An-Nisa 4:25
The Women · Juz 5 · Page 82
وَمَن لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ مِنكُمۡ طَوۡلًا أَن يَنكِحَ ٱلۡمُحۡصَنَٰتِ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ فَمِن مَّا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُم مِّن فَتَيَٰتِكُمُ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۚ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِإِيمَٰنِكُمۚ بَعۡضُكُم مِّنۢ بَعۡضٖۚ فَٱنكِحُوهُنَّ بِإِذۡنِ أَهۡلِهِنَّ وَءَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِ مُحۡصَنَٰتٍ غَيۡرَ مُسَٰفِحَٰتٖ وَلَا مُتَّخِذَٰتِ أَخۡدَانٖۚ فَإِذَآ أُحۡصِنَّ فَإِنۡ أَتَيۡنَ بِفَٰحِشَةٖ فَعَلَيۡهِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَى ٱلۡمُحۡصَنَٰتِ مِنَ ٱلۡعَذَابِۚ ذَٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ ٱلۡعَنَتَ مِنكُمۡۚ وَأَن تَصۡبِرُواْ خَيۡرٞ لَّكُمۡۗ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٢٥
And whoever among you cannot [find] the means to marry free, believing women, then [he may marry] from those whom your right hands possess of believing slave girls. And Allāh is most knowing about your faith. You [believers] are of one another. So marry them with the permission of their people and give them their due compensation [i.e., mahr] according to what is acceptable. [They should be] chaste, neither [of] those who commit unlawful intercourse randomly nor those who take [secret] lovers. But once they are sheltered in marriage, if they should commit adultery, then for them is half the punishment for free [unmarried] women. This [allowance] is for him among you who fears affliction [i.e., sin], but to be patient is better for you. And Allāh is Forgiving and Merciful.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 4:25
اور جو شخص نہ رکھے تم میں سے طاقت یہ کہ نکاح کرے وہ آزاد مومن عورتوں سے تو (نکاح کر لے) اس سے کہ مالک ہوئے دائیں ہاتھ تمھارے،تمھاری مومن لونڈیوں سےاور اللہ خوب جانتا ہے تمھارے ایمان کو۔ ایک تمھارا، دوسرے سے ہے، پس نکاح کر لو تم ان سے، اجازت سے ان کے مالکوں کی اور دو تم ان کو مہر ان کے موافق دستور کے، جبکہ وہ نکاح میں لائی گئی ہوں، نہ ہوں بدکاری کرنے والیں ا ور نہ بنانے والیں چھپے یار۔ پس جب وہ نکاح میں لے آئی جائیں، پھر اگر کریں وہ بے حیائی کا کام تو ان پر آدھی ہے وہ جو کہ اوپر آزاد عورتوں کے ہے سزا سے۔ یہ (اجازت) اس کے لیے ہے جو ڈرے تکلیف میں پڑنے سے تم میں سےاور یہ کہ صبر کرو تم (تو) بہتر ہے تمھارے لیے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے(25)
[25]یعنی تم میں سے جو کوئی آزاد اور مومن عورتوں کو حق مہر ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اور اس کے ساتھ ساتھ اسے اپنے آپ پر بدکاری اور مشقت کا خطرہ ہو، تو اس کے لیے مومن لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے یہ تو ظاہری احوال کے مطابق ہے ورنہ اللہ تعالیٰ مومن صادق کو خوب جانتا ہے۔ دنیاوی امور ان کے ظاہر پر مبنی ہیں اور آخرت کے احکام کا تعلق انسان کے باطن میں چھپی نیتوں کے ساتھ ہے۔﴿ فَانۡؔكِحُوۡهُنَّ۠ بِـاِذۡنِ اَهۡلِهِنَّ﴾ ’’پس تم لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں کی اجازت لے کر نکاح کرلو‘‘ خواہ مالک ایک ہو یا متعدد ہوں ﴿ وَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ﴾ ’’اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو۔‘‘ یعنی اگرچہ جن کے ساتھ نکاح کیا جا رہا ہے وہ لونڈیاں ہیں تاہم ان کو مہر ادا کرنا اسی طرح فرض ہے جس طرح آزاد کو ادا کرنا فرض ہے۔ مگر لونڈیوں سے نکاح کرنا صرف اسی صورت میں جائز ہے کہ وہ ﴿ مُحۡصَنٰتٍ﴾ ہوں یعنی زنا سے پاک ہوں ﴿ غَيۡرَ مُسٰفِحٰؔتٍ﴾ علانیہ بدکاری سے بچی ہوئی ہوں ﴿ وَّلَا مُتَّؔخِذٰتِ اَخۡدَانٍ﴾نہ انھوں نے خفیہ یار دوست بنا رکھے ہوں۔حاصل کلام یہ ہے کہ آزاد مسلمان کے لیے لونڈی کے ساتھ ان چار شرائط کے بغیر نکاح کرنا جائز نہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔(۱) لونڈیاں مومن ہوں۔ (۲) ظاہر اور باطن میں پاکباز ہوں۔ (۳) آزاد عورت کے ساتھ نکاح کی استطاعت نہ ہو۔ (۴) عدم نکاح کی صورت میں بدکاری کا خوف ہو۔جب یہ شرائط پوری ہوں تو لونڈی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے۔ بایں ہمہ لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنے سے باز رہنا افضل ہے کیونکہ لونڈیوں سے نکاح کرنے والے کی اولاد کو غلامی کا طعنہ دیا جاتا ہے نیزیہ گھٹیا بات ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ انسان صبر کر سکتا ہواگر وہ حرام میں پڑنے سے باز نہ رہ سکتا ہو تب اس پر لونڈی سے نکاح کرنا واجب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاَنۡ تَصۡبِرُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌؒ﴾’’اور تمھارا صبر کرنا تمھارے لیے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘﴿ فَاِذَاۤ اُحۡصِنَّ﴾ یعنی جب وہ نکاح کر لیں یا مسلمان ہو جائیں ﴿ فَاِنۡ اَتَيۡنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيۡهِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَى الۡمُحۡصَنٰتِ مِنَ الۡعَذَابِ﴾ ’’پھر اگر ان سے بے حیائی کا کام سرزد ہو تو انھیں آزاد عورتوں سے آدھی سزا دی جائے گی‘‘ یعنی جو آزاد عورتوں کی سزا ہے اس سے نصف لونڈیوں کی سزا ہے۔ وہ سزا جس کا نصف ممکن ہے کوڑوں کی سزا ہے تب ان کے لیے پچاس کوڑوں کی سزا ہے۔ رہی رجم کی بات تو لونڈیوں کے لیے رجم نہیں ہے کیونکہ رجم کا نصف ممکن نہیں۔ لہٰذا اس میں پہلا قول یہ ہے کہ اگر انھوں نے نکاح نہ کیا ہو تو ان پر کوئی حد نہیں۔ البتہ ان کو تعزیری سزا دی جائے تاکہ وہ فواحش کے ارتکاب سے باز رہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ اگر غیر مسلم لونڈیاں فواحش کا ارتکاب کریں تو ان کو بھی تعزیر کی جائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کا اختتام اپنے دو اسمائے مبارک ﴿ غَفُوۡرٌؔ﴾ ’’بخشنے والا‘‘ ﴿ رَّحِيۡمٌ﴾’’نہایت رحم کرنے والا‘‘ پر کیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہ احکام بندوں پر رحمت اور اس کا کرم و احسان ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو تنگی میں مبتلا نہیں کیا بلکہ ان کو کشادگی اور وسعت عطا کی۔ شاید حد کا ذکر کرنے کے بعد مغفرت کا ذکر کرنا، اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ حد کفارہ ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہ بخشتا ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔مذکورہ بالا حد میں غلام کا بھی وہی حکم ہے جو لونڈی کا حکم ہے کیونکہ دونوں میں امتیاز اور فرق کرنے والا سبب معدوم ہے۔
Page 82
4:24
۞ وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡۖ كِتَٰبَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُمۡ أَن تَبۡتَغُواْ بِأَمۡوَٰلِكُم مُّحۡصِنِينَ غَيۡرَ مُسَٰفِحِينَۚ فَمَا ٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِهِۦ مِنۡهُنَّ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةٗۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيمَا تَرَٰضَيۡتُم بِهِۦ مِنۢ بَعۡدِ ٱلۡفَرِيضَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمٗا ٢٤
And [also prohibited to you are all] married women except those your right hands possess.1 [This is] the decree of Allāh upon you. And lawful to you are [all others] beyond these, [provided] that you seek them [in marriage] with [gifts from] your property, desiring chastity, not unlawful sexual intercourse. So for whatever you enjoy [of marriage] from them, give them their due compensation2 as an obligation. And there is no blame upon you for what you mutually agree to beyond the obligation. Indeed, Allāh is ever Knowing and Wise.
4:25
وَمَن لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ مِنكُمۡ طَوۡلًا أَن يَنكِحَ ٱلۡمُحۡصَنَٰتِ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ فَمِن مَّا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُم مِّن فَتَيَٰتِكُمُ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۚ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِإِيمَٰنِكُمۚ بَعۡضُكُم مِّنۢ بَعۡضٖۚ فَٱنكِحُوهُنَّ بِإِذۡنِ أَهۡلِهِنَّ وَءَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِ مُحۡصَنَٰتٍ غَيۡرَ مُسَٰفِحَٰتٖ وَلَا مُتَّخِذَٰتِ أَخۡدَانٖۚ فَإِذَآ أُحۡصِنَّ فَإِنۡ أَتَيۡنَ بِفَٰحِشَةٖ فَعَلَيۡهِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَى ٱلۡمُحۡصَنَٰتِ مِنَ ٱلۡعَذَابِۚ ذَٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ ٱلۡعَنَتَ مِنكُمۡۚ وَأَن تَصۡبِرُواْ خَيۡرٞ لَّكُمۡۗ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٢٥
And whoever among you cannot [find] the means to marry free, believing women, then [he may marry] from those whom your right hands possess of believing slave girls. And Allāh is most knowing about your faith. You [believers] are of one another. So marry them with the permission of their people and give them their due compensation [i.e., mahr] according to what is acceptable. [They should be] chaste, neither [of] those who commit unlawful intercourse randomly nor those who take [secret] lovers. But once they are sheltered in marriage, if they should commit adultery, then for them is half the punishment for free [unmarried] women. This [allowance] is for him among you who fears affliction [i.e., sin], but to be patient is better for you. And Allāh is Forgiving and Merciful.
4:26
يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمۡ وَيَهۡدِيَكُمۡ سُنَنَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَيَتُوبَ عَلَيۡكُمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ ٢٦
Allāh wants to make clear to you [the lawful from the unlawful] and guide you to the [good] practices of those before you and to accept your repentance. And Allāh is Knowing and Wise.