Adh-DhariyatJuz 26 · Page 521

Adh-Dhariyat 51:29

The Winnowing Winds · Juz 26 · Page 521

فَأَقۡبَلَتِ ٱمۡرَأَتُهُۥ فِي صَرَّةٖ فَصَكَّتۡ وَجۡهَهَا وَقَالَتۡ عَجُوزٌ عَقِيمٞ ٢٩

And his wife approached with a cry [of alarm] and struck her face and said, "[I am] a barren old woman!"

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 51:24–37

کیا آئی ہے آپ کے پاس خبر ابراہیم کے مہمانوں کی جو معزز تھے؟ (24) جب وہ داخل ہوئے اس پر تو انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، سلام ( تم پر) ، (یہ) لوگ تو اجنبی ہیں(25) پھر چپکے سے گیا اپنے اہل کی طرف، پس لے آیا(بھون کر)ایک بچھڑا موٹا تازہ (26) پھر قریب کیا اسے ان کی طرف، کہا: کیا نہیں کھاتے تم؟ (27) پس اس نے (دل میں) محسوس کیا ان سے خوف انھوں نے کہا: نہ ڈر تو، اور انھوں نے بشارت دی اس کوایک لڑکے بڑے علم والے کی (28) پس سامنے آئی عورت ابراہیم کی حیرت میں پس (تعجب سے) ہاتھ مارا اپنے منہ پر اور کہا: (میں) بڑھیا ہوں بانجھ (اولاد کیسے؟)(29) انھوں نے کہا: اسی طرح کہا ہے تیرے رب نے، بلاشبہ وہی خوب حکمت والا خوب علم والا ہے (30) اُس (ابراہیم) نے کہا پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے(فرشتو)؟ (31) انھوں نے کہا، بلاشبہ بھیجے گئے ہیں ہم ایک مجرم قوم کی طرف (32) تاکہ ہم بھیجیں (برسائیں) ان پر پتھر مٹی کے (33) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے (34) پس نکال لیا ہم نے اس شخص کو کہ تھا وہ اس (بستی) میں مومنوں میں سے (35) سو نہ پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے مسلمانوں میں سے (36) اور چھوڑی ہم نے اس میں ایک نشانی ان لوگوں کے لیے جو خوف کھاتے ہیں عذاب درد ناک سے (37)

[24] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ﴾ کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی ﴿ حَدِيۡثُ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ﴾ ’’ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔‘‘ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا تھا اور انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں ، چنانچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

[25]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ١ؕ قَالَ﴾ ’’جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انھوں نے کہا:‘‘ حضرت ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا: ﴿ سَلٰمٌ﴾ یعنی تم پر بھی سلام ہو ﴿ قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾ تم اجنبی لوگ ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنا تعارف کراؤ ،آپ کو ان کا تعارف اس کے بعد ہی ہوا۔

[26] اسی لیے وہ چپکے چپکے جلدی سے گھر گئے تاکہ ان کی خدمت میں ضیافت کا سامان پیش کریں ﴿ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِيۡنٍ﴾ اور خوب موٹا (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے۔

[27]﴿ فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا ﴿ قَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ حضرت ابراہیم نے کہا تم کیوں نہیں کھاتے؟

[28]﴿ فَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾جب ابراہیمu نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ ﴿ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ﴾ ’’انھوں نے کہا: خوف نہ کیجیے۔‘‘ وہ جس مقصد کے ساتھ آئے تھے انھوں نے حضرت ابراہیم کو اس سے آگاہ کیا ﴿ وَبَشَّرُوۡهُ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’اور انھیں ایک دانش مند لڑکے کی خوش خبری دی۔‘‘ اس سے مراد اسحاقu ہیں۔

[29] پس حضرت ابراہیم کی بیوی (حضرت سارہ) نے یہ خوشخبری سنی ﴿ فَاَقۡبَلَتِ﴾ تو وہ فرحاں و شاداں (ان کی طرف) متوجہ ہوئیں ﴿ فِيۡ صَرَّةٍ﴾ چیخ مار کر ﴿فَصَكَّؔتۡ وَجۡهَهَا﴾ ’’اور انھوں نے (تعجب سے) اپنا چہرے پرہاتھ مارا۔‘‘ یہ اس نوع کی کیفیت ہے جو خوشی اور مسرت کے ایسے اقوال و افعال کے وقت طاری ہو جایا کرتی ہے جو طبیعت اور عادت کے خلاف ہوا کرتے ہیں ﴿ وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِيۡمٌ﴾ اور کہا مجھے بیٹا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں تو ایک بڑھیا ہوں اور ایسی عمر کو پہنچ گئی ہوں جس عمر میں عورتیں بچوں کو جنم نہیں دیتیں، مزید برآں میں تو بانجھ بھی ہوں اور میرا رحم بچوں کو جنم دینے کے قابل نہیں۔ پس یہاں دو اسباب ہیں، دونوں ہی بچے کی ولادت سے مانع ہیں۔ سورۂ ہود میں حضرت سارہ [ نے ایک تیسرے مانع کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا١ؕ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ﴾(ہود:11؍72) ’’میرا یہ شوہر بھی بہت بوڑھا ہے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘

[30]﴿ قَالُوۡا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ﴾ ’’فرشتوں نے کہا، (ہاں) تیرے پرودگار نے اسی طرح کہا ہے۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو مقدر کر کے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو تمام اشیاء کو ان کے محل و مقام پر رکھتی ہے، وہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔

[31]﴿ قَالَ﴾ حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اے رسولو! تمھارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے میں بھیجا ہے۔

[32]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ﴾’’انھوں نے کہا، ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد قوم لوط ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسول کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔

[33، 34]﴿لِـنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ طِيۡنٍۙ۰۰ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ۠﴾ ’’تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں سے نشان زدہ ہیں۔‘‘ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود کو پھلانگ گئے تھے، چنانچہ ابراہیم u، قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگڑنے لگے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے ، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ﴾(ہود:11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو، تیرے رب کا حکم آ گیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا ہے، جو کبھی نہیں ٹل سکتا۔‘‘

[35، 36]﴿ فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ كَانَ فِيۡهَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ۰۰ فَمَا وَجَدۡنَا فِيۡهَا غَيۡرَ بَيۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انھیں نکال لیا۔ اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔‘‘ یہ حضرت لوط u کے گھرانے کے لوگ تھے، سوائے ان کی بیوی کے، وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔

[37]﴿وَتَرَؔكۡنَا فِيۡهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’اور ہم نے ان کے بارے میں ان لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔‘‘ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے، اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والاہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے۔

Continue in the whole surah's tafsir

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 521

Adh-DhariyatJuz 26 · Page 521

51:7

وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلۡحُبُكِ ٧

By the heaven containing pathways,1

1 translator’s note
  1. Explained as tracks, layers or orbits. ↩

51:8

إِنَّكُمۡ لَفِي قَوۡلٖ مُّخۡتَلِفٖ ٨

Indeed, you are in differing speech.1

1 translator’s note
  1. About Prophet Muḥammad (ﷺ) and the Qur’ān. ↩

51:9

يُؤۡفَكُ عَنۡهُ مَنۡ أُفِكَ ٩

Deluded away from it [i.e., the Qur’ān] is he who is deluded.

51:10

قُتِلَ ٱلۡخَرَّٰصُونَ ١٠

Destroyed are the misinformers1

1 translator’s note
  1. Or "May they be destroyed" or "cursed." ↩

51:11

ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي غَمۡرَةٖ سَاهُونَ ١١

Who are within a flood [of confusion] and heedless.

51:12

يَسۡـَٔلُونَ أَيَّانَ يَوۡمُ ٱلدِّينِ ١٢

They ask, "When is the Day of Recompense?"

51:13

يَوۡمَ هُمۡ عَلَى ٱلنَّارِ يُفۡتَنُونَ ١٣

[It is] the Day they will be tormented over the Fire

51:14

ذُوقُواْ فِتۡنَتَكُمۡ هَٰذَا ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تَسۡتَعۡجِلُونَ ١٤

[And will be told], "Taste your torment. This is that for which you were impatient."

51:15

إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي جَنَّٰتٖ وَعُيُونٍ ١٥

Indeed, the righteous will be among gardens and springs,

51:16

ءَاخِذِينَ مَآ ءَاتَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَبۡلَ ذَٰلِكَ مُحۡسِنِينَ ١٦

Accepting what their Lord has given them. Indeed, they were before that doers of good.

51:17

كَانُواْ قَلِيلٗا مِّنَ ٱلَّيۡلِ مَا يَهۡجَعُونَ ١٧

They used to sleep but little of the night,1

1 translator’s note
  1. i.e., spending a portion of the night in prayer and supplication. ↩

51:18

وَبِٱلۡأَسۡحَارِ هُمۡ يَسۡتَغۡفِرُونَ ١٨

And in the hours before dawn they would ask forgiveness,

51:19

وَفِيٓ أَمۡوَٰلِهِمۡ حَقّٞ لِّلسَّآئِلِ وَٱلۡمَحۡرُومِ ١٩

And from their properties was [given] the right of the [needy] petitioner and the deprived.

51:20

وَفِي ٱلۡأَرۡضِ ءَايَٰتٞ لِّلۡمُوقِنِينَ ٢٠

And on the earth are signs for the certain [in faith]

51:21

وَفِيٓ أَنفُسِكُمۡۚ أَفَلَا تُبۡصِرُونَ ٢١

And in yourselves. Then will you not see?

51:22

وَفِي ٱلسَّمَآءِ رِزۡقُكُمۡ وَمَا تُوعَدُونَ ٢٢

And in the heaven is your provision and whatever you are promised.

51:23

فَوَرَبِّ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ إِنَّهُۥ لَحَقّٞ مِّثۡلَ مَآ أَنَّكُمۡ تَنطِقُونَ ٢٣

Then by the Lord of the heaven and earth, indeed, it is truth - just as [sure as] it is that you are speaking.

51:24

هَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ضَيۡفِ إِبۡرَٰهِيمَ ٱلۡمُكۡرَمِينَ ٢٤

Has there reached you the story of the honored guests of Abraham?1 -

1 translator’s note
  1. Who were angels given honored positions by Allāh. ↩

51:25

إِذۡ دَخَلُواْ عَلَيۡهِ فَقَالُواْ سَلَٰمٗاۖ قَالَ سَلَٰمٞ قَوۡمٞ مُّنكَرُونَ ٢٥

When they entered upon him and said, "[We greet you with] peace." He answered, "[And upon you] peace; [you are] a people unknown."

51:26

فَرَاغَ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِۦ فَجَآءَ بِعِجۡلٖ سَمِينٖ ٢٦

Then he went to his family and came with a fat [roasted] calf.

51:27

فَقَرَّبَهُۥٓ إِلَيۡهِمۡ قَالَ أَلَا تَأۡكُلُونَ ٢٧

And placed it near them; he said, "Will you not eat?"

51:28

فَأَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيفَةٗۖ قَالُواْ لَا تَخَفۡۖ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَٰمٍ عَلِيمٖ ٢٨

And he felt from them apprehension.1 They said, "Fear not," and gave him good tidings of a learned boy.

1 translator’s note
  1. See footnote to 11:70. ↩

51:29

فَأَقۡبَلَتِ ٱمۡرَأَتُهُۥ فِي صَرَّةٖ فَصَكَّتۡ وَجۡهَهَا وَقَالَتۡ عَجُوزٌ عَقِيمٞ ٢٩

And his wife approached with a cry [of alarm] and struck her face and said, "[I am] a barren old woman!"

51:30

قَالُواْ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡعَلِيمُ ٣٠

They said, "Thus has said your Lord; indeed, He is the Wise, the Knowing."

As-Sa'diTafsir · 51:29

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском