An-NisaJuz 5 · Page 88

An-Nisa 4:62

The Women · Juz 5 · Page 88

فَكَيۡفَ إِذَآ أَصَٰبَتۡهُم مُّصِيبَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ ثُمَّ جَآءُوكَ يَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنۡ أَرَدۡنَآ إِلَّآ إِحۡسَٰنٗا وَتَوۡفِيقًا ٦٢

So how [will it be] when disaster strikes them because of what their hands have put forth and then they come to you swearing by Allāh, "We intended nothing but good conduct and accommodation."

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 4:60–63

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دعویٰ کرتے ہیں اس بات کا کہ وہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے جو اُتارا گیا طرف آپ کی اور جو نازل کیا گیا پہلے آپ سے، وہ ارادہ کرتے ہیں یہ کہ فیصلہ لے جائیں طرف طاغوت کی، حالانکہ حکم دیے گئے تھے وہ یہ کہ کفر کریں ساتھ اس کے۔ اور ارادہ کرتا ہے شیطان یہ کہ گمراہ کر دے ان کو گمراہ کرنا دور کا(60) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ تم طرف اس کی جو نازل کیا اللہ نے اور (آؤ) طرف رسول کی تو دیکھیں گے آپ منافقوں کو، رکتے ہیں وہ آپ سے اعراض کرتے ہوئے(61) پس کیا حال ہوتا ہے جب پہنچتی ہے ان کو مصیبت، بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے، پھر آتے ہیں وہ آپ کے پاس، قسمیں کھاتے ہیں وہ اللہ کی، نہیں ارادہ کیا تھا ہم نے مگر بھلائی اور موافقت کا(62) یہ وہ لوگ ہیں کہ جانتا ہے اللہ جو ان کے دلوں میں ہے، پس اعراض کریں آپ ان سے اور نصیحت کریں انھیں اور کہیں ان سے ان کے دلوں میں بات اثر کرنے والی(63)

[61,60] اللہ تعالیٰ منافقین کی حالت کے بارے میں اپنے بندوں پر تعجب کا اظہار کرتا ہے ﴿ الَّذِيۡنَ يَزۡعُمُوۡنَ اَنَّهُمۡ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس چیز پر ایمان لائے جو رسول اللہﷺلے کر آئے اور جو کچھ آپﷺسے پہلے تھا۔ بایں ہمہ ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّتَحَاكَمُوۡۤا۠ اِلَى الطَّاغُوۡتِ ﴾ ’’وہ چاہتے ہیں کہ وہ فیصلے طاغوت کی طرف لے جائیں۔‘‘ ہر وہ شخص جو شریعت الٰہی کے بغیر فیصلے کرتا ہے طاغوت ہے۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ ﴿ وَقَدۡ اُمِرُوۡۤا اَنۡ يَّكۡفُرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’انھیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت کا انکار کریں۔‘‘ ان کا یہ رویہ اور ایمان کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ایمان اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کی پیروی کی جائے اور اس کی تحکیم کو قبول کیا جائے۔ پس جو کوئی مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو چھوڑ کر طاغوت کے فیصلے کو قبول کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ شیطان نے ان کو گمراہ کر دیا ہے ﴿ وَيُرِيۡدُ الشَّيۡطٰنُ اَنۡ يُّضِلَّهُمۡ ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا ﴾ ’’اور شیطان تو چاہتا ہے کہ انھیں بہکا کر راستے سے دور کردے۔‘‘ یعنی شیطان چاہتا ہے کہ وہ انھیں حق سے دور کر دے۔

[62] فرمایا ﴿ فَكَـيۡفَ ﴾ یعنی ان گمراہوں کا کیا حال ہوتا ہے ﴿ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’جب ان پر ان کے کرتوتوں کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے‘‘ یعنی گناہ معاصی اور طاغوت کی تحکیم بھی اس میں شامل ہے ﴿ ثُمَّ جَآءُوۡكَ ﴾ ’’پھر آپ کے پاس آتے ہیں۔‘‘ یعنی جو کچھ ان سے صادر ہوا اس پر معذرت کرتے ہوئے آپﷺکے پاس آتے ہیں ﴿ يَحۡلِفُوۡنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًا وَّتَوۡفِيۡقًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا۔‘‘ یعنی ہمارا مقصد تو صرف جھگڑے کے فریقین کے ساتھ بھلائی کرنا اور ان کے درمیان صلح کروانا ہے۔ حالانکہ وہ اس بارے میں سخت جھوٹے ہیں۔ بھلائی تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکی تحکیم میں ہے ﴿ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ﴾(المائدۃ : 5؍50) ’’جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اچھا فیصلہ کس کا ہے؟‘‘

[63] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُ اللّٰهُ مَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے دلوں کا بھید اللہ تعالیٰ پر بخوبی روشن ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے نفاق اور برے مقاصد کو جانتا ہے ﴿ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان کا کچھ خیال نہ کریں۔‘‘ یعنی ان کی پروا نہ کیجیے اور جو کچھ انھوں نے کیا ہے اس پر دھیان نہ دیجیے ﴿ وَعِظۡهُمۡ﴾ ’’اور انھیں نصیحت کریں۔‘‘ یعنی انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ترغیب دیتے ہوئے اور ترک اطاعت پر انھیں ڈراتے ہوئے ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا حکم بیان کیجیے ﴿ وَقُلۡ لَّهُمۡ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَوۡلًۢا بَلِيۡغًا ﴾ ’’اور ان سے وہ بات کیجیے جو ان کے دلوں میں گھر کرنے والی ہو‘‘ یعنی اپنے درمیان اور ان کے درمیان معاملے کو راز رکھتے ہوئے انھیں نصیحت کیجیے۔ حصول مقصد کے لیے یہ طریقہ زیادہ مفید ہے اور ان کو برائیوں سے روکنے اور زجر و توبیخ میں پوری کوشش سے کام لیجیے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ گناہ گار کے ساتھ اگر اعراض کیا جائے تو پوشیدہ طور پر اس کے لیے خیر خواہی کا اہتمام ضرور کیا جائے اور اس کو نصیحت کرنے میں پوری کوشش سے کام لیا جائے جس سے وہ اپنا مقصد حاصل کر سکے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 88

An-NisaJuz 5 · Page 88

4:60

أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يَزۡعُمُونَ أَنَّهُمۡ ءَامَنُواْ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبۡلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوٓاْ إِلَى ٱلطَّٰغُوتِ وَقَدۡ أُمِرُوٓاْ أَن يَكۡفُرُواْ بِهِۦۖ وَيُرِيدُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَن يُضِلَّهُمۡ ضَلَٰلَۢا بَعِيدٗا ٦٠

Have you not seen those who claim to have believed in what was revealed to you, [O Muḥammad], and what was revealed before you? They wish to refer legislation to ṭāghūt,1 while they were commanded to reject it; and Satan wishes to lead them far astray.

1 translator’s note
  1. False objects of worship or those transgressors who usurp the divine right of government. ↩

4:61

وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّسُولِ رَأَيۡتَ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودٗا ٦١

And when it is said to them, "Come to what Allāh has revealed and to the Messenger," you see the hypocrites turning away from you in aversion.

4:62

فَكَيۡفَ إِذَآ أَصَٰبَتۡهُم مُّصِيبَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ ثُمَّ جَآءُوكَ يَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنۡ أَرَدۡنَآ إِلَّآ إِحۡسَٰنٗا وَتَوۡفِيقًا ٦٢

So how [will it be] when disaster strikes them because of what their hands have put forth and then they come to you swearing by Allāh, "We intended nothing but good conduct and accommodation."

4:63

أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يَعۡلَمُ ٱللَّهُ مَا فِي قُلُوبِهِمۡ فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَعِظۡهُمۡ وَقُل لَّهُمۡ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ قَوۡلَۢا بَلِيغٗا ٦٣

Those are the ones of whom Allāh knows what is in their hearts, so turn away from them1 but admonish them and speak to them a far-reaching [i.e., effective] word.

1 translator’s note
  1. i.e., use not violence against them. ↩

4:64

وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَلَوۡ أَنَّهُمۡ إِذ ظَّلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ جَآءُوكَ فَٱسۡتَغۡفَرُواْ ٱللَّهَ وَٱسۡتَغۡفَرَ لَهُمُ ٱلرَّسُولُ لَوَجَدُواْ ٱللَّهَ تَوَّابٗا رَّحِيمٗا ٦٤

And We did not send any messenger except to be obeyed by permission of Allāh. And if, when they wronged themselves, they had come to you, [O Muḥammad], and asked forgiveness of Allāh and the Messenger had asked forgiveness for them, they would have found Allāh Accepting of Repentance and Merciful.

4:65

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ لَا يَجِدُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ حَرَجٗا مِّمَّا قَضَيۡتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسۡلِيمٗا ٦٥

But no, by your Lord, they will not [truly] believe until they make you, [O Muḥammad], judge concerning that over which they dispute among themselves and then find within themselves no discomfort from what you have judged and submit in [full, willing] submission.

As-Sa'diTafsir · 4:62

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском