Ash-Shuraa 42:7
The Consultation · Juz 25 · Page 483
وَكَذَٰلِكَ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ قُرۡءَانًا عَرَبِيّٗا لِّتُنذِرَ أُمَّ ٱلۡقُرَىٰ وَمَنۡ حَوۡلَهَا وَتُنذِرَ يَوۡمَ ٱلۡجَمۡعِ لَا رَيۡبَ فِيهِۚ فَرِيقٞ فِي ٱلۡجَنَّةِ وَفَرِيقٞ فِي ٱلسَّعِيرِ ٧
And thus We have revealed to you an Arabic Qur’ān that you may warn the Mother of Cities [i.e., Makkah] and those around it1 and warn of the Day of Assembly, about which there is no doubt. A party will be in Paradise and a party in the Blaze.
1 translator’s note
- i.e., all other peoples. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 42:1–9
حٰمٓ (1)عٓسٓقٓ(2) اسی طرح وحی کرتا ہے آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے (تھے) اللہ زبردست، خوب حکمت والا(3) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہ بلند ہے خوب عظمت والا(4) قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اپنے اوپر سے، اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور مغفرت مانگتے ہیں ان کے لیے جو زمین میں ہیں، خبردار! بلاشبہ اللہ، وہی ہے بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(5) اور وہ لوگ جنھوں نے بنا لیے اس کے سوا (دوسرے) کارساز، اللہ نگہبان ہے ان پر اور نہیں ہیں آپ ان پر نگران(6) اور اسی طرح وحی کی ہم نے آپ کی طرف ایک قرآن عربی کی، تاکہ ڈرائیں آپ مکہ (والوں)کو اور ان کو جو ارد گرد ہیں اس کےاور ڈرائیں آپ جمع ہونے کے دن سے کہ نہیں ہے شک جس میں، ایک گروہ جنت میں ہو گا اور ایک گروہ بھڑکنے والی آگ میں(7) اور اگر چاہتا اللہ تو یقیناً کر دیتا ان (سب)کو امت ایک ہی اور لیکن داخل کرتا ہے وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں اور ظالم، نہیں ہے ان کے لیے کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(8) کیا بنا لیے انھوں نے اس کے سوا (دوسرے)کارساز؟ پس اللہ ہی ہے کارساز اور وہی زندہ کرے گا مردوں کو اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم، نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء و مرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کیے۔ نیز یہ کہ محمد مصطفیﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں۔ آپ کا طریقہ وہی ہے جو پہلے انبیاء و مرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال، گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں، وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچ ہے۔ اور یہ کتابیں اسی ہستی کی طرف سے نازل کی گئی ہیں، جو الوہیت، غلبۂ عظیم اور حکمت بالغہ سے موصوف ہے، تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر قدری اور تدبیر شرعی کے تحت ہیں۔ ﴿الۡعَلِيُّ ﴾ وہ اپنی ذات، اپنی قدرت اور اپنے قہروغلبہ کے ساتھ بلند ہے ﴿ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’وہ عظمت والا ہے۔‘‘ جس کی عظمتِ شان سے ﴿تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡ فَوۡقِهِنَّ ﴾ ’’قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں۔‘‘ باوجود اپنی عظمت اور مضبوطی کے ﴿وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ اور مکرم و مقرب فرشتے اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز اور اس کی ربوبیت کے سامنے مطیع اور فروتن ہیں۔ ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس کی تعظیم اور ہر نقص سے اس کی تنزیہ کرتے ہیں۔ اور ہر صفت کمال سے اسے متصف قرار دیتے ہیں۔ ﴿وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ لِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور جو زمین میں ہیں ان کے لیے وہ مغفرت طلب کرتے ہیں۔‘‘ ان سے جو ایسی باتیں صادر ہوتیں ہیں، جو ان کے رب کی عظمت اور کبریائی کے لائق نہیں، اس پر ان کے لیے بخشش مانگتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اللہ ہی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘ اگر اس کی مغفرت اور رحمت نہ ہوتی تو مخلوق پر فورا عذاب بھیج دیتا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا۔ اس امر کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و مرسلین کو عام طور پر اور نبی مصطفیٰ محمد ﷺ پر خاص طور پر وحی بھیجی، ان اوصاف سے اپنے آپ کو موصوف کرنے میں، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس قرآن کریم میں ایسے دلائل و براہین ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال، اس کے ان اسمائے عظیم سے اپنے آپ کو موصوف کرنے پر دلالت کرتے ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ قلوب اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی تعظیم اور اس کے جلال و اکرام سے لبریز ہوں، اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبودیت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ہم سر بنانا، جن کے ہاتھ میں کوئی نفع و نقصان نہیں، سب سے بڑا ظلم اور قبیح ترین قول ہے۔ یہ خود ساختہ ہم سر و معبود تو محض مخلوق ہیں اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔
[6] بنا بریں اس کے بعد فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور جنھوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں۔‘‘ ان کی اس طرح عبادت اور اطاعت کرتے ہیں، جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرتے ہیں۔ یہ خود ساختہ معبود حقیقت میں والی اور مددگار نہیں ہیں۔ ان مشرکین نے محض باطل کو اختیار کر رکھا ہے۔ ﴿اللّٰهُ حَفِيۡؔظٌ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ ان پر نگران ہے۔‘‘ وہ ان کے اعمال کو (ان کے نامۂ اعمال) میں محفوظ کرتا ہے۔ سو وہ ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِوَؔكِيۡلٍ ﴾ اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں۔‘‘ کہ آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے۔ آپ تو صرف پہنچا دینے والے ہیں اور آپ نے اپنا فرض پورا کر دیا۔
[7] پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ اور لوگوں پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے نازل کیا ہے﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ ’’عربی قرآن ۔‘‘ جو اپنے الفاظ و معانی میں واضح ہے۔ ﴿لِّتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى ﴾ ’’تاکہ آپ اہلِ مکہ کو ڈرائیں۔‘‘ اس سے مکہ مکرمہ ہی مراد ہے۔ ﴿وَمَنۡ حَوۡلَهَا ﴾ اور جو مکہ مکرمہ کے ارد گرد عرب بستیاں ہیں اور پھر یہ ڈرانا تمام مخلوق کو شامل ہوجاتا ہے۔ ﴿وَتُنۡذِرَ ﴾ تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں ﴿يَوۡمَ الۡجَمۡعِ ﴾ اس دن سےجس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو جمع کرے گا۔ اور انھیں آگاہ کیجیے کہ ﴿لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں اور اس دن تمام مخلوق دو گروہوں میں تقسیم ہو گی۔ ﴿فَرِيۡقٌ فِي الۡجَنَّةِ ﴾ ’’ایک گروہ جنت میں ہوگا۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی ﴿وَفَرِيۡقٌ فِي السَّعِيۡرِ﴾ ’’اور ایک گروہ آگ میں ہوگا۔‘‘ یہ لوگ کفار اور اہل تکذیب کی تمام اصناف پر مشتمل ہیں۔
[8]﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ بایں ہمہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو بنا دیتا تمام لوگوں کو ﴿اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’ایک امت ‘‘ جو راہ ہدایت پر چلتی کیونکہ وہ قادر مطلق ہے، کسی چیز کو اس کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں مگر اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی مخلوق کے خاص بندوں میں سے جسے چاہے اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔ رہے ظالم لوگ جن سے کوئی نیکی نہیں ہوتی تو وہ اس کی رحمت سے محروم رہیں گے۔ ﴿مَا لَهُمۡ﴾ ’’نہیں ہے ان کے لیے۔‘‘ اللہ کے سوا ﴿ مِّنۡ وَّلِيٍّ ﴾’’کوئی کارساز۔‘‘ جو ان کی مدد کر سکے اور اس طرح ان کو اپنا محبوب و مرغوب مقصد حاصل ہو سکے۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار ہو گا۔‘‘، جو ان سے کسی تکلیف دہ امر کو دور کر سکے۔
[9]﴿اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’کیا ان لوگوں نے دوسروں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے؟‘‘ جو ان کی عبادت کے ذریعے سے ان کو اپنا مددگار بناتے ہیں، وہ قبیح ترین غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی والی و مددگار ہے، اس کا بندہ اس کی عبادت و اطاعت اور ہر ممکن وسیلۂ تقرب کے ذریعے سے اس کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ عمومی طور پر تمام بندوں کا اپنی تدبیر اور ان پر قدرت کے نفاذ کے ذریعے سے سرپرست ہے اور خاص طور پر اپنے مومن بندوں کی اس طرح سرپرستی فرماتا ہے کہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اپنے لطف و کرم سے ان کی تربیت کرتا اور تمام امور میں ان پر اپنی اعانت کا فیضان کرتا ہے۔ ﴿وَهُوَ يُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ١ٞ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہی مردے زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قارد ہے۔‘‘ یعنی زندگی و موت اور نفوذ مشیت و قدرت میں وہی تصرف کرتا ہے اور وہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
Page 483
سورة الشورى
Ash-Shuraa
The Consultation · Meccan · 53 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
42:1
حمٓ ١
Ḥā, Meem.
42:2
عٓسٓقٓ ٢
ʿAyn, Seen, Qāf.1
1 translator’s note
- See footnote to 2:1. ↩
42:3
كَذَٰلِكَ يُوحِيٓ إِلَيۡكَ وَإِلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكَ ٱللَّهُ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٣
Thus has He revealed to you, [O Muḥammad], and to those before you - Allāh, the Exalted in Might, the Wise.
42:4
لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ ٤
To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth, and He is the Most High, the Most Great.1
1 translator’s note
- See footnote to 2:255. ↩
42:5
تَكَادُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِن فَوۡقِهِنَّۚ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَيَسۡتَغۡفِرُونَ لِمَن فِي ٱلۡأَرۡضِۗ أَلَآ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٥
The heavens almost break from above them,1 and the angels exalt [Allāh] with praise of their Lord and ask forgiveness for those on earth. Unquestionably, it is Allāh who is the Forgiving, the Merciful.
1 translator’s note
- i.e., from the grandeur of Allāh (subḥānahu wa taʿālā) above them. ↩
42:6
وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ ٱللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيۡهِمۡ وَمَآ أَنتَ عَلَيۡهِم بِوَكِيلٖ ٦
And those who take as allies other than Him - Allāh is [yet] Guardian over them; and you, [O Muḥammad], are not over them a manager -
42:7
وَكَذَٰلِكَ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ قُرۡءَانًا عَرَبِيّٗا لِّتُنذِرَ أُمَّ ٱلۡقُرَىٰ وَمَنۡ حَوۡلَهَا وَتُنذِرَ يَوۡمَ ٱلۡجَمۡعِ لَا رَيۡبَ فِيهِۚ فَرِيقٞ فِي ٱلۡجَنَّةِ وَفَرِيقٞ فِي ٱلسَّعِيرِ ٧
And thus We have revealed to you an Arabic Qur’ān that you may warn the Mother of Cities [i.e., Makkah] and those around it1 and warn of the Day of Assembly, about which there is no doubt. A party will be in Paradise and a party in the Blaze.
1 translator’s note
- i.e., all other peoples. ↩
42:8
وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَهُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَلَٰكِن يُدۡخِلُ مَن يَشَآءُ فِي رَحۡمَتِهِۦۚ وَٱلظَّٰلِمُونَ مَا لَهُم مِّن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٍ ٨
And if Allāh willed, He could have made them [of] one religion, but He admits whom He wills1 into His mercy. And the wrongdoers have not any protector or helper.
1 translator’s note
- i.e., those who desire His guidance and His acceptance of them. ↩
42:9
أَمِ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَۖ فَٱللَّهُ هُوَ ٱلۡوَلِيُّ وَهُوَ يُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٩
Or have they taken protectors [or allies] besides Him? But Allāh - He is the Protector, and He gives life to the dead, and He is over all things competent.
42:10
وَمَا ٱخۡتَلَفۡتُمۡ فِيهِ مِن شَيۡءٖ فَحُكۡمُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبِّي عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَإِلَيۡهِ أُنِيبُ ١٠
And in anything over which you disagree - its ruling is [to be referred] to Allāh. [Say], "That is Allāh, my Lord; upon Him I have relied, and to Him I turn back."1
1 translator’s note
- In remembrance and repentance. ↩