An-Nisa 4:3
The Women · Juz 4 · Page 77
وَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تُقۡسِطُواْ فِي ٱلۡيَتَٰمَىٰ فَٱنكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تَعۡدِلُواْ فَوَٰحِدَةً أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَلَّا تَعُولُواْ ٣
And if you fear that you will not deal justly with the orphan girls, then marry those that please you of [other] women, two or three or four. But if you fear that you will not be just, then [marry only] one or those your right hands possess [i.e., slaves]. That is more suitable that you may not incline [to injustice].
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 4:3–4
اور اگر ڈرو تم یہ کہ نہ انصاف کر سکو گے تم یتیم عورتوں کے بارے میں تو (ان کی بجائے) نکاح کرو تم (ان سے) جو اچھی لگیں تمھیں عورتوں سے، دو دواور تین تین اور چار چار۔ پس اگر ڈرو تم اس بات سے کہ نہ انصاف کر سکو گے تم تو (نکاح کرو) ایک ہی سے یا جس کے مالک ہوئے تمھارے دائیں ہاتھ۔ یہ زیادہ قریب ہے اس کے کہ نہ ناانصافی کرو تم(3) اور دو تم عورتوں کو مہر ان کے خوش دلی سے، پس اگر وہ خوشی سے دیں تم کو کچھ اس میں سے دل سے تو کھا لو تم اسے رچتا بچتا(4)
[3] یعنی اگر تمھیں اس بات کا خدشہ ہے کہ تم ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے جو تمھاری پرورش اور سرپرستی میں ہیں اور تمھیں ڈر ہے کہ ان کے ساتھ تمھاری محبت نہ ہونے کی وجہ سے تم ان کے حقوق ادا نہ کر سکو گے۔ تو تم ان کے علاوہ دوسری عورتوں کے ساتھ نکاح کر لو ﴿ مَا طَابَ لَكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ ﴾ ’’اور عورتوں میں سے جو تمھیں اچھی لگیں‘‘ یعنی، دین، مال، حسب و نسب اور حسن و جمال جیسی دیگر صفات جو نکاح کی ترغیب دیتی ہیں ، ان صفات کی حامل عورتوں میں جس کے ساتھ نکاح کرنے کا اختیار حاصل ہو، اپنی خواہش اور صوابدید کے مطابق نکاح کر لو۔ نکاح کے انتخاب کے لیے بہترین صفت دین ہے جیسا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’’عورت سے چار صفات کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے، اس کے مال، اس کے حسن و جمال، اس کے حسب و نسب اور اس کے دین کی وجہ سے، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، تو دین دار عورت سے نکاح کرنے کی کوشش کر۔‘‘اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ نکاح سے قبل عورت کو منتخب کر لے۔ بلکہ شارع نے تو یہاں تک مباح کیا ہے کہ انسان جس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے اسے ایک نظر دیکھ لے تاکہ یہ نکاح بصیرت کی بنیاد پر ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی تعداد کا ذکر کیا ہے جن کے ساتھ نکاح کرنا مباح ہے چنانچہ فرمایا:﴿ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ﴾’’دو دو اور تین تین اور چار چار‘‘ یعنی جو کوئی دو بیویاں رکھنا چاہتا ہے وہ دو بیویاں رکھ لے اگر تین بیویوں سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو تین سے نکاح کر لے اور اگر چار سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو چار سے نکاح کر لے۔ البتہ چار سے زیادہ عورتوں سے نکاح نہ کرے۔ کیونکہ آیت کریمہ کا سیاق اللہ تعالیٰ کے احسان کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو عدد مقرر کر دیا ہے بالاتفاق اس سے زیادہ بیویاں جائز نہیں۔ ایک سے زیادہ بیوی کی اجازت کی وجہ یہ ہے کہ بسا اوقات مرد کی شہوت ایک بیوی سے پوری نہیں ہوتی اس لیے یکے بعد دیگرے چار بیویاں جائز ہیں کیونکہ شاذ اور نادر صورت کے سوا، چار بیویاں کافی ہوتی ہیں۔ یہ چار بیویاں بھی مرد کے لیے صرف اس وقت جائز ہیں جب وہ ظلم و جور کرنے سے محفوظ ہو اور اسے یقین ہو کہ وہ چار بیویوں کے حقوق پورے کر سکے گا اور اگر اسے ظلم و زیادتی اور حقوق کی عدم ادائیگی کا خدشہ ہو تو اسے صرف ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنا چاہیے۔ یا اس کے ساتھ لونڈیوں پر اکتفا کرے۔ لونڈیوں میں وظیفہ زن و شو کی مساوی تقسیم واجب نہیں۔﴿ ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘یعنی ایک بیوی یا لونڈیوں پر اکتفا کرنا ﴿ اَدۡنٰۤى اَلَّا تَعُوۡلُوۡا﴾ ’’اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ تم ظلم نہ کرو۔‘‘ اس آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر بندے کو کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جہاں اس سے ظلم و جور کے ارتکاب کا خدشہ ہو اور اسے اس بات کا خوف ہو کہ وہ اس معاملے کے حقوق پورے نہیں کر سکے گا۔ خواہ یہ معاملہ مباحات کے زمرے میں کیوں نہ آتا ہو تو اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اس معاملے میں کوئی تعرض کرے۔ بلکہ وہ اس میں بچاؤ اور عافیت کا التزام کرے۔ کیونکہ عافیت بہترین چیز ہے جو بندے کو عطا کی گئی ہے۔
[4] چونکہ اکثر لوگ اپنی بیویوں پر ظلم کرتے ہیں اور ان کے حقوق غصب کر لیتے ہیں۔ خاص طور پر حق مہر (اکثر) بہت زیادہ ہوتا ہے یہ مہر ایک ہی بار پورے کا پورا ادا کرنا باعث مشقت ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا اور ان کو تاکید کی کہ وہ اپنی بیویوں کو مہر ادا کریں ﴿ صَدُقٰتِهِنَّ ﴾ یعنی ان کے مہر ﴿ نِحۡلَةً ﴾ یعنی ان کا مہر خوش دلی اور اطمینان قلب کے ساتھ ادا کرو۔ مہر ادا کرنے میں ٹال مٹول نہ کرو اور اسے ادا کرتے وقت اس میں کچھ کم نہ کرو۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر عورت مکلف (یعنی بالغ اور عاقل) ہو تو مہر اس کو ادا کر دیا جائے گا اور عقد کے موقع پر عورت مہر کی مالک بن جاتی ہے۔ کیونکہ حق مہر کی اضافت اس کی طرف جاتی ہے اور اضافت تملیک کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ فَاِنۡ طِبۡنَ لَكُمۡ عَنۡ شَيۡءٍ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اگر وہ خود اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ چھوڑ دیں‘‘ یعنی حق مہر سے ﴿ نَفۡسًا﴾ یعنی اگر بیویاں برضا و رغبت مہر کا کچھ حصہ چھوڑ کر یا ادائیگی میں مہلت دے کر یا مہر کا کوئی عوض قبول کر کے شوہروں کے ساتھ نرمی کرتی ہیں ﴿ فَكُلُوۡهُ هَنِيۡٓـــًٔا مَّرِيۡٓــــًٔا ﴾ ’’تو کھاؤ تم اس کو ذوق شوق سے‘‘ یعنی اس صورت میں تمھارے لیے کوئی حرج اور کوئی نقصان نہیں۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ عورت بالغ اور عاقل ہے تو اپنے مال میں تصرف کا پورا اختیار رکھتی ہے۔ خواہ وہ صدقہ ہی کیوں نہ کر دے۔ لیکن اگر بالغ اور عاقل نہیں ہے تو اس کے عطیہ کا حکم معتبر نہیں نیز عورت کا سرپرست اس مہر میں سے کچھ حصہ لینے کا حق دار نہیں سوائے اس کے، کہ عورت برضا و رغبت خود اسے کچھ عطا کر دے۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ مَا طَابَ لَكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ خبیث یعنی ناپاک عورت سے نکاح مامور نہیں، بلکہ خبیث عورتوں سے نکاح کرنا منع ہے مثلاً مشرک اور فاسق و فاجر عورت سے۔۔۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ حَتّٰى يُؤۡمِنَّ ﴾(البقرۃ : 2؍221) ’’مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اَلزَّانِيۡ لَا يَنۡكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوۡ مُشۡرِكَةً ﴾(النور:24؍3) ’’بدکار عورت کے ساتھ ایک زانی اور مشرک مرد کے سوا کوئی نکاح نہیں کرتا۔‘‘
Page 77
سورة النساء
An-Nisa
The Women · Medinan · 176 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
4:1
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمُ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسٖ وَٰحِدَةٖ وَخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالٗا كَثِيرٗا وَنِسَآءٗۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِي تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلۡأَرۡحَامَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيۡكُمۡ رَقِيبٗا ١
O mankind, fear your Lord, who created you from one soul and created from it its mate and dispersed from both of them many men and women. And fear Allāh, through whom1 you ask one another,2 and the wombs.3 Indeed Allāh is ever,4 over you, an Observer.5
5 translator’s notes
In whose name.
[157] i.e., request favors and demand rights.
[158] i.e., fear Allāh in regard to relations of kinship.
[159] When used in conjunction with Allāh's attributes, the word "ever" (occurring repeatedly throughout this sūrah and elsewhere, such as in sūrah al-Aḥzāb) is quite inadequate in imparting the sense of continuation expressed by the word "kāna" in Arabic, which indicates "always was, is, and always will be."
[160] Ever-present and taking account of everything.
↩- ↩
- ↩
- ↩
- ↩
4:2
وَءَاتُواْ ٱلۡيَتَٰمَىٰٓ أَمۡوَٰلَهُمۡۖ وَلَا تَتَبَدَّلُواْ ٱلۡخَبِيثَ بِٱلطَّيِّبِۖ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَهُمۡ إِلَىٰٓ أَمۡوَٰلِكُمۡۚ إِنَّهُۥ كَانَ حُوبٗا كَبِيرٗا ٢
And give to the orphans their properties and do not substitute the defective [of your own] for the good [of theirs]. And do not consume their properties into your own. Indeed, that is ever a great sin.
4:3
وَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تُقۡسِطُواْ فِي ٱلۡيَتَٰمَىٰ فَٱنكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تَعۡدِلُواْ فَوَٰحِدَةً أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَلَّا تَعُولُواْ ٣
And if you fear that you will not deal justly with the orphan girls, then marry those that please you of [other] women, two or three or four. But if you fear that you will not be just, then [marry only] one or those your right hands possess [i.e., slaves]. That is more suitable that you may not incline [to injustice].
4:4
وَءَاتُواْ ٱلنِّسَآءَ صَدُقَٰتِهِنَّ نِحۡلَةٗۚ فَإِن طِبۡنَ لَكُمۡ عَن شَيۡءٖ مِّنۡهُ نَفۡسٗا فَكُلُوهُ هَنِيٓـٔٗا مَّرِيٓـٔٗا ٤
And give the women [upon marriage] their [bridal] gifts1 graciously. But if they give up willingly to you anything of it, then take it in satisfaction and ease.2
4:5
وَلَا تُؤۡتُواْ ٱلسُّفَهَآءَ أَمۡوَٰلَكُمُ ٱلَّتِي جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمۡ قِيَٰمٗا وَٱرۡزُقُوهُمۡ فِيهَا وَٱكۡسُوهُمۡ وَقُولُواْ لَهُمۡ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗا ٥
And do not give the weak-minded your property,1 which Allāh has made a means of sustenance for you, but provide for them with it and clothe them and speak to them words of appropriate kindness.
1 translator’s note
- Although it is their property, Allāh (subḥānahu wa taʿālā) refers to it in the collective sense, reminding us that all wealth is provided by Him for the maintenance of the community as well as of individual members. ↩
4:6
وَٱبۡتَلُواْ ٱلۡيَتَٰمَىٰ حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغُواْ ٱلنِّكَاحَ فَإِنۡ ءَانَسۡتُم مِّنۡهُمۡ رُشۡدٗا فَٱدۡفَعُوٓاْ إِلَيۡهِمۡ أَمۡوَٰلَهُمۡۖ وَلَا تَأۡكُلُوهَآ إِسۡرَافٗا وَبِدَارًا أَن يَكۡبَرُواْۚ وَمَن كَانَ غَنِيّٗا فَلۡيَسۡتَعۡفِفۡۖ وَمَن كَانَ فَقِيرٗا فَلۡيَأۡكُلۡ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ فَإِذَا دَفَعۡتُمۡ إِلَيۡهِمۡ أَمۡوَٰلَهُمۡ فَأَشۡهِدُواْ عَلَيۡهِمۡۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ حَسِيبٗا ٦
And test the orphans [in their abilities] until they reach marriageable age. Then if you perceive in them sound judgement, release their property to them. And do not consume it excessively and quickly, [anticipating] that they will grow up. And whoever, [when acting as guardian], is self-sufficient should refrain [from taking a fee]; and whoever is poor - let him take according to what is acceptable. Then when you release their property to them, bring witnesses upon them. And sufficient is Allāh as Accountant.