At-TurJuz 27 · Page 524

At-Tur 52:29

The Mount · Juz 27 · Page 524

فَذَكِّرۡ فَمَآ أَنتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٖ وَلَا مَجۡنُونٍ ٢٩

So remind, [O Muḥammad], for you are not, by the favor of your Lord, a soothsayer or a madman.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 52:29–43

سو آپ نصیحت کریں، پس نہیں ہیں آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور نہ دیوانے(29) کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ (وہ پیغمبر)شاعر ہے، ہم انتظار کرتے ہیں اس کی بابت حوادث زمانہ (موت) کا (30) آپ کہہ دیجیے! تم انتظار کرو، پس بلاشبہ میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (31)کیا حکم دیتی ہیں ان کو ان کی عقلیں اسی (بات) کا یا وہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ (32) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟بلکہ نہیں وہ ایمان لاتے (33) پس چاہیے کہ وہ لے آئیں ایک بات مثل اس (قرآن) کے، اگر ہیں وہ سچے (34) کیا پیدا کیے گئے ہیں وہ بغیر کسی چیز (خالق) کے یا وہی ہیں (خود) پیدا کرنے والے؟ (35) کیا انھوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟بلکہ نہیں وہ یقین رکھتے (36) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کے؟ یا وہ (ان کے) داروغے ہیں؟ (37) کیا ان کے لیے کوئی سیڑھی ہے کہ وہ سن لیتے ہیں اس پر (چڑھ کر)؟ پس چاہیے کہ لے آئے ان کا سننے والا کوئی دلیل واضح (38) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟(39) کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی معاوضہ، پس وہ (اس کے) تاوان سے بوجھل ہیں؟ (40) یا ان کے پاس (علم) غیب ہے پس وہ لکھتے ہیں؟ (41) کیا وہ ارادہ کرتے ہیں کسی فریب کا؟ پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہی ہیں فریب خوردہ (42) کیا ان کے لیے کوئی اور معبود ہے سوائے اللہ کے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (43)

[29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو، مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں، تاکہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے، اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں۔ نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروا نہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کر دی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ﴾ یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے ﴿ بِكَاهِنٍ﴾ ’’کاہن‘‘ جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَّلَا مَجۡنُوۡنٍ﴾ اور نہ آپ فاترالعقل ہیں، بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے، تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔

[30] اور کبھی کبھی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ﴾ ’’شاعر ہے۔‘‘ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾(یٰسین:36؍69) ’’ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔‘‘ ﴿نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيۡبَ الۡمَنُوۡنِ﴾ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔

[31]﴿قُلۡ﴾ آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ دیجیے ﴿ تَرَبَّصُوۡا﴾ یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو ﴿ فَاِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِيۡنَ﴾ ’’پس میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ ہم تمھارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں عذاب میں مبتلا کرے۔

[32]﴿ اَمۡ تَاۡمُرُهُمۡ اَحۡلَامُهُمۡ بِهٰؔذَاۤ اَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان کا آپ کو یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں، ان کی عقل و خردسے صادر ہوئی ہیں؟ کتنی بری ہے ان کی عقل و خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو کذب اور باطل قرار دیا، ایسی (فاسد) عقلوں سے تو مجانین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں، جہاں آ کر رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول و فعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔

[33]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) نے خود ہی یہ (قرآن )گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلۡ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔

[34]﴿ فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّؔثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد (ﷺ) نے تصنیف کیا ہے، تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنا لاؤ تاکہ تمھاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو، ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کر لو۔ اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہو جاؤ تب بھی تم اس کا معارضہ کر سکتے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لا سکتے ہو۔ تب اس وقت تمھارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے۔ یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔

[35]﴿ اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ﴾ ’’کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے آپ کو )پیدا کرنے والے ہیں‘‘ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہیں یا ان کا عقل و دین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہو جائے گا ۔۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء و رسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔(۱)ان کو کسی چیز کے بغیر پیدا کیا گیا ہے ، یعنی ان کا کوئی خالق نہیں جس نے ان کو تخلیق کیا ہو۔ بلکہ وہ کسی ایجاد اور موجد کے بغیر وجود میں آئے ہیں اور یہ عین محال ہے۔(۲)انھوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے اور یہ بھی محال ہے کیونکہ اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اپنے آپ کو بذات خود وجود بخشے۔(۳) جب مذکورہ بالا دونوں امور باطل ہو گئے اور ان کا محال ہونا ثابت ہو گیا تو تیسری بات متعین ہو گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا۔ جب یہ بات متعین ہو گئی تو معلوم ہوا کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جس کے سوا اور ہستی کی عبادت مناسب ہے نہ درست۔

[36]﴿ اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟‘‘ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں، یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے﴿ بَلۡ لَّا يُوۡقِنُوۡنَ﴾ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یعنی یہ جھٹلانے والے علمِ کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی و عقلی سے استفادے کا موجب ہوتا۔

[37]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کر دیں؟ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے۔ ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ ﴿ اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾(الزحزف:43؍32) ’’کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ دنیاوی زندگی میں ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے۔‘‘ ﴿ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔

[38]﴿ اَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٌ يَّسۡتَمِعُوۡنَ فِيۡهِ﴾ ’’کیا ان کے پاس سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں۔‘‘ یعنی کیا انھیں غیب کا علم ہے اور وہ ملأاعلیٰ کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنھیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿ فَلۡيَاۡتِ مُسۡتَمِعُهُمۡ ﴾ ’’پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔‘‘ یعنی ملأ ا علیٰ کی باتیں سننے کا دعوے دار ﴿ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کوئی صریح دلیل‘‘ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے، وہ کسی پر غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے، جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو، وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آگاہ کرتا ہے۔ جبکہ محمد مصطفیﷺ، رسولوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں، اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی اور عناد میں مبتلا ہیں، تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جبکہ رسول اللہ ﷺ نے جن امور کی خبر دی ہے، ان پر دلائل و براہین قائم ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے۔ ان کا اپنے دعوے (انبیاء کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کر سکتے۔

[39]﴿ اَمۡ لَهُ الۡبَنٰتُ﴾ ’’یا اس (اللہ) کے لیے کی بیٹیاں ہیں؟‘‘ جیسا کہ تم سمجھتے ہو ﴿ وَلَكُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾’’اور تمھارے لیے بیٹے‘‘ پس تم قابلِ احتراز امور کو جمع کر رہے ہو ، یعنی تمھارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اور ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت و انتہا ہے؟

[40]﴿ اَمۡ تَسۡـَٔؔلُهُمۡ﴾ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجۡرًا﴾ تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔

Continue in the whole surah's tafsir

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 524

At-TurJuz 27 · Page 524

52:15

أَفَسِحۡرٌ هَٰذَآ أَمۡ أَنتُمۡ لَا تُبۡصِرُونَ ١٥

Then is this magic, or do you not see?

52:16

ٱصۡلَوۡهَا فَٱصۡبِرُوٓاْ أَوۡ لَا تَصۡبِرُواْ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡۖ إِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ١٦

[Enter to] burn therein; then be patient or impatient - it is all the same for you. You are only being recompensed [for] what you used to do."

52:17

إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي جَنَّٰتٖ وَنَعِيمٖ ١٧

Indeed, the righteous will be in gardens and pleasure,

52:18

فَٰكِهِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡ وَوَقَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡ عَذَابَ ٱلۡجَحِيمِ ١٨

Enjoying what their Lord has given them, and their Lord protected them from the punishment of Hellfire.

52:19

كُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ هَنِيٓـَٔۢا بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ١٩

[They will be told], "Eat and drink in satisfaction for what you used to do."

52:20

مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ سُرُرٖ مَّصۡفُوفَةٖۖ وَزَوَّجۡنَٰهُم بِحُورٍ عِينٖ ٢٠

They will be reclining on thrones lined up, and We will marry them to fair women with large, [beautiful] eyes.

52:21

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱتَّبَعَتۡهُمۡ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَٰنٍ أَلۡحَقۡنَا بِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَمَآ أَلَتۡنَٰهُم مِّنۡ عَمَلِهِم مِّن شَيۡءٖۚ كُلُّ ٱمۡرِيِٕۭ بِمَا كَسَبَ رَهِينٞ ٢١

And those who believed and whose descendants followed them in faith - We will join with them their descendants, and We will not deprive them of anything of their deeds.1 Every person, for what he earned, is retained.2

2 translator’s notes
  1. i.e., the reward thereof.

    [1555] i.e., subject or held responsible. Literally, "a hostage."

    ↩
  2. ↩

52:22

وَأَمۡدَدۡنَٰهُم بِفَٰكِهَةٖ وَلَحۡمٖ مِّمَّا يَشۡتَهُونَ ٢٢

And We will provide them with fruit and meat from whatever they desire.

52:23

يَتَنَٰزَعُونَ فِيهَا كَأۡسٗا لَّا لَغۡوٞ فِيهَا وَلَا تَأۡثِيمٞ ٢٣

They will exchange with one another a cup [of wine] wherein [results] no ill speech or commission of sin.

52:24

۞ وَيَطُوفُ عَلَيۡهِمۡ غِلۡمَانٞ لَّهُمۡ كَأَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٞ مَّكۡنُونٞ ٢٤

There will circulate among them [servant] boys [especially] for them, as if they were pearls well-protected.

52:25

وَأَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ يَتَسَآءَلُونَ ٢٥

And they will approach one another, inquiring of each other.

52:26

قَالُوٓاْ إِنَّا كُنَّا قَبۡلُ فِيٓ أَهۡلِنَا مُشۡفِقِينَ ٢٦

They will say, "Indeed, we were previously among our people fearful [of displeasing Allāh].

52:27

فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡنَا وَوَقَىٰنَا عَذَابَ ٱلسَّمُومِ ٢٧

So Allāh conferred favor upon us and protected us from the punishment of the Scorching Fire.

52:28

إِنَّا كُنَّا مِن قَبۡلُ نَدۡعُوهُۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡبَرُّ ٱلرَّحِيمُ ٢٨

Indeed, we used to supplicate1 Him before. Indeed, it is He who is the Beneficent, the Merciful."

1 translator’s note
  1. i.e., worship. ↩

52:29

فَذَكِّرۡ فَمَآ أَنتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٖ وَلَا مَجۡنُونٍ ٢٩

So remind, [O Muḥammad], for you are not, by the favor of your Lord, a soothsayer or a madman.

52:30

أَمۡ يَقُولُونَ شَاعِرٞ نَّتَرَبَّصُ بِهِۦ رَيۡبَ ٱلۡمَنُونِ ٣٠

Or do they say [of you], "A poet for whom we await a misfortune of time"?1

1 translator’s note
  1. i.e., some accident or inevitable death. ↩

52:31

قُلۡ تَرَبَّصُواْ فَإِنِّي مَعَكُم مِّنَ ٱلۡمُتَرَبِّصِينَ ٣١

Say, "Wait, for indeed I am, with you, among the waiters."

As-Sa'diTafsir · 52:29

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском