FussilatJuz 24 · Page 481

Fussilat 41:39

Explained in Detail · Juz 24 · Page 481

وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنَّكَ تَرَى ٱلۡأَرۡضَ خَٰشِعَةٗ فَإِذَآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡهَا ٱلۡمَآءَ ٱهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡۚ إِنَّ ٱلَّذِيٓ أَحۡيَاهَا لَمُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰٓۚ إِنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ ٣٩

And of His signs is that you see the earth stilled, but when We send down upon it rain, it quivers and grows. Indeed, He who has given it life is the Giver of Life to the dead. Indeed, He is over all things competent.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 41:36–39

اور اگر ابھارے آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ تو پناہ مانگیے اللہ کی، یقیناً وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (36) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے رات اور دن اور سورج اور چاند، نہ سجدہ کرو تم سورج کو اور نہ چاند کو اور سجدہ کرو اللہ کو جس نے پیدا کیا ان (سب) کو، اگر ہو تم صرف اسی کی عبادت کرتے (37) پس اگر وہ تکبر کریں، تو وہ لوگ جو آپ کے رب کے پاس ہیں، وہ تسبیح کرتے ہیں اس کی رات کو اور دن کو اور وہ نہیں تھکتے (38) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ دیکھتے ہیں آپ زمین کو دبی ہوئی(بنجر) پس جب نازل کیا ہم نے اس پر پانی تو وہ لہلہانے لگی اور ابھر آئی(بلند ہو کر) بلاشبہ وہ (اللہ) جس نے زندہ کیا اس(زمین)کو البتہ زندہ کرنے و الا ہے مردوں کو، بے شک وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(39)

[36] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انسان کو اپنے دشمن انسان کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے، یعنی اسے اس کی برائی کے مقابلے میں حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ اس کے بعد ذکر فرمایا کہ انسان شیطان کو، جو اس کا دشمن ہے، کیسے دور ہٹائے؟ اور وہ اس طرح کہ بندہ شیطان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِمَّا يَنۡزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ ﴾ ’’اگر تمھیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہو۔‘‘ یعنی آپ کسی بھی وقت، شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کریں، یعنی شیطان کا وسوسہ، اس کا شر کو آراستہ کرنا اور خیر کو بدنما بنا کر پیش کرنا، یا اس کے کسی حکم کی اطاعت کا خدشہ محسوس کریں۔ ﴿فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’تو اللہ کی پناہ مانگیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی احتیاج کا اظہار کرتے ہوئے اس سے سوال کریں کہ وہ آپ کو پناہ دے اور آپ کو شیطان سے محفوظ رکھے۔ ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ کیونکہ وہ آپ کی بات اور عاجزانہ دعا کو سنتا ہے، وہ آپ کے حال کو جانتا ہے، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ اس کی حمایت و حفاظت کے ضرورت مند ہیں۔

[37] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهِ ﴾ ’’اس کی نشانیوں میں سے‘‘ جو اس کے کمال قدرت، نفوذ مشیت، لامحدود قوت اور بندوں پر بے پایاں رحمت پر دلالت کرتی ہیں، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿الَّيۡلُ وَالنَّهَارُ ﴾ ’’دن اور رات ہیں۔‘‘ دن اپنی روشنی کی منفعت کی بنا پر نشانی ہے کہ لوگ دن کی روشنی میں اپنے کام کاج کے لیے چلتے پھرتے ہیں۔ رات اپنی تاریکی کی منفعت کی بنا پر نشانی ہے کہ مخلوق رات کی تاریکی میں آرام کرتی ہے۔ ﴿وَالشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ ﴾’’اور سورج اور چاندہیں۔‘‘ جن کے بغیر بندوں کی معاش، ان کے ابدان اور ان کے حیوانات کے ابدان درست نہیں رہتے۔ سورج اور چاند کے ساتھ مخلوق کے بے شمار مصالح وابستہ ہیں۔﴿لَا تَسۡجُدُوۡا لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ ﴾ ’’سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو‘‘ کیونکہ یہ دونوں تو مخلوق اور اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں ﴿وَاسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ خَلَقَهُنَّ ﴾ ’’اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی اسی اکیلے کی عبادت کرو کیونکہ وہی خالق عظیم ہے اور اس کے سوا تمام مخلوقات کی عبادت چھوڑ دو خواہ وہ کتنی ہی بڑی اور ان کے فوائد کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں کیونکہ یہ مصالح اور فوائد ان کے خالق کی طرف سے ودیعت کیے گئے ہیں۔ جو نہایت بابرکت اور بلند ہے، ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس اسی کے لیے اپنی عبادت کو خاص کرو اور اسی کے لیے اپنے دین کو خالص کرو۔

[38]﴿فَاِنِ اسۡتَكۡبَرُوۡا ﴾ اگر وہ تکبرو استکبار کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی آیات و براہین کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں تو وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، اللہ ان سے بے نیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ مکرم بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور ان کو جو حکم دیا جاتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿فَالَّذِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّكَ ﴾ ’’پس جو تیرے رب کے پاس ہیں‘‘ یعنی مقرب فرشتے ﴿يُسَبِّحُوۡنَ لَهٗ بِالَّيۡلِ وَالنَّهَارِ وَهُمۡ لَا يَسۡـَٔمُوۡنَ﴾ ’’وہ دن رات اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ تھکتے نہیں۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اکتاتے نہیں، کیونکہ وہ نہایت طاقتور ہوتے ہیں۔ ان کے اندر عبادت کا داعیہ بھی نہایت قوی ہوتا ہے۔

[39]﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ﴾ ’’اور اس کی نشانیوں میں سے‘‘ جو اس کے کمال قدرت اور ملکیت و تدبیر کائنات اور وحدانیت میں متفرد ہونے پر دلالت کرتی ہیں، ایک نشانی یہ ہے ﴿اَنَّكَ تَرَى الۡاَرۡضَ خَاشِعَةً ﴾ ’’کہ بے شک تو زمین کو دبی ہوئی دیکھتا ہے۔‘‘ یعنی اس کے اندر کوئی نباتات نہیں ہوتی ﴿فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَ ﴾ ’’پس جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں۔‘‘ یعنی بارش برساتے ہیں ﴿اهۡتَزَّتۡ ﴾ ’’تو وہ شاداب ہو جاتی ہے۔‘‘ یعنی نباتات کے ساتھ لہلہا اٹھتی ہے۔ ﴿وَرَبَتۡ ﴾ ’’اور ابھرنے لگتی ہے‘‘ یعنی وہ ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگاتی ہے، جس سے تمام بندوں اور زمین کی زندگی ہوتی ہے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡۤ اَحۡيَاهَا ﴾ ’’بے شک جس نے اس (زمین) کو زندہ کیا‘‘ جس نے اس کے مر جانے اور بنجر ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کیا ﴿لَمُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ وہ قبروں سے مردوں کو بھی قیامت کے روز زندہ کرے گا۔ ﴿اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ جس طرح اس کی قدرت زمین کے مردہ اور بنجر ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کرنے سے عاجز نہیں اسی طرح وہ مردوں کو زندہ کرنے میں بھی بے بس نہیں۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 481

FussilatJuz 24 · Page 481

41:39

وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنَّكَ تَرَى ٱلۡأَرۡضَ خَٰشِعَةٗ فَإِذَآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡهَا ٱلۡمَآءَ ٱهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡۚ إِنَّ ٱلَّذِيٓ أَحۡيَاهَا لَمُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰٓۚ إِنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ ٣٩

And of His signs is that you see the earth stilled, but when We send down upon it rain, it quivers and grows. Indeed, He who has given it life is the Giver of Life to the dead. Indeed, He is over all things competent.

41:40

إِنَّ ٱلَّذِينَ يُلۡحِدُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا لَا يَخۡفَوۡنَ عَلَيۡنَآۗ أَفَمَن يُلۡقَىٰ فِي ٱلنَّارِ خَيۡرٌ أَم مَّن يَأۡتِيٓ ءَامِنٗا يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ ٱعۡمَلُواْ مَا شِئۡتُمۡ إِنَّهُۥ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٌ ٤٠

Indeed, those who inject deviation into Our verses1 are not concealed from Us. So, is he who is cast into the Fire better or he who comes secure on the Day of Resurrection? Do whatever you will; indeed, He is Seeing of what you do.

1 translator’s note
  1. Through deviant recitations or interpretations. ↩

41:41

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِٱلذِّكۡرِ لَمَّا جَآءَهُمۡۖ وَإِنَّهُۥ لَكِتَٰبٌ عَزِيزٞ ٤١

Indeed, those who disbelieve in the message [i.e., the Qur’ān]1 after it has come to them...2 And indeed, it is a mighty3 Book.

3 translator’s notes
  1. i.e., reject it or prefer deviant interpretation.

    [1396] The conclusion is understood to be "...will have earned an indescribable punishment."

    [1397] Inimitable, resistant to attack, protected by Allāh.

    ↩
  2. ↩
  3. ↩

41:42

لَّا يَأۡتِيهِ ٱلۡبَٰطِلُ مِنۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهِۦۖ تَنزِيلٞ مِّنۡ حَكِيمٍ حَمِيدٖ ٤٢

Falsehood cannot approach it from before it or from behind it; [it is] a revelation from a [Lord who is] Wise and Praiseworthy.

41:43

مَّا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدۡ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبۡلِكَۚ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغۡفِرَةٖ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٖ ٤٣

Nothing is said to you, [O Muḥammad], except what was already said to the messengers before you. Indeed, your Lord is a possessor of forgiveness and a possessor of painful penalty.

41:44

وَلَوۡ جَعَلۡنَٰهُ قُرۡءَانًا أَعۡجَمِيّٗا لَّقَالُواْ لَوۡلَا فُصِّلَتۡ ءَايَٰتُهُۥٓۖ ءَا۬عۡجَمِيّٞ وَعَرَبِيّٞۗ قُلۡ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدٗى وَشِفَآءٞۚ وَٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ فِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٞ وَهُوَ عَلَيۡهِمۡ عَمًىۚ أُوْلَٰٓئِكَ يُنَادَوۡنَ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٖ ٤٤

And if We had made it a foreign [i.e., non-Arabic] Qur’ān, they would have said, "Why are its verses not explained in detail [in our language]? Is it a foreign [recitation] and an Arab [messenger]?" Say, "It is, for those who believe, a guidance and cure." And those who do not believe - in their ears is deafness, and it is upon them blindness. Those are being called from a distant place.1

1 translator’s note
  1. For all practical purposes, since they neither hear nor understand. ↩

41:45

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ فَٱخۡتُلِفَ فِيهِۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۚ وَإِنَّهُمۡ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُ مُرِيبٖ ٤٥

And We had already given Moses the Scripture, but it came under disagreement.1 And if not for a word [i.e., decree]2 that preceded from your Lord, it would have been concluded between them. And indeed they are, concerning it [i.e., the Qur’ān], in disquieting doubt.

2 translator’s notes
  1. An alternative meaning is "he was opposed over it."

    [1400] See footnote to 10:19.

    ↩
  2. ↩

41:46

مَّنۡ عَمِلَ صَٰلِحٗا فَلِنَفۡسِهِۦۖ وَمَنۡ أَسَآءَ فَعَلَيۡهَاۗ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّٰمٖ لِّلۡعَبِيدِ ٤٦

Whoever does righteousness - it is for his [own] soul; and whoever does evil [does so] against it. And your Lord is not ever unjust to [His] servants.

As-Sa'diTafsir · 41:39

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском