An-Nisa 4:68
The Women · Juz 5 · Page 89
وَلَهَدَيۡنَٰهُمۡ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا ٦٨
And We would have guided them to a straight path.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 4:66–68
اور اگر بے شک فرض کر دیتے ہم ان پر یہ کہ قتل کرو تم اپنی جانوں کو یا نکلو تم اپنے گھروں سے تو نہ کرتے وہ یہ کام مگر تھوڑے ان میں سےاور اگر بلاشبہ کر لیتے وہ (وہ کام) کہ نصیحت کیے جاتے ہیں وہ اس کی تو ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور زیادہ ثابت قدم رکھنے والا (دین میں)(66) اور تب ، البتہ دیتے ہم انھیں اپنی طرف سے اجر بہت بڑا(67) اور ضرور چلاتے ہم انھیں راستے سیدھے پر(68)
[66] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اس نے اپنے بندوں پر شاق گزرنے والے احکام فرض کیے ہوتے مثلاً، اپنے آپ کو قتل کرنا اور گھروں سے نکلنا وغیرہ تو اس پر بہت کم لوگ عمل کر سکتے، پس انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے آسان احکام نافذ کیے ہیں جن پر عمل کرنا ہر ایک کے لیے آسان ہے اور ان میں کسی کے لیے مشقت نہیں۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندۂ مومن کو چاہیے کہ اسے جو امور گراں گزرتے ہیں، وہ ان کی ضد کو ملاحظہ کرے تاکہ اس پر عبادات آسان ہو جائیں۔ تاکہ اپنے رب کے لیے اس کی حمد و ثنا اور شکر میں اضافہ ہو۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انھوں نے اس چیز پر عمل کیا ہوتا جس کی انھیں نصیحت کی گئی ہے، یعنی تمام اوقات کے مطابق ان کے لیے جو اعمال مقرر کیے گئے ہیں، ان کے لیے اپنی ہمتیں صرف کرتے ان کے انتظام اور ان کی تکمیل کے لیے ان کے نفوس پوری کوشش کرتے اور جو چیز انھیں حاصل نہ ہو سکتی اس کے لیے کوشش نہ کرتے اور اس کے درپے نہ ہوتے اور بندے کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ اپنے حال پر غور کرے جس کو قائم کرنا لازم ہے اس کی تکمیل میں جدوجہد کرے۔ پھر بتدریج تھوڑا تھوڑا آگے بڑھتا رہے یہاں تک کہ جو دینی اور دنیاوی علم و عمل اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے اسے حاصل کر لے۔ یہ اس شخص کے برعکس ہے جو اس معاملے پر ہی نظریں جمائے رکھتا ہے جہاں تک وہ نہ پہنچ سکا اور نہ اس کو اس کا حکم دیا گیا تھا۔ کیونکہ وہ تفریق ہمت، سستی اور عدم نشاط کی بنا پر اس منزل تک نہیں پہنچ سکا۔پھر ان کو جو نصیحت کی گئی ہے اس پر عمل کرنے سے جو نتائج حاصل ہوتے ہیں ان کے چار مراتب ہیں:اول: بھلائی کا حصول۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ذکر کیا گیا ہے ﴿ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ ﴾ ’’البتہ ان کے لیے بہتر ہوتا‘‘ یعنی ان کا شمار نیک لوگوں میں ہوتا جو ان افعال خیر سے متصف ہیں جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا اور ان سے شریر لوگوں کی صفات زائل ہو جاتیں کیونکہ کسی چیز کے ثابت ہونے سے اس کی ضد کی نفی لازم آتی ہے۔ثانی: ثابت قدمی اور اس میں اضافے کا حصول ۔ کیونکہ اہل ایمان کے ایمان کو قائم رکھنے کے سبب سے، جسے قائم رکھنے کی انھیں نصیحت کی گئی تھی، اللہ تعالیٰ انھیں ثابت قدمی عطا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ دنیا کی زندگی میں، اوامر و نواہی میں فتنوں کے وارد ہونے اور مصائب کے نازل ہونے کے وقت انھیں ثابت قدمی عطا کرتا ہے، تب انھیں ثبات حاصل ہوتا ہے اوامر پر عمل کرنے اور ان نواہی سے اجتناب کی توفیق عطا ہوتی ہے نفس جن کے فعل کا تقاضا کرتا ہے اور ان مصائب کے نازل ہونے پر ثابت قدمی اور استقامت عطا ہوتی ہے جن کو بندہ ناپسند کرتا ہے۔ بندے کو صبر و رضا اور شکر کی توفیق کے ذریعے سے ثابت قدمی عطا ہوتی ہے پس بندے پر اس کی ثابت قدمی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نازل ہوتی ہے اور اسے نزع کے وقت اور قبر میں ثابت قدمی سے نواز دیا جاتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کے اوامر کو قائم رکھنے والا بندۂ مومن شرعی احکام کا عادی بن جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان احکام سے مانوس ہو جاتا ہے اور ان احکام کا مشتاق بن جاتا ہے اور یہ الفت اور اشتیاق نیکیوں پر ثبات کے لیے اس کے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
[67] ثالث: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّاِذًا لَّاٰتَيۡنٰهُمۡ مِّنۡ لَّدُنَّـاۤ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾ ’’اور تب تو انھیں ہم اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ہم اسے اجر عظیم سے نوازتے جو قلب و روح اور بدن کے لیے ہے اور ایسی ہمیشہ رہنے والی نعمت ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے طائر خیال کا وہاں سے گزر ہوا ہے۔
[68] رابع: صراط مستقیم کی طرف راہنمائی ۔ یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے کیونکہ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی شرف کی حامل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہدایت حق کے علم کو، حق کے ساتھ محبت اور حق کو ترجیح دینے اور اس پر عمل کرنے کو اور اس پر فلاح و سعادت کے موقوف ہونے کو متضمن ہوتی ہے۔ پس جس کسی کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کر دی گئی اسے گویا ہر بھلائی کی توفیق عطا کر دی گئی اور اس سے ہر برائی اور ہر ضرر کو دور کر دیا گیا۔
Page 89
4:66
وَلَوۡ أَنَّا كَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ أَنِ ٱقۡتُلُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ أَوِ ٱخۡرُجُواْ مِن دِيَٰرِكُم مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٞ مِّنۡهُمۡۖ وَلَوۡ أَنَّهُمۡ فَعَلُواْ مَا يُوعَظُونَ بِهِۦ لَكَانَ خَيۡرٗا لَّهُمۡ وَأَشَدَّ تَثۡبِيتٗا ٦٦
And if We had decreed upon them, "Kill yourselves" or "Leave your homes," they would not have done it, except for a few of them. But if they had done what they were instructed, it would have been better for them and a firmer position [for them in faith].
4:67
وَإِذٗا لَّأٓتَيۡنَٰهُم مِّن لَّدُنَّآ أَجۡرًا عَظِيمٗا ٦٧
And then We would have given them from Us a great reward.
4:68
وَلَهَدَيۡنَٰهُمۡ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا ٦٨
And We would have guided them to a straight path.
4:69
وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَأُوْلَٰٓئِكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَٱلصَّٰلِحِينَۚ وَحَسُنَ أُوْلَٰٓئِكَ رَفِيقٗا ٦٩
And whoever obeys Allāh and the Messenger - those will be with the ones upon whom Allāh has bestowed favor of the prophets, the steadfast affirmers of truth, the martyrs and the righteous. And excellent are those as companions.
4:70
ذَٰلِكَ ٱلۡفَضۡلُ مِنَ ٱللَّهِۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ عَلِيمٗا ٧٠
That is the bounty from Allāh, and sufficient is Allāh as Knower.
4:71
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ خُذُواْ حِذۡرَكُمۡ فَٱنفِرُواْ ثُبَاتٍ أَوِ ٱنفِرُواْ جَمِيعٗا ٧١
O you who have believed, take your precaution and [either] go forth in companies or go forth all together.
4:72
وَإِنَّ مِنكُمۡ لَمَن لَّيُبَطِّئَنَّ فَإِنۡ أَصَٰبَتۡكُم مُّصِيبَةٞ قَالَ قَدۡ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيَّ إِذۡ لَمۡ أَكُن مَّعَهُمۡ شَهِيدٗا ٧٢
And indeed, there is among you he who lingers behind; and if disaster strikes you, he says, "Allāh has favored me in that I was not present with them."
4:73
وَلَئِنۡ أَصَٰبَكُمۡ فَضۡلٞ مِّنَ ٱللَّهِ لَيَقُولَنَّ كَأَن لَّمۡ تَكُنۢ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُۥ مَوَدَّةٞ يَٰلَيۡتَنِي كُنتُ مَعَهُمۡ فَأَفُوزَ فَوۡزًا عَظِيمٗا ٧٣
But if bounty comes to you from Allāh, he will surely say, as if [i.e., showing that] there had never been between you and him any affection, "Oh, I wish I had been with them so I could have attained a great attainment."1
1 translator’s note
- The spoils of war. Although having pretended to befriend the believers in support of Allāh's religion, the hypocrite will not be willing to fight except for material gain. ↩
4:74
۞ فَلۡيُقَٰتِلۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يَشۡرُونَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا بِٱلۡأٓخِرَةِۚ وَمَن يُقَٰتِلۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيُقۡتَلۡ أَوۡ يَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُؤۡتِيهِ أَجۡرًا عَظِيمٗا ٧٤
So let those fight in the cause of Allāh who sell the life of this world for the Hereafter. And he who fights in the cause of Allāh and is killed or achieves victory - We will bestow upon him a great reward.