Al-Ma'idahJuz 7 · Page 122

Al-Ma'idah 5:86

The Table Spread · Juz 7 · Page 122

وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَآ أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَحِيمِ ٨٦

But those who disbelieved and denied Our signs - they are the companions of Hellfire.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 5:82–86

یقینا پائیں گے آپ سخت ترین سب لوگوں سے، عداوت میں ، واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، یہود کو اور ان کو جنھوں نے شرک کیا اور یقینا پائیں گے آپ قریب ترین ان (سب) سے دوستی میں ، واسطے ان کے جو ایمان لائے، ان کو جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں یہ اس سبب سے کہ بے شک ان میں کچھ پڑھے ہوئے ہیں اور کچھ زاہد اور یہ کہ وہ نہیں تکبر کرتے(82) اور جب سنا انھوں نے جو نازل کیا گیا رسول کی طرف تو دیکھتے ہیں آپ ان کی آنکھوں کو، بہتی ہیں آنسوؤں سے، اس وجہ سے کہ پہچان لیا انھوں نے حق کو، کہتے ہیں وہ، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ شہادت دینے والوں کے(83) اور کیا ہے ہمیں کہ نہ ایمان لائیں ہم اللہ پراور (اس پر) جو آیا ہمارے پاس حق؟ اور ہم توقع رکھتے ہیں یہ کہ داخل کرے گا ہمیں ہمارا رب ساتھ قوم صالحین کے(84) پس بدلے میں دے گا ان کو اللہ بوجہ اس کے جو انھوں نے کہا، ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ جزا ہے نیکی کرنے والوں کی(85) اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہ لوگ ہیں دوزخ والے(86)

[82] اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے ﴿ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا﴾ ’’آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو‘‘ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں ۔ ﴿ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى﴾ ’’اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرمائے ہیں :(۱)﴿ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا ﴾ ’’یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔‘‘ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں ۔ کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کشی کو زائل کر دیتی ہے۔ بنابریں ان کے اندر یہود کی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔ (۲)﴿ وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔

[83] اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿ وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل کی گئی‘‘ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں ، آنسو جاری ہو جاتے ہیں ، پس اسی لیے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا:﴿ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘اور یہ محمدﷺ کی امت کے لوگ ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں ، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں ۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا﴾(البقرۃ: 2؍143) ’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے۔‘‘

[84] گویا انھیں جب ان کے ایمان لانے اور ایمان میں ان کی سبقت پر ملامت کی گئی تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا: ﴿ وَمَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَآءَؔنَا مِنَ الۡحَقِّ١ۙ وَنَطۡمَعُ اَنۡ يُّدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور ہمیں کیا ہے کہ اللہ پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں ) داخل کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے ہمیں کون سی چیز مانع ہے۔ دراں حالیکہ ہمارے پاس ہمارے رب کی طرف سے حق آ گیا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ جب ہم ایمان لے آئیں گے اور حق کی اتباع کریں گے، تب ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے زمرے میں شامل کرے گا۔ تب کونسی چیز ہمیں ایمان لانے سے روک سکتی ہے۔ کیا یہ چیز ایمان لانے میں جلدی کرنے اور ایمان لانے سے پیچھے نہ رہنے کی موجب نہیں ؟

[85] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے ان کو ان کے کہنے پر بدلہ دیا‘‘ یعنی انھوں نے ایمان لانے کی بات کی، نطق زبان سے ایمان کا اقرار کیا اور حق کی تصدیق کی ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدلہ ہے نیکو کاروں کا۔‘‘یہ آیات کریمہ ان عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ ، مثلاً: نجاشی اور دیگر ایمان لانے والے عیسائی۔ اسی طرح ان کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے رہیں گے جو دین اسلام کو اختیار کریں گے اور ان پر اپنے دین کا بطلان واضح ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ یہودیوں اور مشرکین سے اسلام کے زیادہ قریب ہیں ۔

[86] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نیکی کرنے والوں کے لیے ثواب کا ذکر فرمایا تو برائی کرنے والوں کے لیے عذاب کا ذکر کیا۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، یہی لوگ جہنمی ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے کفر کیا اور حق کو واضح کرنے والی آیات کی تکذیب کی۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 122

Al-Ma'idahJuz 7 · Page 122

5:83

وَإِذَا سَمِعُواْ مَآ أُنزِلَ إِلَى ٱلرَّسُولِ تَرَىٰٓ أَعۡيُنَهُمۡ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمۡعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ ٱلۡحَقِّۖ يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱكۡتُبۡنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ ٨٣

And when they hear what has been revealed to the Messenger, you see their eyes overflowing with tears because of what they have recognized of the truth. They say, "Our Lord, we have believed, so register us among the witnesses.

5:84

وَمَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَمَا جَآءَنَا مِنَ ٱلۡحَقِّ وَنَطۡمَعُ أَن يُدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلصَّٰلِحِينَ ٨٤

And why should we not believe in Allāh and what has come to us of the truth? And we aspire that our Lord will admit us [to Paradise] with the righteous people."

5:85

فَأَثَٰبَهُمُ ٱللَّهُ بِمَا قَالُواْ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٨٥

So Allāh rewarded them for what they said1 with gardens [in Paradise] beneath which rivers flow, wherein they abide eternally. And that is the reward of doers of good.

1 translator’s note
  1. i.e., their admission and acceptance of the truth and commitment to Allāh's religion (Islām). ↩

5:86

وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَآ أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَحِيمِ ٨٦

But those who disbelieved and denied Our signs - they are the companions of Hellfire.

5:87

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُحَرِّمُواْ طَيِّبَٰتِ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ ٨٧

O you who have believed, do not prohibit the good things which Allāh has made lawful to you and do not transgress. Indeed, Allāh does not like transgressors.

5:88

وَكُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَٰلٗا طَيِّبٗاۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِيٓ أَنتُم بِهِۦ مُؤۡمِنُونَ ٨٨

And eat of what Allāh has provided for you [which is] lawful and good. And fear Allāh, in whom you are believers.

5:89

لَا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغۡوِ فِيٓ أَيۡمَٰنِكُمۡ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ ٱلۡأَيۡمَٰنَۖ فَكَفَّٰرَتُهُۥٓ إِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسَٰكِينَ مِنۡ أَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُونَ أَهۡلِيكُمۡ أَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ أَوۡ تَحۡرِيرُ رَقَبَةٖۖ فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٖۚ ذَٰلِكَ كَفَّٰرَةُ أَيۡمَٰنِكُمۡ إِذَا حَلَفۡتُمۡۚ وَٱحۡفَظُوٓاْ أَيۡمَٰنَكُمۡۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ ٨٩

Allāh will not impose blame upon you for what is meaningless1 in your oaths, but He will impose blame upon you for [breaking] what you intended of oaths. So its expiation2 is the feeding of ten needy people from the average of that which you feed your [own] families or clothing them or the freeing of a slave. But whoever cannot find [or afford it] - then a fast of three days [is required]. That is the expiation for oaths when you have sworn. But guard your oaths.3 Thus does Allāh make clear to you His verses [i.e., revealed law] that you may be grateful.

3 translator’s notes
  1. i.e., what is sworn to only out of habit of speech or what one utters carelessly without true intent.

    [280] i.e., that for a deliberate oath.

    [281] i.e., do not take oaths indiscriminately or swear to do that which is sinful, requiring expiation.

    ↩
  2. ↩
  3. ↩
As-Sa'diTafsir · 5:86

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском