Adh-Dhariyat 51:57
The Winnowing Winds · Juz 27 · Page 523
مَآ أُرِيدُ مِنۡهُم مِّن رِّزۡقٖ وَمَآ أُرِيدُ أَن يُطۡعِمُونِ ٥٧
I do not want from them any provision, nor do I want them to feed Me.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 51:56–58
اور نہیں پیدا کیے میں نے جن اور انسان مگر (اس لیے) تاکہ وہ عبادت کریں میری ہی (56) نہیں چاہتا میں ان سے کوئی رزق اور نہیں چاہتا میں یہ کہ وہ کھلائیں مجھے (57) بلاشبہ اللہ ہی ہے، رزاق، قوت والا، نہایت قوی (58)
[56] وہ مقصد جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسانوں کو تخلیق فرمایا، تمام انبیاء و رسل کو مبعوث کیا جو لوگوں کو اس مقصد کی طرف بلاتے رہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے جو اس کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف انابت اور ماسوا سے منہ موڑ کر صرف اسی کی طرف توجہ کرنے کو متضمن ہے۔ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی معرفت سے وابستہ ہے۔ بلکہ بندے میں اپنے رب کی معرفت جتنی زیادہ ہو گی اس کی عبادت اتنی ہی کامل ہو گی۔ یہ وہ مقصد ہے جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے مکلفین کو پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ اسے ان سے کوئی ضرورت تھی۔
[57]﴿ مَاۤ اُرِيۡدُ مِنۡهُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ يُّطۡعِمُوۡنِ﴾ ’’ میں ان سے كوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔‘‘ یعنی اللہ عزوجل اس سے بہت بلند ہے کہ وہ کسی بھی لحاظ سے کسی کا محتاج ہو۔ تمام مخلوق اپنی حوائج و مطالب ضروریہ اور غیر ضروریہ میں اس کی محتاج ہے۔
[58] اسی لیے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ رزق کثیر کا مالک ہے۔ زمین میں نہ آسمان میں کوئی ایسا جاندار نہیں جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ نہ ہو، وہ اس کا ٹھکانا بھی جانتا ہے اور اس جگہ کو بھی جانتا ہے جہاں اس کو سونپا جانا ہے ﴿ ذُو الۡقُوَّةِ الۡمَتِيۡنُ﴾ یعنی وہ تمام قوت اور قدرت کا مالک ہے۔ جس نے اس قدرت کے ذریعے سے عالم علوی اور عالم سفلی کے اتنے بڑے بڑے اجسام کو وجود بخشا، اس قدرت کے ذریعے سے وہ ظاہر و باطن میں تصرف کرتا ہے اور اس کی مشیت تمام مخلوق پر نافذ ہے۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے، جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا ، کوئی بھاگنے والا اسے بے بس کر سکتا ہے نہ کوئی اس کے تسلط سے باہر نکل سکتا ہے۔ یہ اس کی قوت کا کرشمہ ہے کہ اس نے تمام کائنات کو رزق بہم پہنچایا۔یہ اس کی قدرت و قوت ہے کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندگی بخشے گا جبکہ بوسیدگی نے ان کو ریزہ ریزہ کر دیا ہو گا، ہوائیں ان (کے ذرات) کو اڑا کر بکھیر چکی ہوں گی، پرندے اور درندے انھیں نگل چکے ہوں گے، اور وہ چٹیل بیابانوں اور سمندر میں بکھر چکے ہوں گے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی اس سے بچ نہیں سکے گا۔ ان کے اجساد کو جو زمین کم کر رہی ہے وہ اسے خوب جانتا ہے، پاک ہے وہ ذات جو قوت والی اور طاقت ور ہے۔
Page 523
51:52
كَذَٰلِكَ مَآ أَتَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُواْ سَاحِرٌ أَوۡ مَجۡنُونٌ ٥٢
Similarly, there came not to those before them any messenger except that they said, "A magician or a madman."
51:53
أَتَوَاصَوۡاْ بِهِۦۚ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٞ طَاغُونَ ٥٣
Did they suggest it to them?1 Rather, they [themselves] are a transgressing people.
1 translator’s note
- i.e., Did the former disbelievers pass on these words to the Makkans so that they repeat the same expressions? ↩
51:54
فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ فَمَآ أَنتَ بِمَلُومٖ ٥٤
So leave them, [O Muḥammad], for you are not to be blamed.
51:55
وَذَكِّرۡ فَإِنَّ ٱلذِّكۡرَىٰ تَنفَعُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٥٥
And remind, for indeed, the reminder benefits the believers.
51:56
وَمَا خَلَقۡتُ ٱلۡجِنَّ وَٱلۡإِنسَ إِلَّا لِيَعۡبُدُونِ ٥٦
And I did not create the jinn and mankind except to worship Me.
51:57
مَآ أُرِيدُ مِنۡهُم مِّن رِّزۡقٖ وَمَآ أُرِيدُ أَن يُطۡعِمُونِ ٥٧
I do not want from them any provision, nor do I want them to feed Me.
51:58
إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلرَّزَّاقُ ذُو ٱلۡقُوَّةِ ٱلۡمَتِينُ ٥٨
Indeed, it is Allāh who is the [continual] Provider,1 the firm possessor of strength.
1 translator’s note
- Providing everything required by His creations during their decreed existence. His provision includes guidance. ↩
51:59
فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ ذَنُوبٗا مِّثۡلَ ذَنُوبِ أَصۡحَٰبِهِمۡ فَلَا يَسۡتَعۡجِلُونِ ٥٩
And indeed, for those who have wronged is a portion [of punishment] like the portion of their companions [i.e., predecessors], so let them not impatiently urge Me.
51:60
فَوَيۡلٞ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن يَوۡمِهِمُ ٱلَّذِي يُوعَدُونَ ٦٠
And woe to those who have disbelieved from their Day which they are promised.
سورة الطور
At-Tur
The Mount · Meccan · 49 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
52:1
وَٱلطُّورِ ١
By the mount
52:2
وَكِتَٰبٖ مَّسۡطُورٖ ٢
And [by] a Book inscribed1
1 translator’s note
- Interpreted as the Preserved Slate or possibly the Qur’ān. ↩
52:3
فِي رَقّٖ مَّنشُورٖ ٣
In parchment spread open
52:4
وَٱلۡبَيۡتِ ٱلۡمَعۡمُورِ ٤
And [by] the frequented House1
1 translator’s note
- The house of worship for the angels in the seventh heaven, comparable to the Kaʿbah on earth. ↩
52:5
وَٱلسَّقۡفِ ٱلۡمَرۡفُوعِ ٥
And [by] the ceiling [i.e., heaven] raised high
52:6
وَٱلۡبَحۡرِ ٱلۡمَسۡجُورِ ٦
And [by] the sea set on fire,1
1 translator’s note
- On the Day of Resurrection. Or "the sea which has overflowed." ↩
52:7
إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَٰقِعٞ ٧
Indeed, the punishment of your Lord will occur.
52:8
مَّا لَهُۥ مِن دَافِعٖ ٨
Of it there is no preventer.
52:9
يَوۡمَ تَمُورُ ٱلسَّمَآءُ مَوۡرٗا ٩
On the Day the heaven will sway with circular motion
52:10
وَتَسِيرُ ٱلۡجِبَالُ سَيۡرٗا ١٠
And the mountains will pass on, departing1 -
1 translator’s note
- Becoming dust and moving as clouds. ↩
52:11
فَوَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ ١١
Then woe, that Day, to the deniers,
52:12
ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي خَوۡضٖ يَلۡعَبُونَ ١٢
Who are in [empty] discourse amusing themselves.
52:13
يَوۡمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا ١٣
The Day they are thrust toward the fire of Hell with a [violent] thrust, [its angels will say],
52:14
هَٰذِهِ ٱلنَّارُ ٱلَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ ١٤
"This is the Fire which you used to deny.