An-NisaJuz 5 · Page 84

An-Nisa 4:34

The Women · Juz 5 · Page 84

ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ وَبِمَآ أَنفَقُواْ مِنۡ أَمۡوَٰلِهِمۡۚ فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٞ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُۚ وَٱلَّٰتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهۡجُرُوهُنَّ فِي ٱلۡمَضَاجِعِ وَٱضۡرِبُوهُنَّۖ فَإِنۡ أَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُواْ عَلَيۡهِنَّ سَبِيلًاۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيّٗا كَبِيرٗا ٣٤

Men are in charge of women1 by [right of] what Allāh has given one over the other and what they spend [for maintenance] from their wealth. So righteous women are devoutly obedient, guarding in [the husband's] absence what Allāh would have them guard.2 But those [wives] from whom you fear arrogance3 - [first] advise them; [then if they persist], forsake them in bed; and [finally], strike them [lightly].4 But if they obey you [once more], seek no means against them. Indeed, Allāh is ever Exalted and Grand.

4 translator’s notes
  1. This applies primarily to the husband-wife relationship.

    [183] i.e., their husbands' property and their own chastity.

    [184] i.e., major rebellion or refusal of basic religious obligations.

    [185] This final disciplinary measure is more psychological than physical. It may be resorted to only after failure of the first two measures and when it is expected to amend the situation and prevent family breakup; otherwise, it is not acceptable. The Prophet ﷺ (who never struck a woman or a servant) additionally stipulated that it must not be severe or damaging and that the face be avoided.

    ↩
  2. ↩
  3. ↩
  4. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 4:34

مرد حاکم ہیں اوپر عورتوں کے بہ سبب اس کے جو فضیلت دی اللہ نے ان میں سے بعض کو اوپر بعض کےاور بہ سبب اس کے جو خرچ کرتے ہیں وہ اپنے مالوں سے۔ پس نیک عورتیں فرماں بردار ہوتی ہیں، حفاظت کرنے والیاں پیٹھ پیچھے ساتھ حفاظت کرنے اللہ کے۔ اور وہ عورتیں کہ ڈرتے ہو تم ان کی سرکشی سے تو نصیحت کرو تم ان کو اور الگ کر دو ان کو خواب گاہوں میں اور مارو انھیں، پھر اگر اطاعت کریں وہ تمھاری تو نہ تلاش کرو ان پر کوئی راہ (ستانے کی)۔ بلاشبہ اللہ ہے بہت بلند نہایت بڑا(34)

[34] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے ﴿ اَلرِّؔجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَى النِّسَآءِ ﴾ ’’مرد عورتوں کے نگران، محافظ ہیں‘‘ یعنی مرد عورتوں سے اللہ تعالیٰ کے حقوق کا التزام کروانے والے، ان سے ان کے فرائض کی حفاظت کروانے والے اور ان کو مفاسد سے روکنے والے ہیں۔ اور اس اعتبار سے وہ عورتوں پر قوام ہیں۔ اور مردوں پر فرض ہے کہ وہ عورتوں سے ان امور کا التزام کروائیں۔ وہ عورتوں پر اس اعتبار سے بھی قوام ہیں کہ وہ ان پر خرچ کرتے ہیں اور انھیں لباس اور مسکن مہیا کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کیا ہے جو عورتوں پر مردوں کے قوام ہونے کا موجب ہے، فرمایا ﴿ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ ﴾’’اس لیے کہ اللہ نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لیے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یعنی اس سبب سے کہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے نیز اس سبب سے کہ وہ ان پر خرچ کرتے ہیں۔ پس مردوں کی عورتوں پر فضیلت کی متعدد وجوہات ہیں۔(۱)تمام بڑے بڑے منصب مردوں کے ساتھ مخصوص ہیں، نبوت، رسالت، اور بہت سی عبادات مثلاً جہاد، عیدین اور جمعات وغیرہ میں مردوں کو اختصاص حاصل ہے۔(۲)اللہ تعالیٰ نے مردوں کو وافر عقل، وقار، صبر اور وہ جفاکشی عطا کی ہے جو عورتوں میں نہیں پائی جاتی۔(۳) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مردوں کو اپنی بیویوں پر خرچ کرنے کی ذمہ داری عطا کی ہے بلکہ بہت سے اخراجات ایسے ہیں جو صرف مردوں سے مختص ہیں اور اس اعتبار سے عورتوں سے ممتاز ہیں۔ شاید اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور اس لیے بھی کہ وہ (مرد) خرچ کرتے ہیں۔‘‘ کا یہی سر نہاں ہے یہاں جملے میں مفعول کو حذف کرنا، عمومی نان و نفقہ اور اخراجات کی دلیل ہے۔ان تمام توضیحات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد عورت کے آقا اور والی کی حیثیت رکھتا ہے اور عورت اپنے شوہر کے پاس ایک اسیر کی مانند ہے۔ پس مرد کی ذمہ داری اور اس کا کام یہ ہے کہ وہ ان امور کا انتظام کرے جن کی رعایت رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور عورت کی ذمہ داری اور اس کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے رب اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَالصّٰؔلِحٰؔتُ قٰنِتٰؔتٌ ﴾ ’’تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مطیع ہوتی ہیں۔‘‘ یعنی وہ اللہ کی اطاعت کرنے والی ہیں ﴿ حٰؔفِظٰتٌ لِّلۡغَيۡبِ ﴾ یعنی وہ اپنے شوہروں کی اطاعت کرنے والی ہیں حتیٰ کہ وہ ان کی عدم موجودگی میں بھی ان کی اطاعت کرتی ہیں۔ اپنی عفت کی حفاظت کے ذریعے سے اپنے شوہر کی اور اس کے مال کی حفاظت کرتی ہیں اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور اس کی توفیق سے ہے ان کی طرف سے کچھ بھی نہیں، کیونکہ نفس تو ہمیشہ برائی کا حکم دیتا ہے مگر جو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو رنج میں ڈالنے والے دینی اور دنیاوی امور میں اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔پھر فرمایا ﴿ وَالّٰتِيۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَهُنَّ ﴾ ’’اور وہ عورتیں، جن کی نافرمانی سے تم ڈرتے ہو‘‘ یعنی ان کا اطاعت سے باہر نکلنا، قول و فعل کے ذریعے سے اپنے شوہر کی نافرمانی کرنا۔ اس صورت میں شوہر آسان سے آسان طریقے سے اس کی تادیب کرے ﴿ فَعِظُوۡهُنَّ ﴾ ’’ان کو نصیحت کرو۔‘‘ یعنی شوہر کی اطاعت، اور اس کی نافرمانی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے احکام بیان کر کے ان کو نصیحت کرو۔ شوہر کی اطاعت کی ترغیب دو اور اس کی نافرمانی سے ڈراؤ۔ اگر وہ نافرمانی سے باز آ جائیں تو یہی چیز مطلوب ہے اور اگر وہ اپنا رویہ نہ بدلیں تو شوہر اسے اس کے بستر پر تنہا چھوڑ دے، اس کے بستر پر سوئے نہ اس کے ساتھ مجامعت کرے۔ یہ سزا بس اسی قدر ہو جس سے مقصد حاصل ہو جائے۔ اگر پھر بھی نافرمانی ترک نہ کرے تو شوہر اس کو ایسی مار مارے جو نقصان دہ نہ ہو۔ اگر ان مذکورہ طریقوں میں سے کسی طریقے سے مقصد حاصل ہو جائے اور وہ تمھاری اطاعت کرنے لگ جائیں ﴿ فَلَا تَبۡغُوۡا عَلَيۡهِنَّ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ڈھونڈو ان پر کوئی راہ‘‘ پس جو مقصد تم حاصل کرنا چاہتے تھے تمھیں حاصل ہو گیا، اس لیے اب تم گزشتہ معاملات میں ان پر عتاب کرنا اور ان کو کریدنا چھوڑ دو جن کے ذکر سے نقصان پہنچتا ہے اور اس کی وجہ سے شر پیدا ہوتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّؔا كَبِيۡرًا ﴾ ’’بے شک اللہ سب سے اعلیٰ، جلیل القدر ہے۔‘‘ ہر پہلو اور ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ علو مطلق (مطلق بلندی) کا مالک ہے۔ اس کی ذات بلند ہے، وہ قدرت کے اعتبار سے بلند ہے اور وہ قہر اور غلبہ کے اعتبار سے بھی بلند ہے۔ وہ بڑا ہے جس سے کوئی بڑا نہیں اس سے زیادہ جلیل اور اس سے زیادہ عظیم کوئی ہستی نہیں، وہ اپنی ذات میں اور صفات میں بڑا ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 84

An-NisaJuz 5 · Page 84

4:34

ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ وَبِمَآ أَنفَقُواْ مِنۡ أَمۡوَٰلِهِمۡۚ فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٞ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُۚ وَٱلَّٰتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهۡجُرُوهُنَّ فِي ٱلۡمَضَاجِعِ وَٱضۡرِبُوهُنَّۖ فَإِنۡ أَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُواْ عَلَيۡهِنَّ سَبِيلًاۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيّٗا كَبِيرٗا ٣٤

Men are in charge of women1 by [right of] what Allāh has given one over the other and what they spend [for maintenance] from their wealth. So righteous women are devoutly obedient, guarding in [the husband's] absence what Allāh would have them guard.2 But those [wives] from whom you fear arrogance3 - [first] advise them; [then if they persist], forsake them in bed; and [finally], strike them [lightly].4 But if they obey you [once more], seek no means against them. Indeed, Allāh is ever Exalted and Grand.

4 translator’s notes
  1. This applies primarily to the husband-wife relationship.

    [183] i.e., their husbands' property and their own chastity.

    [184] i.e., major rebellion or refusal of basic religious obligations.

    [185] This final disciplinary measure is more psychological than physical. It may be resorted to only after failure of the first two measures and when it is expected to amend the situation and prevent family breakup; otherwise, it is not acceptable. The Prophet ﷺ (who never struck a woman or a servant) additionally stipulated that it must not be severe or damaging and that the face be avoided.

    ↩
  2. ↩
  3. ↩
  4. ↩

4:35

وَإِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَٱبۡعَثُواْ حَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهِۦ وَحَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصۡلَٰحٗا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيۡنَهُمَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرٗا ٣٥

And if you fear dissension between the two, send an arbitrator from his people and an arbitrator from her people. If they both desire reconciliation, Allāh will cause it between them. Indeed, Allāh is ever Knowing and Aware.

4:36

۞ وَٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَلَا تُشۡرِكُواْ بِهِۦ شَيۡـٔٗاۖ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنٗا وَبِذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱلۡجَارِ ذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡجَارِ ٱلۡجُنُبِ وَٱلصَّاحِبِ بِٱلۡجَنۢبِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخۡتَالٗا فَخُورًا ٣٦

Worship Allāh and associate nothing with Him, and to parents do good, and to relatives, orphans, the needy, the near neighbor, the neighbor farther away, the companion at your side,1 the traveler, and those whom your right hands possess. Indeed, Allāh does not like those who are self-deluding and boastful,

1 translator’s note
  1. i.e., those whose acquaintance you have made. Also interpreted as the wife. ↩

4:37

ٱلَّذِينَ يَبۡخَلُونَ وَيَأۡمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلۡبُخۡلِ وَيَكۡتُمُونَ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦۗ وَأَعۡتَدۡنَا لِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٗا مُّهِينٗا ٣٧

Who are stingy and enjoin upon [other] people stinginess and conceal what Allāh has given them of His bounty - and We have prepared for the disbelievers a humiliating punishment -

As-Sa'diTafsir · 4:34

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском