Al-Ma'idahJuz 6 · Page 107

Al-Ma'idah 5:4

The Table Spread · Juz 6 · Page 107

يَسۡـَٔلُونَكَ مَاذَآ أُحِلَّ لَهُمۡۖ قُلۡ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُ وَمَا عَلَّمۡتُم مِّنَ ٱلۡجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ ٱللَّهُۖ فَكُلُواْ مِمَّآ أَمۡسَكۡنَ عَلَيۡكُمۡ وَٱذۡكُرُواْ ٱسۡمَ ٱللَّهِ عَلَيۡهِۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ ٤

They ask you, [O Muḥammad], what has been made lawful for them. Say, "Lawful for you are [all] good foods and [game caught by] what you have trained of hunting animals1 which you train as Allāh has taught you. So eat of what they catch for you, and mention the name of Allāh upon it, and fear Allāh." Indeed, Allāh is swift in account.

1 translator’s note
  1. Such as dogs, falcons, etc. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 5:4

پوچھتے ہیں آپ سے کہ کیا کیا چیزیں حلال کی گئی ہیں ان کے لیے؟ کہہ دیجیے حلال کر دی گئی ہیں تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں اور (شکار ان کا) جو سدھائے تم نے شکاری جانور، جب سدھانے والے ہو، سکھاتے ہو تم ان کو ان میں سے جو سکھلائیں تمھیں اللہ نے، پس کھاؤ تم ان میں سے جو وہ روک رکھیں تمھاری خاطر اور ذکر کرو نام اللہ کا اس پر اور ڈرو اللہ سے، بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے(4)

[4] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ مَاذَاۤ اُحِلَّ لَهُمۡ﴾ ’’آپ سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لیے حلال ہیں۔‘‘ یعنی ان کے لیے کون کون سے کھانے حلال ہیں۔ ﴿ قُلۡ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰؔتُ ﴾ ’’کہہ دیجیے! تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئی ہیں‘‘ ﴿الطَّيِّبٰؔتُ ﴾ سے مراد ہر وہ چیز ہے جس میں کوئی فائدہ ہے اور بدن اور عقل میں نقصان پہنچے بغیر ان سے لذت حاصل ہوتی ہے۔ پس طیبات میں وہ تمام غلہ جات اور پھل وغیرہ شامل ہیں جو بستیوں اور صحراؤں میں پیدا ہوتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ کے مضمون میں وہ تمام حیوانات بھی شامل ہیں جو خشک زمین پر پائے جاتے ہیں سوائے ان حیوانات کے جن کو شارع نے مستثنی قرار دیا ہے، مثلاً: درندے اور ناپاک جانور اور ناپاک اشیاء وغیرہ۔ اسی لیے یہ آیت کریمہ اپنے مفہوم میں ناپاک چیزوں کی تحریم پر دلالت کرتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں صراحت کے ساتھ اس تحریم کو بیان کیا گیا ہے:﴿وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾(الاعراف: 7؍157)’’وہ پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو ان کے لیے حرام ٹھہراتا ہے۔‘‘﴿وَمَا عَلَّمۡتُمۡ مِّنَ الۡجَوَارِحِ ﴾’’اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو۔‘‘ یعنی جو تم شکاری جانوروں کو شکار کرنا سکھاتے ہو وہ شکار بھی تمھارے لیے حلال ہے۔ یہ آیت کریمہ شکار کے متعلق متعدد امور پر دلالت کرتی ہے۔(۱)یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے ان کے لیے رزق حلال کی راہیں کشادہ کر دی ہیں اور ان کے لیے شکاری جانوروں کے شکار کیے ہوئے اس شکار کو حلال کر دیا جس کو ذبح نہیں کر سکتے… شکاری جانور سے مراد کتے، چیتے اور باز وغیرہ ہیں ، جو اپنے دانتوں سے یا پنجے سے شکار کو پکڑتے ہیں ۔(۲) شکاری جانور کے لیے شرط یہ ہے کہ اس کو شکار کے لیے سکھایا گیا ہو۔ ایسا سکھانا جس کو عرف عام میں سکھانا کہتے ہیں ، یعنی اگر اسے شکار پر چھوڑا جائے تو وہ شکار پر جھپٹے اور اگر اس کو روک دیا جائے تو فوراً رک جائے۔ اور جب شکار کو پکڑ لے تو اس کو نہ کھائے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿تُعَلِّمُوۡنَهُنَّ مِمَّؔا عَلَّمَؔكُمُ اللّٰهُ١ٞ فَكُلُوۡا مِمَّؔاۤ اَمۡسَكۡنَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور جس (طریق) سے اللہ نے تمھیں (شکار کرنا) سکھایا ہے (اس طریق سے)تم نے ان کو سکھایا ہو تو جو شکار وہ تمھارے لیے پکڑ رکھیں اس کو کھالیا کرو۔‘‘ یعنی وہ شکار کو تمھارے لیے روک رکھیں اور جس شکار میں سے شکاری جانور نے کچھ کھا لیا ہو تو اس کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ آیا اس نے شکار کو اپنے مالک کے لیے پکڑا ہے اور شاید یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے شکار خود اپنے لیے پکڑا ہو۔(۳) شکاری جانور کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ کتا ہو یا باز وغیرہ، شکار کو زخمی کرتا ہو (اس کا گلا نہ گھونٹتا ہو) جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿مِّنَ الۡجَوَارِحِ ﴾سے واضح ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گلا گھٹ کر مر جانے والے جانور کی حرمت گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔ اگر کتے وغیرہ نے شکار کا گلا گھونٹ دیا ہو یا اسے اپنے بوجھ تلے دبا کر اسے ہلاک کر دیا ہو تو اس کا کھانا جائز نہیں ۔ یہ اس اصول پر مبنی ہے کہ شکاری جانور وہ ہیں جو شکار کو اپنے دانتوں یا پنجوں سے زخمی کرتے ہیں ۔﴿جَوَارِحِ ﴾ ’’شکاری جانور‘‘ کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ اس سے مراد شکار کو حاصل کر لینے اور اس کو پا لینے والا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس معنی پر دلالت نہیں کرتی۔ واللہ اعلم۔ (اس لیے ’’جوارح‘‘ کا وہی مفہوم صحیح ہے جس کی وضاحت اس سے پہلے کی جاچکی ہے)(۴) شکار کے لیے کتا پالنا جائز ہے جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے۔ (صحیح البخاري، کتاب الحرث والمزارعۃ، باب اقتناء الکلب للحرث، حدیث: 2322)اس کے ساتھ ساتھ عام کتا پالنا حرام ہے ... کیونکہ کتے کے شکار اور اس کو شکار کے لیے سکھانے کے جواز سے لازم آتا ہے کہ اس کو پالنا بھی جائز ہے۔(۵)شکار کو اگر کتے کے منہ سے نکلا ہوا لعاب وغیرہ لگ جائے تو وہ پاک ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کتے کے مارے ہوئے شکار کو مباح قرار دیا ہے اور شکار کو دھونے کا حکم نہیں ہے۔ یہ چیز شکار کو لگے ہوئے کتے کے لعاب کی طہارت پر دلالت کرتی ہے۔(۶)اس میں علم کی فضیلت کی دلیل ہے کیونکہ سدھائے ہوئے شکاری جانور کا مارا یا پکڑا ہوا شکار علم کی وجہ سے ہی مباح ہوتا ہے۔ اگر اسے تعلیم نہ دی گئی ہو تو اس کا مارا ہوا شکار جائز نہیں ہوتا۔(۷)شکاری کتے اور شکاری پرندے وغیرہ کو سکھانے میں مشغول ہونا مذموم، عبث اور باطل نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو امر مقصود ہے کیونکہ شکاری جانور کو سکھانا اس کے مارے ہوئے شکار کی حلت اور اس سے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ ہے۔(۸)اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے دلیل ہے جو کتے کی فروخت کو جائز قرار دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ خریدے بغیر کتے کا حصول ممکن نہیں ۔(۹)شکاری جانور کو شکار پر چھوڑتے وقت تکبیر پڑھنا شرط ہے۔ اگر شکاری جانور کو شکار پر چھوڑتے وقت عمداً تکبیر نہ پڑھی گئی ہو تو اس کا مارا ہوا شکار جائز نہیں ۔(۱۰) شکاری جانور کے مارے ہوئے شکار کو کھانا جائز ہے خواہ شکار مر گیا ہو یا زندہ ہو۔ اگر مالک شکار کو اس حالت میں پا لے کہ ابھی وہ زندہ ہو تو ذبح کیے بغیر اس کا کھانا جائز نہیں ۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تقویٰ اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے اور قیامت کے روز حساب سے ڈرایا ہے۔ اور یہ ایسا معاملہ ہے کہ بہت قریب آن لگا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ سے ڈرو بے شک وہ جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 107

Al-Ma'idahJuz 6 · Page 107

5:3

حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحۡمُ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦ وَٱلۡمُنۡخَنِقَةُ وَٱلۡمَوۡقُوذَةُ وَٱلۡمُتَرَدِّيَةُ وَٱلنَّطِيحَةُ وَمَآ أَكَلَ ٱلسَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيۡتُمۡ وَمَا ذُبِحَ عَلَى ٱلنُّصُبِ وَأَن تَسۡتَقۡسِمُواْ بِٱلۡأَزۡلَٰمِۚ ذَٰلِكُمۡ فِسۡقٌۗ ٱلۡيَوۡمَ يَئِسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن دِينِكُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَٱخۡشَوۡنِۚ ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗاۚ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ فِي مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٖ لِّإِثۡمٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٣

Prohibited to you are dead animals,1 blood, the flesh of swine, and that which has been dedicated to other than Allāh, and [those animals] killed by strangling or by a violent blow or by a head-long fall or by the goring of horns, and those from which a wild animal has eaten, except what you [are able to] slaughter [before its death], and those which are sacrificed on stone altars,2 and [prohibited is] that you seek decision through divining arrows. That is grave disobedience. This day those who disbelieve have despaired of [defeating] your religion; so fear them not, but fear Me. This day I have perfected for you your religion and completed My favor upon you and have approved for you Islām as religion. But whoever is forced by severe hunger with no inclination to sin - then indeed, Allāh is Forgiving and Merciful.

2 translator’s notes
  1. See footnote to 2:173.

    [242] In the name of anything other than Allāh.

    ↩
  2. ↩

5:4

يَسۡـَٔلُونَكَ مَاذَآ أُحِلَّ لَهُمۡۖ قُلۡ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُ وَمَا عَلَّمۡتُم مِّنَ ٱلۡجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ ٱللَّهُۖ فَكُلُواْ مِمَّآ أَمۡسَكۡنَ عَلَيۡكُمۡ وَٱذۡكُرُواْ ٱسۡمَ ٱللَّهِ عَلَيۡهِۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ ٤

They ask you, [O Muḥammad], what has been made lawful for them. Say, "Lawful for you are [all] good foods and [game caught by] what you have trained of hunting animals1 which you train as Allāh has taught you. So eat of what they catch for you, and mention the name of Allāh upon it, and fear Allāh." Indeed, Allāh is swift in account.

1 translator’s note
  1. Such as dogs, falcons, etc. ↩

5:5

ٱلۡيَوۡمَ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُۖ وَطَعَامُ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ حِلّٞ لَّكُمۡ وَطَعَامُكُمۡ حِلّٞ لَّهُمۡۖ وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ إِذَآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحۡصِنِينَ غَيۡرَ مُسَٰفِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِيٓ أَخۡدَانٖۗ وَمَن يَكۡفُرۡ بِٱلۡإِيمَٰنِ فَقَدۡ حَبِطَ عَمَلُهُۥ وَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٥

This day [all] good foods have been made lawful, and the food of those who were given the Scripture is lawful for you and your food is lawful for them. And [lawful in marriage are] chaste women from among the believers and chaste women from among those who were given the Scripture before you, when you have given them their due compensation,1 desiring chastity, not unlawful sexual intercourse or taking [secret] lovers. And whoever denies the faith - his work has become worthless, and he, in the Hereafter, will be among the losers.

1 translator’s note
  1. The specified bridal gift (mahr). ↩
As-Sa'diTafsir · 5:4

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском