Al-AhqafJuz 26 · Page 506

Al-Ahqaf 46:31

The Wind-Curved Sandhills · Juz 26 · Page 506

يَٰقَوۡمَنَآ أَجِيبُواْ دَاعِيَ ٱللَّهِ وَءَامِنُواْ بِهِۦ يَغۡفِرۡ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمۡ وَيُجِرۡكُم مِّنۡ عَذَابٍ أَلِيمٖ ٣١

O our people, respond to the Caller [i.e., Messenger] of Allāh1 and believe in him; He [i.e., Allāh] will forgive for you your sins and protect you from a painful punishment.

1 translator’s note
  1. Prophet Muḥammad (ﷺ). ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 46:29–32

اور(یاد کریں)جب ہم نے پھیر دی آپ کی طرف ایک جماعت جنوں کی، و ہ سنتے تھے قرآن، پس جب وہ حاضر ہوئے اس(کی تلاوت)کو تو انھوں نے کہا خاموش رہو پس جب ختم کی گئی(تلاوت) تو لوٹے وہ(جن)اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے(بن کر)(29) انھوں نے کہا اے ہماری قوم! بے شک ہم نے سنی ہے ایک کتاب جو نازل کی گئی ہے بعد موسیٰ کے ، وہ تصدیق کرنے والی ہے ان (کتابوں) کی جو اس سے پہلے ہیں، وہ رہنمائی کرتی ہے حق کی طرف اور راہ مستقیم کی طرف (30) اے ہماری قوم! قبول کر لو اللہ کے داعی(کی بات)کو، اور ایمان لے آؤ اس پر وہ بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ، اور بچائے گا وہ تمھیں نہایت درد ناک عذاب سے (31) اور جو کوئی نہیں قبول کرے گا اللہ کے داعی(کی بات)کو تو نہیں ہے وہ عاجز کرنے والا(اللہ کو) زمین میں اور نہیں ہو گا اس کا، سوائے اس (اللہ) کے، کوئی حمایتی ہی(بلکہ)یہ لوگ ہیں کھلی گمراہی میں (32)

[29] اللہ تبارک و تعالی نے جناب محمد مصطفیﷺ کی تمام مخلوق،یعنی انسانوں اور جنوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔اس لیے تمام مخلوق کو نبوت و رسالت کی تبلیغ ضروری ہے۔انسانوں کو دعوت دینا اور ان کو برے انجام سے ڈرانا تو آپ کے لیے ممکن ہے۔رہے جنات تو اللہ تعالی نے اپنی قدرت سے ان کو آپ کی طرف پھیر دیا، اللہ تعالی نے بھیجی ﴿ نَفَرًا مِّنَ الۡجِنِّ يَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوۡهُ قَالُوۡۤا اَنۡصِتُوۡا﴾ آپ کی طرف ’’جنات کی ایک جماعت تاکہ وہ قرآن سنیں جب وہ آپ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے خاموش ہو جاؤ ‘‘یعنی انھوں نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کی تلقین کی۔ ﴿ فَلَمَّا قُضِيَ﴾ جب قرآن پڑھا جا چکا اور انھوں نے اس کو یاد کر لیا اور قرآن نے ان پر اثر کیا ﴿ وَلَّوۡا اِلٰى قَوۡمِهِمۡ مُّنۡذِرِيۡنَ﴾ اپنی قوم کی خیرخواہی کرنے اور ان پر حجت قائم کرنے کے لیے اپنی قوم کے پاس گئے۔اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺ کی مدد کرنے اور جنات میں آپ کی دعوت کو پھیلانے کے لیے جنات کو مقرر فرمایا۔

[30]﴿ قَالُوۡا يٰقَوۡمَنَاۤ اِنَّا سَمِعۡنَا كِتٰبًا اُنۡزِلَ مِنۢۡ بَعۡدِ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھوں نے کہا: اے قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے، جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے۔‘‘ یہاں انجیل کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیاکیونکہ حضرت موسیu کی کتاب انجیل کے لیے اصل اور بنی اسرائیل کے لیے احکام شریعت کی بنیاد ہے۔انجیل تو حضرت موسیu کی کتاب کی تکمیل اور بعض احکام میں ترمیم کرتی ہے۔ ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ يَهۡدِيۡۤ﴾ ’’اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور راہنمائی کرتی ہے۔‘‘ یعنی یہ کتاب جو ہم نے سنی ہے ﴿ اِلَى الۡحَقِّ﴾ حق کی طرف راہ نمائی کرتی ہے، حق سے مراد ہے، ہر مطلوب اور ہر خبر میں راہ صواب۔ ﴿وَاِلٰى طَرِيۡقٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’اور سیدھے راستے کی طرف‘‘ راہ نمائی کرتی ہے جو اللہ تعالی اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔مثلا اللہ تعالی کے بارے میں علم، نیز اس کے احکام دینی اور احکام جزا کا علم۔

[31] جب وہ قرآن کی مدح و توصیف اور اس کا مقام اور مرتبہ بیان کر چکے تو انھوں نے اپنی قوم کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ انھوں نے کہا: ﴿يٰقَوۡمَنَاۤ اَجِيۡبُوۡا دَاعِيَ اللّٰهِ﴾ ’’اے ہماری قوم! اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات قبول کرو۔‘‘ یعنی جو صرف اپنے رب کی طرف دعوت دیتا ہے وہ اپنی کسی غرض اور کسی لالچ کے لیے تمھیں دعوت نہیں دیتا وہ تو تمھیں صرف تمھارے رب کی طرف بلاتا ہے تاکہ تمھارا رب تمھیں ثواب عطا کرے اور تم سے ہر برائی اور شر کو دور کر دے۔ اس لیے انھوں نے کہا: ﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِكُمۡ وَيُجِرۡؔكُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’ اللہ تمھارے گناہ بخش دے گا اور تمھیں ددناک عذاب سے پناہ میں رکھے گا۔‘‘ جب اس نے انھیں درد ناک عذاب سے نجات دے دی تو اس کے بعد نعمتوں کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔اور یہ اس شخص کے لیے جزا ہے جو اللہ تعالی کے داعی کی دعوت پر لبیک کہتا ہے۔

[32]﴿ وَمَنۡ لَّا يُجِبۡ دَاعِيَ اللّٰهِ فَلَيۡسَ بِمُعۡجِزٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’جو اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات قبول نہیں کرے گا تو وہ زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کرسکے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے، کوئی بھاگنے والا اس سے بھاگ سکتا ہے نہ کوئی مقابلہ کرنے والا اس پر غالب آ سکتا ہے۔ ﴿ وَلَيۡسَ لَهٗ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءُ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ اس شخص کی گمراہی سے بڑھ کر کون سی گمراہی ہو سکتی ہے، جسے انبیاء و رسل علیہ السلام نے دعوت دی، جس کے پاس برے انجام سے ڈرانے والے واضح دلائل اور متواتر براہین لے کر پہنچے مگر اس نے روگردانی اور تکبر کا مظاہرہ کیا۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 506

Al-AhqafJuz 26 · Page 506

46:29

وَإِذۡ صَرَفۡنَآ إِلَيۡكَ نَفَرٗا مِّنَ ٱلۡجِنِّ يَسۡتَمِعُونَ ٱلۡقُرۡءَانَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوٓاْ أَنصِتُواْۖ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوۡاْ إِلَىٰ قَوۡمِهِم مُّنذِرِينَ ٢٩

And [mention, O Muḥammad], when We directed to you a few of the jinn, listening to the Qur’ān. And when they attended it, they said, "Listen attentively." And when it was concluded, they went back to their people as warners.

46:30

قَالُواْ يَٰقَوۡمَنَآ إِنَّا سَمِعۡنَا كِتَٰبًا أُنزِلَ مِنۢ بَعۡدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ يَهۡدِيٓ إِلَى ٱلۡحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٖ مُّسۡتَقِيمٖ ٣٠

They said, "O our people, indeed we have heard a [recited] Book revealed after Moses confirming what was before it which guides to the truth and to a straight path.

46:31

يَٰقَوۡمَنَآ أَجِيبُواْ دَاعِيَ ٱللَّهِ وَءَامِنُواْ بِهِۦ يَغۡفِرۡ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمۡ وَيُجِرۡكُم مِّنۡ عَذَابٍ أَلِيمٖ ٣١

O our people, respond to the Caller [i.e., Messenger] of Allāh1 and believe in him; He [i.e., Allāh] will forgive for you your sins and protect you from a painful punishment.

1 translator’s note
  1. Prophet Muḥammad (ﷺ). ↩

46:32

وَمَن لَّا يُجِبۡ دَاعِيَ ٱللَّهِ فَلَيۡسَ بِمُعۡجِزٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَيۡسَ لَهُۥ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءُۚ أُوْلَٰٓئِكَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٍ ٣٢

But he who does not respond to the Caller of Allāh will not cause failure [to Him] upon earth, and he will not have besides Him any protectors. Those are in manifest error."

46:33

أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَلَمۡ يَعۡيَ بِخَلۡقِهِنَّ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحۡـِۧيَ ٱلۡمَوۡتَىٰۚ بَلَىٰٓۚ إِنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٣٣

Do they not see that Allāh, who created the heavens and earth and did not fail in their creation, is able to give life to the dead? Yes. Indeed, He is over all things competent.

46:34

وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ عَلَى ٱلنَّارِ أَلَيۡسَ هَٰذَا بِٱلۡحَقِّۖ قَالُواْ بَلَىٰ وَرَبِّنَاۚ قَالَ فَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ ٣٤

And the Day those who disbelieved are exposed to the Fire [it will be said], "Is this not the truth?" They will say, "Yes, by our Lord." He will say, "Then taste the punishment for what you used to deny."1

1 translator’s note
  1. Or "because you used to disbelieve." ↩

46:35

فَٱصۡبِرۡ كَمَا صَبَرَ أُوْلُواْ ٱلۡعَزۡمِ مِنَ ٱلرُّسُلِ وَلَا تَسۡتَعۡجِل لَّهُمۡۚ كَأَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَ مَا يُوعَدُونَ لَمۡ يَلۡبَثُوٓاْ إِلَّا سَاعَةٗ مِّن نَّهَارِۭۚ بَلَٰغٞۚ فَهَلۡ يُهۡلَكُ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ ٣٥

So be patient, [O Muḥammad], as were those of determination among the messengers and do not be impatient for them.1 It will be - on the Day they see that which they are promised - as though they had not remained [in the world] except an hour of a day. [This is] notification. And will [any] be destroyed except the defiantly disobedient people?

1 translator’s note
  1. i.e., for Allāh's punishment of the disbelievers. ↩
As-Sa'diTafsir · 46:31

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском