An-Nisa 4:171
The Women · Juz 6 · Page 105
يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لَا تَغۡلُواْ فِي دِينِكُمۡ وَلَا تَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡحَقَّۚ إِنَّمَا ٱلۡمَسِيحُ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ رَسُولُ ٱللَّهِ وَكَلِمَتُهُۥٓ أَلۡقَىٰهَآ إِلَىٰ مَرۡيَمَ وَرُوحٞ مِّنۡهُۖ فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦۖ وَلَا تَقُولُواْ ثَلَٰثَةٌۚ ٱنتَهُواْ خَيۡرٗا لَّكُمۡۚ إِنَّمَا ٱللَّهُ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۖ سُبۡحَٰنَهُۥٓ أَن يَكُونَ لَهُۥ وَلَدٞۘ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلٗا ١٧١
O People of the Scripture, do not commit excess in your religion1 or say about Allāh except the truth. The Messiah, Jesus the son of Mary, was but a messenger of Allāh and His word which He directed to Mary and a soul [created at a command] from Him. So believe in Allāh and His messengers. And do not say, "Three"; desist - it is better for you. Indeed, Allāh is but one God. Exalted is He above having a son. To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And sufficient is Allāh as Disposer of affairs.
1 translator’s note
- Such as attributing divine qualities to certain creations of Allāh or revering them excessively. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 4:171
اے اہل کتاب!نہ غلو (زیادتی) کرو اپنے دین میں اور نہ کہو اللہ کے بارے میں مگر حق بات، بس مسیح عیسیٰ ابن مریم تو اللہ کا رسول اور اس کا کلمہ ہی ہے جس کو اس نے ڈالا مریم کی طرف اور ایک روح ہے اس کی طرف سے، پس ایمان لاؤ تم اللہ اور اس کے رسولوں پر اور نہ کہو کہ (الٰہ) تین ہیں ۔ باز آجاؤ (اس سے، ہوگا) بہتر تمھارے لیے بس اللہ ہی معبود ہے اکیلا، وہ پاک ہے اس سے کہ ہو اس کی کوئی اولاد، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور کافی ہے اللہ کارساز(171)
[171] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل کتاب کو دین میں غلو کرنے سے منع کرتا ہے۔ اور غلو سے مراد ہے حد سے تجاوز کرنا اور حدود مشروع سے نکل کر غیر مشروع کی طرف جانا۔ جیسے نصاریٰ جناب عیسیٰu کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں اور انھیں نبوت اور رسالت کے مقام سے اٹھا کر ربوبیت کے مقام پر بٹھا دیتے ہیں جو اللہ تعالی ٰ کے سوا کسی کے لائق نہیں ۔ پس جس طرح تقصیر اور تفریط (کمی) منہیات میں سے ہے، غلو بھی اسی طرح ممنوع ہے۔ اسی لیے فرمایا ﴿وَلَا تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ﴾ ’’اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔‘‘ یہ کلام اقدس تین امور کو متضمن ہے۔ ان میں سے پہلے دو امور ممنوع ہیں۔اول: اللہ تبارک و تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا۔ثانی: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اس کے افعال، اس کی شریعت اور اس کے رسولوں کے بارے میں بلاعلم بات کرنا۔ثالث: اور تیسری چیز وہ ہے جس کا حکم دیا گیا ہے اور وہ ہے ان تمام امور میں قول حق۔ چونکہ یہ ایک عام قاعدہ کلیہ ہے اور سیاق کلام جناب عیسیٰu کے بارے میں نص اور قول حق ہے اور یہودیت اور نصرانیت کے طریقے کے خلاف ہے اس لیے فرمایا :﴿اِنَّمَا الۡمَسِيۡحُ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ رَسُوۡلُ اللّٰهِ ﴾ ’’مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (u)اللہ کے رسول ہیں ۔‘‘ یعنی جناب مسیحu کی غایت اور مراتب کمال کی انتہاء وہ اعلیٰ ترین حالت ہے جو کسی مخلوق کے لیے ہو سکتی ہے اور وہ مرتبۂ رسالت ہے، جو بلند ترین درجہ اور جلیل ترین مقام ہے۔﴿وَؔكَلِمَتُهٗ١ۚ اَلۡقٰىهَاۤ اِلٰى مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور اس کا کلمہ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا۔‘‘ اور وہ ایک کلمہ ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا اور اس کلمہ کے ذریعے سے حضرت عیسیٰu نے تخلیق پائی۔ خود حضرت عیسیٰu وہ کلمہ نہ تھے بلکہ وہ اس کلمہ کے ذریعے سے وجود میں آئے اور یہ شرف و تکریم کی اضافت ہے۔ اسی طرح فرمایا: ﴿وَرُوۡحٌ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اور اس کی طرف سے ایک روح تھے۔‘‘ یعنی ان ارواح میں سے ایک روح ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے تخلیق فرمایا اور صفات فاضلہ اور اخلاق کاملہ کے ساتھ اس کی تکمیل کی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے وہ روح جبریلu کو دے کر جناب مریم علیہا السلام کی طرف بھیجا اور انھوں نے جناب مریم علیہا السلام کی فرج میں روح کو پھونک دیا، پس اللہ کے حکم سے ان کو حمل ٹھہر گیا جس سے حضرت عیسیٰ کی ولادت ہوئی۔جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰu کی حقیقت واضح کر دی تو اس نے اہل کتاب کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کا حکم دیا اور ان کو تین خدا بنانے سے منع کیا، یعنی اللہ تعالیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم علیہا السلام۔ ان کا برا ہو یہ نصاریٰ کا قول باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس تثلیث سے باز آ جائیں اور انھیں آگاہ فرمایا کہ یہ ان کے لیے بہتر ہے کیونکہ یہ امر متعین ہے کہ یہی نجات کی راہ ہے اور اس کے سوا ہر راستہ ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو شریک اور اولاد سے منزہ قرار دیا ہے۔فرمایا:﴿اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ﴾ ’’اللہ ہی معبود واحد ہے۔‘‘ یعنی وہ الوہیت میں منفرد (یکتا) ہے جس کے سوا عبادت کا کوئی مستحق نہیں ﴿سُبۡحٰؔنَهٗۤ ﴾ وہ اس سے منزہ اور پاک ہے ﴿اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهٗ وَلَدٌ ﴾ ’’کہ اس کا کوئی بیٹا ہو‘‘ کیونکہ ﴿لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی کے لیے ہے جو آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے‘‘ پس تمام اس کے مملوک اور اس کے محتاج ہیں ۔ اس لیے یہ محال ہے کہ ان میں سے اس کا کوئی شریک یا اس کا کوئی بیٹا ہو۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ تمام عالم علوی اور سفلی کا مالک ہے تو وہ یہ بھی بتلاتا ہے کہ وہی تمام دنیوی اور اخروی مصالح کا بھی انتظام فرماتا ہے، ان مصالح کی حفاظت کرتاہے اور ان کی جزا دیتا ہے۔
Page 105
4:171
يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لَا تَغۡلُواْ فِي دِينِكُمۡ وَلَا تَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡحَقَّۚ إِنَّمَا ٱلۡمَسِيحُ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ رَسُولُ ٱللَّهِ وَكَلِمَتُهُۥٓ أَلۡقَىٰهَآ إِلَىٰ مَرۡيَمَ وَرُوحٞ مِّنۡهُۖ فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦۖ وَلَا تَقُولُواْ ثَلَٰثَةٌۚ ٱنتَهُواْ خَيۡرٗا لَّكُمۡۚ إِنَّمَا ٱللَّهُ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۖ سُبۡحَٰنَهُۥٓ أَن يَكُونَ لَهُۥ وَلَدٞۘ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلٗا ١٧١
O People of the Scripture, do not commit excess in your religion1 or say about Allāh except the truth. The Messiah, Jesus the son of Mary, was but a messenger of Allāh and His word which He directed to Mary and a soul [created at a command] from Him. So believe in Allāh and His messengers. And do not say, "Three"; desist - it is better for you. Indeed, Allāh is but one God. Exalted is He above having a son. To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And sufficient is Allāh as Disposer of affairs.
1 translator’s note
- Such as attributing divine qualities to certain creations of Allāh or revering them excessively. ↩
4:172
لَّن يَسۡتَنكِفَ ٱلۡمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبۡدٗا لِّلَّهِ وَلَا ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ ٱلۡمُقَرَّبُونَۚ وَمَن يَسۡتَنكِفۡ عَنۡ عِبَادَتِهِۦ وَيَسۡتَكۡبِرۡ فَسَيَحۡشُرُهُمۡ إِلَيۡهِ جَمِيعٗا ١٧٢
Never would the Messiah disdain to be a servant of Allāh, nor would the angels near [to Him]. And whoever disdains His worship and is arrogant - He will gather them to Himself all together.
4:173
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَيُوَفِّيهِمۡ أُجُورَهُمۡ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضۡلِهِۦۖ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱسۡتَنكَفُواْ وَٱسۡتَكۡبَرُواْ فَيُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيّٗا وَلَا نَصِيرٗا ١٧٣
And as for those who believed and did righteous deeds, He will give them in full their rewards and grant them extra from His bounty. But as for those who disdained and were arrogant, He will punish them with a painful punishment, and they will not find for themselves besides Allāh any protector or helper.
4:174
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدۡ جَآءَكُم بُرۡهَٰنٞ مِّن رَّبِّكُمۡ وَأَنزَلۡنَآ إِلَيۡكُمۡ نُورٗا مُّبِينٗا ١٧٤
O mankind, there has come to you a conclusive proof from your Lord, and We have sent down to you a clear light.1
1 translator’s note
- Showing the truth (i.e., the Qur’ān). ↩
4:175
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَٱعۡتَصَمُواْ بِهِۦ فَسَيُدۡخِلُهُمۡ فِي رَحۡمَةٖ مِّنۡهُ وَفَضۡلٖ وَيَهۡدِيهِمۡ إِلَيۡهِ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا ١٧٥
So those who believe in Allāh and hold fast to Him - He will admit them to mercy from Himself and bounty and guide them to Himself on a straight path.