Al-Ma'idah 5:80
The Table Spread · Juz 6 · Page 121
تَرَىٰ كَثِيرٗا مِّنۡهُمۡ يَتَوَلَّوۡنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَهُمۡ أَنفُسُهُمۡ أَن سَخِطَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡ وَفِي ٱلۡعَذَابِ هُمۡ خَٰلِدُونَ ٨٠
You see many of them becoming allies of those who disbelieved [i.e., the polytheists]. How wretched is that which they have put forth for themselves in that Allāh has become angry with them, and in the punishment they will abide eternally.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 5:77–81
کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہ غلو کرو تم اپنے دین میں ناحق اور نہ پیروی کرو ان لوگوں کی خواہشات کی جو گمراہ ہو چکے اس سے پہلے اور گمراہ کیا انھوں نے بہت سوں کو اور بہک گئے وہ سیدھی راہ سے(77) لعنت کیے گئے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں سے، بہ زبان داود اور عیسیٰ ابن مریم کے یہ بہ سبب اس کے جو نافرمانی کی انھوں نے اور تھے وہ حد سے گزر جاتے(78) نہیں تھے وہ ایک دوسرے کو منع کرتے برے کام سے کہ کیا ہوتا انھوں نے وہ ، البتہ برا تھا جو تھے وہ کرتے(79) آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، وہ دوستی کرتے ہیں ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا۔ البتہ برا ہے جو آگے بھیجا ان کے لیے ان کے نفسوں نے، یہ کہ ناراض ہوا اللہ اوپر ان کے اور عذاب میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں (80)اور اگر ہوتے وہ ایمان لاتے اللہ پر اور نبی پر اور (اس پر) جو نازل کیا گیا اس کی طرف تو نہ بناتے ان (کافروں )کو دوست لیکن زیادہ لوگ ان میں سے فاسق ہیں (81)
[77] اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ہے ﴿ قُلۡ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِيۡ دِيۡنِكُمۡ غَيۡرَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو‘‘ یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انھوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا ﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡۤا اَهۡوَؔآءَؔ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔‘‘ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ ﴿وَاَضَلُّوۡا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور (دوسرے) بہت سوں کو گمراہ کیا۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس کی طرف دعوت دے کر بہت سے لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں ﴿وَّضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔‘‘ یعنی راہ اعتدال سے بھٹک گئے پس گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے، دونوں برائیوں کو انھوں نے جمع کر لیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ائمہ ضلالت ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے اور ان کی مہلک خواہشات اور گمراہ کن آراء سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
[78]﴿ لُعِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کی گئی‘‘ یعنی ان کو دھتکار دیا گیا اور اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ﴿ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’داؤد اورعیسیٰ ابن مریم کی زبان پر‘‘ یعنی ان دونوں کی گواہی اور ان کے اقرار پر، بایں طور پر کہ ان پر حجت قائم ہو گئی اور انھوں نے اس حجت و دلیل سے عناد رکھا ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ کفر اور لعنت ﴿ بِمَا عَصَوۡا وَّكَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔‘‘ یعنی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ظلم کرتے تھے۔ یہ چیز ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب بن گئی کیونکہ گناہوں اور ظلم کی سزا ملتی ہے۔
[79] ان کے وہ گناہ جن کی وجہ سے ان پر سزا ضروری ٹھہری اور جن کی بنا پر ان پر عقوبات واقع ہوئیں ، یہ تھے کہ وہ ﴿ كَانُوۡا لَا يَتَنَاهَوۡنَ عَنۡ مُّنۡؔكَرٍ فَعَلُوۡهُ﴾ ’’برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔‘‘ یعنی وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ پس وہ لوگ جو برائی کرتے تھے اور وہ جو برائی نہیں کرتے تھے مگر قدرت رکھنے کے باوجود برائی سے روکتے نہیں تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اسی مشترک سزا کے مستحق قرار پائے۔یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھتے تھے اور گناہ کا ارتکاب ان کے لیے بہت معمولی بات تھی۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتے تو اس کے محارم کی ہتک پر انھیں غیرت آتی اور اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے پر وہ بھی ناراض ہوتے۔ اور قدرت ہونے کے باوجود برائی پر خاموش رہنا اور اس پر نکیر نہ کرنا، سزا کا موجب ہے کیونکہ اس میں بہت بڑے مفاسد پنہاں ہیں : ، مثلاً:(۱) برائی پر سکوت اختیار کرنا بذات خود برائی ہے خواہ سکوت اختیار کرنے والا خود برائی میں ملوث نہ ہو۔ اس لیے کہ جس طرح معصیت سے اجتناب فرض ہے اسی طرح برائی کے مرتکب پر نکیر کرنا ضروری ہے۔ (۲) جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ یہ چیز گناہوں کو معمولی سمجھنے اور ان کو زیادہ اہمیت نہ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ (۳) اس طرح فساق و فجار میں کثرت سے گناہ کرنے کی جرأ ت بڑھ جاتی ہے۔ جب ان کو گناہوں سے روکا نہ جائے تو شر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دینی اور دنیاوی مصائب بڑھ جاتے ہیں اور شوکت و غلبہ شریر لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ اہل خیر کمزور پڑ جاتے ہیں اور وہ اہل شر کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ انھیں اتنی سی قدرت بھی حاصل نہیں رہتی جتنی ابتدا میں تھی۔ (۴) منکر پر نکیر ترک کرنے سے علم مٹ جاتا ہے اور جہالت بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جب معصیت بہت سے لوگوں سے بتکرار صادر ہوتی ہے اور اس پر اہل علم اور اہل دین لوگوں کی طرف سے نکیر نہیں ہوتی تو اس کے بارے میں گمان گزرتا ہے کہ یہ معصیت نہیں ، بسا اوقات جاہل لوگ اسے مستحسن عبادت سمجھ لیتے ہیں ۔اس سے بڑی کونسی برائی ہو سکتی ہے کہ کسی ایسی چیز کو حلال قرار دے دیا جائے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ نفوس پر حقائق بدل جائیں اور انھیں باطل حق نظر آنے لگے۔ (۵) نافرمان لوگوں کی معصیت پر سکوت سے بسا اوقات معصیت لوگوں کے دلوں میں مزین ہو جاتی ہے اور برائی میں لوگ ایک دوسرے کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں ۔ اس لیے کہ انسان اپنے گروہ اور ابنائے جنس کی پیروی کا شیفتہ ہوتا ہے۔چونکہ یہ برائیوں پر سکوت کی جزا ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے منصوص فرمایا کہ کفار بنی اسرائیل انھی لوگوں میں سے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانی اور تعدی کی بنا پر ان پر لعنت کی اور ان برائیوں میں سے اس برائی کو مخصوص کیا ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’البتہ برا ہے جو وہ کرتے تھے۔‘‘
[80]﴿ تَرٰى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ يَتَوَلَّوۡنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر کافروں کو دوست رکھتے ہیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ محبت اور موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’برا ہے وہ جو ان کے نفسوں نے ان کے لیے آگے بھیجا‘‘ یعنی انھوں نے گھٹیا مال پیش کیا اور خسارے کا سودا کیا... اور یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ناراضی جس کے ناراض ہونے سے کائنات کی ہر چیز ناراض ہو جاتی ہے اور جس کی ناراضی کا نتیجہ عذاب عظیم میں خلود اور دوام ہے۔ پس ان کے نفسوں نے ان پر ظلم کیا کہ انھوں نے یہ بری مہمانی آگے بھیجی اور انھوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کہ انھوں نے انھیں ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم کر دیا۔
[81]﴿ وَلَوۡ كَانُوۡا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِيِّ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَا اتَّؔخَذُوۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اگر وہ اللہ پر، پیغمبر پر اور اس کتاب پر جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے، ایمان رکھتے تو ان کو دوست نہ بناتے۔‘‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ، نبیﷺ اور کتاب اللہ پر ایمان بندے پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اپنے رب اور اس کے اولیا کے ساتھ موالات رکھے اور ان لوگوں سے عداوت رکھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اس سے عداوت رکھی اور اس کی نافرمانیوں میں پڑ گئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت اور موالات اور اس پر ایمان کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو دوست نہ بنایا جائے۔چونکہ ان میں مطلوبہ شرط موجود نہیں اس لیے یہ چیز مشروط کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔ فرمایا ﴿ وَلٰكِنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اس پر اور اس کے نبیﷺ پر ایمان کے دائرے سے خارج ہیں اور ان کے فسق میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے موالات رکھتے ہیں ۔
Page 121
5:77
قُلۡ يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لَا تَغۡلُواْ فِي دِينِكُمۡ غَيۡرَ ٱلۡحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوٓاْ أَهۡوَآءَ قَوۡمٖ قَدۡ ضَلُّواْ مِن قَبۡلُ وَأَضَلُّواْ كَثِيرٗا وَضَلُّواْ عَن سَوَآءِ ٱلسَّبِيلِ ٧٧
Say, "O People of the Scripture, do not exceed limits in your religion beyond the truth and do not follow the inclinations of a people who had gone astray before and misled many and have strayed from the soundness of the way."
5:78
لُعِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۢ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُۥدَ وَعِيسَى ٱبۡنِ مَرۡيَمَۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَواْ وَّكَانُواْ يَعۡتَدُونَ ٧٨
Cursed were those who disbelieved among the Children of Israel by the tongue of David and of Jesus, the son of Mary. That was because they disobeyed and [habitually] transgressed.
5:79
كَانُواْ لَا يَتَنَاهَوۡنَ عَن مُّنكَرٖ فَعَلُوهُۚ لَبِئۡسَ مَا كَانُواْ يَفۡعَلُونَ ٧٩
They used not to prevent one another from wrongdoing that they did. How wretched was that which they were doing.
5:80
تَرَىٰ كَثِيرٗا مِّنۡهُمۡ يَتَوَلَّوۡنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَهُمۡ أَنفُسُهُمۡ أَن سَخِطَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡ وَفِي ٱلۡعَذَابِ هُمۡ خَٰلِدُونَ ٨٠
You see many of them becoming allies of those who disbelieved [i.e., the polytheists]. How wretched is that which they have put forth for themselves in that Allāh has become angry with them, and in the punishment they will abide eternally.
5:81
وَلَوۡ كَانُواْ يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلنَّبِيِّ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مَا ٱتَّخَذُوهُمۡ أَوۡلِيَآءَ وَلَٰكِنَّ كَثِيرٗا مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ ٨١
And if they had believed in Allāh and the Prophet and in what was revealed to him, they would not have taken them as allies; but many of them are defiantly disobedient.
5:82
۞ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَٰوَةٗ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱلۡيَهُودَ وَٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقۡرَبَهُم مَّوَدَّةٗ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّا نَصَٰرَىٰۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيسِينَ وَرُهۡبَانٗا وَأَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ ٨٢
You will surely find the most intense of the people in animosity toward the believers [to be] the Jews and those who associate others with Allāh; and you will find the nearest of them in affection to the believers those who say, "We are Christians." That is because among them are priests and monks and because they are not arrogant.