Az-ZukhrufJuz 25 · Page 491

Az-Zukhruf 43:25

The Ornaments of Gold · Juz 25 · Page 491

فَٱنتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ٢٥

So We took retribution from them; then see how was the end of the deniers.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 43:15–25

اور بنا لیا انھوں نے اس کے لیے، اس کےبندوں میں سے ایک حصہ، بلاشبہ انسان البتہ بہت ناشکرا ہے صریح (15) کیا لیں اس نے ان میں سے جو وہ پیدا کرتا ہے، بیٹیاں اورنوزا تم کو ساتھ بیٹوں کے (16) حالانکہ جب خوشخبری دی جاتی ہے ایک کو ان میں سے ساتھ اس کے کہ بیان کی اس نے رحمان کے لیے مثال تو ہو جاتا ہے اس کا چہرہ سیاہ اور وہ غم سے بھرا ہوتا ہے (17) کیا (اس کو اولاد ٹھہرایا ہے؟) جس کی پرورش کی جاتی ہے زیور میں اور وہ بحث و حجت میں نہیں ہے (بات کو) واضح کرنے والی (18) اور ٹھہرایا ہے انھوں نے فرشتوں کو، وہ جو بندے ہیں رحمن کے، عورتیں، کیا وہ حاضر تھے ان کی پیدائش کے وقت؟ضرور لکھی جائے گی شہادت ان کی اور وہ سوال کیے جائیں گے(19) اور انھوں نے کہا: اگر چاہے رحمن تو نہ عبادت کریں ہم ان کی، نہیں ہے واسطے ان کے اس کی بابت کوئی علم، نہیں ہیں وہ مگر اٹکل پچو باتیں کرتے (20) یا دی ہے ہم نے ان کو کوئی کتاب اس سے پہلے، پس وہ اس کو تھامنے والے ہیں؟ (21)(نہیں)بلکہ انھوں نے کہا: بلاشبہ پایا ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر اور ہم تو ان کے نشانات ِقدم ہی کے پیچھے چلنے والے ہیں (22) اور اسی طرح نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، مگر کہا ان کے خوش حال لوگوں نے، بلاشبہ پایا ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر اور ہم تو ان کے نشانات ِ قدم ہی کی اقتدا کرنے والے ہیں (23) پیغمبر نے کہا: خواہ لاؤ ں میں تمھارے پاس صحیح تر، اس سے کہ پایا تم نے اس پر اپنے باپ دادوں کو؟ انھوں نے کہا، یقیناً ہم تو ساتھ اس کے، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں (24) تو بدلہ لیا ہم نے ان سے، پس دیکھیے! کیا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا؟ (25)

[15] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے قول کی قباحت بیان کرتا ہے، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے حالانکہ وہ اکیلا اور بے نیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے: ۱۔ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اس کے بندے ہیں اور بندگی اولاد ہونے کے منافی ہے۔ ۲۔ بیٹا اپنے والد کا جز ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے علیحدہ ہے وہ اپنی صفات کمال اور نعوت جلال میں تمام مخلوق سے الگ ہے جبکہ بیٹا والد کا جز ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونا محال ہے۔

[16] ۳۔ کفار سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں حالانکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ بیٹیاں کمزور ترین صنف ہے اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تو بیٹیاں ہوں اور ان کو وہ بیٹے عطا کرے اور بیٹوں کے ذریعے سے ان کو فضیلت عطا کرے۔ اس صورت میں تو مخلوق اللہ تعالیٰ سے افضل ہے اور اللہ سے بالاوبلندتر ہے۔

[17] ۴۔ وہ صنف، جس کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے، یعنی بیٹیاں، تو یہ کمزور ترین اور خود ان کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسند صنف ہے حتیٰ کہ ان کی کراہت کا یہ حال ہے۔ ﴿وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمۡ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحۡمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجۡهُهٗ مُسۡوَدًّا ﴾ ’’ان میں سے کسی کو بیٹی کی ولادت کی، جسے وہ رحمان کی طرف منسوب کرتا ہے، خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے‘‘ یعنی سخت ناپسندیدگی اور ناراضی کے باعث اس کے چہرے پر سیاہی چھا جاتی ہے۔ ایسی چیز کو اللہ تعالیٰ کے لیے کیوں کر مقرر کرتے ہیں جسے وہ خود ناپسند کرتے ہیں۔

[18] ۵۔ عورت اپنے وصف، اپنی منطق اور اپنے بیان کے اعتبار سے ناقص ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَوَمَنۡ يُّنَشَّؤُا فِي الۡؔحِلۡيَةِ ﴾ ’’کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے۔‘‘ یعنی اپنے حسن و جمال میں کمی کی وجہ سے آرائش کرتی ہے اور ایک امر خارج سے خوبصورتی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ﴿وَهُوَ فِي الۡخِصَامِ ﴾ اور بحث اور جھگڑے کے وقت، جو اس چیز کا موجب ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات کو واضح کرے۔ ﴿غَيۡرُ مُبِيۡنٍ ﴾ تو وہ اپنی بات کو واضح اور اپنے مافی الضمیر کو کھول کر بیان نہیں کرسکتی تو یہ مشرکین اسے اللہ تعالیٰ کی طرف کیسے منسوب کرتے ہیں۔

[19] ۶۔ انھوں نے فرشتوں کو جو رحمن کے بندے ہیں، عورتیں قرار دے دیا پس اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کے بارے میں جسارت کی، انھوں نے ان کو بندگی اور اطاعت کے مرتبہ سے اٹھا کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی بعض صفات میں مشارکت کے مرتبہ پر فائز کر دیا، پھر ان کو مذکر کے مرتبہ سے نیچے مؤنث کے مرتبہ پر لے آئے۔ پس پاک ہے وہ ذات ہے جس نے ان لوگوں کے تناقض کو ظاہر کر دیا جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا اور اس کے رسولوں کے ساتھ عناد رکھا۔ ۷۔ اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کے ذریعے سے ان کے دعوے کا رد کیا کہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو تخلیق فرمایا، پس وہ کسی ایسے معاملے میں کیسے بات کرتے ہیں جس کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ اس ضمن میں ان کے پاس کوئی علم نہیں۔ ان سے اس شہادت کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا، اس شہادت کو ان پر لازم کر دیا جائے گا اور اس پر ان کو سزا دی جائے گی۔

[20]﴿وَقَالُوۡا لَوۡ شَآءَ الرَّحۡمٰنُ مَا عَبَدۡنٰهُمۡ ﴾ ’’اور کہتے ہیں، اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔‘‘ فرشتوں کی عبادت کرنے کے لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی مشیت کو دلیل بنایا۔ مشرکین ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی مشیت کو دلیل بناتے چلے آئے ہیں۔ یہ عقلی اور شرعی طور پر فی نفسہ باطل دلیل ہے۔ کوئی عقل مند شخص تقدیر کی دلیل کو قبول نہیں کر سکتا۔ اگر وہ کسی حال میں اس راہ پر گامزن ہوتا ہے تو اس پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔ رہا شرعی طور پر مشیت الٰہی کو دلیل بنانا، تو اللہ تعالیٰ نے مشیت کی دلیل کو باطل ٹھہرا دیا ہے۔ مشرکین اور رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے سوا کسی نے مشیت الٰہی کو دلیل نہیں بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حجت قائم کر دی ہے۔ اب بندوں کے لیے کوئی حجت باقی نہیں رہی۔

[21] بنابریں فرمایا: ﴿مَا لَهُمۡ بِذٰلِكَ مِنۡ عِلۡمٍ١ۗ اِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ﴾ ’’ان کو اس کا کچھ علم نہیں وہ محض اٹکل پچو سے کام لیتے ہیں۔‘‘ جس کی کوئی دلیل نہیں ہوتی اور وہ شب کو اونٹنی کی مانند ٹیڑھی چال چلتے ہیں۔ ﴿اَمۡ اٰتَيۡنٰهُمۡ كِتٰبًا مِّنۡ قَبۡلِهٖ فَهُمۡ بِهٖ مُسۡتَمۡسِكُوۡنَ۠ ﴾ ’’کیا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس سے سند پکڑتے ہیں؟‘‘ یعنی جو ان کے افعال کی صحت اور اقوال کی صداقت کے بارے میں خبر دیتی ہو، مگر معاملہ ایسا نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیﷺ کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور آپ کے سوا اور کوئی ڈرانے والا ان کے پاس نہیں آیا ۔جب عقل و نقل سے دونوں امور کی نفی ثابت ہو گئی، تب وہاں باطل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔

[22] ہاں، ایک شبہ باقی ہے جو کمزور ترین شبہ ہے اور وہ ہے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلیدجس کی وجہ سے یہ کافر اللہ کے رسولوں کی دعوت کو ٹھکراتے رہے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿بَلۡ قَالُوۡۤا اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ ﴾ ’’بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے۔‘‘ یعنی ایک دین اور ملت پر ﴿وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم انھی کے قدم بقدم چل رہے ہیں۔‘‘ اس لیے ہم اس چیز کی پیروی نہیں کریں گے جو محمد (ﷺ) لے کر آئے ہیں۔

[23]﴿وَؔكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ﴾ ’’اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ہدایت دینے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا۔‘‘ یعنی بستی کے وہ لوگ جو نعمتوں سے نوازے گئے تھے اور وہ اشراف جن کو دنیا نے سرکش اور مال و دولت نے مغرور بنا دیا تھا اور وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے تھے۔ کہا: ﴿اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انھی کے نقش قدم کی اقتدا کر رہے ہیں۔ ‘‘پس ان لوگوں کا یہ رویہ کوئی نئی چیز نہیں ہے اور نہ یہ پہلے لوگ ہی ہیں جنھوں نے یہ بات کہی ہو۔ ان گمراہ مشرکین کا اپنے آباء و اجداد کی تقلید کو دلیل بنانے کا مقصد حق اور ہدایت کی اتباع نہیں، بلکہ یہ تو محض تعصب ہے جس کا مقصد اپنے باطل موقف کی تائید و نصرت ہے۔

[24] بنابریں ہر رسول نے، ایسے لوگوں سے جنھوں نے اس باطل شبہ کی بنا پر اس کی مخالفت کی، کہا ہے:﴿ اَوَلَوۡ جِئۡتُكُمۡ بِاَهۡدٰؔى مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَيۡهِ اٰبَآءَكُمۡ ﴾ ’’اگرچہ میں تمھارے پاس ایسا دین لاؤ ں کہ جس راستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہ اس سے کہیں سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی کیا تم ہدایت کی خاطر میری پیروی کرو گے؟ ﴿قَالُوۡۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا: جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو، ہم تو اس کا انکار کرتے ہیں۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ارادہ حق اور ہدایت کی اتباع نہ تھا۔ ان کا مقصد تو صرف باطل اور خواہشات نفس کی پیروی تھا۔

[25]﴿فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ پس اس باطل شبہ کی بنیاد پر ان کے حق کی تکذیب کرنے اور اس کو ٹھکرانے کا ہم نے ان سے انتقام لیا۔ ﴿فَانۡظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’پس دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ پس ان لوگوں کو اپنی تکذیب پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 491

Az-ZukhrufJuz 25 · Page 491

43:23

وَكَذَٰلِكَ مَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ فِي قَرۡيَةٖ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوهَآ إِنَّا وَجَدۡنَآ ءَابَآءَنَا عَلَىٰٓ أُمَّةٖ وَإِنَّا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم مُّقۡتَدُونَ ٢٣

And similarly, We did not send before you any warner into a city except that its affluent said, "Indeed, we found our fathers upon a religion, and we are, in their footsteps, following."

43:24

۞ قَٰلَ أَوَلَوۡ جِئۡتُكُم بِأَهۡدَىٰ مِمَّا وَجَدتُّمۡ عَلَيۡهِ ءَابَآءَكُمۡۖ قَالُوٓاْ إِنَّا بِمَآ أُرۡسِلۡتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ ٢٤

[Each warner] said, "Even if I brought you better guidance than that [religion] upon which you found your fathers?" They said, "Indeed we, in that with which you were sent, are disbelievers."

43:25

فَٱنتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ٢٥

So We took retribution from them; then see how was the end of the deniers.

43:26

وَإِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوۡمِهِۦٓ إِنَّنِي بَرَآءٞ مِّمَّا تَعۡبُدُونَ ٢٦

And [mention, O Muḥammad], when Abraham said to his father and his people, "Indeed, I am disassociated from that which you worship

43:27

إِلَّا ٱلَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُۥ سَيَهۡدِينِ ٢٧

Except for He who created me; and indeed, He will guide me."

43:28

وَجَعَلَهَا كَلِمَةَۢ بَاقِيَةٗ فِي عَقِبِهِۦ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ ٢٨

And he made it1 a word remaining among his descendants that they might return [to it].

1 translator’s note
  1. i.e., his testimony that none is worthy of worship except Allāh. ↩

43:29

بَلۡ مَتَّعۡتُ هَٰٓؤُلَآءِ وَءَابَآءَهُمۡ حَتَّىٰ جَآءَهُمُ ٱلۡحَقُّ وَرَسُولٞ مُّبِينٞ ٢٩

However, I gave enjoyment to these [people of Makkah] and their fathers1 until there came to them the truth and a clear Messenger.2

2 translator’s notes
  1. The descendants of Abraham.

    [1438] i.e., one who is obvious with a clear message, meaning Muḥammad (ﷺ).

    ↩
  2. ↩

43:30

وَلَمَّا جَآءَهُمُ ٱلۡحَقُّ قَالُواْ هَٰذَا سِحۡرٞ وَإِنَّا بِهِۦ كَٰفِرُونَ ٣٠

But when the truth came to them, they said, "This is magic, and indeed we are, concerning it, disbelievers."

43:31

وَقَالُواْ لَوۡلَا نُزِّلَ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانُ عَلَىٰ رَجُلٖ مِّنَ ٱلۡقَرۡيَتَيۡنِ عَظِيمٍ ٣١

And they said, "Why was this Qur’ān not sent down upon a great man from [one of] the two cities?"1

1 translator’s note
  1. Referring to Makkah and aṭ-Ṭā’if. ↩

43:32

أَهُمۡ يَقۡسِمُونَ رَحۡمَتَ رَبِّكَۚ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُم مَّعِيشَتَهُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۚ وَرَفَعۡنَا بَعۡضَهُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٖ دَرَجَٰتٖ لِّيَتَّخِذَ بَعۡضُهُم بَعۡضٗا سُخۡرِيّٗاۗ وَرَحۡمَتُ رَبِّكَ خَيۡرٞ مِّمَّا يَجۡمَعُونَ ٣٢

Do they distribute the mercy of your Lord? It is We who have apportioned among them their livelihood in the life of this world and have raised some of them above others in degrees [of rank] that they may make use of one another for service. But the mercy of your Lord is better than whatever they accumulate.

43:33

وَلَوۡلَآ أَن يَكُونَ ٱلنَّاسُ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ لَّجَعَلۡنَا لِمَن يَكۡفُرُ بِٱلرَّحۡمَٰنِ لِبُيُوتِهِمۡ سُقُفٗا مِّن فِضَّةٖ وَمَعَارِجَ عَلَيۡهَا يَظۡهَرُونَ ٣٣

And if it were not that the people would become one community [of disbelievers],1 We would have made for those who disbelieve in the Most Merciful - for their houses - ceilings and stairways of silver upon which to mount.

1 translator’s note
  1. Who assumed that Allāh's generosity to them was a sign of His approval or who would hasten to disbelief in order to obtain wealth. ↩
As-Sa'diTafsir · 43:25

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском