. For if you dislike them - perhaps you dislike a thing and Allāh makes therein much good.