Ash-Shuraa 42:23
The Consultation · Juz 25 · Page 486
ذَٰلِكَ ٱلَّذِي يُبَشِّرُ ٱللَّهُ عِبَادَهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِۗ قُل لَّآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًا إِلَّا ٱلۡمَوَدَّةَ فِي ٱلۡقُرۡبَىٰۗ وَمَن يَقۡتَرِفۡ حَسَنَةٗ نَّزِدۡ لَهُۥ فِيهَا حُسۡنًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ شَكُورٌ ٢٣
It is that of which Allāh gives good tidings to His servants who believe and do righteous deeds. Say, [O Muḥammad], "I do not ask you for it [i.e., this message] any payment [but] only good will through [i.e., due to] kinship." And whoever commits a good deed - We will increase for him good therein. Indeed, Allāh is Forgiving and Appreciative.1
1 translator’s note
- See footnote in 35:30. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 42:21–23
کیا ان کے لیے(اور) شریک ہیں جنھوں نے مقرر کیا ہے ان کے لیے وہ دین کہ نہیں حکم دیا اس کا اللہ نے، اور اگر نہ ہوتی بات فیصلہ کرنے(کے وعدے)کی تو یقیناً (فوراً ہی) فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان، اور بلاشبہ ظالم لوگ، ان کے لیے عذاب ہے درد ناک (21) آپ دیکھیں گے ظالموں کو، ڈررہے ہوں گے ان (عملوں کی جزا سے) جو انھوں نے کمائے اور وہ (جزا ضرور) واقع ہو گی ان پر اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، وہ سبزہ زاروں میں ہوں گے باغوں کے، ان کے لیے ہو گا جو وہ چاہیں گے اپنے رب کے پاس، یہی ہے وہ فضل بہت بڑا (22) یہ (فضل) وہی ہے جس کی خوش خبری دیتا ہے اللہ اپنے بندوں کو، وہ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، کہہ دیجیے: نہیں سوال کرتا میں تم سے اس پر کسی صلے کا، مگر محبت کا رشتے داری کی وجہ سے اور جو شخص کماتا ہے کوئی نیکی تو زیادہ کرتے ہیں ہم اس کے لیے اس میں بھلائی کو، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت قدردان ہے (23)
[21] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے شریک بنا لیے جن کے ساتھ وہ دوستی رکھتے ہیں اور وہ کفر کے داعی انسانی شیاطین کے ساتھ کفر اور اعمال کفر میں شریک ہیں ﴿شَرَعُوۡا لَهُمۡ مِّنَ الدِّيۡنِ مَا لَمۡ يَاۡذَنۢۡ بِهِ اللّٰهُ ﴾ ’’انھوں نے ان کے لیے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا اللہ نے انھیں حکم نہیں دیا۔‘‘ یعنی شرک اور بدعات کو رواج دیا، اپنی خواہشات نفس کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا اور اس کی محرمات کو حلال قرار دیا، حالانکہ دین وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ دین قرار دے تاکہ لوگ اسے دین بنائیں اور اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کریں ۔اس بارے میں اصول یہ ہے کہ ہر شخص کے لیے کسی ایسی چیز کو شریعت قرار دینا ممنوع ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے نہ آئی ہو… تب ان فساق کو شریعت سازی کا کیوں کر اختیار دیا جا سکتا ہے جو کفار کے کفر میں شریک ہیں۔ ﴿وَلَوۡلَا كَلِمَةُ الۡفَصۡلِ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر پہلے سے طے شدہ بات نہ ہوتی تو ان کے درمیان ضرور فیصلہ کیا جاچکا ہوتا۔‘‘ یعنی اگر مدت مقرر نہ کر دی گئی ہوتی جسے اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے والے تمام گروہوں کے درمیان فیصلہ کن قرار دیا ہے نیز یہ کہ وہ ان تمام لوگوں کو اس مدت تک مہلت دے گا تو اللہ تعالیٰ اسی وقت حق پرست کی سعادت اور باطل پرست کی ہلاکت کا فیصلہ کر دیتا کیونکہ ہلاکت کا تقاضا موجود ہے، مگر ان لوگوں کو اور ہر ظالم کو آخرت میں دردناک عذاب کا سامنا کرنا ہے۔
[22] اس روز ﴿تَرَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تم ظالموں کو دیکھو گے۔‘‘ جنھوں نے کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿مُشۡفِقِيۡنَ ﴾ یعنی ڈر رہے ہوں گے ﴿مِمَّا كَسَبُوۡا ﴾ ’’اس (انجام) سے جو انھوں نے (اپنے اعمال سے) کیا۔‘‘ کہ انھیں اپنی بداعمالیوں کی سزا ملے گی۔ چونکہ ڈرنے والے کے ساتھ کبھی تو وہ چیز پیش آجاتی ہے جس سے ڈرتا ہے اور کبھی وہ چیز پیش نہیں آتی اس لیے آگاہ فرمایا کہ وہ ﴿ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ عذاب ان پر ضرور واقع ہو گا جس سے وہ ڈرتے ہیں۔ کیونکہ اس نے اس کامل سبب کو اختیار کیا ہے جو عذاب کا موجب ہے اور اس موجب عذاب کا کوئی معارض بھی نہیں، مثلاً: توبہ وغیرہ۔ مزید برآں وہ ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں مہلت کا وقت گزر گیا ہے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ اور وہ لوگ جو اپنے دل سے اللہ تعالیٰ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور اس کا اظہار کیا۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’او ر عمل کیے نیک۔‘‘ اس میں اعمال قلوب، اعمال جوارح، اعمال واجبہ اور اعمال مستحبہ سب شامل ہیں، لہٰذا یہ لوگ ﴿فِيۡ رَوۡضٰتِ الۡجَنّٰتِ ﴾ ’’بہشتوں کے باغات میں ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ ان باغات میں ہوں گے جو جنت کی طرف مضاف (منسوب) ہیں اور مضاف، مضاف الیہ کے مطابق ہوتا ہے۔مت پوچھیے کہ ان خوبصورت باغات کی خوبصورتی، ان میں اچھل اچھل کر بہتی ہوئی ندیاں، بیلوں سے ڈھکے ہوئے درخت کے جھنڈ، حسین مناظر، پھلوں سے لدے ہوئے درخت، چہچہاتے ہوئے پرندے، طرب انگیز آوازیں، تمام دوستوں سے ملاقاتیں اور اس ہم نشینی سے حاصل ہونے والا بہرۂ کامل کیسا ہو گا؟ وہ ایسے باغات ہوں گے کہ دور دور تک حسن ہی حسن ہو گا، ان باغات کے رہنے والوں میں ان باغات کی لذات کی چاہت اور اشتیاق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿لَهُمۡ مَّا يَشَآءُوۡنَ ﴾ یعنی ان باغات میں وہ جس چیز کا ارادہ کریں گے وہ فوراً انھیں حاصل ہو گی اور جب بھی طلب کریں گے حاضر کر دی جائے گی، جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے طائر خیال میں اس کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَضۡلُ الۡكَبِيۡرُ ﴾ ’’یہی ہے بہت بڑا فضل۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول میں کامیابی اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر میں اس کے تقرب کی نعمت سے بہرہ مند ہونے سے بڑھ کر بھی کوئی فضل ہے؟
[23]﴿ذٰلِكَ الَّذِيۡ يُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’یہی وہ ہے جس کی اللہ اپنے بندوں کو جو ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں بشارت دیتا ہے۔‘‘ یہ عظیم خوشخبری جو بلاشبہ علی الاطلاق سب سے بڑی خوشخبری ہے، جس سے رحمان و رحیم نے، مخلوق میں سے بہترین ہستی کے ذریعے سے ایمان اور عمل صالح کے حاملین کو سرفراز فرمایا ہے۔ یہ جلیل ترین غایت مقصود ہے اور اس مقصد تک پہنچانے والا وسیلہ افضل ترین وسیلہ ہے۔ ﴿قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے! میں اس پر تم سے کوئی سوال نہیں کرتا۔‘‘ یعنی تمھیں یہ قرآن پہنچانے اور تمھیں اس کے احکام کی طرف دعوت دینے پر ﴿اَجۡرًا ﴾ ’’اجر کا۔‘‘ میں تم سے تمھارا مال لینا چاہتا ہوں نہ تمھارا سردار بننا چاہتا ہوں اور نہ میری کوئی اور ہی غرض ہے ﴿اِلَّا الۡمَوَدَّةَ فِي الۡقُرۡبٰى﴾ ’’مگر قرابت داری کی محبت۔‘‘ ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد ہو کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے ایک اجر کے، وہ تمھارے ہی لیے ہے، اس کا فائدہ بھی تمھیں ہی پہنچتا ہے ، یعنی تم مجھ سے رشتہ داری کی وجہ سے محبت کرو اور یہ مودت، ایمان کی مودت سے زائد چیز ہے کیونکہ رسول (ﷺ) پر ایمان کی مودت اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے بعد رسول کی محبت کو تمام محبتوں پر مقدم رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اور ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایمان کی محبت زائد قرابت داری کی بنا پر اس سے محبت کرو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے قریب ترین رشتہ داروں تک اپنی دعوت پہنچائی۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ قریش کے گھرانوں میں کوئی ایسا گھرانہ نہ تھا جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی رشتہ داری نہ ہو ۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچی مودت و محبت ہو اور یہ ایسی محبت ہے جس کی مصاحبت میں تقرب الٰہی اور توسل ہوتے ہیں جن کی بنیاد اطاعت ہے، جو اس مودت و محبت کی صحت و صداقت کی دلیل ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الۡمَوَدَّةَ فِي الۡقُرۡبٰى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف تقرب حاصل کرنے کے لیے۔ دونوں اقوال کے مطابق، یہ استثنا اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اکرم ﷺ تم سے اس پر کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتے، سوائے اس چیز کے کہ جس کا فائدہ خود تمھی کی طرف لوٹتا ہے۔ یہ کسی بھی طرح کوئی اجر نہیں، بلکہ یہ تو ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اجر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ﴾(البروج:85؍8) ’’وہ اہل ایمان سے صرف اس وجہ سے ناراض ہیں کہ وہ اللہ پر ایمان لائے، جو زبردست اور قابل تعریف ہے۔‘‘ اور جیسے کسی کا یہ کہنا:تمھارے نزدیک فلاں شخص کا بس یہی گناہ ہے کہ وہ تمھارے ساتھ بھلائی کرنے والا ہے۔ ﴿وَمَنۡ يَّقۡتَرِفۡ حَسَنَةً ﴾ ’’اور جو کوئی نیکی کاکام کرے گا۔‘‘ یعنی نماز، روزہ اور حج پر کاربند رہتا ہے اور مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے۔ ﴿نَّزِدۡ لَهٗ فِيۡهَا حُسۡنًا ﴾ ’’ہم اس کے لیے اس میں بھلائی بڑھا دیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اس کے سینے کو کھول دیتا ہے، اس کے معاملے کو آسان کر دیتا ہے اور یہ نیکی کسی دوسرے نیک عمل کی توفیق کا ذریعہ بن جاتی ہے اور اس ذریعے سے مومن کے اعمال صالحہ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے نزدیک اس کا مرتبہ بلند ہو جاتا ہے اور وہ دنیاوی اور اخروی ثواب سے بہرہ مند ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ شَكُوۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بہت قدردان ہے۔‘‘ وہ توبہ کرنے پر تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ وہ تھوڑے سے عمل پر بہت زیادہ اجر عطا کر کے اس عمل کی قدر دانی کرتا ہے۔ پس وہ اپنی مغفرت کے ذریعے سے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور عیبوں کو چھپاتا ہے اور اپنی قدر دانی کی بنا پر نیکیوں کو قبول کر کے ان میں کئی گنا اضافہ کرتا ہے۔
Page 486
42:23
ذَٰلِكَ ٱلَّذِي يُبَشِّرُ ٱللَّهُ عِبَادَهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِۗ قُل لَّآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًا إِلَّا ٱلۡمَوَدَّةَ فِي ٱلۡقُرۡبَىٰۗ وَمَن يَقۡتَرِفۡ حَسَنَةٗ نَّزِدۡ لَهُۥ فِيهَا حُسۡنًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ شَكُورٌ ٢٣
It is that of which Allāh gives good tidings to His servants who believe and do righteous deeds. Say, [O Muḥammad], "I do not ask you for it [i.e., this message] any payment [but] only good will through [i.e., due to] kinship." And whoever commits a good deed - We will increase for him good therein. Indeed, Allāh is Forgiving and Appreciative.1
1 translator’s note
- See footnote in 35:30. ↩
42:24
أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗاۖ فَإِن يَشَإِ ٱللَّهُ يَخۡتِمۡ عَلَىٰ قَلۡبِكَۗ وَيَمۡحُ ٱللَّهُ ٱلۡبَٰطِلَ وَيُحِقُّ ٱلۡحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٢٤
Or do they say, "He has invented about Allāh a lie"? But if Allāh willed, He could seal over your heart.1 And Allāh eliminates falsehood and establishes the truth by His words. Indeed, He is Knowing of that within the breasts.
1 translator’s note
- i.e., He could make you forget the Qur’ān and deprive you of it. ↩
42:25
وَهُوَ ٱلَّذِي يَقۡبَلُ ٱلتَّوۡبَةَ عَنۡ عِبَادِهِۦ وَيَعۡفُواْ عَنِ ٱلسَّيِّـَٔاتِ وَيَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُونَ ٢٥
And it is He who accepts repentance from His servants and pardons misdeeds, and He knows what you do.
42:26
وَيَسۡتَجِيبُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضۡلِهِۦۚ وَٱلۡكَٰفِرُونَ لَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدٞ ٢٦
And He answers [the supplication of] those who have believed and done righteous deeds and increases [for] them from His bounty. But the disbelievers will have a severe punishment.
42:27
۞ وَلَوۡ بَسَطَ ٱللَّهُ ٱلرِّزۡقَ لِعِبَادِهِۦ لَبَغَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَٰكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٖ مَّا يَشَآءُۚ إِنَّهُۥ بِعِبَادِهِۦ خَبِيرُۢ بَصِيرٞ ٢٧
And if Allāh had extended [excessively] provision for His servants, they would have committed tyranny throughout the earth. But He sends [it] down in an amount which He wills. Indeed He is, of His servants, Aware and Seeing.
42:28
وَهُوَ ٱلَّذِي يُنَزِّلُ ٱلۡغَيۡثَ مِنۢ بَعۡدِ مَا قَنَطُواْ وَيَنشُرُ رَحۡمَتَهُۥۚ وَهُوَ ٱلۡوَلِيُّ ٱلۡحَمِيدُ ٢٨
And it is He who sends down the rain after they had despaired and spreads His mercy. And He is the Protector, the Praiseworthy.
42:29
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ خَلۡقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِن دَآبَّةٖۚ وَهُوَ عَلَىٰ جَمۡعِهِمۡ إِذَا يَشَآءُ قَدِيرٞ ٢٩
And of His signs is the creation of the heavens and earth and what He has dispersed throughout them of creatures. And He, for gathering them when He wills, is competent.
42:30
وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٖ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖ ٣٠
And whatever strikes you of disaster - it is for what your hands have earned; but He pardons much.
42:31
وَمَآ أَنتُم بِمُعۡجِزِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِۖ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ ٣١
And you will not cause failure [to Allāh]1 upon the earth. And you have not besides Allāh any protector or helper.
1 translator’s note
- i.e., escape from Him. ↩