Al-Ahqaf 46:18
The Wind-Curved Sandhills · Juz 26 · Page 504
أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ حَقَّ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقَوۡلُ فِيٓ أُمَمٖ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِم مِّنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِۖ إِنَّهُمۡ كَانُواْ خَٰسِرِينَ ١٨
Those are the ones upon whom the word [i.e., decree] has come into effect, [who will be] among nations which had passed on before them of jinn and men. Indeed, they [all] were losers.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 46:17–19
اور وہ جس نے کہا اپنے والدین سے اف ہے تم دونوں پر، کیا تم دونوں وعدہ دیتے ہو مجھے یہ کہ نکالا جاؤ ں گا میں(قبر سے)حالانکہ گزر چکی ہیں(بہت سی) امتیں مجھ سے پہلے، جبکہ وہ دونوں فریاد کرتے ہیں اللہ سے، ہلاک ہو جائے تو! ایمان لے آ، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے، پس وہ کہتا ہے: نہیں ہے یہ مگر (قصے) کہانیاں پہلے لوگوں کی (17) یہ وہ لوگ ہیں کہ ثابت ہو گئی ان پر بات (عذاب کی) ، ان امتوں میں جو گزر چکیں پہلے ان سے جنوں اور انسانوں میں سے بے شک وہ تھے خسارہ پانے والے (18) اور ہر ایک کے لیے درجے ہیں (مطابق) اس کےجو عمل کیے انھوں نے اور تاکہ پورا دے ان کو (اللہ بدلہ) ان کے اعمال کا، اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(19)
[17] اللہ تبارک و تعالی نے اس صالح شخص کا حال بیان کرنے کے بعد جو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہے، اس شخص کا حال بیان کیا ہے جو اپنے والدین کا نافرمان ہے، نیز ذکر فرمایا کہ یہ بدترین حال ہے، لہٰذا فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ قَالَ لِوَالِدَيۡهِ﴾ ’’اور جس نے اپنے والدین سے کہا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اس کو اللہ تعالی اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دی اور اسے بداعمالیوں کی سزا سے ڈرایا اور یہ عظیم ترین احسان ہے جو والدین کی طرف سے اپنی اولاد کے لیے صادر ہوتا ہے کہ وہ انھیں ایسے امور کی طرف دعوت دیتے ہیں جن میں ابدی سعادت اور سرمدی فلاح ہے مگر وہ بدترین طریقے سے اپنے والدین کے ساتھ پیش آیا، اس نے کہا:﴿ اُفٍّ لَّـكُمَاۤ﴾ یعنی ہلاکت ہو تمھارے لیے اور اس دعوت کے لیے جسے تم پیش کرتے ہو،پھر اس نے اپنے انکار اور اس امر کا ذکر کیا جسے وہ محال سمجھتا تھا، اور کہا:﴿ اَتَعِدٰؔنِنِيۡۤ اَنۡ اُخۡرَجَ﴾ کیا تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ قیامت کے روز مجھے میری قبر سے نکالا جائے گا ﴿ وَقَدۡ خَلَتِ الۡقُرُوۡنُ مِنۡ قَبۡلِيۡ﴾’’حالانکہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں۔‘‘ جو تکذیب اور کفر کی راہ پر گامزن تھے، جو ہر کافر، جاہل اور معاندِ حق کے راہ نما اور مقتدیٰ تھے۔﴿ وَهُمَا﴾ یعنی اس کے والدین ﴿ يَسۡتَغِيۡثٰنِ﴾ اس کے بارے میں اللہ تعالی سے مدد طلب کرتے ہوئے کہتے تھے: ﴿ وَيۡلَكَ اٰمِنۡ﴾ یعنی وہ اس کی ہدایت کے لیے انتہائی جدوجہد اور پوری کوشش کر رہے تھےحتی کہ اس کے ایمان کی سخت حرص کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح مدد مانگ رہے تھے جیسے ڈوبتا ہوا شخص مدد کے لیے پکارتا ہے۔وہ اس طرح اللہ تعالی سے سوال کر رہے تھے، جیسے کوئی اچھو لگا ہوا شخص سوال کرتا ہے۔وہ اپنے بیٹے کو ملامت کرتے تھے، اس کے لیے سخت درمند تھے اور اس کے سامنے حق بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے:﴿ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ﴾ ’’بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ پھر اس پر دلائل قائم کر رہے تھے، مگر ان کا بیٹا تھا کہ اس میں سرکشی، نفرت اور حق کے بارے میں تکبر اور جرح و قدح میں اضافہ ہی ہو رہا تھا ﴿ فَيَقُوۡلُ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ یعنی جواب میں کہتا تھا یہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ گزشتہ کتابوں میں سے نقل کردہ کہانیاں ہیں، یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں اور نہ اللہ تعالی نے اپنے رسول پر ان کو وحی ہی کیا ہے۔ حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ جناب محمد مصطفیﷺ امی ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور نہ آپ نے کسی سے تعلیم حاصل کی ہے، آپ تعلیم حاصل کرتے بھی کہاں سے اور مخلوق اس جیسا قرآن کہاں سے لاتی، خواہ سب لوگ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوتے؟
[18]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ﴾ یعنی اس مذموم حالت کے حاملین ﴿ حَقَّ عَلَيۡهِمُ الۡقَوۡلُ﴾ ان پر کلمۂ عذاب واجب ہوگیا ﴿ فِيۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ﴾ ’’وہ ان جنات اور انسانوں کے گروہ کے ساتھ شامل ہوں گے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔‘‘ ان جملہ قوموں میں جو کفر اور تکذیب پر جمی رہیں عنقریب وہ اپنے کرتوتوں کے سمندر میں غرق ہوں گے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’یقیناً وہ نقصان پانے والے تھے۔‘‘ اور خسران انسان کے رأس المال کے ضائع ہونے کا نام ہے۔ جب رأس المال ہی مفقود ہو تو منافع سے محرومی تو بدرجہ اولی ہے۔پس وہ ایمان سے محروم ہو گئے ہیں انھیں کوئی نعمت حاصل ہوئی نہ وہ جہنم کے عذاب سے بچ سکے۔
[19]﴿ وَلِكُلٍّ﴾ یعنی اہل خیر اور اہل شر میں سے ہر ایک ﴿ دَرَجٰؔتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا﴾ خیر اور شرکے مطابق اپنے اپنے مرتبہ پر اور اپنے اپنے اعمال کی مقدار کے مطابق آخرت میں اپنے اپنے درجہ پر ہو گا۔بنابریں فرمایا: ﴿وَلِيُوَفِّيَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کی برائیوں میں کوئی اضافہ کیا جائے گا نہ ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے گی۔
Page 504
46:15
وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ إِحۡسَٰنًاۖ حَمَلَتۡهُ أُمُّهُۥ كُرۡهٗا وَوَضَعَتۡهُ كُرۡهٗاۖ وَحَمۡلُهُۥ وَفِصَٰلُهُۥ ثَلَٰثُونَ شَهۡرًاۚ حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَبَلَغَ أَرۡبَعِينَ سَنَةٗ قَالَ رَبِّ أَوۡزِعۡنِيٓ أَنۡ أَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ ٱلَّتِيٓ أَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَيَّ وَأَنۡ أَعۡمَلَ صَٰلِحٗا تَرۡضَىٰهُ وَأَصۡلِحۡ لِي فِي ذُرِّيَّتِيٓۖ إِنِّي تُبۡتُ إِلَيۡكَ وَإِنِّي مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ ١٥
And We have enjoined upon man, to his parents, good treatment. His mother carried him with hardship and gave birth to him with hardship, and his gestation and weaning [period] is thirty months. [He grows] until, when he reaches maturity and reaches [the age of] forty years, he says, "My Lord, enable me1 to be grateful for Your favor which You have bestowed upon me and upon my parents and to work righteousness of which You will approve and make righteous for me my offspring. Indeed, I have repented to You, and indeed, I am of the Muslims."
1 translator’s note
- Literally, "gather within me the utmost strength and ability." ↩
46:16
أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنۡهُمۡ أَحۡسَنَ مَا عَمِلُواْ وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّـَٔاتِهِمۡ فِيٓ أَصۡحَٰبِ ٱلۡجَنَّةِۖ وَعۡدَ ٱلصِّدۡقِ ٱلَّذِي كَانُواْ يُوعَدُونَ ١٦
Those are the ones from whom We will accept the best of what they did and overlook their misdeeds, [their being] among the companions of Paradise. [That is] the promise of truth which they had been promised.
46:17
وَٱلَّذِي قَالَ لِوَٰلِدَيۡهِ أُفّٖ لَّكُمَآ أَتَعِدَانِنِيٓ أَنۡ أُخۡرَجَ وَقَدۡ خَلَتِ ٱلۡقُرُونُ مِن قَبۡلِي وَهُمَا يَسۡتَغِيثَانِ ٱللَّهَ وَيۡلَكَ ءَامِنۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ فَيَقُولُ مَا هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ ١٧
But one who says to his parents, "Uff1 to you; do you promise me that I will be brought forth [from the earth] when generations before me have already passed on [into oblivion]?" while they call to Allāh for help [and to their son], "Woe to you! Believe! Indeed, the promise of Allāh is truth." But he says, "This is not but legends of the former peoples" -
1 translator’s note
- An expression of distaste and irritation. ↩
46:18
أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ حَقَّ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقَوۡلُ فِيٓ أُمَمٖ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِم مِّنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِۖ إِنَّهُمۡ كَانُواْ خَٰسِرِينَ ١٨
Those are the ones upon whom the word [i.e., decree] has come into effect, [who will be] among nations which had passed on before them of jinn and men. Indeed, they [all] were losers.
46:19
وَلِكُلّٖ دَرَجَٰتٞ مِّمَّا عَمِلُواْۖ وَلِيُوَفِّيَهُمۡ أَعۡمَٰلَهُمۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ ١٩
And for all there are degrees [of reward and punishment] for what they have done, and [it is] so that He may fully compensate them for their deeds, and they will not be wronged.
46:20
وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ عَلَى ٱلنَّارِ أَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبَٰتِكُمۡ فِي حَيَاتِكُمُ ٱلدُّنۡيَا وَٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِهَا فَٱلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ ٱلۡهُونِ بِمَا كُنتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَبِمَا كُنتُمۡ تَفۡسُقُونَ ٢٠
And the Day those who disbelieved are exposed to the Fire [it will be said], "You exhausted your pleasures during your worldly life and enjoyed them, so this Day you will be awarded the punishment of [extreme] humiliation because you were arrogant upon the earth without right and because you were defiantly disobedient."