Ash-ShuraaJuz 25 · Page 487

Ash-Shuraa 42:43

The Consultation · Juz 25 · Page 487

وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ ٤٣

And whoever is patient and forgives - indeed, that is of the matters [worthy] of resolve.1

1 translator’s note
  1. On the part of those seeking the reward of Allāh. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 42:40–43

اور بدلہ برائی کا برائی ہے اسی کی مثل، پس جو معاف کر دے اور صلح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، بلاشبہ وہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو (40) اور البتہ جس نے بدلہ لیا بعد اپنے آپ پر ظلم ہونے کے تو یہی لوگ ہیں کہ نہیں ہے اوپر ان کے کوئی راستہ (گرفت کرنے کا)(41) بلاشبہ راستہ تو ان لوگوں پر ہے جو ظلم کرتے ہیں لوگوں پر اور سرکشی کرتے ہیں زمین میں ناحق، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہے عذاب درد ناک (42) اور البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا تو بے شک یہ ہمت کے کاموں سے ہے (43)

[40] اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عقوبات کے مراتب بیان کیے ہیں، عقوبات کے تین مراتب ہیں: عدل، فضل اور ظلم۔ 1کسی کمی بیشی کے بغیر، برائی کے بدلے میں اسی جیسی برائی، مرتبۂ عدل ہے۔ پس جان کے بدلے جان ہے، عضو کے بدلے اس جیسا عضو اور مال کی ضمان اسی جیسا مال ہے۔ 2برائی کرنے والے کو معاف کر کے اصلاح کرنا مرتبۂ فضل ہے اس لیے فرمایا:﴿فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’پس جو کوئی درگزر کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اسے اجر عظیم اور ثواب جزیل عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے درگزر کرنے میں اصلاح کی شرط دلالت کرتی ہے کہ اگر مجرم عفو کے لائق نہ ہو اور مصلحت شرعیہ اس کو سزا دینے کا تقاضا کرتی ہو تو اس صورت میں وہ عفو پر مامور نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا معاف کرنے والے کو اجر عطا کرنا، عفو پر آمادہ کرتا ہے نیز اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ مخلوق کے ساتھ وہ معاملہ کرے، جو وہ اپنے بارے میں چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کرے۔ جیسا کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے، لہٰذا اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کو معاف کر دے۔ اور جیسا کہ وہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ نرمی کرے، تب اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ نرمی کرے۔ کیونکہ جزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ 3 رہا مرتبۂ ظلم، تو اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے۔ ﴿اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ جو دوسروں پر زیادتی کرنے میں ابتدا کرتے ہیں، یا جرم کرنے والے سے اس کے جرم سے بڑھ کر بدلہ لیتے ہیں تو یہ زیادتی ظلم ہے۔

[41]﴿وَلَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهٖ﴾ جو ظلم کے وقوع کے بعد ظلم کرنے والے سے بدلہ لیتا ہے۔ ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ مَا عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سَبِيۡلٍ﴾ تو یہی وہ لوگ ہیں جن پر بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الۡبَغۡيُ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَلَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهٖ﴾ دلالت کرتے ہیں کہ ظلم و زیادتی کے وقوع کے بعد بدلہ لینا ضروری ہے۔ رہا کسی پر ظلم اور زیادتی کا ارادہ کرنا اور ابھی اس سے ظلم و زیادتی واقع نہیں ہوئی تو اسے وہ سزا تو نہیں دی جائے گی جو جرم کے ارتکاب پر دی جاتی ہے، البتہ اس کو تادیبی سزا ضرور دی جائے گی جو اسے اس قول و فعل سے باز رکھ سکے جو اس سے صادر ہوا۔

[42]﴿اِنَّمَا السَّبِيۡلُ ﴾ یعنی عقوبت شرعیہ کی حجت تو صرف انھی لوگوں پر قائم ہوگی۔ ﴿عَلَى الَّذِيۡنَ يَظۡلِمُوۡنَ النَّاسَ وَيَبۡغُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں، اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں۔‘‘ یہ آیت لوگوں کے خون، مال اور ناموس کے بارے میں ظلم و زیادتی کو شامل ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یعنی ان کے ظلم و زیادتی کے مطابق ان کے قلوب و ابدان کو سخت تکلیف دینے والا عذاب ہو گا۔

[43]﴿وَلَمَنۡ صَبَرَ ﴾ ’’اور جو صبر کرے۔‘‘ یعنی مخلوق کی طرف سے جو تکلیف اسے پہنچتی ہے اس پر صبر کرتا ہے۔ ﴿وَغَفَرَ ﴾ یعنی ان سے جو جرم واقع ہوا، ان سے مسامحت کرتے ہوئے ان کو بخش دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴾ یعنی یہ چیز ایسے امور میں شمار ہوتی ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے ترغیب دی ، اس پر تاکید فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ صرف انھی لوگوں کو عطا ہوتی ہے جو صبر سے بہرہ مند اور بڑے نصیبے والے ہیں اور یہ ان امور میں سے ہے جن کی توفیق بڑے عزم و ہمت اور عقل و بصیرت والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ نفس کے لیے قول یا فعل سے انتقام نہ لینا انتہائی باعث مشقت ہے اور اذیت پر صبر کرنا، اس سے درگزر کرنا، اس کو بخش دینا اور اس کے مقابلے یں حسن سلوک سے پیش آنا تو بہت ہی پرمشقت کام ہے، مگر یہ اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے اور وہ بھی اس وصف سے متصف ہونے کے لیے اپنے نفس سے جہاد کرے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے، پھر بندہ جب اذیت برداشت کرنے کی حلاوت کو چکھ لیتا ہے اور اس کے آثار کو دیکھ لیتا ہے تو اسے شرح صدر، کشادہ دلی اور ذوق و شوق سے قبول کرتا ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 487

Ash-ShuraaJuz 25 · Page 487

42:32

وَمِنۡ ءَايَٰتِهِ ٱلۡجَوَارِ فِي ٱلۡبَحۡرِ كَٱلۡأَعۡلَٰمِ ٣٢

And of His signs are the ships in the sea, like mountains.

42:33

إِن يَشَأۡ يُسۡكِنِ ٱلرِّيحَ فَيَظۡلَلۡنَ رَوَاكِدَ عَلَىٰ ظَهۡرِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٍ ٣٣

If He willed, He could still the wind, and they would remain motionless on its surface. Indeed in that are signs for everyone patient and grateful.

42:34

أَوۡ يُوبِقۡهُنَّ بِمَا كَسَبُواْ وَيَعۡفُ عَن كَثِيرٖ ٣٤

Or He could destroy them1 for what they earned; but He pardons much.

1 translator’s note
  1. Meaning that Allāh could sink the ships by means of violent winds. ↩

42:35

وَيَعۡلَمَ ٱلَّذِينَ يُجَٰدِلُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا مَا لَهُم مِّن مَّحِيصٖ ٣٥

And [that is so] those who dispute concerning Our signs may know that for them there is no place of escape.

42:36

فَمَآ أُوتِيتُم مِّن شَيۡءٖ فَمَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۚ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ ٣٦

So whatever thing you have been given - it is but [for] enjoyment of the worldly life. But what is with Allāh is better and more lasting for those who have believed and upon their Lord rely

42:37

وَٱلَّذِينَ يَجۡتَنِبُونَ كَبَٰٓئِرَ ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡفَوَٰحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُواْ هُمۡ يَغۡفِرُونَ ٣٧

And those who avoid the major sins and immoralities, and when they are angry, they forgive,

42:38

وَٱلَّذِينَ ٱسۡتَجَابُواْ لِرَبِّهِمۡ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَمۡرُهُمۡ شُورَىٰ بَيۡنَهُمۡ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ ٣٨

And those who have responded to their Lord and established prayer and whose affair is [determined by] consultation among themselves, and from what We have provided them, they spend,

42:39

وَٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَابَهُمُ ٱلۡبَغۡيُ هُمۡ يَنتَصِرُونَ ٣٩

And those who, when tyranny strikes them, they retaliate [in a just manner].1

1 translator’s note
  1. Restoring their rights and not allowing aggressors to take advantage of them out of weakness. ↩

42:40

وَجَزَٰٓؤُاْ سَيِّئَةٖ سَيِّئَةٞ مِّثۡلُهَاۖ فَمَنۡ عَفَا وَأَصۡلَحَ فَأَجۡرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلظَّٰلِمِينَ ٤٠

And the retribution for an evil act is an evil one like it, but whoever pardons and makes reconciliation - his reward is [due] from Allāh. Indeed, He does not like wrongdoers.

42:41

وَلَمَنِ ٱنتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهِۦ فَأُوْلَٰٓئِكَ مَا عَلَيۡهِم مِّن سَبِيلٍ ٤١

And whoever retaliates after having been wronged - those have not upon them any cause [for blame].

42:42

إِنَّمَا ٱلسَّبِيلُ عَلَى ٱلَّذِينَ يَظۡلِمُونَ ٱلنَّاسَ وَيَبۡغُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّۚ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ٤٢

The cause is only against the ones who wrong the people and tyrannize upon the earth without right. Those will have a painful punishment.

42:43

وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ ٤٣

And whoever is patient and forgives - indeed, that is of the matters [worthy] of resolve.1

1 translator’s note
  1. On the part of those seeking the reward of Allāh. ↩

42:44

وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن وَلِيّٖ مِّنۢ بَعۡدِهِۦۗ وَتَرَى ٱلظَّٰلِمِينَ لَمَّا رَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَ يَقُولُونَ هَلۡ إِلَىٰ مَرَدّٖ مِّن سَبِيلٖ ٤٤

And he whom Allāh sends astray - for him there is no protector beyond Him. And you will see the wrongdoers, when they see the punishment, saying, "Is there for return [to the former world] any way?"

As-Sa'diTafsir · 42:43

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском