Al-Ma'idahJuz 6 · Page 113

Al-Ma'idah 5:33

The Table Spread · Juz 6 · Page 113

إِنَّمَا جَزَٰٓؤُاْ ٱلَّذِينَ يُحَارِبُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَسۡعَوۡنَ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوٓاْ أَوۡ يُصَلَّبُوٓاْ أَوۡ تُقَطَّعَ أَيۡدِيهِمۡ وَأَرۡجُلُهُم مِّنۡ خِلَٰفٍ أَوۡ يُنفَوۡاْ مِنَ ٱلۡأَرۡضِۚ ذَٰلِكَ لَهُمۡ خِزۡيٞ فِي ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ٣٣

Indeed, the penalty1 for those who wage war2 against Allāh and His Messenger and strive upon earth [to cause] corruption is none but that they be killed or crucified or that their hands and feet be cut off from opposite sides or that they be exiled from the land. That is for them a disgrace in this world; and for them in the Hereafter is a great punishment,

2 translator’s notes
  1. Legal retribution.

    [263] i.e., commit acts of violence and terrorism against individuals or treason and aggression against the Islāmic state.

    ↩
  2. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 5:33–34

یقینا بدلہ ان لوگوں کا، جو لڑتے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے اور کوشش کرتے ہیں زمین میں فساد کرنے کی، (یہی ہے) کہ قتل کر دیے جائیں یا سولی دیے جائیں یا کاٹ دیے جائیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف جانب سے یا نکال دیے جائیں اس علاقے سے، یہ ان کے لیے ذلت ہے دنیا میں اور ان کے لیے آخرت میں عذاب ہے بہت بڑا(33) مگر وہ لوگ کہ توبہ کر لی انھوں نے پہلے اس کے کہ قابو پاؤ تم ان پر تو جان لو بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(34)

[33]اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ محاربت کے مرتکب وہ لوگ ہیں جو اس کے ساتھ عداوت ظاہر کرتے ہیں اور قتل و غارت، کفر، لوٹ مار اور شاہراہوں کو غیر محفوظ بنانے کا ارتکاب کرتے ہیں ۔مشہور یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ ان راہزنوں اور ڈاکوؤں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بستیوں اور دیہات میں لوگوں پر حملے کر کے ان کا مال لوٹتے ہیں ، ان کو قتل کرتے ہیں اور دہشت پھیلاتے ہیں ۔ بنابریں لوگ ان شاہراہوں پر سفر کرنا بند کر دیتے ہیں پس اس وجہ سے راستے منقطع ہو جاتے ہیں ۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ حد نافذ کرتے وقت ان لوگوں کی سزا، ان سزاؤں میں سے ایک ہے جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں ۔ اصحاب تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا ان سزاؤں میں اختیار ہے اور امام یا اس کا نائب ہر راہزن کو اپنی صواب دید اور مصلحت کے مطابق ان مذکورہ سزاؤں میں سے کوئی سزا دے سکتا ہے۔ آیت کریمہ کے الفاظ سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ یا ان کی سزا ان کے جرم کے مطابق دی جائے گی اور ہر جرم کے مقابلے میں ایک سزا ہے جیسا کہ آیت کریمہ اس پر دلالت کرتی ہے اور اس آیت کریمہ کا حکم اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ہے، یعنی اگر وہ قتل اور لوٹ مار کا ارتکاب کریں تو ان کو قتل کرنے اور سولی دینے کی سزا حتمی ہے۔ یہاں تک کہ ان کا سولی دیا جانا مشہور ہو جائے اور دوسرے لوگ لوٹ مار اور راہزنی سے باز آجائیں ۔ اگر وہ لوگوں کو قتل کریں اور مال نہ لوٹیں تو ان کو صرف قتل کیا جائے۔ اگر وہ صرف مال لوٹیں اور لوگوں کو قتل کرنے سے باز رہیں تو مخالف سمت سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔ اگر صرف لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور دہشت پھیلانے کے مرتکب ہوئے ہوں اور انھوں نے کسی کا مال لوٹا ہو نہ کسی کو قتل کیا ہو تو ان کو جلاوطن کیا جائے گا اور ان کو کسی شہر میں پناہ نہیں لینے دی جائے گی یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں ۔ یہ حضرت عبداللہ بن عباسw کا قول ہے اور بعض تفاصیل میں اختلاف کے باوجود بہت سے ائمہ نے اس قول کو اختیا رکیا ہے۔﴿ ذٰلِكَ ﴾ یہ سزا ﴿ لَهُمۡ خِزۡيٌ فِي الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کے لیے دنیا میں فضیحت اور عار ہے‘‘ ﴿ وَلَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ راہزنی بڑے گناہوں میں شمار ہوتی ہے جو دنیا و آخرت کی رسوائی اور فضیحت کی موجب ہے اور راہزنی کا مرتکب اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرتا ہے۔ جب یہ جرم اتنا بڑا ہے تو معلوم ہوا کہ مفسدین سے روئے زمین کی تطہیر کرنا، شاہراہوں کو قتل و غارت، لوٹ مار اور خوف و دہشت سے محفوظ کرنا، سب سے بڑی بھلائی اور سب سے بڑی نیکی ہے۔ نیز یہ زمین کے اندر اصلاح ہے جیسا کہ اس کی ضد فساد فی الارض ہے۔

[34]﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہاں جن لوگوں نے، اس سے پیشترکہ تمھارے قابو آجائیں توبہ کرلی۔‘‘ یعنی ان محاربین میں سے جو لوگ توبہ کر لیں پہلے اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔ ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ یعنی اس سے جرم اور گناہ ساقط ہو جائے گا جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ضمن میں تھا، یعنی قتل، سولی، ہاتھ پاؤں کاٹنا اور جلاوطنی وغیرہ سزائیں معاف ہو جائیں گی۔ اگر محارب کافر تھا اور اس نے گرفتار ہونے سے پہلے اسلام قبول کر لیا تو آدمی کا حق بھی ساقط ہو جائے گا۔ اگر محارب مسلمان ہے تو لوٹ مار اور قتل و غارت وغیرہ انسانی حقوق ساقط نہیں ہوں گے۔ آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ محارب پر قابو پا لینے کے بعد اس کی توبہ معتبر نہیں ، اس سے کوئی سزا ساقط نہیں ہو گی۔ اس میں جو حکمت ہے وہ واضح ہے۔ اور جب قابو پانے سے پہلے کی ہوئی توبہ محاربت کی حد کے نفاذ سے مانع ہے تو قابو پانے سے پہلے دیگر جرائم سے توبہ کا ان جرائم کی حدود کے نفاذ سے مانع ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 113

Al-Ma'idahJuz 6 · Page 113

5:32

مِنۡ أَجۡلِ ذَٰلِكَ كَتَبۡنَا عَلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ أَنَّهُۥ مَن قَتَلَ نَفۡسَۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ أَوۡ فَسَادٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ ٱلنَّاسَ جَمِيعٗا وَمَنۡ أَحۡيَاهَا فَكَأَنَّمَآ أَحۡيَا ٱلنَّاسَ جَمِيعٗاۚ وَلَقَدۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُنَا بِٱلۡبَيِّنَٰتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرٗا مِّنۡهُم بَعۡدَ ذَٰلِكَ فِي ٱلۡأَرۡضِ لَمُسۡرِفُونَ ٣٢

Because of that, We decreed upon the Children of Israel that whoever kills a soul unless for a soul1 or for corruption [done] in the land2 - it is as if he had slain mankind entirely. And whoever saves one3 - it is as if he had saved mankind entirely. And Our messengers had certainly come to them with clear proofs. Then indeed many of them, [even] after that, throughout the land, were transgressors.4

4 translator’s notes
  1. i.e., in legal retribution for murder.

    [259] i.e., that requiring the death penalty.

    [260] Or refrains from killing.

    [261] Heedless of Allāh's limits, negligent of their responsibilities.

    ↩
  2. ↩
  3. ↩
  4. ↩

5:33

إِنَّمَا جَزَٰٓؤُاْ ٱلَّذِينَ يُحَارِبُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَسۡعَوۡنَ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوٓاْ أَوۡ يُصَلَّبُوٓاْ أَوۡ تُقَطَّعَ أَيۡدِيهِمۡ وَأَرۡجُلُهُم مِّنۡ خِلَٰفٍ أَوۡ يُنفَوۡاْ مِنَ ٱلۡأَرۡضِۚ ذَٰلِكَ لَهُمۡ خِزۡيٞ فِي ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ٣٣

Indeed, the penalty1 for those who wage war2 against Allāh and His Messenger and strive upon earth [to cause] corruption is none but that they be killed or crucified or that their hands and feet be cut off from opposite sides or that they be exiled from the land. That is for them a disgrace in this world; and for them in the Hereafter is a great punishment,

2 translator’s notes
  1. Legal retribution.

    [263] i.e., commit acts of violence and terrorism against individuals or treason and aggression against the Islāmic state.

    ↩
  2. ↩

5:34

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُواْ مِن قَبۡلِ أَن تَقۡدِرُواْ عَلَيۡهِمۡۖ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٣٤

Except for those who return [repenting] before you overcome [i.e., apprehend] them. And know that Allāh is Forgiving and Merciful.

5:35

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱبۡتَغُوٓاْ إِلَيۡهِ ٱلۡوَسِيلَةَ وَجَٰهِدُواْ فِي سَبِيلِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ٣٥

O you who have believed, fear Allāh and seek the means [of nearness] to Him and strive in His cause that you may succeed.

5:36

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡ أَنَّ لَهُم مَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا وَمِثۡلَهُۥ مَعَهُۥ لِيَفۡتَدُواْ بِهِۦ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنۡهُمۡۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ٣٦

Indeed, those who disbelieve - if they should have all that is in the earth and the like of it with it by which to ransom themselves from the punishment of the Day of Resurrection, it will not be accepted from them, and for them is a painful punishment.

As-Sa'diTafsir · 5:33

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском