Ash-Shuraa 42:20
The Consultation · Juz 25 · Page 485
مَن كَانَ يُرِيدُ حَرۡثَ ٱلۡأٓخِرَةِ نَزِدۡ لَهُۥ فِي حَرۡثِهِۦۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرۡثَ ٱلدُّنۡيَا نُؤۡتِهِۦ مِنۡهَا وَمَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ ٢٠
Whoever desires the harvest of the Hereafter - We increase for him in his harvest [i.e., reward]. And whoever desires the harvest [i.e., benefits] of this world - We give him thereof, but there is not for him in the Hereafter any share.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 42:19–20
اللہ بہت مہربان ہے اپنے بندوں کے ساتھ، وہ رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ خوب طاقت ور، زبردست ہے(19) جو شخص ارادہ کرتا ہے آخرت کی کھیتی کا، زیادتی کرتے ہیں ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اور جو شخص ارادہ کرتا ہے دنیا کی کھیتی کا، دیتے ہیں ہم اس کو اس میں سے کچھ اور نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ (20)
[19] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے لطف و کرم سے آگاہ فرماتا ہے تاکہ وہ اسے پہچانیں ، اس سے محبت کریں اور اس کے فضل و کرم کے حصول کے درپے رہیں۔لطف اللہ تعالیٰ کے اوصاف میں سے ایک وصف ہے جس سے مراد وہ ہستی ہے جو ضمائر اور نیتوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو بھی جانتی ہے، جو اپنے بندوں کو، خاص طور پر اہل ایمان کو اس مقام تک پہنچاتی ہے جس کے بارے میں انھیں کوئی علم ہوتا ہے نہ گمان۔ یہ بندۂ مومن پر اس کا لطف و کرم ہے کہ اس نے بھلائی کے اسباب مہیا کر کے اسے بھلائی کی راہ دکھائی، جس کا اس کے دل میں خیال تک نہیں آتا، اس کی فطرت میں موجود یہ اسباب محبت حق اور اس کی اطاعت کی طرف بلاتے ہیں، نیز یہ کہ اس نے اپنے مکرم فرشتوں کو الہام کیا کہ وہ اس کے مومن بندوں کو ثابت قدم رکھیں، انھیں بھلائی کی ترغیب دیں، ان کے دلوں میں حق کو مزین کریں تاکہ یہ تزیین حق، اتباع حق کی دعوت دے۔ یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اہل ایمان کو اجتماعی عبادات کا حکم دیا جن کے ذریعے سے ان کے عزائم میں قوت آتی ہے، ان کی ہمتیں بیدار ہوتی ہیں ،بھلائی میں رغبت پیدا ہوتی ہے، بھلائی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور ایک دوسرے کی پیروی کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندے کو ہر سبب مہیا کیا جو اسے معاصی سے باز رکھتا ہے اور اس کے اور معاصی کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر اللہ تعالیٰ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ دنیا، مال و متاع اور ریاست وغیرہ، جس کی خاطر دنیا دار ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے بندے کو اس کی اطاعت سے دور کر دے گی یا اس میں غفلت پیدا کر دے گی یا اسے معصیت پر ابھارے گی، تو وہ اس دنیا کو اس سے دور ہٹا دیتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے اور اپنے لطف و کرم کے مطابق جسے چاہتا ہے رزق سے بہرہ مند کرتا ہے ﴿وَهُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ بہت قوت والا، نہایت غالب ہے۔‘‘ وہ تمام قوت کا مالک ہے اس کی مدد کے بغیر مخلوق میں کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔اسی کے سامنے کائنات سرنگوں ہے۔
[20] پھر فرمایا: ﴿مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ حَرۡثَ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی آخرت کا اجروثواب چاہتے ہوئے اس پر ایمان لاتا ہے، اس کی تصدیق کرتا ہے اور اس کے حصول کے لیے پوری طرح کوشاں رہتا ہے ﴿نَزِدۡ لَهٗ فِيۡ حَرۡثِهٖ﴾ ’’ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کر دیتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم اس کے عمل اور اس کی جزا کو کئی گنا کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعۡيَهَا وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعۡيُهُمۡ مَّشۡكُوۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍19) ’’جو کوئی آخرت کا گھر چاہتا ہے اور اس کے لیے کوشش کرے جیسا کہ کوشش کا حق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔‘‘ اس کے باوجود دنیا میں سے اس کے لیے مقرر کیا گیا حصہ اسے ضرور ملے گا۔ ﴿وَمَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ حَرۡثَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے۔‘‘ یعنی دنیا ہی اس کا مطلوب و مقصود ہو، آخرت کے لیے کچھ بھی آگے نہ بھیجے، اسے آخرت کے ثواب کی امید ہے نہ اس کے عذاب کا ڈر۔ ﴿نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا ﴾ تو ہم اسے دنیا میں سے اس کا حصہ عطا کرتے ہیں جو اس کے لیے مقرر ہے۔ ﴿وَمَا لَهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ مِنۡ نَّصِيۡبٍ ﴾ ’’اور اس کے لیے آخرت کا کچھ حصہ نہیں ہوگا۔‘‘ اس پر جنت حرام کر دی گئی اور وہ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کا مستحق ٹھہرا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے: ﴿مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيۡهِمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فِيۡهَا وَهُمۡ فِيۡهَا لَا يُبۡخَسُوۡنَ ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَيۡسَ لَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖٞ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِيۡهَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(ہود:11؍15، 16) ’’جو لوگ اس دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کے طلب گار ہیں ہم انھیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ اسی دنیا میں عطا کر دیتے ہیں اور اس میں ان کو کوئی گھاٹا نہیں دیا جاتا۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں کیا تھا، وہ سب اکارت ہے اور جو کچھ وہ کرتے تھے، سب برباد ہونے والا ہے۔‘‘
Page 485
42:16
وَٱلَّذِينَ يُحَآجُّونَ فِي ٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ مَا ٱسۡتُجِيبَ لَهُۥ حُجَّتُهُمۡ دَاحِضَةٌ عِندَ رَبِّهِمۡ وَعَلَيۡهِمۡ غَضَبٞ وَلَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدٌ ١٦
And those who argue concerning Allāh after He has been responded to1 - their argument is invalid with their Lord, and upon them is [His] wrath, and for them is a severe punishment.
1 translator’s note
- i.e., after people have accepted the truth from Allāh, in an attempt to turn the believers away from His religion of Islām. ↩
42:17
ٱللَّهُ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ وَٱلۡمِيزَانَۗ وَمَا يُدۡرِيكَ لَعَلَّ ٱلسَّاعَةَ قَرِيبٞ ١٧
It is Allāh who has sent down the Book in truth and [also] the balance [i.e., justice]. And what will make you perceive? Perhaps the Hour is near.
42:18
يَسۡتَعۡجِلُ بِهَا ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِهَاۖ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مُشۡفِقُونَ مِنۡهَا وَيَعۡلَمُونَ أَنَّهَا ٱلۡحَقُّۗ أَلَآ إِنَّ ٱلَّذِينَ يُمَارُونَ فِي ٱلسَّاعَةِ لَفِي ضَلَٰلِۭ بَعِيدٍ ١٨
Those who do not believe in it are impatient for it,1 but those who believe are fearful of it and know that it is the truth. Unquestionably, those who dispute concerning the Hour are in extreme error.
1 translator’s note
- They had challenged the Prophet (ﷺ) to bring it on immediately. ↩
42:19
ٱللَّهُ لَطِيفُۢ بِعِبَادِهِۦ يَرۡزُقُ مَن يَشَآءُۖ وَهُوَ ٱلۡقَوِيُّ ٱلۡعَزِيزُ ١٩
Allāh is Subtle1 with His servants; He gives provision to whom He wills. And He is the Powerful, the Exalted in Might.
1 translator’s note
- See footnote in 12:100. ↩
42:20
مَن كَانَ يُرِيدُ حَرۡثَ ٱلۡأٓخِرَةِ نَزِدۡ لَهُۥ فِي حَرۡثِهِۦۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرۡثَ ٱلدُّنۡيَا نُؤۡتِهِۦ مِنۡهَا وَمَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ ٢٠
Whoever desires the harvest of the Hereafter - We increase for him in his harvest [i.e., reward]. And whoever desires the harvest [i.e., benefits] of this world - We give him thereof, but there is not for him in the Hereafter any share.
42:21
أَمۡ لَهُمۡ شُرَكَٰٓؤُاْ شَرَعُواْ لَهُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا لَمۡ يَأۡذَنۢ بِهِ ٱللَّهُۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةُ ٱلۡفَصۡلِ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۗ وَإِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ٢١
Or have they partners [i.e., other deities] who have ordained for them a religion to which Allāh has not consented? But if not for the decisive word,1 it would have been concluded between them. And indeed, the wrongdoers will have a painful punishment.
1 translator’s note
- Decree. See footnote to 10:19. ↩
42:22
تَرَى ٱلظَّٰلِمِينَ مُشۡفِقِينَ مِمَّا كَسَبُواْ وَهُوَ وَاقِعُۢ بِهِمۡۗ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فِي رَوۡضَاتِ ٱلۡجَنَّاتِۖ لَهُم مَّا يَشَآءُونَ عِندَ رَبِّهِمۡۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡكَبِيرُ ٢٢
You will see the wrongdoers fearful of what they have earned, and it will [certainly] befall them. And those who have believed and done righteous deeds will be in lush regions of the gardens [in Paradise] having whatever they will in the presence of their Lord. That is what is the great bounty.