GhafirJuz 24 · Page 476

Ghafir 40:85

The Forgiver · Juz 24 · Page 476

فَلَمۡ يَكُ يَنفَعُهُمۡ إِيمَٰنُهُمۡ لَمَّا رَأَوۡاْ بَأۡسَنَاۖ سُنَّتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي قَدۡ خَلَتۡ فِي عِبَادِهِۦۖ وَخَسِرَ هُنَالِكَ ٱلۡكَٰفِرُونَ ٨٥

But never did their faith benefit them once they saw Our punishment. [It is] the established way of Allāh which has preceded among His servants. And the disbelievers thereupon lost [all].

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 40:82–85

کیا پس نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں پس و ہ دیکھتے کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے ہوئے؟ تھے وہ زیادہ (تعداد میں)ان سے اور زیادہ سخت قوت میں اور نشانات کے اعتبار سے زمین میں، پس نہ کام آیا ان کے وہ، جو کچھ تھے وہ کماتے (82) پس جب آئے ان کے پاس رسو ل ان کے، ساتھ واضح دلائل کے تو خوش ہوئے وہ اس پر جو ان کے پاس تھا علم، اور گھیر لیا ان کو اس (عذاب) نے کہ تھے وہ اس کے ساتھ ٹھٹھا کرتے (83) پس جب دیکھا انھوں نے ہمارا عذاب تو کہا، ایمان لائے ہم اللہ اکیلے پر اور انکار کیا ہم نے ان چیزوں کا کہ تھے ہم ان کو (اللہ کا) شریک ٹھہرانے والے (84) پس نہ ہوا کہ نفع دیتا ان کو ایمان(لانا)ان کا جبکہ دیکھ لیا انھوں نے عذاب ہمارا، (مانند) طریقہ اللہ کے جو گزرا اس کے بندوں میں اور خسارہ اٹھایا وہاں کافروں نے (85)

[82] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول کی تکذیب کرنے والوں کو اس بات پر ابھارتا ہے کہ وہ اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین پر چل پھر کر دیکھیں اور اہل علم سے سوال کریں۔ ﴿فَيَنۡظُرُوۡا ﴾ ’’پس وہ دیکھیں ‘‘ غفلت اور بے پروائی کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ فکرواستدلال کی نظر سے دیکھیں۔ ﴿كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ ’’کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟‘‘ یعنی قوم عادوثمود جیسی گزشتہ قوموں کا کیا انجام ہوا؟ جو ان سے قوت میں زیادہ، مال میں کثرت اور زمین میں آثار، یعنی مضبوط محلات، خوب صورت باغات اور بے شمار کھیتیاں چھوڑنے کے لحاظ سے بڑے تھے۔ ﴿فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’ان کی کمائی نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا تو ان کی قوت ان کے کسی کام آئی نہ وہ اپنے مالوں کا فدیہ دے سکے اور نہ وہ اپنے قلعوں کے ذریعے ہی سے بچ سکے۔

[83] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے جرم عظیم کا ذکر ہوتے فرمایا: ﴿فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’جب ان کے رسول ان کے پاس معجزات لے کر آئے۔‘‘ یعنی کتب الٰہیہ، بڑے بڑے معجزات اور وہ علم نافع لے کر مبعوث ہوئے جو ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل میں امتیاز کرتا ہے۔ ﴿فَرِحُوۡا بِمَا عِنۡدَهُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ ﴾ ’’تو وہ اسی علم پر نازاں رہے جو ان کے پاس تھا۔‘‘ یعنی وہ انبیاء و رسل کے دین سے متناقض اور باطل علمی نظریات ہی میں مگن رہے۔ اور یہ معلوم ہے کہ ان کا اس نام نہاد علم پر خوش ہونا، اس علم پر ان کی رضا اور اس کے ساتھ تمسک اور حق کے ساتھ ان کی شدید عداوت پر دلالت کرتا ہے جسے لے کر رسول مبعوث ہوئے ہیں۔ انھوں نے اپنے باطل نظریات کو حق قرار دیا اور یہ ان تمام علوم کے لیے عام ہے جن کے ذریعے سے انبیاء و رسل کے لائے ہوئے علم کی مخالفت کی جاتی ہے۔ ان کے ان علوم میں داخل ہونے کے سب سے زیادہ مستحق علوم فلسفہ اور منطق یونان ہیں جن کے ذریعے سے قرآن کی بہت سی آیات کو رد کیا جاتا ہے، دلوں میں قرآن کی قدر کم کی جاتی ہے۔ قرآن کے قطعی اور یقینی دلائل کو لفظی دلائل قرار دیا جاتا ہے جو یقین کا فائدہ نہیں دیتے اور ان دلائل پر اہل سفاہت اور اہل باطل کی عقل کو مقدم رکھا جاتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں سب سے بڑا الحاد، ان کی مخالفت اور معارضت ہے۔ وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ۔ ﴿وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ ’’اور انھیں گھیر لیا‘‘ ﴿مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ اس عذاب نے جس کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے ۔

[84]﴿فَلَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا ﴾ ’’جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے‘‘ تو اقرار کرنے لگے۔ تب ان کا اقرار ان کو کوئی فائدہ نہ دے سکا۔ ﴿قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗ وَؔكَفَرۡنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’وہ کہنے لگے: ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک بناتے تھے اس کا انکار کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جن بتوں اور خودساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا کرتے تھے، اس کا انکار کرتے ہیں اور ہم ہر اس علم و عمل سے براء ت کا اظہار کرتے ہیں جو رسولوں کا مخالف ہے۔

[85]﴿فَلَمۡ يَكُ يَنۡفَعُهُمۡ اِيۡمَانُهُمۡ لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا ﴾ ’’جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو ان کے ایمان نے انھیں کچھ فائدہ نہ دیا‘‘ یعنی اس حال میں ان کا ایمان انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا جب وہ ہمارا عذاب دیکھ لیں گے ﴿سُنَّتَ اللّٰهِ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور عادت ہے ﴿الَّتِيۡ قَدۡ خَلَتۡ فِيۡ عِبَادِهٖ﴾ ’’جو اس کے بندوں میں چلی آتی ہے۔‘‘ یعنی ان جھٹلانے والوں کے بارے میں، جو اس وقت ایمان لاتے ہیں جب ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان کا ایمان صحیح ہے نہ ان کو عذاب سے نجات دلا سکتا ہے۔ یہ اضطراری اور مشاہدے کا ایمان ہے۔وہ ایمان جو صاحبِ ایمان کو نجات دیتا ہے، اختیاری ایمان ہے، جو قرائن عذاب کے وجود سے پہلے پہلے، ایمان بالغیب ہے۔ ﴿وَخَسِرَ هُنَالِكَ ﴾ ’’اور خسارے میں پڑ جاتے ہیں ایسے وقت میں‘‘ جب ہم ہلاکت اور عذاب کا مزا چکھاتے ہیں ﴿الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’کافر لوگ‘‘ اپنے دین، دنیا اور آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ آخرت کے گھر میں مجرد خسارہ ہی نہیں ہو گا بلکہ ایک ایسا خسارہ ہو گا کہ وہ نہایت شدید دائمی اور ابدی عذاب کے اندر، بدبختی میں گھرا ہوا ہو گا۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 476

GhafirJuz 24 · Page 476

40:78

وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا رُسُلٗا مِّن قَبۡلِكَ مِنۡهُم مَّن قَصَصۡنَا عَلَيۡكَ وَمِنۡهُم مَّن لَّمۡ نَقۡصُصۡ عَلَيۡكَۗ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأۡتِيَ بِـَٔايَةٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ فَإِذَا جَآءَ أَمۡرُ ٱللَّهِ قُضِيَ بِٱلۡحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ ٱلۡمُبۡطِلُونَ ٧٨

And We have already sent messengers before you. Among them are those [whose stories] We have related to you, and among them are those [whose stories] We have not related to you. And it was not for any messenger to bring a sign [or verse] except by permission of Allāh. So when the command of Allāh comes, it will be concluded [i.e., judged] in truth, and the falsifiers will thereupon lose [all].

40:79

ٱللَّهُ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَنۡعَٰمَ لِتَرۡكَبُواْ مِنۡهَا وَمِنۡهَا تَأۡكُلُونَ ٧٩

It is Allāh who made for you the grazing animals upon which you ride, and some of them you eat.

40:80

وَلَكُمۡ فِيهَا مَنَٰفِعُ وَلِتَبۡلُغُواْ عَلَيۡهَا حَاجَةٗ فِي صُدُورِكُمۡ وَعَلَيۡهَا وَعَلَى ٱلۡفُلۡكِ تُحۡمَلُونَ ٨٠

And for you therein are [other] benefits and that you may realize upon them a need which is in your breasts;1 and upon them and upon ships you are carried.

1 translator’s note
  1. i.e., that you may use the animals to carry your loads to distant places, according to need. ↩

40:81

وَيُرِيكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ فَأَيَّ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ تُنكِرُونَ ٨١

And He shows you His signs. So which of the signs of Allāh do you deny?

40:82

أَفَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَانُوٓاْ أَكۡثَرَ مِنۡهُمۡ وَأَشَدَّ قُوَّةٗ وَءَاثَارٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ فَمَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ ٨٢

Have they not traveled through the land and observed how was the end of those before them? They were more numerous than themselves and greater in strength and in impression on the land, but they were not availed by what they used to earn.

40:83

فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَرِحُواْ بِمَا عِندَهُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ٨٣

And when their messengers came to them with clear proofs, they [merely] rejoiced in what they had of knowledge, but they were enveloped by what they used to ridicule.

40:84

فَلَمَّا رَأَوۡاْ بَأۡسَنَا قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَحۡدَهُۥ وَكَفَرۡنَا بِمَا كُنَّا بِهِۦ مُشۡرِكِينَ ٨٤

And when they saw Our punishment, they said, "We believe in Allāh alone and disbelieve in that which we used to associate with Him."

40:85

فَلَمۡ يَكُ يَنفَعُهُمۡ إِيمَٰنُهُمۡ لَمَّا رَأَوۡاْ بَأۡسَنَاۖ سُنَّتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي قَدۡ خَلَتۡ فِي عِبَادِهِۦۖ وَخَسِرَ هُنَالِكَ ٱلۡكَٰفِرُونَ ٨٥

But never did their faith benefit them once they saw Our punishment. [It is] the established way of Allāh which has preceded among His servants. And the disbelievers thereupon lost [all].

As-Sa'diTafsir · 40:85

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском