FussilatJuz 24 · Page 477

Fussilat 41:11

Explained in Detail · Juz 24 · Page 477

ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰٓ إِلَى ٱلسَّمَآءِ وَهِيَ دُخَانٞ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡأَرۡضِ ٱئۡتِيَا طَوۡعًا أَوۡ كَرۡهٗا قَالَتَآ أَتَيۡنَا طَآئِعِينَ ١١

Then He directed Himself1 to the heaven while it was smoke and said to it and to the earth, "Come [into being],2 willingly or by compulsion." They said, "We have come willingly."

2 translator’s notes
  1. See footnote to 2:19.

    [1386] Literally, "become" or "do [as commanded]."

    ↩
  2. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 41:9–12

کہہ دیجیے! کیا بے شک تم البتہ کفر کرتے ہو ساتھ اس ذات کے جس نے پیدا کیا زمین کو دو دن میں اور بناتے ہو تم اس کے لیے شریک، وہ رب ہے جہانوں کا(9) اور بنائے اس نے اس میں مضبوط پہاڑ اس کے اوپر اور برکت دی اس میں اور اندازہ کیا اس میں اس کی غذاؤ ں کا (یہ سارے کام ہوئے) چار دن میں، یکساں طور پر پوچھنے والوں کے لیے (10) پھر وہ متوجہ ہوا آسمان کی طرف جبکہ وہ دھواں تھا، پس کہا اللہ نے اس سے اور زمین سے، آؤ تم دونوں خوشی یا ناخوشی سے، تو کہا ان دونوں نے، آئے ہم برضاو رغبت(خوشی خوشی)(11) پس بنا دیا ان کو سات آسمان دو دن میں اور القا کیا اس نے ہر آسمان میں اس کا کام اور مزین کیا ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے اور (اس کی) حفا ظت (بھی) کی، یہ اندازہ ہے غالب خوب جاننے والے کا (12)

[9، 10] اللہ تبارک وتعالیٰ تعجب کے ساتھ کفار کے کفر کا انکار کرتا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ہم سر گھڑ رکھے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا ہوا ہے، ان کی عبادت کرتے ہیں، انھیں رب عظیم اور مالک کریم کے برابر گردانتے ہیں، جس نے اتنی بڑی زمین کو صرف دو دن میں پیدا کیا، پھر دو دن میں اس کو ہموار کیا، اس کے اندر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اسے مٹنے، ہلنے اور عدم استقرار سے روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کی تکمیل کی، پھر پھیلا کر ہموار کیا، اس میں سے خوراک اور اس کی توابعات نکالیں ﴿فِيۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ١ؕ سَوَآءًؔ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ ﴾ ’’چار دن میں، سوال کرنے والوں کے لیے یکساں ہے۔‘‘ یہ اس بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے ٹھیک ٹھیک جواب ہے۔ تجھے یہ خبر ایک خبردار ہستی کے سوا کوئی نہیں دے سکتا ہے اور یہ ایسی سچی خبر ہے جس میں کوئی کمی ہے نہ بیشی۔

[11]﴿ثُمَّ ﴾ یعنی زمین کی تخلیق کے بعد ﴿اسۡتَوٰۤى ﴾ قصد کیا ﴿اِلَى السَّمَآءِ ﴾ آسمان کی تخلیق کا ﴿وَهِيَ دُخَانٌ ﴾ ’’اور وہ دھواں تھا۔‘‘ جو پانی کی سطح پر اٹھ رہا تھا۔ ﴿فَقَالَ لَهَا ﴾ ’’پس آسمان سے کہا‘‘ چونکہ اس میں اختصاص کا وہم تھا اس لیے اس پر اپنے اس فرمان کا عطف ڈالا: ﴿وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا ﴾ ’’اور زمین سے کہ دونوں آؤ ! خوشی سے یا ناخوشی سے۔‘‘ یعنی میرے حکم کی طوعاً یا کرہاً تعمیل کرو یہ نافذ ہو کر رہے گا ﴿قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآىِٕعِيۡنَ ﴾ ’’دونوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں۔‘‘ ہمارا ارادہ تیرے ارادے کی مخالفت نہیں کر سکتا۔

[12]﴿فَقَضٰىهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ ﴾ ’’ پھر دو دن میں سات آسمان بنائے۔‘‘ پس آسمانوں اور زمین کی تخلیق چھ دنوں میں مکمل ہو گئی۔ پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت تمام کائنات کو لمحہ میں تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی مگر وہ قدرت رکھنے کے ساتھ ساتھ رفق اور حکمت والا بھی ہے، یہ اس کی حکمت اور رفق ہی ہے کہ اس نے اس کائنات کی تخلیق اس مقررہ مدت میں کی۔معلوم ہونا چاہیے کہ اس آیت کریمہ اور سورۃ النازعات کی آیت:﴿وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ دَحٰؔىهَا۰۰﴾(النّٰزعٰت: 79؍30) ’’اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا۔‘‘ میں بظاہر تعارض دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کوئی تعارض ہے نہ اختلاف… سلف میں بہت سے اہل علم نے اس کا جواب دیا ہے کہ زمین کی تخلیق اور اس کی صورت گری آسمانوں کی تخلیق سے متقدم ہے۔ جیسا کہ یہاں ذکر کیا گیا ہے اور زمین کو پھیلانا ﴿اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰۳۱ وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾(النّٰزعٰت: 79؍31۔32) ’’اس نے اس میں سے اس کا پانی جاری کیا اور چارہ اگایا، پھر اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا۔‘‘ آسمانوں کی تخلیق سے متأخر ہے جیسا کہ سورۃ النازعات میں آتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ دَحٰؔىهَاؕ۰۰ اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾(النزعت: 32-30/79)اور اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا: (وَالْاَرْضَ بَعَدَ ذٰلِکَ خَلَقَھَا)﴿وَاَوۡحٰى فِيۡ كُلِّ سَمَآءٍ اَمۡرَهَا ﴾ ’’اور ہر آسمان کی طرف اس کے کام کا حکم بھیجا۔‘‘ یعنی ہر آسمان کے لائق امروتدبیر وحی کی جوا حکم الحاکمین کی حکمت کا تقاضا تھا۔ ﴿وَزَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡيَا بِمَصَابِيۡحَ ﴾ ’’اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ذریعے سے مزین کیا۔‘‘ اس سے مراد ستارے ہیں جن سے روشنی اور راہنمائی حاصل ہوتی ہے اور ظاہری طور پر یہ ستارے آسمان کی زینت اور خوبصورتی ہیں ﴿وَحِفۡظًا ﴾ اور باطنی طور پر شیاطین سے حفاظت کے لیے ان کو شہاب ثاقب بنایا ہے تاکہ وہ آسمانوں سے سن گن نہ لے سکیں۔ ﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی زمین، آسمانوں اور ان میں جوکچھ ہے، سب کا یہ مذکورہ انتظام ﴿تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ﴾ ’’منصوبہ ہے ایک زبردست ہستی کا جو علیم بھی ہے۔‘‘ یعنی زبردست ہستی کا مقرر کردہ اندازہ ہے جو اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر تمام اشیاء پر غالب ہے اور ان کی تدبیر کر رہی ہے اور اس نے اپنی قوت اور غلبے سے تمام مخلوقات کو تخلیق کیا۔ ﴿الۡعَلِيۡمِ ﴾ جس کے علم نے غائب اور شاہد، تمام مخلوقات کا اپنے علم کے ساتھ احاطہ کر رکھا ہے۔ پس مشرکین کا اس رب عظیم اور واحد قہار کے لیے اخلاص کو ترک کر دینا، جس کے سامنے تمام مخلوق سرافگندہ ہے اور تمام کائنات پر اس کی قدرت نافذ ہے، سب سے زیادہ تعجب انگیز چیز ہے، پھر خودساختہ معبود بنانا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دینا، حالانکہ وہ اپنے اوصاف و افعال میں ناقص ہیں، اس سے بھی عجیب تر ہے۔ اگر یہ اپنی روگردانی پر جمے رہے تو دنیاوی اور اخروی عذاب کے سوا ان کا کوئی علاج نہیں۔ اس لیے ان کو ڈراتے ہوئے فرمایا:

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 477

FussilatJuz 24 · Page 477

سورة فصلت

Fussilat

Explained in Detail · Meccan · 54 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

41:1

حمٓ ١

Ḥā, Meem.1

1 translator’s note
  1. See footnote to 2:1. ↩

41:2

تَنزِيلٞ مِّنَ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٢

[This is] a revelation from the Entirely Merciful, the Especially Merciful -

41:3

كِتَٰبٞ فُصِّلَتۡ ءَايَٰتُهُۥ قُرۡءَانًا عَرَبِيّٗا لِّقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ٣

A Book whose verses have been detailed, an Arabic Qur’ān1 for a people who know,

1 translator’s note
  1. i.e., revealed in the Arabic language. ↩

41:4

بَشِيرٗا وَنَذِيرٗا فَأَعۡرَضَ أَكۡثَرُهُمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُونَ ٤

As a giver of good tidings and a warner; but most of them turn away, so they do not hear.

41:5

وَقَالُواْ قُلُوبُنَا فِيٓ أَكِنَّةٖ مِّمَّا تَدۡعُونَآ إِلَيۡهِ وَفِيٓ ءَاذَانِنَا وَقۡرٞ وَمِنۢ بَيۡنِنَا وَبَيۡنِكَ حِجَابٞ فَٱعۡمَلۡ إِنَّنَا عَٰمِلُونَ ٥

And they say, "Our hearts are within coverings [i.e., screened] from that to which you invite us, and in our ears is deafness, and between us and you is a partition, so work;1 indeed, we are working."

1 translator’s note
  1. For your own religion or work against us. ↩

41:6

قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡ يُوحَىٰٓ إِلَيَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ فَٱسۡتَقِيمُوٓاْ إِلَيۡهِ وَٱسۡتَغۡفِرُوهُۗ وَوَيۡلٞ لِّلۡمُشۡرِكِينَ ٦

Say, [O Muḥammad], "I am only a man like you to whom it has been revealed that your god is but one God; so take a straight course to Him and seek His forgiveness." And woe to those who associate others with Allāh –

41:7

ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ كَٰفِرُونَ ٧

Those who do not give zakāh, and in the Hereafter they are disbelievers.

41:8

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَهُمۡ أَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُونٖ ٨

Indeed, those who believe and do righteous deeds - for them is a reward uninterrupted.

41:9

۞ قُلۡ أَئِنَّكُمۡ لَتَكۡفُرُونَ بِٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡأَرۡضَ فِي يَوۡمَيۡنِ وَتَجۡعَلُونَ لَهُۥٓ أَندَادٗاۚ ذَٰلِكَ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٩

Say, "Do you indeed disbelieve in He who created the earth in two days and attribute to Him equals? That is the Lord of the worlds."

41:10

وَجَعَلَ فِيهَا رَوَٰسِيَ مِن فَوۡقِهَا وَبَٰرَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَآ أَقۡوَٰتَهَا فِيٓ أَرۡبَعَةِ أَيَّامٖ سَوَآءٗ لِّلسَّآئِلِينَ ١٠

And He placed on it [i.e., the earth] firmly set mountains over its surface, and He blessed it and determined therein its [creatures'] sustenance in four days without distinction1 - for [the information of] those who ask.

1 translator’s note
  1. Also "four equal days" or "four days of completion." ↩

41:11

ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰٓ إِلَى ٱلسَّمَآءِ وَهِيَ دُخَانٞ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡأَرۡضِ ٱئۡتِيَا طَوۡعًا أَوۡ كَرۡهٗا قَالَتَآ أَتَيۡنَا طَآئِعِينَ ١١

Then He directed Himself1 to the heaven while it was smoke and said to it and to the earth, "Come [into being],2 willingly or by compulsion." They said, "We have come willingly."

2 translator’s notes
  1. See footnote to 2:19.

    [1386] Literally, "become" or "do [as commanded]."

    ↩
  2. ↩
As-Sa'diTafsir · 41:11

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском