GhafirJuz 24 · Page 468

Ghafir 40:8

The Forgiver · Juz 24 · Page 468

رَبَّنَا وَأَدۡخِلۡهُمۡ جَنَّٰتِ عَدۡنٍ ٱلَّتِي وَعَدتَّهُمۡ وَمَن صَلَحَ مِنۡ ءَابَآئِهِمۡ وَأَزۡوَٰجِهِمۡ وَذُرِّيَّٰتِهِمۡۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٨

Our Lord, and admit them to gardens of perpetual residence which You have promised them and whoever was righteous among their forefathers, their spouses and their offspring. Indeed, it is You who is the Exalted in Might, the Wise.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 40:7–9

وہ(فرشتے)جو اٹھائے ہوئے ہیں عرش کو اورجو اس کےاردگرد ہیں وہ پاکیزگی بیان کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور ایمان رکھتے ہیں اس پر اور بخشش مانگتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، (کہ) اے ہمارے رب! گھیر لیا ہے تو نے ہر چیز کو (اپنی) رحمت اور علم سے، پس بخش دے ان لوگوں کو جنھوں نے توبہ کی اور پیروی کی تیرے راستے کی اور بچا ان کو عذاب دوزخ سے(7) اے ہمارے رب! اور داخل کر ان کو باغوں میں (جو) ہمیشہ رہنے والے (ہیں) وہ جن کا وعدہ کیا ہے تو نے ان سے اورجو نیک ہوئے ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اوران کی اولاد میں سے، بے شک تو بڑا غالب نہایت حکمت والا ہے(8) اور بچا ان کو برائیوں سے اور جس کو تو بچائے گا برائیوں سے اس دن، تو تحقیق رحم کر دیا تو نے اس پر، اور یہی ہے کامیابی بڑی(9)

[7] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اپنے کامل لطف و کرم اور ان اسباب کا ذکر کرتا ہے جو اس نے ان کی سعادت کے لیے مقرر فرمائے ہیں، یہ اسباب ان کی قدرت سے باہر تھے، مثلاً: ان کے لیے ملائکہ مقربین کا استغفار کرنا اور ان کے دین و آخرت کی بھلائی کے لیے دعا کرنا۔ اس ضمن میں عرش الٰہی اٹھانے والے فرشتے اور جو اس کے اردگرد ہیں ان کے شرف کی خبر ہے۔ اور اسی طرح اپنے رب کے قریب رہنے والے فرشتوں، ان کی عبادت کی کثرت، اللہ کے بندوں کے لیے ان کی خیرخواہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ يَحۡمِلُوۡنَ الۡعَرۡشَ ﴾ ’’جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی رحمٰن کا عرش، جو تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ جو تمام مخلوقات میں سب سے بڑا، سب سے وسیع، سب سے خوبصورت اور اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے، جو زمین و آسمان اور کرسی پر چھایا ہوا ہے۔ان فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے عرش اٹھانے پر مقرر کیا ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب سے بڑے اور سب سے طاقتور فرشتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ان فرشتوں کو اپنا عرش اٹھانے کے لیے چن لینا، ذکر میں ان کو مقدم رکھنا اور ان کو اپنے قرب سے سرفراز کرنا دلالت کرتا ہے کہ یہ سب سے افضل فرشتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾(الحاقۃ: 69؍17)’’اور اس روز تیرے رب کے عرش کو آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے۔‘‘﴿وَمَنۡ حَوۡلَهٗ﴾ ’’اور جو اس کے اردگرد ہیں‘‘ یعنی قدرومنزلت اور فضیلت میں اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں۔‘‘ یہ ان فرشتوں کی، ان کی کثرت عبادت خاص طور پر تسبیح و تحمید کی بنا پر مدح ہے۔ تسبیح و تحمید میں تمام عبادات داخل ہیں کیونکہ تمام عبادات کے ذریعے سے اس طرح اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ کی جاتی ہے کہ بندہ اپنی عبادات کو غیراللہ سے ہٹا کر صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرتا ہے۔ نیز یہ عبادات اللہ تعالیٰ کی حمد ہیں بلکہ حمد ہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ رہا بندے کا قول (سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ)تو یہ بھی اسی میں داخل ہے اور جملہ عبادات میں شامل ہے۔﴿وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اور وہ مومنوں کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔‘‘ یہ ایمان کے جملہ فوائد اور اس کے فضائل میں سے ہے کہ فرشتے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور گناہوں سے پاک ہیں، اہل ایمان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، لہٰذا پس بندۂ مومن اپنے ایمان کے سبب سے اس عظیم فضیلت کو حاصل کرتا ہے۔چونکہ مغفرت کے لیے کچھ اسباب ہیں جن کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی اور یہ اسباب اس خیال سے بالکل مختلف ہیں جو بہت سے اذہان میں آتا ہے کہ مغفرت طلب کرنے کی غرض و غایت مجرد گناہوں کی بخشش ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے فرشتوں کی دعائے مغفرت اور ان امور کا ذکر فرمایا جن کے بغیر دعائے مغفرت کی تکمیل نہیں ہوتی، چنانچہ فرمایا:﴿رَبَّنَا وَسِعۡتَ كُلَّ شَيۡءٍ رَّحۡمَةً وَّعِلۡمًا ﴾ ’’اے ہمارے رب! تیری رحمت اور علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘ تیرے علم نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، تجھ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔ زمین میں کوئی ذرہ بھر چیز تیرے علم سے اوجھل ہے نہ آسمان میں اور کوئی چھوٹی چیز تجھ سے چھپی ہوئی ہے نہ کوئی بڑی چیز۔ تیری رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ علوی اور سفلی تمام کائنات اللہ تعالیٰ کی رحمت سے لبریز اور اس کی رحمت تمام کائنات پر چھائی ہوئی ہے۔ اس کی تمام مخلوق اس رحمت سے بہرہ مند ہوتی ہے۔ ﴿فَاغۡفِرۡ لِلَّذِيۡنَ تَابُوۡا ﴾ ’’پس جن لوگوں نے توبہ کی انھیں بخش دے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک اور معاصی سے توبہ کی ﴿وَاتَّبَعُوۡا سَبِيۡلَكَ ﴾ ’’اور جو تیرے راستے پر گامزن ہوئے‘‘ تیرے رسولوں کی اتباع، تیری توحید اور تیری اطاعت کے ذریعے سے ﴿وَقِهِمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالے‘‘ یعنی (اے اللہ!) ان کو عذاب سے اور اس کے اسباب سے بچا۔

[8]﴿رَبَّنَا وَاَدۡخِلۡهُمۡ جَنّٰتِ عَدۡنِ اِ۟ الَّتِيۡ وَعَدۡتَّهُمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کو ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں داخل فرما جن کا تونے ان سے وعدہ فرمایا‘‘ یعنی جن کا تو نے اپنے رسولوں کی زبان پر وعدہ کیا۔ ﴿وَمَنۡ صَلَحَ ﴾ ’’اور جو صالح ہوں‘‘ یعنی جو ایمان اور عمل صالح کے ذریعے سے درست ہوں۔ ﴿مِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ ﴾ ’’ان کے آباء واجداد اور ان کی بیویوں میں سے‘‘ یعنی ان کی بیویوں، عورتوں کے شوہروں، ان کے دوستوں اور رفقاء میں سے ﴿وَذُرِّيّٰتِهِمۡ ﴾’’اور ان کی اولاد میں سے‘‘﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ بے شک تو ہر چیز پر غالب ہے، تیری عزت کی قسم! تو ان کے گناہ بخش دیتا ہے، ان کی تکلیف دور کر دیتا ہے اور انھیں ہر بھلائی تک پہنچا دیتا ہے۔ ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ ’’حکیم‘‘ اس کو کہتے ہیں جو تمام اشیاء کو ان کے لائق حال مقام پر رکھتا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کرتے جو تیری حکمت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بلکہ تیری حکمت، جس کی تو نے اپنے رسولوں کی زبان پر خبر دی ہے اور تیرا فضل جس چیز کا تقاضا کرتا ہے، وہ یہ ہے کہ تو اہل ایمان کو بخش دے۔

Continue in the whole surah's tafsir

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 468

GhafirJuz 24 · Page 468

40:8

رَبَّنَا وَأَدۡخِلۡهُمۡ جَنَّٰتِ عَدۡنٍ ٱلَّتِي وَعَدتَّهُمۡ وَمَن صَلَحَ مِنۡ ءَابَآئِهِمۡ وَأَزۡوَٰجِهِمۡ وَذُرِّيَّٰتِهِمۡۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٨

Our Lord, and admit them to gardens of perpetual residence which You have promised them and whoever was righteous among their forefathers, their spouses and their offspring. Indeed, it is You who is the Exalted in Might, the Wise.

40:9

وَقِهِمُ ٱلسَّيِّـَٔاتِۚ وَمَن تَقِ ٱلسَّيِّـَٔاتِ يَوۡمَئِذٖ فَقَدۡ رَحِمۡتَهُۥۚ وَذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ ٩

And protect them from the evil consequences [of their deeds]. And he whom You protect from evil consequences that Day - You will have given him mercy. And that is the great attainment."

40:10

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُنَادَوۡنَ لَمَقۡتُ ٱللَّهِ أَكۡبَرُ مِن مَّقۡتِكُمۡ أَنفُسَكُمۡ إِذۡ تُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلۡإِيمَٰنِ فَتَكۡفُرُونَ ١٠

Indeed, those who disbelieve will be addressed, "The hatred of Allāh for you was [even] greater than your hatred of yourselves [this Day in Hell] when you were invited to faith, but you disbelieved [i.e., refused]."

40:11

قَالُواْ رَبَّنَآ أَمَتَّنَا ٱثۡنَتَيۡنِ وَأَحۡيَيۡتَنَا ٱثۡنَتَيۡنِ فَٱعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلۡ إِلَىٰ خُرُوجٖ مِّن سَبِيلٖ ١١

They will say, "Our Lord, You made us lifeless twice and gave us life twice, and we have confessed our sins. So is there to an exit any way?"

40:12

ذَٰلِكُم بِأَنَّهُۥٓ إِذَا دُعِيَ ٱللَّهُ وَحۡدَهُۥ كَفَرۡتُمۡ وَإِن يُشۡرَكۡ بِهِۦ تُؤۡمِنُواْۚ فَٱلۡحُكۡمُ لِلَّهِ ٱلۡعَلِيِّ ٱلۡكَبِيرِ ١٢

[They will be told], "That is because, when Allāh was called upon alone, you disbelieved; but if others were associated with Him, you believed. So the judgement is with Allāh, the Most High, the Grand."

40:13

هُوَ ٱلَّذِي يُرِيكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُنَزِّلُ لَكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ رِزۡقٗاۚ وَمَا يَتَذَكَّرُ إِلَّا مَن يُنِيبُ ١٣

It is He who shows you His signs and sends down to you from the sky, provision. But none will remember except he who turns back [in repentance].

40:14

فَٱدۡعُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡكَٰفِرُونَ ١٤

So invoke Allāh, [being] sincere to Him in religion, although the disbelievers dislike it.

40:15

رَفِيعُ ٱلدَّرَجَٰتِ ذُو ٱلۡعَرۡشِ يُلۡقِي ٱلرُّوحَ مِنۡ أَمۡرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦ لِيُنذِرَ يَوۡمَ ٱلتَّلَاقِ ١٥

[He is] the Exalted above [all] degrees, Owner of the Throne; He places the inspiration of His command [i.e., revelation] upon whom He wills of His servants to warn of the Day of Meeting.

40:16

يَوۡمَ هُم بَٰرِزُونَۖ لَا يَخۡفَىٰ عَلَى ٱللَّهِ مِنۡهُمۡ شَيۡءٞۚ لِّمَنِ ٱلۡمُلۡكُ ٱلۡيَوۡمَۖ لِلَّهِ ٱلۡوَٰحِدِ ٱلۡقَهَّارِ ١٦

The Day they come forth nothing concerning them will be concealed from Allāh. To whom belongs [all] sovereignty this Day? To Allāh, the One, the Prevailing.1

1 translator’s note
  1. Refer to footnotes in 12:39. ↩
As-Sa'diTafsir · 40:8

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском