Al-Fath 48:16
The Victory · Juz 26 · Page 513
قُل لِّلۡمُخَلَّفِينَ مِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ إِلَىٰ قَوۡمٍ أُوْلِي بَأۡسٖ شَدِيدٖ تُقَٰتِلُونَهُمۡ أَوۡ يُسۡلِمُونَۖ فَإِن تُطِيعُواْ يُؤۡتِكُمُ ٱللَّهُ أَجۡرًا حَسَنٗاۖ وَإِن تَتَوَلَّوۡاْ كَمَا تَوَلَّيۡتُم مِّن قَبۡلُ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا ١٦
Say to those who remained behind of the bedouins, "You will be called to [face] a people of great military might; you may fight them, or they will submit.1 So if you obey, Allāh will give you a good reward; but if you turn away as you turned away before, He will punish you with a painful punishment."
1 translator’s note
- To Allāh in Islām. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 48:16–17
کہہ دیجیے پیچھے چھوڑے گئے دیہایتوں سے، عنقریب تم بلائے جاؤ گے ایک قوم کی طرف جو لڑنے والی ہے سخت، تم لڑو گے ان سے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے ، پھر اگر تم اطاعت کرو گے تو دے گا تمھیں اللہ اجر نیک اور اگر تم رو گردانی کرو گے جیسا کہ روگردانی کی تم نے پہلے (اس) سے تو وہ عذاب دے گا تمھیں عذاب نہایت درد ناک (16) نہیں (پیچھے رہنے میں) اندھے پر کوئی حرج (گناہ) اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج اور نہ مریض پر کوئی حرج اور جو کوئی اطاعت کرے اللہ اور اس کے رسول کی تو داخل کرے گا اللہ اس کو باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، اور جو کوئی رو گردانی کرے گا تو وہ (اللہ) عذاب دے گا اسے عذاب نہایت درد ناک (17)
[16] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اعراب (عرب دیہاتیوں) میں سے پیچھے بیٹھ رہنے والے، جہاد سے جی چراتے ہیں اور کسی عذر کے بغیر معذرت پیش کرتے ہیں اور وہ صرف اس صورت میں ان کے ساتھ جہاد پر نکلنے کی درخواست کرتے ہیں، جبکہ جنگ اور قتال نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ لِّلۡمُخَلَّفِيۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ اِلٰى قَوۡمٍ اُولِيۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ یعنی عنقریب رسول اللہﷺ ، آپ کے قائم مقام خلفائے راشدین اور دیگر ائمہ تمھیں جہاد کی طرف بلائیں گے اور وہ لوگ جن سے جہاد کے لیے تمھیں دعوت دی جائے گی، وہ اہل فارس، اہل روم اور ان جیسی بعض دیگر قومیں ہوں گی۔ ﴿ تُقَاتِلُوۡنَهُمۡ اَوۡ يُسۡلِمُوۡنَ﴾ یعنی تم ان کے خلاف جنگ کرو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔فی الواقع معاملہ یہی ہے کہ جب مسلمانوں کی ان قوموں کے ساتھ جنگ ہوئی، جنگ کے حالات میں جب تک ان میں شدت اور قوت رہی تو اس صورت میں انھوں نے جزیہ دینا قبول نہیں کیا، بلکہ یا تو انھوں نے اسلام قبول کر لیا یا وہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے جنگ کرتے رہے، جب مسلمانوں نے جنگ میں ان کو بے بس کر دیا اور وہ کمزور ہو کر مطیع ہو گئے اور ان کی قوت جاتی رہی تو ان کی حالت یہ ہو گئی کہ وہ یا تو مسلمان ہو گئے یا جزیہ ادا کرنے لگے ﴿ فَاِنۡ تُطِيۡعُوۡا﴾ یعنی اگر ان لوگوں کے خلاف جہاد کی دعوت دینے والے کی اطاعت کرو ﴿ يُؤۡتِكُمُ اللّٰهُ اَجۡرًا حَسَنًا﴾ ’’تو اللہ تمھیں اچھا اجر دے گا۔‘‘ یہ وہ اجر و ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے اللہ کے راستے میں جہاد پر مرتب فرمایا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا كَمَا تَوَلَّيۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ﴾ ’’اگر تم منہ پھیر لو جیسے پہلی مرتبہ پھیرا تھا۔‘‘ یعنی ان لوگوں سے جہاد کرنے سے منہ موڑ لو جن کے خلاف جہاد کرنے کی رسول اللہﷺ نے تمھیں دعوت دی ہے۔ ﴿ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ ’’تو وہ تمھیں دردناک عذاب دے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں خلفائے راشدین کی، جو طاقت ور قوموں کے خلاف جہاد کرنے کی دعوت دیتے رہے، فضیلت بیان ہوئی ہے، نیز یہ کہ جہاد میں ان کی اطاعت واجب ہے۔
[17] پھر اللہ تعالیٰ نے ان عذروں کا ذکر فرمایا جن کی بنا پر بندہ جہاد میں نکلنے سے معذور ہوتا ہے، لہٰذا فرمایا:﴿ لَيۡسَ عَلَى الۡاَعۡمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡمَرِيۡضِ حَرَجٌ﴾ ’’نہ تو اندھے پر گناہ ہے نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ مریض پر گناہ ہے۔‘‘ یعنی اپنے عذر کی بنا پر، جو جہاد پر نکلنے سے مانع ہے، جہاد سے پیچھے رہ جائیں، تو ان پر کوئی حرج نہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا۔‘‘ یعنی ان کے اوامر کی تعمیل کرنے اور ان کے نواہی سے اجتناب کرنے میں ﴿ يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾’’ اللہ اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہر وہ چیز ہو گی، نفس جس کی خواہش کریں گے اور آنکھوں کو جن سے لذت حاصل ہو گی۔﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ موڑ لے۔ ﴿ يُعَذِّبۡهُ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ تو اللہ تعالیٰ اسے درد ناک عذاب دے گا۔ سعادت تمام تر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اور شقاوت اس کی نافرمانی اور مخالفت میں ہے۔
Page 513
48:16
قُل لِّلۡمُخَلَّفِينَ مِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ إِلَىٰ قَوۡمٍ أُوْلِي بَأۡسٖ شَدِيدٖ تُقَٰتِلُونَهُمۡ أَوۡ يُسۡلِمُونَۖ فَإِن تُطِيعُواْ يُؤۡتِكُمُ ٱللَّهُ أَجۡرًا حَسَنٗاۖ وَإِن تَتَوَلَّوۡاْ كَمَا تَوَلَّيۡتُم مِّن قَبۡلُ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا ١٦
Say to those who remained behind of the bedouins, "You will be called to [face] a people of great military might; you may fight them, or they will submit.1 So if you obey, Allāh will give you a good reward; but if you turn away as you turned away before, He will punish you with a painful punishment."
1 translator’s note
- To Allāh in Islām. ↩
48:17
لَّيۡسَ عَلَى ٱلۡأَعۡمَىٰ حَرَجٞ وَلَا عَلَى ٱلۡأَعۡرَجِ حَرَجٞ وَلَا عَلَى ٱلۡمَرِيضِ حَرَجٞۗ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدۡخِلۡهُ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ وَمَن يَتَوَلَّ يُعَذِّبۡهُ عَذَابًا أَلِيمٗا ١٧
There is not upon the blind any guilt or upon the lame any guilt or upon the ill any guilt [for remaining behind]. And whoever obeys Allāh and His Messenger - He will admit him to gardens beneath which rivers flow; but whoever turns away - He will punish him with a painful punishment.
48:18
۞ لَّقَدۡ رَضِيَ ٱللَّهُ عَنِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ إِذۡ يُبَايِعُونَكَ تَحۡتَ ٱلشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمۡ فَأَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ عَلَيۡهِمۡ وَأَثَٰبَهُمۡ فَتۡحٗا قَرِيبٗا ١٨
Certainly was Allāh pleased with the believers when they pledged allegiance to you, [O Muḥammad], under the tree, and He knew what was in their hearts, so He sent down tranquility upon them and rewarded them with an imminent conquest1
1 translator’s note
- That of Khaybar, which preceded the conquest of Makkah. ↩
48:19
وَمَغَانِمَ كَثِيرَةٗ يَأۡخُذُونَهَاۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمٗا ١٩
And much war booty which they will take. And ever is Allāh Exalted in Might and Wise.
48:20
وَعَدَكُمُ ٱللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةٗ تَأۡخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمۡ هَٰذِهِۦ وَكَفَّ أَيۡدِيَ ٱلنَّاسِ عَنكُمۡ وَلِتَكُونَ ءَايَةٗ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ وَيَهۡدِيَكُمۡ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا ٢٠
Allāh has promised you much booty that you will take [in the future] and has hastened for you this [victory] and withheld the hands of people from you - that it may be a sign for the believers and [that] He may guide you to a straight path.
48:21
وَأُخۡرَىٰ لَمۡ تَقۡدِرُواْ عَلَيۡهَا قَدۡ أَحَاطَ ٱللَّهُ بِهَاۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٗا ٢١
And [He promises] other [victories] that you were [so far] unable to [realize] which Allāh has already encompassed.1 And ever is Allāh, over all things, competent.
1 translator’s note
- i.e., prepared for you or decreed. ↩
48:22
وَلَوۡ قَٰتَلَكُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوَلَّوُاْ ٱلۡأَدۡبَٰرَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ وَلِيّٗا وَلَا نَصِيرٗا ٢٢
And if those [Makkans] who disbelieve had fought you, they would have turned their backs [in flight]. Then they would not find a protector or a helper.
48:23
سُنَّةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلُۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ ٱللَّهِ تَبۡدِيلٗا ٢٣
[This is] the established way of Allāh which has occurred before. And never will you find in the way of Allāh any change.