Fussilat 41:29
Explained in Detail · Juz 24 · Page 479
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ رَبَّنَآ أَرِنَا ٱلَّذَيۡنِ أَضَلَّانَا مِنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ نَجۡعَلۡهُمَا تَحۡتَ أَقۡدَامِنَا لِيَكُونَا مِنَ ٱلۡأَسۡفَلِينَ ٢٩
And those who disbelieved will [then] say, "Our Lord, show us those who misled us of the jinn and men [so] we may put them under our feet1 that they will be among the lowest."
1 translator’s note
- In the lowest depths of Hell. Or "that we may step on them" in revenge. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 41:26–29
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، نہ سنو تم اس قرآن کو اور غل مچاؤ اس (کے پڑھنے کے وقت) میں تاکہ تم غالب آ جاؤ (26) پس البتہ ہم ضرور چکھائیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا عذاب سخت اور البتہ ہم ضرور بدلہ دیں گے ان کو برے عملوں کا جو تھےوہ کرتے(27) یہ بدلہ ہے اللہ کے دشمنوں کا آگ، ان کے لیے اس میں گھر ہے ہمیشہ کا، بدلہ اس کا جو تھے وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے(28) اور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اے ہمارے رب! دکھا ہم کو وہ دونوں (فریق) جنھوں نے گمراہ کیا تھا ہم کو جنوں اور انسانوں میں سے، کر دیں ہم انھیں نیچے اپنے قدموں کے تاکہ ہوں وہ سب سے نچلے لوگوں میں سے(29)
[26] اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کے بارے میں کفار کی روگردانی اور اس روگردانی کے ضمن میں ان کی ایک دوسرے کو وصیت سے آگاہ فرماتا ہے: ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ ﴾ ’’اور کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں اس قرآن کو نہ سنو‘‘ یعنی اس قرآن کو سننے سے گریز کرو، اس کی طرف کوئی التفات کرو نہ اس کے لانے والے کی بات کی طرف کوئی توجہ دو۔ اگر تمھیں اس کے سننے کا کبھی اتفاق ہو یا اس کے احکام سننے کی دعوت دی جائے تو اس کی مخالفت کرو۔ ﴿وَالۡغَوۡا فِيۡهِ ﴾ ’’(جب پڑھا جائے تو)خوب شور مچاؤ‘‘ یعنی ایسی باتیں کرو جن کا کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ الٹا نقصان ہو۔ جہاں تک تمھارے بس میں ہو کسی کو اپنے ساتھ، قرآن کی بات کرنے اور اس کے الفاظ یا اس کے معانی کی تلاوت کی اجازت نہ دو۔ اس قرآن مجید سے اعراض کے بارے میں یہ ان کی زبانِ حال اور زبانِ مقال ہے۔﴿لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تم‘‘ اگر تم نے یہ سب کچھ کیا ﴿تَغۡلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم غالب رہو۔‘‘ یہ دشمنوں کی طرف سے گواہی ہے اور واضح ترین حق وہ ہوتا ہے جس کی گواہی خود دشمن دیں۔ کیونکہ انھوں نے اس شخص پر جو حق لے کر آیا، اپنے غلبے کا حکم صرف اعراض اور روگردانی کے حال میں ایک دوسرے کو روگردانی کی وصیت کی صورت میں لگایا۔ ان کے کلام کا مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ اس کی تلاوت میں خلل نہ ڈالیں اور اسے غور سے سنیں تو وہ کبھی غالب نہیں آسکتے کیونکہ حق ہمیشہ غالب رہتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہو سکتا۔ اس حقیقت کو اصحاب حق اور اعدائے حق سب جانتے ہیں۔
[27] چونکہ یہ سب کچھ ان کے ظلم اور عناد کے باعث تھا، اس لیے ان کی ہدایت کی توقع باقی نہیں رہی اب ان کے لیے عذاب اور سزا باقی رہ گئی تھی۔ بنابریں فرمایا:﴿فَلَنُذِيۡقَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَذَابًا شَدِيۡدًا١ۙ وَّلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’پس ہم بھی کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور ان کے برے عملوں کی، جو وہ کرتے تھے، سزا دیں گے۔‘‘ اس سے مراد کفر اور معاصی ہے اور یہ ان کے بدترین اعمال ہیں۔ یہ عذاب کی سزا ان کے شرک کی جزا ہے۔ ﴿وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18/49) ’’اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘
[28]﴿ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعۡدَآءِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے دشمنوں کی یہی سزا ہے‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کی اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے ساتھ جنگ کی۔ ان کی جزا ان کے کفر، تکذیب، مجادلہ اور جنگ کے سبب سے ﴿النَّارُ١ۚ لَهُمۡ فِيۡهَا دَارُ الۡخُلۡدِ ﴾ ’’جہنم کی آگ (ہے) جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے۔‘‘ یعنی وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے گھڑی بھر کے لیے ان سے عذاب دور نہیں ہو گا اور نہ ان کی مدد ہی کی جائے گی۔ ﴿جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ اس بات کی سزا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔‘‘ کیونکہ یہ نہایت واضح آیات اور قطعی دلائل ہیں جو یقین کا فائدہ دیتے ہیں، لہٰذا ان کا انکار کرنا سب سے بڑا عناد اور سب سے بڑا ظلم ہے۔
[29]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور کافروں نے کہا‘‘ اس سے مراد متبعین ہیں اور اس کی دلیل بعد میں آنے والا کلام ہے یعنی یہ کفار ان لوگوں پر سخت غصے کی وجہ سے یہ بات کہیں گے جنھوں نے ان کو گمراہ کیا ﴿رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَيۡنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ لوگ دکھلادے جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی جن و انس کی دونوں اصناف، جنھوں نے گمراہی اور عذاب کی طرف ہمیں دعوت دی اور اس راہ میں ہماری قیادت کی، وہ ہمیں دکھا۔ ﴿نَجۡعَلۡهُمَا تَحۡتَ اَقۡدَامِنَا لِيَكُوۡنَا مِنَ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’ہم انھیں اپنے پاؤ ں تلے روند ڈالیں، تاکہ وہ سب سے زیادہ ذلیل و خوار لوگوں میں شمار ہوں۔‘‘ انھوں نے ہمیں گمراہ کیا، ہمیں فتنے میں مبتلا کیا اور ہمیں جہنم میں ڈالنے کا سبب بنے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جہنمی ایک دوسرے کے خلاف سخت بغض رکھیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔
Page 479
41:21
وَقَالُواْ لِجُلُودِهِمۡ لِمَ شَهِدتُّمۡ عَلَيۡنَاۖ قَالُوٓاْ أَنطَقَنَا ٱللَّهُ ٱلَّذِيٓ أَنطَقَ كُلَّ شَيۡءٖۚ وَهُوَ خَلَقَكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ ٢١
And they will say to their skins, "Why have you testified against us?" They will say, "We were made to speak by Allāh, who has made everything speak; and He created you the first time, and to Him you are returned.
41:22
وَمَا كُنتُمۡ تَسۡتَتِرُونَ أَن يَشۡهَدَ عَلَيۡكُمۡ سَمۡعُكُمۡ وَلَآ أَبۡصَٰرُكُمۡ وَلَا جُلُودُكُمۡ وَلَٰكِن ظَنَنتُمۡ أَنَّ ٱللَّهَ لَا يَعۡلَمُ كَثِيرٗا مِّمَّا تَعۡمَلُونَ ٢٢
And you were not covering [i.e., protecting] yourselves,1 lest your hearing testify against you or your sight or your skins, but you assumed that Allāh does not know much of what you do.
1 translator’s note
- With righteousness or by fearing Allāh. ↩
41:23
وَذَٰلِكُمۡ ظَنُّكُمُ ٱلَّذِي ظَنَنتُم بِرَبِّكُمۡ أَرۡدَىٰكُمۡ فَأَصۡبَحۡتُم مِّنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٢٣
And that was your assumption which you assumed about your Lord. It has brought you to ruin, and you have become among the losers."
41:24
فَإِن يَصۡبِرُواْ فَٱلنَّارُ مَثۡوٗى لَّهُمۡۖ وَإِن يَسۡتَعۡتِبُواْ فَمَا هُم مِّنَ ٱلۡمُعۡتَبِينَ ٢٤
So [even] if they are patient, the Fire is a residence for them; and if they ask to appease [Allāh], they will not be of those who are allowed to appease.
41:25
۞ وَقَيَّضۡنَا لَهُمۡ قُرَنَآءَ فَزَيَّنُواْ لَهُم مَّا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ وَحَقَّ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقَوۡلُ فِيٓ أُمَمٖ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِم مِّنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِۖ إِنَّهُمۡ كَانُواْ خَٰسِرِينَ ٢٥
And We appointed for them companions1 who made attractive to them what was before them and what was behind them [of sin], and the word [i.e., decree] has come into effect upon them among nations which had passed on before them of jinn and men. Indeed, they [all] were losers.
1 translator’s note
- In this world among the evil jinn and men. ↩
41:26
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَا تَسۡمَعُواْ لِهَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ وَٱلۡغَوۡاْ فِيهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُونَ ٢٦
And those who disbelieve say, "Do not listen to this Qur’ān and speak noisily1 during [the recitation of] it that perhaps you will overcome."
1 translator’s note
- Other meanings include "speak improperly" and/or "make a clamor." The purpose of this was to prevent the hearing or understanding of the Qur’ān. ↩
41:27
فَلَنُذِيقَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ عَذَابٗا شَدِيدٗا وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ أَسۡوَأَ ٱلَّذِي كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٢٧
But We will surely cause those who disbelieve to taste a severe punishment, and We will surely recompense them for the worst of what they had been doing.
41:28
ذَٰلِكَ جَزَآءُ أَعۡدَآءِ ٱللَّهِ ٱلنَّارُۖ لَهُمۡ فِيهَا دَارُ ٱلۡخُلۡدِ جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يَجۡحَدُونَ ٢٨
That is the recompense of the enemies of Allāh - the Fire. For them therein is the home of eternity as recompense for what they, of Our verses, were rejecting.
41:29
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ رَبَّنَآ أَرِنَا ٱلَّذَيۡنِ أَضَلَّانَا مِنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ نَجۡعَلۡهُمَا تَحۡتَ أَقۡدَامِنَا لِيَكُونَا مِنَ ٱلۡأَسۡفَلِينَ ٢٩
And those who disbelieved will [then] say, "Our Lord, show us those who misled us of the jinn and men [so] we may put them under our feet1 that they will be among the lowest."
1 translator’s note
- In the lowest depths of Hell. Or "that we may step on them" in revenge. ↩