Al-HujuratJuz 26 · Page 515

Al-Hujurat 49:2

The Rooms · Juz 26 · Page 515

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَرۡفَعُوٓاْ أَصۡوَٰتَكُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ ٱلنَّبِيِّ وَلَا تَجۡهَرُواْ لَهُۥ بِٱلۡقَوۡلِ كَجَهۡرِ بَعۡضِكُمۡ لِبَعۡضٍ أَن تَحۡبَطَ أَعۡمَٰلُكُمۡ وَأَنتُمۡ لَا تَشۡعُرُونَ ٢

O you who have believed, do not raise your voices above the voice of the Prophet or be loud to him in speech like the loudness of some of you to others, lest your deeds become worthless while you perceive not.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 49:1–3

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ آگے بڑھو تم اللہ اور اس کے رسول سے اور ڈرو تم اللہ سے، بلاشبہ اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(1) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بلند کرو تم اپنی آوازیں اوپر نبی کی آواز کے، اور نہ اونچی آواز میں آپ سے بات کرو مانند اونچی آواز (سے بات) کرنے کے تمھارے ایک کا دوسرے سے، کہیں برباد(نہ)ہو جائیں تمھارے عمل اور تمھیں شعور (بھی) نہ ہو(2) بلاشبہ وہ لوگ جو پست رکھتے ہیں اپنی آوازیں رسول اللہ کے پاس، یہی وہ لوگ ہیں کہ پرکھ کر خالص کر دیے اللہ نے ان کے دل تقوے کے لیے، ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے(3)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے ادب، نیز آپ کی تعظیم، احترام اور اکرام و تکریم کو متضمن ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو ان امور کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان کے متقاضی ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب۔ نیز یہ کہ وہ اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے اوامر کے مطابق چلیں اور اس کے رسول کی سنت کی اتباع کریں، اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھیں، اس وقت تک کوئی بات نہ کریں جب تک کہ اللہ کا رسول بات نہ کرے، وہ کسی کام کا حکم نہ دیں جب تک کہ اللہ کا رسول حکم نہ دے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کا یہی حقیقی ادب ہے جو فرض ہے۔ یہی ادب بندے کی سعادت اور فلاح کا عنوان ہے، چنانچہ اس کے حصول میں ناکامی، سعادت ابدی اور نعیم سرمدی کے حصول میں ناکامی ہے۔اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺ کے قول پر کسی اور کے قول کو مقدم رکھنے کی ممانعت ہے۔ کیونکہ جب مصطفیﷺ کی سنت مبارکہ واضح ہو کر سامنے آ جائے تو اس کی اتباع کرنا اور اس کو کسی اور کے قول اور رائے پر، خواہ وہ کوئی بھی ہو، مقدم رکھنا واجب ہے۔

[1]پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ کا عمومی حکم دیا ہے۔ اور تقویٰ کا معنی طلق بن حبیب کے قول کے مطابق، یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ثواب کے عطا ہونے کی امید رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے نور کی روشنی میں اس کی معصیت کو ترک کر دیں۔﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ﴾ یعنی بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات اور تمام مخفی مقامات وجہات میں تمام آوازوں کو سنتا ہے ﴿ عَلِيۡمٌ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام ظواہر اور بواطن، گزرے ہوئے اور آنے والے امور، تمام واجبات مستحیلات اور ممکنات کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی ممانعت اور تقویٰ کا حکم دینے کے بعد، ان دو اسمائے کریمہ کا ذکر کرنے میں، ان مذکورہ اوامر حسنہ اور آداب مستحسنہ کی تعمیل کی ترغیب اور ان کے منافی امور کو اختیار کرنے پر ترہیب ہے۔

[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَكُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجۡهَرُوۡا لَهٗ بِالۡقَوۡلِ﴾ یہ رسول اللہﷺ سے مخاطب ہونے میں آپ کا ادب ہے ،یعنی رسول اللہﷺ سے مخاطب ہونے والے کو چاہیے کہ وہ اپنی آواز کو آپ سے بلند کرے نہ اونچی آواز میں آپ سے گفتگو کرے، بلکہ اپنے لہجے کو پست رکھے، آپ سے نہایت ادب و ملائمت، تعظیم و تکریم اور اجلال و اعظام کے ساتھ بات کرے۔ رسول اللہﷺ ان میں سے کسی فرد جیسے نہیں ہیں۔ اس لیے آپ سے مخاطب ہونے میں آپ کے امتیاز کا خاص خیال رکھیں۔ جیسا کہ آپ اپنی امت پر اپنے حقوق، آپ پر ایمان اور آپ کے ساتھ محبت کے واجب ہونے میں امتیاز رکھتے ہیں، جس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان آداب کا لحاظ نہ رکھنے سے ڈر ہے کہ کہیں بندے کا عمل اکارت نہ جائے اور اسے شعور تک نہ ہو، جس طرح آپ کا ادب حصول ثواب اور قبولیت اعمال کا سبب ہے۔

[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح فرمائی ہے، جو رسول اللہﷺ کی خدمت میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے چن لیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا، اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دل تقویٰ کے لیے درست پائے، پھر اس نے ان کے ساتھ ان کے گناہوں کی بخشش کا وعدہ کیا جو ہر قسم کے شر اور ناپسندیدہ امر کے زائل ہونے اور اجر عظیم کے حصول کو متضمن ہے، جس کے وصف کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اسی میں محبوب چیز کا حصول ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ امر و نہی اور مصائب و محن کے ذریعے سے دلوں کو آزماتا ہے، پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے اوامر کا التزام کرتا ہے، اس کی رضا کی اتباع کرتا ہے، اس کی تعمیل کے لیے جلدی سے آگے بڑھتا ہے، اسے اپنی خواہشات نفس پر مقدم رکھتا ہے تو وہ تقویٰ کے لیے پاک صاف ہے اور اس کا قلب صحیح اور درست ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ وہ تقویٰ کے قابل نہیں۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 515

Al-FathJuz 26 · Page 515

48:29

مُّحَمَّدٞ رَّسُولُ ٱللَّهِۚ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡۖ تَرَىٰهُمۡ رُكَّعٗا سُجَّدٗا يَبۡتَغُونَ فَضۡلٗا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٗاۖ سِيمَاهُمۡ فِي وُجُوهِهِم مِّنۡ أَثَرِ ٱلسُّجُودِۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِي ٱلتَّوۡرَىٰةِۚ وَمَثَلُهُمۡ فِي ٱلۡإِنجِيلِ كَزَرۡعٍ أَخۡرَجَ شَطۡـَٔهُۥ فَـَٔازَرَهُۥ فَٱسۡتَغۡلَظَ فَٱسۡتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِۦ يُعۡجِبُ ٱلزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ ٱلۡكُفَّارَۗ وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِنۡهُم مَّغۡفِرَةٗ وَأَجۡرًا عَظِيمَۢا ٢٩

Muḥammad is the Messenger of Allāh; and those with him are forceful against the disbelievers, merciful among themselves. You see them bowing and prostrating [in prayer], seeking bounty from Allāh and [His] pleasure. Their sign is in their faces from the effect of prostration [i.e., prayer]. That is their description in the Torah. And their description in the Gospel is as a plant which produces its offshoots and strengthens them so they grow firm and stand upon their stalks, delighting the sowers - so that He [i.e., Allāh] may enrage by them1 the disbelievers. Allāh has promised those who believe and do righteous deeds among them forgiveness and a great reward.

1 translator’s note
  1. The given examples depict the Prophet (ﷺ) and his companions. ↩

سورة الحجرات

Al-Hujurat

The Rooms · Medinan · 18 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

49:1

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَيِ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ١

O you who have believed, do not put [yourselves] before Allāh and His Messenger1 but fear Allāh. Indeed, Allāh is Hearing and Knowing.

1 translator’s note
  1. Rather, wait for instruction and follow the way of the Prophet (ﷺ). ↩

49:2

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَرۡفَعُوٓاْ أَصۡوَٰتَكُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ ٱلنَّبِيِّ وَلَا تَجۡهَرُواْ لَهُۥ بِٱلۡقَوۡلِ كَجَهۡرِ بَعۡضِكُمۡ لِبَعۡضٍ أَن تَحۡبَطَ أَعۡمَٰلُكُمۡ وَأَنتُمۡ لَا تَشۡعُرُونَ ٢

O you who have believed, do not raise your voices above the voice of the Prophet or be loud to him in speech like the loudness of some of you to others, lest your deeds become worthless while you perceive not.

49:3

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصۡوَٰتَهُمۡ عِندَ رَسُولِ ٱللَّهِ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱمۡتَحَنَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمۡ لِلتَّقۡوَىٰۚ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَأَجۡرٌ عَظِيمٌ ٣

Indeed, those who lower their voices before the Messenger of Allāh - they are the ones whose hearts Allāh has tested for righteousness. For them is forgiveness and great reward.

49:4

إِنَّ ٱلَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَآءِ ٱلۡحُجُرَٰتِ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡقِلُونَ ٤

Indeed, those who call you, [O Muḥammad], from behind the chambers - most of them do not use reason.

As-Sa'diTafsir · 49:2

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском