An-Nisa 4:173
The Women · Juz 6 · Page 105
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَيُوَفِّيهِمۡ أُجُورَهُمۡ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضۡلِهِۦۖ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱسۡتَنكَفُواْ وَٱسۡتَكۡبَرُواْ فَيُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيّٗا وَلَا نَصِيرٗا ١٧٣
And as for those who believed and did righteous deeds, He will give them in full their rewards and grant them extra from His bounty. But as for those who disdained and were arrogant, He will punish them with a painful punishment, and they will not find for themselves besides Allāh any protector or helper.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 4:172–173
ہرگز نہیں عار کریں گے مسیح اس سے کہ ہوں وہ بندے اللہ کے اور نہ فرشتے مقرب اور جو کوئی عار کرے اللہ کی عبادت سے اور تکبر کرے تو یقینا وہ جمع کرے گا ان کو اپنی طرف سب کو(172) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو پورا دے گا وہ ان کو اجر ان کا اور زیادہ دے گا ان کو اپنے فضل سے اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے عار کیا اور تکبر کیا تو عذاب دے گا وہ ان کو عذاب بہت دردناک اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ مددگار(173)
[172] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰu کے بارے میں نصاریٰ کے غلو کا ذکر فرمایا اور بیان فرمایا کہ جناب عیسیٰ اللہ کے بندے اور رسول ہیں تو اب یہاں یہ بھی واضح کر دیا کہ حضرت عیسیٰu اپنے رب کی عبادت میں عار نہیں سمجھتے تھے، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روگردانی نہیں کرتے تھے ﴿وَلَا الۡمَلٰٓىِٕكَةُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠ ﴾’’اور نہ اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے‘‘ اس کی عبادت سے منہ موڑتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس چیز سے پاک رکھا ہے کہ وہ اس کی عبادت کو عار سمجھیں اور تکبر و استکبار سے پاک ہونا تو بدرجہ اولیٰ ان کی صفت ہے۔ کسی چیز کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے… یعنی عیسیٰu اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے تو اپنے رب کی عبادت میں رغبت رکھتے ہیں ، اس کی عبادت کو پسند کرتے ہیں اور اپنے اپنے حسب احوال اس کی عبادت میں سعی کرتے ہیں ۔ ان کی یہ عبادت ان کے لیے بہت بڑے شرف اور فوز عظیم کی موجب ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور الوہیت میں اپنے آپ کو بندے سمجھنے میں عار محسوس نہیں کی بلکہ وہ ہر طرح سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کا محتاج سمجھتے ہیں ۔یہ نہ سمجھا جائے کہ عیسیٰu یا کسی اور کو اس مرتبے سے بڑھانا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہے، ان کے لیے کوئی کمال ہے بلکہ یہ تو عین نقص اور مذمت و عذاب کا محل و مقام ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا﴿وَمَنۡ يَّسۡتَنۡكِفۡ عَنۡ عِبَادَتِهٖ وَيَسۡتَؔكۡبِرۡ فَسَيَحۡشُرُهُمۡ۠ اِلَيۡهِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اور جو شخص اللہ کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو اللہ سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی عبادت کو عار سمجھنے والوں ، متکبروں اور اپنے مومن بندوں ، سب کو عنقریب جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ اور اپنی جزا سے نوازے گا۔
[173] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مذکورہ افراد کی بابت اپنے الگ الگ فیصلے کی بابت فرمایا: ﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے‘‘ یعنی انھوں نے ایمان مامور کے ساتھ اعمال صالحہ یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ضمن میں واجبات و مستحبات کو جمع کیا ﴿فَيُوَفِّيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ ﴾ ’’وہ ان کو ان کا پورا بدلہ دے گا۔‘‘ یعنی وہ اجر، جس کو اللہ تعالیٰ نے اعمال پر مترتب فرمایا ہے۔ ہر شخص کو اس کے ایمان اور عمل کے مطابق ملے گا ﴿وَيَزِيۡدُهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ثواب میں اتنا اضافہ کرے گا کہ ان کے اعمال یہ ثواب حاصل نہیں کر سکتے، ان کے افعال اس ثواب تک نہیں پہنچ سکتے اور اس ثواب کا تصور بھی ان کے دل میں نہیں آ سکتا۔ اس ثواب میں ہر وہ چیز شامل ہے جو جنت میں موجود ہے ، مثلاً:ماکولات، مشروبات، بیویاں ، خوبصورت مناظر، فرحت و سرور، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں ۔ بلکہ اس میں ہر دینی اور دنیاوی بھلائی شامل ہے جو ایمان اور عمل صالح پر مترتب ہوتی ہے۔﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡتَنۡكَفُوۡا وَاسۡتَؔكۡبَرُوۡا ﴾ ’’لیکن وہ لوگ جنھوں نے عار کی اور تکبر کیا‘‘ یعنی وہ لوگ جو تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کو عار سمجھتے ہیں ﴿فَيُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’ان کو وہ تکلیف دینے والا عذاب دے گا۔‘‘ یہ عذاب الیم اللہ تعالیٰ کی ناراضی، اس کے غضب اور بھڑکتی ہوئی آگ پر مشتمل ہے جو دلوں کے ساتھ لپٹ جائے گی۔ ﴿وَّلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’تو اور یہ لوگ اللہ کے سوا اپنا حامی اور مددگار نہ پائیں گے۔‘‘ یعنی وہ مخلوق میں کوئی ایسا شخص نہیں پائیں گے جو ان کا ولی و مددگار بن سکے اور وہ اپنا مطلوب و مقصود حاصل کر سکیں ۔ اور نہ ان کا کوئی حامی و ناصر ہو گا جو ان سے اس چیز کو دور کر سکے جس سے یہ ڈرتے ہیں ۔ بلکہ صورت حال یہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ جو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے وہ بھی ان سے الگ ہو جائے گا اور ان کو دائمی عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جو فیصلہ کرتا ہے اس کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کر سکتا اور نہ اس کی قضا کو کوئی بدل سکتا ہے۔
Page 105
4:171
يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لَا تَغۡلُواْ فِي دِينِكُمۡ وَلَا تَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡحَقَّۚ إِنَّمَا ٱلۡمَسِيحُ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ رَسُولُ ٱللَّهِ وَكَلِمَتُهُۥٓ أَلۡقَىٰهَآ إِلَىٰ مَرۡيَمَ وَرُوحٞ مِّنۡهُۖ فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦۖ وَلَا تَقُولُواْ ثَلَٰثَةٌۚ ٱنتَهُواْ خَيۡرٗا لَّكُمۡۚ إِنَّمَا ٱللَّهُ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۖ سُبۡحَٰنَهُۥٓ أَن يَكُونَ لَهُۥ وَلَدٞۘ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلٗا ١٧١
O People of the Scripture, do not commit excess in your religion1 or say about Allāh except the truth. The Messiah, Jesus the son of Mary, was but a messenger of Allāh and His word which He directed to Mary and a soul [created at a command] from Him. So believe in Allāh and His messengers. And do not say, "Three"; desist - it is better for you. Indeed, Allāh is but one God. Exalted is He above having a son. To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And sufficient is Allāh as Disposer of affairs.
1 translator’s note
- Such as attributing divine qualities to certain creations of Allāh or revering them excessively. ↩
4:172
لَّن يَسۡتَنكِفَ ٱلۡمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبۡدٗا لِّلَّهِ وَلَا ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ ٱلۡمُقَرَّبُونَۚ وَمَن يَسۡتَنكِفۡ عَنۡ عِبَادَتِهِۦ وَيَسۡتَكۡبِرۡ فَسَيَحۡشُرُهُمۡ إِلَيۡهِ جَمِيعٗا ١٧٢
Never would the Messiah disdain to be a servant of Allāh, nor would the angels near [to Him]. And whoever disdains His worship and is arrogant - He will gather them to Himself all together.
4:173
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَيُوَفِّيهِمۡ أُجُورَهُمۡ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضۡلِهِۦۖ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱسۡتَنكَفُواْ وَٱسۡتَكۡبَرُواْ فَيُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيّٗا وَلَا نَصِيرٗا ١٧٣
And as for those who believed and did righteous deeds, He will give them in full their rewards and grant them extra from His bounty. But as for those who disdained and were arrogant, He will punish them with a painful punishment, and they will not find for themselves besides Allāh any protector or helper.
4:174
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدۡ جَآءَكُم بُرۡهَٰنٞ مِّن رَّبِّكُمۡ وَأَنزَلۡنَآ إِلَيۡكُمۡ نُورٗا مُّبِينٗا ١٧٤
O mankind, there has come to you a conclusive proof from your Lord, and We have sent down to you a clear light.1
1 translator’s note
- Showing the truth (i.e., the Qur’ān). ↩
4:175
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَٱعۡتَصَمُواْ بِهِۦ فَسَيُدۡخِلُهُمۡ فِي رَحۡمَةٖ مِّنۡهُ وَفَضۡلٖ وَيَهۡدِيهِمۡ إِلَيۡهِ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا ١٧٥
So those who believe in Allāh and hold fast to Him - He will admit them to mercy from Himself and bounty and guide them to Himself on a straight path.