Ad-Dukhan 44:25
The Smoke · Juz 25 · Page 497
كَمۡ تَرَكُواْ مِن جَنَّٰتٖ وَعُيُونٖ ٢٥
How much they left behind of gardens and springs
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 44:17–33
اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)
[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔
[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔
[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘
[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
Page 497
44:19
وَأَن لَّا تَعۡلُواْ عَلَى ٱللَّهِۖ إِنِّيٓ ءَاتِيكُم بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ ١٩
And [saying], "Be not haughty with Allāh. Indeed, I have come to you with clear evidence.
44:20
وَإِنِّي عُذۡتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمۡ أَن تَرۡجُمُونِ ٢٠
And indeed, I have sought refuge in my Lord and your Lord, lest you stone me.1
1 translator’s note
- To death. Or "lest you assault me [with your tongues or harm me otherwise]." ↩
44:21
وَإِن لَّمۡ تُؤۡمِنُواْ لِي فَٱعۡتَزِلُونِ ٢١
But if you do not believe me, then leave me alone."
44:22
فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنَّ هَٰٓؤُلَآءِ قَوۡمٞ مُّجۡرِمُونَ ٢٢
And [finally] he called to his Lord that these were a criminal people.
44:23
فَأَسۡرِ بِعِبَادِي لَيۡلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ ٢٣
[Allāh said], "Then set out with My servants by night. Indeed, you are to be pursued.
44:24
وَٱتۡرُكِ ٱلۡبَحۡرَ رَهۡوًاۖ إِنَّهُمۡ جُندٞ مُّغۡرَقُونَ ٢٤
And leave the sea in stillness.1 Indeed, they are an army to be drowned."
1 translator’s note
- After it has parted, in order that the soldiers of Pharaoh would follow the Children of Israel and be drowned. ↩
44:25
كَمۡ تَرَكُواْ مِن جَنَّٰتٖ وَعُيُونٖ ٢٥
How much they left behind of gardens and springs
44:26
وَزُرُوعٖ وَمَقَامٖ كَرِيمٖ ٢٦
And crops and noble sites
44:27
وَنَعۡمَةٖ كَانُواْ فِيهَا فَٰكِهِينَ ٢٧
And comfort wherein they were amused.
44:28
كَذَٰلِكَۖ وَأَوۡرَثۡنَٰهَا قَوۡمًا ءَاخَرِينَ ٢٨
Thus. And We caused to inherit it another people.
44:29
فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلسَّمَآءُ وَٱلۡأَرۡضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ ٢٩
And the heaven and earth wept not for them, nor were they reprieved.
44:30
وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ مِنَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡمُهِينِ ٣٠
And We certainly saved the Children of Israel from the humiliating torment -
44:31
مِن فِرۡعَوۡنَۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَالِيٗا مِّنَ ٱلۡمُسۡرِفِينَ ٣١
From Pharaoh. Indeed, he was a haughty one among the transgressors.
44:32
وَلَقَدِ ٱخۡتَرۡنَٰهُمۡ عَلَىٰ عِلۡمٍ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ ٣٢
And We certainly chose them by knowledge over [all] the worlds.
44:33
وَءَاتَيۡنَٰهُم مِّنَ ٱلۡأٓيَٰتِ مَا فِيهِ بَلَٰٓؤٞاْ مُّبِينٌ ٣٣
And We gave them of signs that in which there was a clear trial.
44:34
إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ لَيَقُولُونَ ٣٤
Indeed, these [disbelievers] are saying,
44:35
إِنۡ هِيَ إِلَّا مَوۡتَتُنَا ٱلۡأُولَىٰ وَمَا نَحۡنُ بِمُنشَرِينَ ٣٥
"There is not but our first death, and we will not be resurrected.
44:36
فَأۡتُواْ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٣٦
Then bring [back] our forefathers, if you should be truthful."
44:37
أَهُمۡ خَيۡرٌ أَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٖ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ أَهۡلَكۡنَٰهُمۡۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ مُجۡرِمِينَ ٣٧
Are they better or the people of Tubbaʿ1 and those before them? We destroyed them, [for] indeed, they were criminals.
1 translator’s note
- The tribe of Saba’. ↩
44:38
وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا لَٰعِبِينَ ٣٨
And We did not create the heavens and earth and that between them in play.
44:39
مَا خَلَقۡنَٰهُمَآ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٣٩
We did not create them except in truth, but most of them do not know.