Muhammad 47:19
Muhammad · Juz 26 · Page 508
فَٱعۡلَمۡ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢبِكَ وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَكُمۡ وَمَثۡوَىٰكُمۡ ١٩
So know, [O Muḥammad], that there is no deity except Allāh and ask forgiveness for your sin1 and for the believing men and believing women. And Allāh knows of your movement and your resting place.
1 translator’s note
- See footnote to 40:55. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 47:19
پس آپ جان لیجیے کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ ہی اور بخشش مانگیے اپنے گناہ کی اور مومن مَردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی اور اللہ جانتا ہے چلنا پھرنا تمھارا اور ٹھکانا تمھارا(19)
[19] علم میں اقرارِ قلب اور اس معنی کی معرفت، جو علم اس سے طلب کرتا ہے، لازمی امر ہے اور علم کی تکمیل یہ ہے کہ اس کے تقاضے کے مطابق عمل کیا جائے۔ اور یہ علم جس کے حصول کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا علم ہے اور ہر انسان پر فرض عین ہے اور کسی پر بھی، خواہ وہ کوئی بھی ہو، ساقط نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک کے لیے اس کا حصول ضروری ہے۔ اس علم کے حصول کا طریق کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، چند امور پر مبنی ہے:(۱)سب سے بڑا امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال میں تدبر کیا جائے جو اس کے کمال اور اس کی عظمت و جلال پر دلالت کرتے ہیں۔ کیونکہ اسماء و صفات میں تدبر، عبادت میں کوشش صرف کرنے اور رب کامل کے لیے تعبد کا موجب ہوتا ہے جو ہر قسم کی حمد و مجد اور جلال و جمال کا مالک ہے۔(۲)اس حقیقت کا علم کہ اللہ تعالیٰ تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے، اس کے ذریعے سے اس بات کا علم حاصل ہو گا کہ وہ الوہیت میں بھی متفرد ہے۔(۳)اس امر کا علم کہ ظاہری اور باطنی، دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کرنے میں وہ متفرد ہے۔ یہ علم دل کے اللہ کے ساتھ تعلق رکھنے، اس سے محبت کرنے، اس اکیلے کی عبادت کرنے کا موجب بنتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ۔(۴)ہم یہ جو دیکھتے اور سنتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے لیے، جو اس کی توحید کو قائم کرتے ہیں، فتح و نصرت اور دنیاوی نعمتیں ہیں اور اس کے دشمن مشرکین کے لیے سزا اور عذاب ہے… یہ چیز اس علم کے حصول کی طرف دعوت دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور تمام تر عبادت کا وہی مستحق ہے۔(۵)ان بتوں اور خود ساختہ ہم سروں کے اوصاف کی معرفت، جن کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کی جاتی ہے اور انھیں معبود بنا لیا گیا ہے، کہ یہ ہر لحاظ سے ناقص اور بالذات محتاج ہیں، یہ خود اپنے لیے اور اپنے عبادت گزاروں کے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، ان کے اختیار میں زندگی ہے نہ موت اور نہ یہ دوبارہ زندگی ہی عطا کر سکتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتے جو ان کی عبادت کرتے ہیں بھلائی عطا کرنے اور شر کو دور کرنے میں ان کے ذرہ بھر کام نہیں آ سکتے۔ کیونکہ ان اوصاف کا علم، اس حقیقت کے علم کا موجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، نیز یہ علم اللہ کے ماسوا کی الوہیت کے بطلان کا موجب ہے۔(۶)حقیقت توحید پر اللہ تعالیٰ کی تمام کتابیں اتفاق کرتی ہیں۔(۷)اللہ تعالیٰ کے خاص بندے، جو اخلاق، عقل، رائے، صواب اور علم کے اعتبار سے اس کی مخلوق میں سب سے زیادہ کامل ہیں، یعنی انبیاء و مرسلین اور علمائے ربانی، اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔(۸)اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو دلائل افقیہ اور نفسیہ قائم کیے ہیں، جو توحید الٰہی پر سب سے بڑی دلیل ہیں، اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اس کی باریک کاری گری، اس کی عجیب و غریب حکمتوں اور اس کی انوکھی تخلیق کا اعلان کرتے ہیں۔یہ وہ طریقے ہیں، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو کثرت سے اس امر کی دعوت دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، ان کو اپنی کتاب میں نمایاں طور پر بیان کیا ہے اور بار بار ان کا اعادہ کیا ہے۔ ان میں سے بعض پر غور و فکر کرنے سے بندے کو علم اور یقین حاصل ہونا، ایک لازمی امر ہے، تب بندے کو کیوں کر علم اور یقین حاصل نہ ہو گا جب دلائل ہر جانب سے مجتمع اور متفق ہو کر توحید پر دلالت کرتے ہوں۔ یہاں بندۂ مومن کے دل میں، توحید پر ایمان اور اس کا علم راسخ ہو کر پہاڑوں کی مانند بن جاتے ہیں، شبہات و خیالات انھیں متزلزل نہیں کر سکتے، باطل اور شبہات کے بار بار وارد ہونے سے ان کی نشوونما اور ان کے کمال میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔اگر آپ اس عظیم دلیل اور بہت بڑے معاملے کو دیکھیں اور وہ ہے قرآن عظیم میں تدبر اور اس کی آیات میں غور و فکر... تو یہ علم توحید تک پہنچنے کے لیے بہت بڑا دروازہ ہے، اس کے ذریعے سے توحید کی وہ تفاصیل حاصل ہوتی ہیں جو کسی دوسرے طریقے سے حاصل نہیں ہو سکتیں۔﴿ وَاسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢۡبِكَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی بخشش طلب کیجیے، یعنی توبہ مغفرت کی دعا، ایسی نیکیوں کے ذریعے سے جو گناہوں کو مٹا دیتی ہیں، گناہوں کو ترک اور جرائم کو معاف کر کے مغفرت کے اسباب پر عمل کیجیے۔﴿ وَ﴾ ’’اور‘‘ اسی طرح بخشش طلب کیجیے ﴿لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ﴾ مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے کیونکہ وہ اپنے ایمان کے سبب سے، ہر مسلمان مرد اور عورت پر حق رکھتے ہیں اور ان کے جملہ حقوق میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ ان کے لیے دعا کی جائے اور ان کے گناہوں کی بخشش مانگی جائے۔جب آپ ان کے لیے استغفار پر مامور ہیں جو ان سے گناہوں اور ان کی سزا کے ازالے کو متضمن ہے تب اس کے لوازم میں سے ہے کہ ان کی خیر خواہی کی جائے، ان کے لیے بھلائی کو پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں، ان کے لیے برائی کو ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں، انھیں ان کاموں کا حکم دیں جن میں ان کے لیے بھلائی ہے اور ان کاموں سے روکیں جن سے ان کو ضرر پہنچتا ہے، ان کی کوتاہیوں اور عیبوں کو معاف کر دیں، ان کے ساتھ اس طرح اکٹھے رہنے کی خواہش رکھیں جس سے ان کے دل اکٹھے رہیں، اور ان کے درمیان کینہ اور بغض زائل ہو جو عداوت اور ایسی مخالفت کا سبب بنتا ہے جس سے ان کے گناہ اور معاصی زیادہ ہو جاتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَكُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ حرکات و تصرفات اور تمھاری آمدورفت کو خوب جانتا ہے۔ ﴿وَمَثۡوٰىكُمۡ﴾ اور تمھاری رہائش کی جگہ کو بھی جانتا ہے۔ جہاں تم ٹھہرتے ہو وہ تمھاری حرکات و سکنات کو جانتا ہے۔ وہ تمھیں اس کی پوری پوری جزا دے گا۔
Page 508
47:12
إِنَّ ٱللَّهَ يُدۡخِلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَتَمَتَّعُونَ وَيَأۡكُلُونَ كَمَا تَأۡكُلُ ٱلۡأَنۡعَٰمُ وَٱلنَّارُ مَثۡوٗى لَّهُمۡ ١٢
Indeed, Allāh will admit those who have believed and done righteous deeds to gardens beneath which rivers flow, but those who disbelieve enjoy themselves and eat as grazing livestock eat, and the Fire will be a residence for them.
47:13
وَكَأَيِّن مِّن قَرۡيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةٗ مِّن قَرۡيَتِكَ ٱلَّتِيٓ أَخۡرَجَتۡكَ أَهۡلَكۡنَٰهُمۡ فَلَا نَاصِرَ لَهُمۡ ١٣
And how many a city was stronger than your city [i.e., Makkah] which drove you out? We destroyed them; and there was no helper for them.
47:14
أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّهِۦ كَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَهۡوَآءَهُم ١٤
So is he who is on clear evidence from his Lord like him to whom the evil of his work has been made attractive and they follow their [own] desires?
47:15
مَّثَلُ ٱلۡجَنَّةِ ٱلَّتِي وُعِدَ ٱلۡمُتَّقُونَۖ فِيهَآ أَنۡهَٰرٞ مِّن مَّآءٍ غَيۡرِ ءَاسِنٖ وَأَنۡهَٰرٞ مِّن لَّبَنٖ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهُۥ وَأَنۡهَٰرٞ مِّنۡ خَمۡرٖ لَّذَّةٖ لِّلشَّٰرِبِينَ وَأَنۡهَٰرٞ مِّنۡ عَسَلٖ مُّصَفّٗىۖ وَلَهُمۡ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَمَغۡفِرَةٞ مِّن رَّبِّهِمۡۖ كَمَنۡ هُوَ خَٰلِدٞ فِي ٱلنَّارِ وَسُقُواْ مَآءً حَمِيمٗا فَقَطَّعَ أَمۡعَآءَهُمۡ ١٥
Is the description of Paradise, which the righteous are promised, wherein are rivers of water unaltered,1 rivers of milk the taste of which never changes, rivers of wine delicious to those who drink, and rivers of purified honey, in which they will have from all [kinds of] fruits and forgiveness from their Lord... [Are its inhabitants] like those who abide eternally in the Fire and are given to drink scalding water that will sever their intestines?
1 translator’s note
- In taste or smell, neither stagnant nor polluted. ↩
47:16
وَمِنۡهُم مَّن يَسۡتَمِعُ إِلَيۡكَ حَتَّىٰٓ إِذَا خَرَجُواْ مِنۡ عِندِكَ قَالُواْ لِلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ مَاذَا قَالَ ءَانِفًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَهۡوَآءَهُمۡ ١٦
And among them, [O Muḥammad], are those who listen to you, until when they depart from you, they say to those who were given knowledge,1 "What has he said just now?" Those are the ones of whom Allāh has sealed over their hearts and who have followed their [own] desires.
1 translator’s note
- From among the Prophet's companions. ↩
47:17
وَٱلَّذِينَ ٱهۡتَدَوۡاْ زَادَهُمۡ هُدٗى وَءَاتَىٰهُمۡ تَقۡوَىٰهُمۡ ١٧
And those who are guided - He increases them in guidance and gives them their righteousness.1
1 translator’s note
- Taqwā, meaning piety, consciousness and fear of Allāh, and care to avoid His displeasure. ↩
47:18
فَهَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّا ٱلسَّاعَةَ أَن تَأۡتِيَهُم بَغۡتَةٗۖ فَقَدۡ جَآءَ أَشۡرَاطُهَاۚ فَأَنَّىٰ لَهُمۡ إِذَا جَآءَتۡهُمۡ ذِكۡرَىٰهُمۡ ١٨
Then do they await except that the Hour should come upon them unexpectedly? But already there have come [some of] its indications. Then how [i.e., what good] to them, when it has come, will be their remembrance?
47:19
فَٱعۡلَمۡ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢبِكَ وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَكُمۡ وَمَثۡوَىٰكُمۡ ١٩
So know, [O Muḥammad], that there is no deity except Allāh and ask forgiveness for your sin1 and for the believing men and believing women. And Allāh knows of your movement and your resting place.
1 translator’s note
- See footnote to 40:55. ↩